The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس میں صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی، سیاحت، ماحولیات، صفائی، توانائی و بجلی سمیت دیگر شعبہ جات میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلے، اور گرانٹس کی منظوری

خیبرپختونخوا کابینہ اجلاس میں صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی، سیاحت، ماحولیات، صفائی، توانائی و بجلی سمیت دیگر شعبہ جات میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلے، اور گرانٹس کی منظوری

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ)خیبرپختونخوا کابینہ نے اپنے 30 ویں اجلاس میں صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی، سیاحت، ماحولیات، صفائی، توانائی و بجلی سمیت دیگر شعبہ جات میں عوامی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد اہم فیصلے کئے ہیں۔کابینہ کا طویل اجلاس جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے شرکت کی۔کابینہ اجلاس کے بارے میں وزیر اعلیٰ کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع میں ”مفت درسی کتب اور سکول بیگز کی فراہمی” کے منصوبے کے لئے ایک ارب روپے کی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ سکول بیگز کی فراہمی کے لیے ایک سکیم تیار کریں، جس کا آغاز ان بچوں سے کیا جائے جو موجودہ داخلہ مہم کے دوران سکولوں میں داخل ہو رہے ہیں۔

کابینہ نے بچوں کی بنیادی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ صوبے کے ہر بچے کو بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ درسی کتب کی بروقت طباعت، معیار کی بہتری، لاگت میں کمی اور محکمہ تعلیم کے واجبات کی ترجیحی بنیادوں پر ادائیگی کی ہدایت کی گئی۔کابینہ نے کنڈیشنل گرانٹ پروگرام کے تحت بنیادی سہولیات کی فراہمی کی لاگت میں نظرثانی اور پیرنٹ ٹیچر کونسل کے اخراجاتی حد میں اضافے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے تحت پی ٹی سی کی سالانہ اخراجاتی حد 5 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے کر دی گئی۔ کابینہ اجلاس میں شفاف طریقے سے فنڈز کے استعمال پر بھی زور دیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ پی ٹی کونسلز اس مد میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔کابینہ نے دینی مدارس/دارالعلوم کے لئے گرانٹ اِن ایڈ کی بحالی و اضافہ کی منظوری دیتے ہوئے 100 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے ”یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز سوات” کے ترمیم شدہ اے ڈی پی منصوبے کی 3636.50 ملین روپے کی لاگت سے منظوری دی اور یونیورسٹی کا نام ”یونیورسٹی آف کمپیوٹنگ سائنسز سوات” رکھنے کی منظوری دی۔

فیصلہ کیا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس مکمل کرکے کرایہ کی عمارت سے یہاں منتقل کیا جائے گا۔صحت کے شعبے میں کابینہ نے ”صحت کارڈ ٹرانسپلانٹ و امپلانٹ سکیم” شروع کرنے کی منظوری دی۔ اس سکیم کے تحت صوبے کے تمام مستحق مریضوں کے بون میرو، جگر، گردے کی پیوند کاری اور کوکلیئر امپلانٹ کا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ یہ مہنگا علاج پہلے صحت کارڈ سکیم میں شامل نہیں تھا۔کابینہ نے محکمہ صحت کو پشاور کی ان یونین کونسلز میں سول ڈسپنسریز کی تعمیر کے لیے مقامی حکومت کی جائیداد کی لیز کے قواعد سے استثنیٰ دینے کی منظوری دی جو پولیو کے حوالے سے سپر ہائی رسک قرار دیے گئے ہیں۔کابینہ نے ڈی آئی خان میں ”کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف نرسنگ سائنسز” کے قیام کے لیے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو 30 ملین روپے گرانٹ دینے کی منظوری دی۔کابینہ نے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے لیے 189.65 ملین روپے کی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی۔

اخراجات میں کمی کے لئے کابینہ نے گورنر انسپکشن ٹیم کو صوبائی انسپکشن ٹیم میں ضم کرنے کی منظوری دی۔ فاٹا کے انضمام اور یونیورسٹیز ایکٹ 2012 میں ترامیم کے بعد گورنر انسپکشن ٹیم غیر ضروری ہو چکی تھی، جس کے باعث اس کا انضمام ناگزیر تھا۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ سسٹم کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں فنانس، ٹیکنیکل اور ایچ آر ممبران کی تقرری کی منظوری دی۔

کابینہ نے ورسک روڈ سے ناصر باغ روڈ تک پشاور رنگ روڈ کے شمالی حصے کی تعمیر کی منظوری دی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ اس سڑک کو صنعتی اسٹیٹ حیات آباد سے منسلک کیا جائے۔ کابینہ نے خیالی، متھرا، مچنی اور کبابیاں میں چار پلوں کی تعمیر کی ری ٹینڈرنگ کی بھی منظوری دی۔کابینہ نے 2021 کے ماڈل بائی لاز میں ترمیم کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے ٹی ایم ایز اور تحصیل مقامی حکومتوں کو نجی پھل و سبزی منڈیوں کے قیام کی اجازت دی، بشرطیکہ نئی منڈی کم از کم دو کلومیٹر فاصلے پر ہو، تاکہ صحت مند مقابلے اور عوامی سہولت کو فروغ دیا جا سکے۔کابینہ نے خیبرپختونخوا گورنمنٹ سرونٹس ہاؤسنگ فاؤنڈیشن بل 2025 کی منظوری دی جس کے تحت سرکاری ملازمین کو باقاعدہ طریقے سے گھروں کی تعمیر کے لیے پلاٹ فراہم کیے جاسکیں گے۔

کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کیس (پٹیشن نمبر 11/2020) اور دیگر مقدمات میں سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کی نمائندگی کے لیے الگ قانونی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی بجائے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا خود دفاع کریں گے۔ کابینہ اجلاس میں خیبرپختونخوا بار کونسل کو 30 ملین روپے گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے ”خیبرپختونخوا اپرنٹس شپ رولز 2025” کی منظوری دی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سال 1962 میں اپرنٹس شپ آرڈیننس جاری ہوا تھا۔ صوبائی حکومت نے جدید صنعتی تقاضوں اور عالمی معیارات کے مطابق نیا ایکٹ صوبے میں 2022 میں نافذ کیا، جس کے تحت یہ نئے قواعد و ضوابط وضع کیے گئے ہیں تاکہ مہارتوں کے معیار کو یقینی بنا کر صوبے میں تجارت اور صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔ ان رولز کے لاگو ہونے سے نوجوانوں کو صنعتوں میں کام کرنے کے مواقع دستیاب آئیں گے۔

کابینہ نے محکمہ سیاحت، آثار قدیمہ اور عجائب گھر اور محکمہ جنگلات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور جنگلی حیات کے مابین ایکو ٹورازم منصوبوں کی ترقی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی منظوری دی۔کابینہ نے 132 ٹی ایم ایز کے لیے صفائی کی گاڑیوں کی خریداری کی غرض سے 3.6 ارب روپے کی فراہمی کی منظوری دی اور صوبے میں گاؤں گاؤں صفائی یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس ضمن میں مختلف تجاویز پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔

پشاور کی بڑھتی ہوئی آبادی کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کابینہ نے مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے واٹر سپلائی سکیم کے لیے انٹیک سٹرکچر اور ٹنل کی تعمیر کی لاگت کو صوبائی وسائل سے پورا کرنے کی منظوری دی۔ ساتھ ہی ہدایت کی گئی کہ ضلع مہمند کے پانی کی کمی والے علاقوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ منصوبے کے تحت مہمند ڈیم سے 300 ایم جی ڈی (470 کیوسک) پانی پشاور کو فراہم کیا جائے گا جو 2048 تک شہر کی 80 فیصد ضروریات پوری کرے گا۔ اگرچہ مہمند ڈیم کا ذخیرہ آب پینے کے پانی کی فراہمی کا احاطہ کرتا ہے، تاہم واپڈا کی جانب سے تیار کردہ اصل پی سی ون میں اس سکیم کی لاگت شامل نہیں تھی جو اب شامل کرلی گئی ہے۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا ”کینابیس کے پودوں کی طبی تحقیق، صنعتی اور تجارتی مقاصد کے لیے کاشت، نکالنے، ریفائننگ، تیاری اور فروخت” سے متعلق قواعد 2025 کی منظوری دی۔ اس کے تحت حکومت طبی اور صنعتی مقاصد کے لیے کینابیس کی پیداوار کو منظم کرے گی، اس کی معاشی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا، لائسنسنگ کے سخت شرائط و ضوابط، نگرانی کا مؤثر نظام، محصولات کا حصول، غیر قانونی پیداوار و اسمگلنگ کی روک تھام اور مقامی روزگار کے مواقع کے ساتھ ساتھ تحقیق کو فروغ حاصل ہوگا۔ ان قواعد کے تحت متعدد اقسام کے لائسنس جاری کیے جائیں گے، جن میں کاشت، نرسری، پروسیسنگ، لیبارٹری ٹیسٹنگ، طبی و تحقیقی مقاصد، صنعتی و تجارتی فروخت، نقل و حمل، فارمیسی یا میڈیکل ڈسپنسری، تھوک، پرچون، صرف سی بی ڈی خوردنی کینابیس کی کاشت اور اس کی پروسیسنگ کے لائسنس شامل ہوں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
101097

خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس، ڈی چوک واقعے کے شہداء کے اہل خانہ کے لیے معاوضہ پیکج کی منظوری، شہید کے اہل خانہ کو 10 ملین روپے اور شدید زخمی ہونے والے افراد کو 1 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے

Posted on

خیبرپختونخوا کابینہ کا اجلاس، ڈی چوک واقعے کے شہداء کے اہل خانہ کے لیے معاوضہ پیکج کی منظوری، شہید کے اہل خانہ کو 10 ملین روپے اور شدید زخمی ہونے والے افراد کو 1 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 18واں اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا، جس میں ضلع کرم کی صورتحال پر غور کیا گیا اور علاقے میں پائیدار امن اور استحکام کی بحالی کے لیے ایک جامع ایکشن پلان کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور متعلقہ انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کو کرم میں موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جہاں حالیہ افسوسناک واقعات میں 133 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 177 افراد زخمی ہوئے۔ پلان کے تحت صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا ہے، جس میں مقامی معززین شامل ہیں۔ یہ جرگہ علاقے میں اس وقت تک موجود رہے گا جب تک امن مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا۔ حکومت نے کمیونٹی کے کردار کو اہم قرار دیا اور مقامی عمائدین سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ نفرت اور انتشار پھیلانے والے عناصر کی نشاندہی میں تعاون کریں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ حکومت علاقے میں ہم آہنگی کی بحالی کے لیے اپنے پر عزم ہے، مقامی کمیونٹیز کو ان تفرقہ انگیز عناصر کے خلاف متحد رہنا ہوگا جو ہمارے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔صوبائی کابینہ نے نفرت پھیلا کر تشدد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ ایسے عناصر کو قانون کے تحت شیڈول IV میں شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ علاقے میں موجود بنکرز کو ختم کرنے اور مقامی افراد کے پاس موجود بھاری ہتھیار جمع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ امن و امان کے قیام کے لیے کرم ہائی وے سمیت اہم مقامات پر 65 چیک پوسٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح وفاقی حکومت سے ایف سی پلاٹونز کی تعیناتی کے لیے باضابطہ درخواست بھی کی گئی ہے۔ کابینہ نے کرم میں تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے جامع امدادی پیکج کی بھی منظوری دی۔ شہداء کے اہل خانہ اور زخمیوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی جبکہ نقصان زدہ جائیدادوں کا معاوضہ بھی دیا جائے گا۔ نقصان کے تخمینے کے لیے سروے جاری ہے اور اس مقصد کے لیے 380 ملین روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ کابینہ نے ضرورت کے تحت مزید فنڈز فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ حکومت نے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کو منتقل ہونے والے خاندانوں کی فوری اور باعزت واپسی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کرم میں ضروری ادویات کی شدید قلت کے پیش نظر کابینہ نے فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ادویات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ کابینہ نے ایک اعلیٰ سطحی مانیٹرنگ کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں صوبائی وزیر قانون، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اور متعلقہ پارلیمنٹیرین شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی ایکشن پلان کے نفاذ کی نگرانی کرے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مالی امداد سے لے کر امن قائم کرنے کی کوششوں تک تمام اقدامات مؤثر اور شفاف طریقے سے انجام پائیں۔

مزید برآں، کابینہ نے ضم شدہ اضلاع، جنوبی اضلاع اور ملاکنڈ میں سول انتظامیہ، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بُلٹ پروف اور بم پروف گاڑیاں اور دیگر ضروری سازوسامان فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ پرتشدد واقعات کی روک تھام میں موثر کردار ادا کر سکیں۔ اسی طرح کابینہ نے 26 نومبر کو ڈی چوک واقعے کے شہداء کے اہل خانہ کے لیے معاوضہ پیکج کی منظوری بھی دی ہے، جس کے تحت ہر شہید کے اہل خانہ کو 10 ملین روپے اور شدید زخمی ہونے والے افراد کو 1 ملین روپے فراہم کیے جائیں گے۔اسی طرح، دہشت گردی کے واقعات کے دوران شہید ہونے والے خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ کے لئے مجموعی طور پر 187.00 ملین روپے کا پیکج منظور کیا گیا ہے۔

کابینہ نے پشاور ہائی کورٹ کے لیے 10 ججز کی نئی آسامیاں تخلیق کرنے کی بھی منظوری دی۔ صدر پاکستان نے ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کر دی ہے، جس کے تحت پشاور ہائی کورٹ کے لئے یہ درخواست کی گئی تھی۔مزید برآں، کابینہ نے خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی سالانہ رپورٹ 2023 کی منظوری دی اور اقلیتوں کے کوٹے کے تحت بھرتیوں کے معیار میں نرمی کے لیے حکمت عملی بنانے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نے کمیشن کی کارکردگی کو سراہا اور محکمہ خزانہ کو مالی ضروریات فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔کابینہ نے مالی سال 2022-23 کے لیے خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی سالانہ رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے انفارمیشن کمشنرز (سوشل اور جوڈیشل) کی تعیناتی کی منظوری دی، جو خیبرپختونخوا رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے تحت کام کریں گے۔اجلاس میں جیلوں میں سیکیورٹی آلات، جیمرز، کمیونیکیشن سسٹم اور سی سی ٹی وی کیمروں کی خریداری اور تنصیب کے لیے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی۔ جیل کی لکڑی کی صنعتوں کو ”منظور شدہ ادارہ” کا درجہ دیا گیا تاکہ وہ سرکاری اداروں کو براہ راست فرنیچر اور لکڑی کی مصنوعات فروخت کر سکیں۔کابینہ نے ضلع مہمند کے 106 خاصہ داروں کو خیبرپختونخوا پولیس میں ضم کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے سال 2024-25 کے لیے خیبرپختونخوا شوگرکین اینڈ شوگر بیٹ کنٹرول بورڈ کی تشکیل اور ایبٹ آباد اور کوہاٹ کے واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنیز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ناموں کی منظوری دی۔مزید برآں، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ایکٹ 2022 کے تحت 1% رعایت دینے، خیبرپختونخوا بایوسفئیر ریزرو اور کنزرویسی رولز 2022 میں ترامیم، اور خیبرپختونخوا ریورز پروٹیکشن آرڈیننس 2002 کے سیکشن 13 کے تحت جرائم کی سماعت کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کو اختیارات دینے کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے لیے سال 2024-25 کے بجٹ تخمینے اور 2023-24 کے نظرثانی شدہ بجٹ تخمینے کی منظوری دی۔کابینہ نے جاری پاک-پی ڈبلیو ڈی کے منصوبے صوبائی حکومت کے دائرہ احتیار میں لانے اربن ایریا ڈویلپمنٹ اتھارٹی ہری پور کے لیے گرانٹ، اور فرنٹیئر فاؤنڈیشن کے لیے مالی سال کے دوران گرانٹ میں اضافے کی منظوری دی۔مزید برآں، کابینہ نے متحدہ علماء بورڈ کے اراکین کے لیے اعزازیے، اور لینگ لینڈ اسکول اینڈ کالج چترال کے لیے گرانٹ کی منظوری دی۔صوبائی کابینہ نے خصوصی تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم خصوصی طلباء کی آمد و رفت کے لیے گاڑیوں کی خریداری پر عائد پابندی میں نرمی کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ نے خیبرپختونخوا کے دو ہیلی کاپٹرز کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے پاک فضائیہ کے ساتھ مزید تین سال کا معاہدہ کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔

مزید برآں، کابینہ نے غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ کو بند کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے پاسکو کی درآمد کردہ گندم کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی ہے اور اس ناقص معیار کی گندم کی خریداری کے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مناسب نمائندگی کے لیے کابینہ نے بینک آف خیبر ایکٹ 1991 میں ترامیم کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے سابق معاون خصوصی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، آنجہانی سردار سورن سنگھ کے قانونی ورثاء کے لیے خصوصی معاوضے کی منظوری بھی دی۔ جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ایک اسکیم کو بحال کرتے ہوئے 70 پرائمری اسکولوں کو مڈل سطح پر اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈی آئی خان میں 1984 کنال اراضی محکمہ تعمیرات سے محکمہ سیاحت کو منتقل کرنے اور تحصیل پہاڑ پور، گاؤں ٹھٹھہ بلوچاں میں غیر ADP اسکیم کے تحت ایم سی ایچ سینٹر کے قیام کی منظوری بھی دی ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
96191