The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 30 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

نگران وزیراعلیِ نے خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں جدید مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کی فراہمی کے پروگرام کا باضابطہ اجراء کردیا

Posted on

نگران وزیراعلیِ نے خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں جدید مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کی فراہمی کے پروگرام کا باضابطہ اجراء کردیا

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں جدید مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کی فراہمی کے پروگرام کا باضابطہ اجراء کردیا ہے۔ پروگرام کے تحت ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، نرسنگ، پیرامیڈیکس اور دیگر شعبوں میں کریش کورسز کروائے جائیں گے۔ اس مقصد کے لئے مختلف محکموں اور اداروں کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط بھی کئے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ تھے جبکہ نگران کابینہ اراکین، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، شراکت دار اداروں کے نمائندوں، صحافی حضرات اور طلباءو طالبات کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ تقریب میں مختلف محکموں اور اداروں کے مابین سات مفاہمتی یادداشتوں پر باضابطہ دستخط کئے گئے جن کے باہمی تعاون سے ٹارگٹڈ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں کریش کورسز کروائے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق انسٹیٹوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور نے محکمہ امور نوجوانان اورخیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ دو مختلف مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی نے محکمہ اعلیٰ تعلیم اور تیز رفتار سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے ساتھ دو مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے جبکہ خیبرپختونخو ا آئی ٹی بورڈ اور سمال انڈسٹریز ڈویلپمنٹ بورڈ کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کامسیٹس نے ڈائریکٹوریٹ آف یوتھ افیئرز جبکہ پاک آسڑیا فخہ شولے انسٹیٹوٹ نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے ساتھ ایک ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے۔ نگران وزیراعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں بیروزگاری ایک دیرینہ مسئلہ ہے، اپنے نوجوانوں کو بیروزگار دیکھ کر ہمیشہ سے بڑی تکلیف ہو تی تھی۔ا ±نہوںنے کہاکہ اب اﷲ تعالیٰ نے موقع دیا تو ترجیحی بنیادوں پر نوجوان طبقے کی فلاح کیلئے پروگرام کا اجرائکیا ہے۔نگران حکومت کی مدت مختصر ہے اور بنیادی کام عام انتخابات کے صاف و شفاف انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے جس کے لئے ہم ہر ممکن اقدامات یقینی بنائیں گے تاہم اس مختصر مدت کو ہم مخلوق کی بھلائی اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بھی استعمال میں لانا چاہتے ہیں۔ اسی وژن کے تحت خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کا ایک اہم ترین جز نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت دینا اور روزگار کیلئے بیرون ممالک بھیجنا ہے۔

نگران حکومت نے ہیومین ریسورس ایکسپورٹ ا سٹریٹٹجی کے تحت ایک واضح روڈ میپ تیار کیا ہے جس کے دیرپا اثرات مرتب ہو ں گے۔ ہمارا یہ پروگرام آنے والی حکومت کو بھی عوام کی خوشحالی خصوصاً نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کی فراہمی کیلئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ انسانیت کی بھلائی کا پروگرام ہے جسے سب نے مل کر کامیاب بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر کم ازکم پانچ لاکھ نوجوانوں کو مارکیٹ بیسڈ تربیت دے کر ملک و بیرون ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنا حتمی ہدف ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس مقصد کیلئے ایک لاکھ نوجوانوں کو کریش کورسز کروانے جارہے ہیں۔ ارشد حسین شاہ نے کہاکہ نوجوان ہمارامستقبل ہیں،ہم اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرکے انہیں ایک قیمتی اثاثہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسی وژن کے تحت مذکورہ پروگرام کا اجرائکیا گیا ہے۔ انہوںنے اس مقصد کیلئے قائم ٹاسک فورس کے ممبران اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ اس نیک کام کو آگے بڑھانے اور عوامی فلاح کے اس وژن کو عملی جامہ پہنانے میں مزید جانفشانی کے ساتھ کام کریں گے۔ نگران صوبائی وزرائڈاکٹر نجیب اﷲ اور ڈاکٹر عامر عبداﷲ کے علاوہ چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور پروگرام کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔

chitraltimes caretaker cm kp launching program kp youth

دریں اثنا نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ نے پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس قیصر رشید کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیر اعلی نے سوگوار خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
<><><><><><>

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83727

نگران وزیراعلیِ کے زیرصدارت خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس، اسلحہ لائسنس کا سارا نظام آن لائن کردیا گیا ہے جبکہ جیلوں میں قیدیوں سے اہل خا نہ کی ملاقات کے لئے ورچوئل سسٹم کا اجراءبھی کیاگیا ہے، بریفنگ

