خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا صوبائی جامعات رینکنگ نظام نافذ، نئے سال کا تحفہ ہے۔ مینا خان آفریدی
خیبرپختونخوا میں پاکستان کا پہلا صوبائی جامعات رینکنگ نظام نافذ، نئے سال کا تحفہ ہے۔ مینا خان آفریدی
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا نے نئے سال کے آغاز پر صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک تاریخی اور تعلیم دوست اقدام اٹھاتے ہوئے جامعات کے لیے صوبائی سطح پر رینکنگ نظام کی منظوری دے دی ہے۔ ایک سال کی انتھک کوششوں کے بعد، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ سسٹم کی باضابطہ منظوری دے دی، جس کے بعد خیبرپختونخوا پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں اپنی نوعیت کا جامع صوبائی یونیورسٹی رینکنگ نظام متعارف کرایا گیا ہے۔منظوری کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا کہ نئے سال کے آغاز پر خیبرپختونخوا کی جامعات، اساتذہ، طلبہ اور تعلیمی سٹاف کے لیے یہ رینکنگ نظام ایک تحفہ ہے، جو تعلیمی معیار، شفافیت اور مسابقت کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ سسٹم کی تیاری میں بین الاقوامی معیار کے کیو ایس (QS) اور ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) جبکہ قومی سطح پر ایچ ای سی کے رینکنگ نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے بہترین اشاریوں کو صوبائی تقاضوں کے مطابق شامل کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ تعلیم نے بتایا کہ نئے رینکنگ نظام کے تحت تمام سرکاری جامعات کو ایک ماہ کے اندر مقررہ پروفارما کے ذریعے مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، جبکہ مارچ کے مہینے میں پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ لسٹ جاری کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ جامعات کو مالی گرانٹس کی فراہمی میں بھی رینکنگ سسٹم کو مدنظر رکھا جائے گا تاکہ بہتر کارکردگی دکھانے والی جامعات کو مزید سہولیات دی جا سکیں۔
مینا خان آفریدی نے کہا کہ اس رینکنگ نظام میں جامعات کی کارکردگی جانچنے کے لیے گورننس، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ، فنانس و فنڈ جنریشن، سٹوڈنٹس سپورٹ سروسز، اکیڈمک ایکسلینس اور دیگر اہم اشاریوں کو شامل کیا گیا ہے، تاکہ ہر زاویے سے جامع اور شفاف تجزیہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا جامعات رینکنگ نظام کو مکمل تحقیق اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ تعلیم نے مزید کہا کہ دیگر صوبوں میں تاحال جامعات کے لیے کسی صوبائی سطح کے رینکنگ نظام پر کام نہیں ہوا، اور خیبرپختونخوا اس حوالے سے بھی سبقت لے گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر چیئرمین عمران خان آج آزاد ہوتے تو خیبرپختونخوا کی اس تعلیمی کامیابی اور بلند پرواز پر ضرور تالیاں بجاتے۔ مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات، معیار اور عالمی مسابقت کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی تاکہ خیبرپختونخوا کی جامعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام دلایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
مالی سال 2025-26 کے پہلے 6 ماہ میں سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں حاصل کی جانے والی آمدنی میں 30 فیصد اضافہ*
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے مالی سال 2025-26 کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 30 فیصد اضافے کے ساتھ 23.26 ارب روپے کے محاصل اکھٹے کرلئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ وصولیاں 17.92 ارب روپے تھیں۔کیپرا کے میڈیا ونگ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں 5.34 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو صوبہ بھر میں سروسز کے شعبے میں ٹیکس نیٹ کی توسیع اور بہتر حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اتھارٹی نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 26.62 ارب روپے کے محاصل اکٹھے کئے ہیں۔ جن میں 23.26 ارب روپے سیلز ٹیکس آن سروسز جبکہ 3.36 ارب روپے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (IDC) کی مد میں وصول کیے گئے ہیں۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کیپرا کے مجموعی محاصل 23.81 ارب روپے تھے، جن میں سیلز ٹیکس آن سروسز سے 17.92 ارب اور آئی ڈی سی سے 5.89 ارب روپے شامل تھے۔ڈائریکٹر جنرل کیپرا فوزیہ اقبال نے ادارے کے افسران اور عملے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس آن سروسز میں نمایاں اضافہ مؤثر منصوبہ بندی، انفورسمنٹ اور کیپرا کے افسران کی ان تک محنت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ“سیلز ٹیکس آن سروسز میں شاندار اضافہ کیپرا ٹیم کی حکمت عملی، محنت اور پیشہ ورانہ کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی جذبے اور منظم حکمت عملی کے ساتھ کیپرا رواں مالی سال کے اہداف حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ڈائریکٹر جنرل نے ٹیکس دہندگان کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے اعتماد، تعاون اور شراکت داری نے کے کیپرا کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ کے مشیر برائے خزانہ جناب مزمل اسلم کی رہنمائی اور تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی قیادت کیپرا میں اصلاحات کے نفاذ اور محصولات میں اضافے کے لیے کلیدی ثابت ہوئی ہے۔