خیبر پختونخواہ میں تعلیمی زوال: دعوے اور حقیقت ۔ تحریر: احتشام الرحمن
خیبر پختونخواہ میں تعلیمی زوال: دعوے اور حقیقت ۔ تحریر: احتشام الرحمن
اکنامک سروے آف پاکستان ایک معتبر قومی دستاویز ہے جو ملک کے معاشی اور معاشرتی شعبوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ ایکنامک سروے 2024-25 کے مطابق، شرح خواندگی میں تینوں صوبوں کی کارکردگی مختلف رہی۔ پنجاب کی شرح خواندگی 2013 میں 62 فیصد تھی جو اب 72 فیصد ہو چکی ہے، جبکہ سندھ کی شرح 60 سے کم ہو کر 58 فیصد اور خیبر پختونخوا (کے پی) کی 52 سے گھٹ کر 51 فیصد رہ گئی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کے پی میں گزشتہ بارہ برسوں سے تحریک انصاف برسر اقتدار ہے، جس کا منشور ہی تعلیم اور صحت ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھانا فطری ہے کہ آیا واقعی تعلیم پر سنجیدگی سے کام ہوا ہے یا یہ محض سیاسی نعرہ بازی ہے؟
2013 میں کے پی میں حکومت سنبھالنے کے بعد تحریک انصاف کو تعلیم میں انقلاب لانے کا موقع ملا۔ ابتدا این ٹی ایس کے ذریعے شفاف بھرتیوں کے عمل سے کیا گیا، جو بلاشبہ ایک مثبت قدم تھا، تاہم مضمون کی مطابقت کو نظر انداز کیا گیا۔ مثلاً اسلامیات کے امیدوار سے ریاضی کے سوالات پوچھے جاتے۔ بعد ازاں یہ عمل ایٹا کے سپرد کیا گیا، جس پر وقتاً فوقتاً اعتراضات بھی سامنے آتے رہے۔
اسی طرح تعلیمی مانیٹرنگ کا نظام (Independent Monitoring Unit) ایک قابل ذکر قدم تھا جس نے گھوسٹ اسکولز اور غیر حاضر اساتذہ کی نشاندہی کی اور نظام میں شفافیت لائی۔ کم وقت میں بہترین کارکردگی دکھائی۔
تعلیمی پالیسیاں مسلسل تجربات کا شکار رہیں۔ کبھی بی ایڈ، ایم ایڈ جیسی پیشہ ورانہ ڈگریاں ختم کی گئیں تو کبھی ریکروٹمنٹ کے پیمانے تبدیل کیے گئے۔ لیکچررشپ کے لیے صرف 45 نمبروں پر مبنی MCQs کا امتحان لے کر ‘پروفیسرز’ تعینات کیے گئے، جو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ اس کے برعکس انتظامی سروسز جیسے PMS یا تحصیل دار کے لیے کئی مضامین پر مشتمل امتحانات لیے جاتے ہیں۔
امتحانی نظام بھی تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ ہر سال نقل کی روک تھام کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد نظر نہیں آتا۔ تعلیمی بورڈز تاحال امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے قابل نہیں ہو سکے۔ گریڈ 17 کے ایک بابو کے ذریعے امتحانی مراکز کی انسپیکشن کی جاتی ہے، مگر یہ عمل اصلاحات کے بجائے ہال کے اندر افراتفری کا سبب بنتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک تعلیمی پالیسی کا وہ رویہ ہے جس کے تحت اسکول سطح پر طلبہ کو فیل کرنے کی اجازت نہیں، جس کے نتیجے میں تعلیمی معیار مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔
خیبر پختونخوا میں تعلیمی زوال کی ایک بڑی وجہ تعلیم کے لیے مختص ناکافی بجٹ ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق، پنجاب نے تعلیم کے لیے 2024–25 میں جی ڈی پی کا 18 فیصد مختص کیا، جبکہ کے پی نے صرف 12 فیصد۔ پنجاب میں طلبہ کو وظائف اور مفت کتابیں بروقت فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ کے پی کے گورنمنٹ کالجوں کی فیسوں میں اضافے نے غریب طلبہ کی تعلیم تک رسائی محدود کر دی ہے۔ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے ذریعے بنیادی و ثانوی تعلیم کو کمرشلائز کیا جا رہا ہے، جس سے تعلیم کی “مفت اور معیاری رسائی” کا خواب مزید دور ہو رہا ہے۔