نگران وزیراعلیِ کے زیرصدارت خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس، اسلحہ لائسنس کا سارا نظام آن لائن کردیا گیا ہے جبکہ جیلوں میں قیدیوں سے اہل خا نہ کی ملاقات کے لئے ورچوئل سسٹم کا اجراءبھی کیاگیا ہے، بریفنگ

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا جسٹس ریٹائرڈ سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں منعقد ہوا۔ متعلقہ صوبائی وزرائ، چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ڈویژنل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ز بھی بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو پروگرام کے تحت مختلف اقدامات پر اب تک کی پیشرفت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت اُٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں نچلی سطح پر گورننس میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

صوبے میں لینڈ ریکارڈاور اس سے متعلق اُمور کی ڈیجٹیائزیشن کی رفتار تیز کر دی گئی ہے، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مینوئل موضع جات کی تعداد 813 سے کم ہوکر 386 پر آگئی ہے۔اسی طرح آگاہ کیا گیا کہ اسلحہ لائسنس کا سارا نظام آن لائن کردیا گیا ہے جبکہ جیلوں میں قیدیوں سے اہل خا نہ کی ملاقات کے لئے ورچوئل سسٹم کا اجراءبھی کیاگیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ نوشہرہ میں ای ڈومیسائل سسٹم کا آغاز کردیا گیا ہے اور صوبے کے باقی ماندہ تمام اضلاع میں بھی 31 جنوری تک ای ڈومیسائل کا اجراءکردیا جائے گا۔نگران وزیراعلیٰ نے خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام عوام کی ضرورت اور اہمیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کی بھلائی کا پروگرام ہے جسے ہم سب نے مل کر کامیاب بنانا ہے۔اُنہوںنے کہاکہ پروگرام کے تحت امن و امان اور گورننس کو بہتر بنانے کے علاوہ تجاوزات، منشیات، ملاوٹ، کرپشن اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریونیو سے متعلق عوام کو بہت زیادہ مسائل درپیش ہیں جن کو حل کرنے کیلئے خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اُنہوںنے اس سلسلے میں ریونیو افسران کو ریونیو کیسز بروقت نمٹانے کی ہدایت کی اور کہاکہ افسران یہ کام ماتحت عملے پر ہرگز نہ چھوڑیں،فرائض سے غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اُنہوںنے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ریونیو افسران اور دیگر ماتحت عملے کی نگرانی کریں،

غلط کاموں میں ملوث اہلکار معاشرے کے دشمن ہیں لہٰذا ذمہ داران افسران بدعنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کریں، حکومت اُن کو بھر پور سپورٹ فراہم کرے گی ۔اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ افسران خود فیلڈ میں جاکر معاملات کی نگرانی کریں۔ سید ارشد حسین شاہ نے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے رجحان کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہاکہ منشیات کے استعمال سے ہماری نسلیں تباہ ہو رہی ہیں۔ اُنہوںنے ہدایت کی کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے تدارک کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83308

فارغ اوقات میں سرکاری عمارتیں ‘خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام’ کے لئے مختص کرنے کا فیصلہ، ہنگامی بنیادوں پر 500 ہزار نوجوانوں کو تکنیکی تربیت دی جائے گی

خیبرپختونخوا نگران کابینہ کا خصوصی اجلاس
فارغ اوقات میں سرکاری عمارتیں ‘خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام’ کے لئے مختص کرنے کا فیصلہ، ہنگامی بنیادوں پر 500 ہزار نوجوانوں کو تکنیکی تربیت دی جائے گی

