خونی سراب – قادر خان یوسف زئی
خونی سراب – قادر خان یوسف زئی
اکیسویں صدی کی دہلیز پر کھڑا انسان جب اپنی نام نہاد تہذیبی ترقی پر فخر کرتا ہے تو تاریخ کے اوراق میں چھپی خون آلود سچائیاں اس کے منہ پر طمانچہ مارتی نظر آتی ہیں۔ کیا یہ وہی دنیا ہے جسے امن کا گہوارہ بننا تھا؟ یا ہم ایک ایسے جنگل میں واپس آ چکے ہیں جہاں ٹیکنالوجی تو جدید ہے لیکن انسان کا وحشی پن پتھر کے زمانے سے بھی بدتر ہو چکا ہے؟ جب ہم سپر پاور کہلانے والے امریکہ کی سرزمین پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں بہنے والا خون اور اب حال ہی میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے پرسکون ساحلی علاقے میں ہونے والے واقعے کے محرکات پر سوال اٹھتے ہیں۔
امریکہ کی بنیاد میں ہی ”گن کلچر” پیوست ہے۔ آئین کی دوسری ترمیم، جو شہریوں کو اسلحہ رکھنے کا حق دیتی ہے، آج ایک ایسے ناسور میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا علاج وہاں کا سیاسی نظام ڈھونڈنے سے قاصر ہے۔ تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو کولمبائن ہائی سکول سے لے کر سینڈی ہک، پارکلینڈ اور ٹیکساس کے یووالڈے تک، ہر واقعہ ایک دوسرے سے زیادہ لرزہ خیز رہا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے ”واٹسن انسٹی ٹیوٹ” کی تحقیقات کا ذکر کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کا ”Costs of War” پروجیکٹ ہمیں ایک ہولناک حقیقت دکھاتا ہے کہ کس طرح امریکہ کی بیرونی جنگیں خود اس کے اپنے معاشرے کو عسکریت پسند بنا رہی ہیں۔ براؤن یونیورسٹی کی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ جب ایک ریاست دہائیوں تک دنیا بھر میں تشدد اور جنگ کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بناتی ہے، تو وہ تشدد پلٹ کر اس کے اپنے سماج میں سرایت کر جاتا ہے۔ جنگی سازوسامان جو کبھی میدان جنگ کے لیے تھا، آج امریکی پولیس اور عام شہریوں کے ہاتھوں میں نظر آتا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 9/11 کے بعد شروع ہونے والی جنگوں نے نہ صرف کھربوں ڈالر نگل لیے بلکہ امریکی نفسیات میں بھی ایک مستقل ”جنگی کیفیت” پیدا کر دی ہے، جس کا نتیجہ ہم سکولوں اور مالز میں ہونے والی شوٹنگز کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔
امریکہ کے عوام، خصوصاً والدین، اب ایک مستقل خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ وہاں ”عوامی ردعمل” اب دو انتہاؤں میں بٹ چکا ہے۔ ایک طرف وہ نوجوان نسل ہے جو ”مارچ فار آور لائیوز” جیسے پلیٹ فارمز پر چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ”ہمیں جینے کا حق دو”، اور دوسری طرف وہ قدامت پسند طبقہ ہے جو اپنی بندوقوں کو اپنی آزادی کی ضمانت سمجھتا ہے۔ امریکی عوام کا المیہ یہ ہے کہ ہر شوٹنگ کے بعد موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، پھول رکھے جاتے ہیں، اور سیاستدان ”خیالات اور دعاؤں” کا وہی پرانا راگ الاپتے ہیں جس سے اب عوام کو گھن آنے لگی ہے۔ وہاں کے سکولوں میں بچوں کو اب ”ایکٹو شوٹر ڈرلز” کروائی جاتی ہیں، یعنی انہیں سکھایا جاتا ہے کہ جب کوئی قاتل سکول میں گھس آئے تو ڈیسک کے نیچے کیسے چھپنا ہے۔