حکومت کی تعلیم سے عدم دلچسپی کا اندازہ تعلیمی وسائل کی قلت اور اضلاع میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی خستہ حالی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ گورنمنٹ کالج چترال میں BS بلاک کی تعمیر کئی سالوں سے تعطل کا شکار رہی، تاہم اب اس پر دوبارہ کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ نشکو، اپر چترال میں ہائیر سیکنڈری سکول کی عمارت 2018 سے لاوارث ہو کر کھنڈر بن چکی ہے۔ ہائی سکولوں کی حالت نسبتاً بہتر ہے، مگر پرائمری سطح پر دو کمروں میں پانچ جماعتوں کو دو اساتذہ کا پڑھانا معمول بن چکا ہے۔ چاردیواری اور ٹوائلٹ جیسی سہولیات کی عدم دستیابی صورتحال کو مزید سنگین بناتی ہے۔
اسی طرح ثانوی سطح پر لیبارٹریوں اور لائبریریوں کی تعمیر ناگزیر ہے، مگر یہ شعبہ مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے۔ درسی کتب کی مفت فراہمی کے موجودہ ماڈل میں بھی اصلاح کی گنجائش ہے۔ ان کتابوں کو سبسیڈائزڈ نرخوں پر بازار میں فراہم کرنا یا نقد رقم طلباء کے اکاؤنٹ میں جمع کرانا مؤثر ہو سکتا ہے، جس سے ترسیلی اخراجات میں کمی اور بروقت رسائی ممکن ہو گی۔
مانیٹرنگ ٹیموں نے صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کی بلکہ قابلِ عمل تجاویز بھی دیں۔ بہتر یہ ہوتا کہ پراجیکٹ کے ختم ہونے کے بعد ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق نظام میں ایڈجسٹ کیا جاتا۔ اگر ان کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے تو ضلعی افسران کو بھی جوابدہ کیوں نہیں بنایا جا سکتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ جو کام مانیٹرنگ والے کر سکتے ہیں وہ ایک ڈی ای او نہیں کر سکتا ہے؟ لیکن اس کے بجائے “سکول لیڈر” متعارف کرائے گئے، جس سے اختیارات کی تقسیم پیچیدہ ہو گئی۔ ایک ہی اسکول میں ہیڈ ماسٹر، مانیٹرنگ افسر اور سکول لیڈر تین الگ حیثیتوں سے کام کر رہے ہیں، جس سے ادارہ جاتی نظم متاثر ہو رہا ہے۔
بورڈ امتحانات کی اصلاح کے لیے بھی کوئی جامع پالیسی سامنے نہیں آئی۔ کیا کے پی آغا خان بورڈ کی طرز پر ایک خودمختار اور جدید بورڈ تشکیل نہیں دے سکتا؟ اگر 13 سال میں طلبہ کو نقل کے بغیر امتحان دینے کے قابل نہیں بنایا جا سکا تو اس “تعلیمی ایمرجنسی” کا کیا جواز باقی رہتا ہے؟
تینوں صوبوں کے تعلیمی اشاریوں کا موازنہ واضح کرتا ہے کہ صرف وہی حکومتیں تعلیم میں بہتری لا سکتی ہیں جو اسے بجٹ، نظم اور مستقل مزاجی سے ترجیح دیں۔ کے پی میں تعلیمی اصلاحات تجربات کی نذر ہو چکی ہیں۔ تاہم، اب بھی وقت ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سنجیدہ پالیسی اپنائی جائے۔ یہاں باصلاحیت نوجوان، پرعزم اساتذہ اور تعلیم دوست والدین موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس ول پاور کی ہے جو تعلیم کو محض نعرہ نہیں، ترجیح بنائے۔ اگر پنجاب بجٹ اور شفافیت سے ترقی کر سکتا ہے تو کے پی بھی کر سکتا ہے، بشرطیکہ نعروں کی جگہ عمل کو ترجیح دی جائے۔