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبرپختونخوا کی نگران کابینہ نے آج ایک خصوصی اجلاس میں نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کے لئے انقلابی اقدامات کے تحت کلاسز شروع کرنے کے لیے مختلف صوبائی محکموں کو اپنی عمارتیں فارغ اوقات میں ” خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام” کے لئے مختص کرنیکا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے سے بے روزگار نوجوانوں کے لئے ہنگامی بنیادوں پر تربیتی پروگرام شروع کرنے میں معاونت ملیگی. ان محکموں میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، ہائیر ایجوکیشن، ٹیکنیکل ایجوکیشن، انڈسٹریز اینڈ لیبر، ہیلتھ اور دیگر لائن ڈیپارٹمنٹس شامل ہیں۔ نگران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا خصوصی اجلاس سول سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء، چیف سیکرٹری اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ حال ہی میں جنوبی کوریا نے ایک لاکھ سے زائد ہنر مند ورکرز کا مطالبہ کیا تھا جس کے جواب میں پاکستان، پورے ملک سے صرف 16000 ہنر مند ورکرز فراہم کر سکا کیونکہ ملک کے پاس بیرون ملک ملازمت کرنے کے لیے درکار ہنر مند افرادی قوت نہیں ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر سے 500 ہزار سے زائد نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، کمپیوٹر، پیرا میڈیکس، نرسنگ وغیرہ جیسے شعبوں میں مختلف نوعیت کی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ ملک اور بیرون ملک روزگار اور ملازمتیں شروع کرسکیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ نگران حکومت کا اولین فرض اگرچہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانا ہے لیکن صوبے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور غربت کے پیش نظر نوجوانوں کو دہشت گردوں کی نرسریاں بننے کے لیے مایوس نہیں چھوڑا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں انتظار نہیں کیا جاسکتا اور عوام کی فلاح و بہبود میں نگران حکومت کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس وقت عوام کی خدمت کا موقع فراہم کیا ہے اس لیے ہمیں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے پہلے ہی مختلف وزراء، سیکرٹریز اور مختلف اداروں کے سربراہان پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام چند دنوں میں منظر عام پر لایا جائے گا. دریں اثنا، صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اس موقف کی توثیق کی جس میں گزشتہ روز انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ کے ساتھ ملاقات میں بی آئی ایس پی کے اخراجات کی شریک فنانسنگ، زرعی ٹیوب ویلز اور کھادوں کے لیے سبسڈی سمیت ہائر ایجوکیشن کے تحت یونیورسٹیوں کی مالی ذمہ داریاں اور پی ایس ڈی پی منصوبوں کو صوبائی اے ڈی پی پر منتقل کے لیے وفاقی حکومت کے موقف کی تائید نہیں کی تھی اور موقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ صورتحال میں صوبہ ایسی کسی بھی ذمہ داری کا متحمل نہیں۔

کابینہ اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ صوبے کو نئے پروگرام شروع کرنے میں کافی رکاوٹوں کا سامنا ہے خاص طور پر جب اس طرح کے اقدامات کے لیے عوام پر بڑے پیمانے پر مزید ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت ہو، جو کہ نگران حکومت کے مینڈیٹ سے باہر ہے۔ صوبائی نگران کابینہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مالیاتی معاملات سے متعلق فیصلہ سازی کے عمل میں آئینی حدود میں رہتے ہوئے دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت پر بھی زور دیا اور موقف اپنایا گیا کہ موجودہ مشکل ترین مالی حالات میں کوئی بھی نئی تبدیلیاں جو مزید پیچیدگیاں پیدا کریں، سے گریز کیا جائے. یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے بی آئی ایس پی، ایچ ای سی اور سبسڈیز کی مالی ذمہ داریاں متعلقہ صوبائی حکومتوں کو منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔ نگراں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا اور وفاقی وزیر خزانہ، ریونیو و اقتصادی امور کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایسی کسی بھی تجویز کو منظور کرنے سے انکار کیا تھا جس میں مالی بوجھ صوبے کو منتقل کیا جائے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83189

جلد خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کا اجراء کریں گے جس کے تحت نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق فنی تربیت دیکر روزگار کے لیے باہر بھیجیں گے.نگران وزیراعلیٰ 

جلد خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کا اجراء کریں گے جس کے تحت نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق فنی تربیت دیکر روزگار کے لیے باہر بھیجیں گے.نگران وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس (ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و املاک کے تحفظ میں پولیس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے،ملک دشمن عناصر کے خلاف پالیسی بڑی واضح ہے،اس سلسلے میں مرکزی و صوبائی حکومتیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور عوام سب ایک پیج پر ہیں۔ پورے ملک کا استحکام ضم اضلاع میں امن و استحکام سے وابستہ ہے، سابقہ فاٹا کا انتظامی انضمام تو مکمل ہو چکا مگر مالی انضمام بدستور نامکمل ہے جو خصوصی توجہ کا متقاضی ہے، قومی سطح پر موجودہ مالی عدم استحکام کی وجہ سے ضم اضلاع میں بھی ترقی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ضم اضلاع کی فنڈنگ کا مسئلہ وزیراعظم کے ساتھ اٹھا رکھا ہے، امید ہے جلد صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں زیر تربیت اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) پر مشتمل مطالعاتی دورے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چودھری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ عابد مجید اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

زیر تربیت پولیس افسران کو اس موقع پر محکمہ داخلہ اور محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے اعلی حکام کی جانب سے صوبے کی ڈیموگرافی، امن و امان کی صورتحال، صوبے میں امن کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، ترقیاتی پورٹ فولیو، مجموعی معاشی صورتحال،ضم اضلاع کے مسائل اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نگران وزیر اعلیٰ سید ارشد حسین شاہ نے مطالعاتی دورے پر آنے والے اے ایس پیز کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یقینی طور پر آپ لوگوں نے پولیس سروس میں شامل ہونے کے لیے بڑی محنت کی ہے اور ملک و قوم کی خدمت کے لیے خود کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے زیر تربیت پولیس افسران سے کہا کہ وہ فرض شناسی، ایمانداری اور حق کی حمایت کو اپنا شعار بنائیں، ظلم اور برائی کے خلاف سینہ سپر رہیں اور مظلوم انسانیت کی حمایت کریں، ہماری زندگی، یہ عہدے اور مرتبے سب امانت ہیں، کوشش کرنی چاہیے کہ ان میں خیانت نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک و قوم کے محافظ ہونے کی وجہ سے پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز پر بڑی بھاری ذمہ داری ہے،امن و امان کے قیام اور ملک و قوم کے تحفظ میں پولیس نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے اور اس مقصد کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔

خیبرپختونخوا پولیس کے کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشد حسین شاہ نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے صوبے میں دہشت گردی کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ہمارے اداروں کا مورال بلند یے، چیلنجز ضرور ہیں مگر حوصلے بلند ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی ملک کے خلاف ہے وہ ہم سب کا دشمن ہے، جو ریاست کے آئین کو نہیں مانتا اس کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔ وزیر اعلی نے ضم اضلاع میں ترقیاتی و فلاحی عمل کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ضم اضلاع کی فلاح و ترقی ترجیح یے، اس سلسلے میں باضابطہ منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاہم قومی سطح پر مالی مسائل کی وجہ سے ضم اضلاع کی فلاح و ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے وقت جو وعدے کیے گئے تھے، بدقسمتی سے ابھی تک پورے نہیں ہوئے، یہی وجہ ہے کہ ضم اضلاع میں ترقی کا عمل رکا ہوا ہے۔ ارشد حسین شاہ کہا کہنا تھا کہ وہ ضم اضلاع کے سلسلے میں نہایت سنجیدہ ہیں اور پر امید ہیں کہ نگران وزیراعظم کے تعاون مسائل پر جلد قابو پا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نگران صوبائی حکومت ضم اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل سے بخوبی واقف ہے اور فلاحی سرگرمیوں میں ان اضلاع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہم جلد خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کا اجراء کریں گے جس کے تحت نوجوانوں کو بین الاقوامی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کے مطابق فنی تربیت دیکر روزگار کے لیے باہر بھیجیں گے، اس پروگرام کے تحت بھی ضم اضلاع کے نوجوانوں کو پہلی ترجیح دی جائے گی۔ ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ حتمی مقصد نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرکے انہیں منفی سرگرمیوں سے بچانا ہے، اس طرح وہ نا صرف وہ اپنے لیے کمانے کے قابل ہوں گے بلکہ ایک ذمہ دار فرد کے طور پر قومی ترقی و خوشحالی میں بھی کردار ادا کر سکیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83006

چیف سیکرٹری خیبر پختونخواندیم کی زیر صدارت خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے بارے سیکرٹریز کمیٹی وڈپٹی کمشنرز کا اجلاس،  پروگرام کے تحت اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا، بریفنگ 

چیف سیکرٹری خیبر پختونخواندیم کی زیر صدارت خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے بارے سیکرٹریز کمیٹی وڈپٹی کمشنرز کا اجلاس،  پروگرام کے تحت اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا، بریفنگ

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) چیف سیکرٹری خیبر پختونخواندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ، ایڈیشنل آئی جی پولیس اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی جبکہ صوبے کے اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔اجلاس کے شرکاء کو اس موقع پرخوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ خوشحال خیبرپختونخوا پروگرام کے تحت صوبے کے عوام کی بہتر انداز میں خدمت ہو سکے گی۔صوبے میں امن و امان کے ساتھ ساتھ معاشی صورتحال کی بہتری اس پروگرام کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، اس کے علاوہ گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی جبکہ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لئے عالمی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق آئی ٹی بیسڈ کورسز کرائے جائیں گے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں روزگار کیئے اپنی جگہ بنا سکیں اور اپنے لئے بہترروزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔ اس پروگرام کے تحت اگلے ایک سال میں پانچ لاکھ تک نوجوانوں کو روزگار کے لئے بیرون ملک بھیجا جائے گا۔اجلاس میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شفاف، آزادانہ اور منصفانہ عام انتخابات صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور اس کو ترقی دینے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا-

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
82994