سڈنی کے علاقے بانڈی جنکشن کے شاپنگ مال میں جب ایک ذہنی مریض جویل کاؤچی نے چاقو سے حملہ کر کے چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا اور متعدد کو زخمی کیا، تو آسٹریلوی عوام سکتے میں آ گئے۔ آسٹریلیا وہ ملک ہے جس نے 1996 کے پورٹ آرتھر قتل عام کے بعد دنیا کے سخت ترین ”گن کنٹرول” قوانین نافذ کیے تھے اور اس کے بعد وہاں ماس شوٹنگز تقریباً ختم ہو گئی تھیں۔ سڈنی کا یہ واقعہ اگرچہ تکنیکی طور پر ”ماس سٹیبنگ” تھا، لیکن اس نے عوامی نفسیات پر وہی خوف طاری کیا جو امریکہ میں گن وائلنس کرتی ہے۔ تاہم، یہاں عوام اور ریاست کا ردعمل امریکہ سے یکسر مختلف نظر آیا۔ آسٹریلوی عوام نے فوراً ہی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ وہاں کسی ”چاقو لابی” نے قاتل کا دفاع نہیں کیا اور نہ ہی سیاستدانوں نے اسے سیاسی رنگ دیا۔ سڈنی کے عوام نے اس واقعے کے بعد ”بولارڈ مین” یعنی اس فرانسیسی شہری کو ہیرو قرار دیا جس نے اپنی جان پر کھیل کر حملہ آور کا راستہ روکا، اور اس خاتون پولیس انسپکٹر کو خراج تحسین پیش کیا جس نے تن تنہا حملہ آور کو ختم کیا۔
سڈنی کے واقعے کے بعد آسٹریلوی عوام کا ردعمل فوری طور پر ”ذہنی صحت” کے نظام میں اصلاحات کے مطالبے کی طرف مڑ گیا۔ عوام نے سوال اٹھایا کہ ایک شخص جو طویل عرصے سے ذہنی مریض تھا اور جس کے بارے میں حکام کو علم تھا، وہ آزادانہ گھومتے ہوئے اتنا بڑا سانحہ کیسے برپا کر گیا؟ اس کے برعکس امریکہ میں عوامی بحث فوراً ہی سیاسی اکھاڑے کی نذر ہو جاتی ہے۔ براؤن یونیورسٹی کی تحقیقات کا ایک اور پہلو یہاں صادق آتا ہے کہ تشدد کے اثرات محض جسمانی نہیں ہوتے بلکہ یہ معاشی اور سماجی عدم مساوات کو بھی جنم دیتے ہیں۔ امریکی عوام اس بات پر نالاں ہیں کہ ان کے ٹیکسوں کا پیسہ اسلحہ ساز کمپنیوں کی جیبوں میں جا رہا ہے جبکہ ان کے بچے سکولوں میں محفوظ نہیں ہیں۔ مزید برآں، ان واقعات کے پس منظر میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ میں شوٹرز اکثر اپنے منشور آن لائن جاری کرتے ہیں اور میڈیا کی کوریج کے ذریعے اپنی نفرت انگیز سوچ کی تشہیر چاہتے ہیں۔ یہ ”بدنامی کی خواہش” (Desire for Infamy) نوجوانوں کو اس راستے پر ڈال رہی ہے۔ سڈنی کے واقعے میں بھی سوشل میڈیا پر افواہوں کا بازار گرم رہا، جہاں غلط معلومات کے ذریعے حملہ آور کی شناخت کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، جسے بعد میں پولیس نے مسترد کر دیا۔ یہ عوام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے کہ جدید دور میں معلومات کی جنگ بھی اتنی ہی خطرناک ہے جتنا کہ خود ہتھیار۔
تحقیق بتاتی ہے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی تنہائی (Alienation) اور ”امید کا قتل” نوجوانوں کو پرتشدد بنا رہا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے افراد خود کو بے وقعت محسوس کرتے ہیں اور پھر وہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے تباہی کا راستہ اپناتے ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ اور آسٹریلیا کے یہ واقعات محض خبریں نہیں بلکہ انسانیت کے زوال کی داستانیں ہیں۔ ذہن کے اندر موجود عفریت کو قابو کرنا ضروری ہے۔ امریکی عوام کا غصہ اور آسٹریلوی عوام کا سوگ، دونوں اس بات کی گواہی ہیں کہ دنیا کا موجودہ نظام انسان کو تحفظ اور سکون دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔
