The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خود کشی تو حرام ہے! – تحریر: قاری فدا محمد

خود کشی تو حرام ہے! – تحریر: قاری فدا محمد

جو لوگ معاشرت کے متعلق اسلامی اصولوں اور مغربی تفکرات کے امتزاج میں جینا چاہتے ہیں، وہ نہ صرف خود بدترین فریب میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی تضاد روی کا شکار کر دیتے ہیں۔ اسلام اپنے مقصد کے اعتبار سے معاشرت کا ایسا نظام ترتیب دیتا ہے جس میں مرد اور عورت کے دوائر عمل بڑی حد تک الگ کر دئیے گئے ہیں۔ اس نظام کے اندر اختلاط مرد وزن سے حتی االامکان گریز پا رہنے کی تاکید ملتی ہے اور ان تمام عوامل کے انسداد کی کوشش کی گئی ہے جو اس نظم و ضبط کو توڑنے کا باعث بنتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں مغربی تہذیب کا مقصد اور اس کا لازمی تقاضا ہے کہ دونوں صنفوں کو ایک ساتھ میدان میں اتارا جائے، اور ان کے درمیاں وہ تمام حجابات مٹا دیے جائیں جو آزادانہ اختلاط کی راہ میں مانع ہوں، اور انھیں ایک دوسرے کے حسن و لطف سے ہر آن استفادہ کے مواقع میسر کر دیے جائیں ۔ اسلام انسانی جذبات و خواہشات کا گلہ گھونٹ کر اسے سنیاسی اور جوگی بنانا نہیں چاہتا بلکہ ان فطری خواہشات کو اخلاقی ڈسپلن میں لا کر اس طرح منضبط کرتا ہے کہ وہ پراگندہ عملی میں ضائع ہونے کے بجائے پاکیزہ معاشرت کی تعمیر میں صرف ہوں۔ جو شخص ان دو متضاد مقاصد اور خیالات کو یکجا کرکے جینا چاہتا ہے، وہ ظاہر ہے کسی حال میں مطمئن نہیں رہ سکتا اور اس کے معاملات یقینی تضادات کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ ایسے تضادات پر مبنی معاشرہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جدید اذہان اسلام کے حصار میں رہتے ہوئے مغربی تمد ن کی لطافتوں سے حظ اٹھانے کا متلاشی ہے، جس کےنتیجے میں بے شمار قبائح اور المناک واقعات آئے روز وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جنھیں ہم بلیک ملنگ کا شاخسانہ، بے وفائی کا حُزنیہ، رقابت کا المیہ اور قباحت کا نتیجہ وغیرہ نام سے یاد کرتے گزرے جاتے ہیں۔

اس موضوع پر کسی خاص تناظر سے ہٹ کر عموم کے انداز میں کھل کر یہ بات کر لینے میں مضائقہ نہیں کہ بلیک ملنگ وغیرہ کے انجام سے دوچار ہونے والی بیشتر آشنائیاں “دو طرفہ ” ہی ہوتی ہیں۔ ہوتا یہ کہ مخلوط مجالس اور ماحول سے مخالف اصناف میں جذباتی قربتیں پیدا ہوتی ہیں ، پھر یہ قربتیں معاشقےکے مدارج طے کرتی آگے بڑھتی ہیں، باہم جینے اور مرنے کے وعدے اور دعوے ہوتے ہیں، پاسِ عہد اور خلوص و وفا کا ایک دوسرے کو ایسا یقین دلایا جاتا ہے کہ جدائی میں جینا ہر ایک کو محال لگنے لگتاہے۔ فی زمانہ ذرائع مواصلات کی فراوانی کی وجہ سے نہ صرف باہم ‘خاص گفتگوئیں ‘ہوتی ہیں بلک ذاتی نوعیت کے معاملات ، معلومات اور تصاویر وغیرہ بھی بے دھڑک ایک دوسرے کو فراہم کردی جاتی ہیں، یہی چیز آگے جا کر مصیبت بن جاتی ہے۔
اس جذباتی اور خیالی ماحول کے اندر وہ اپنے مستقبل کے شیش محل کی تعمیر میں مصروف ہوتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے خاندان کا فیصلہ قہر بن کر ٹوٹتا اور اس شیش محل کے در ودیوار پر لرزہ طاری کر دیتا ہے ،یوں وہ عہد وفا جس کی استواری کی قسمیں کھائی جاچکی تھیں، تارعنکبوت کی طرح ہوا کی دوش میں بے محل گردش کرنے لگتا ہے۔ایسے میں بیشتر بچیاں ماں باپ اور اہل خاندان (خاص کر بھائی اور بھابھی کی بدمعاشی) کے ہاتھوںمجبور اپنی چاہت کی قربانی پر بادل ناخواستہ آمادہ ہو جاتی ہیں۔ ان کو یہ نیک گمان (بلکہ یقین ) لاحق ہوتا ہے کہ “دوست” بھی اس کی مجبوری کو سمجھ جائے گا، اور عذر قبول کرکے سہولت سے راستہ الگ کرلے گا، مگر افسوس کہ اکثر اوقات معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

ہوس پرست اور خود غرض دوست کسی حال میں چھوڑنے پر راضی اور کسی صورت پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہوتا ۔ اور جب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو انہی سامان کو ،جو اعتماد کی بنیاد پر اس کو بھیج دیے گئے تھے، ڈرانے اور دھمکانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے۔ ایک طرف لڑکی ہے، جو نہ پائے رفتن ، نہ جائے ماندن کے مصدق بے بسی اور لاچارگی کی تصویر بن کر رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف ہوس پرست دوست مطلب براری کے حربے ایک ایک کرکے استعمال کرنے لگتا ہے۔ظاہر ہے شرم و حیا اور خاندان کی توقیر کو ملیامیٹ کرنا ہر خاتون کے لیے ممکن نہیں ہوتا اور نہ ہی اس متوقع بے عزتی کو ، جو اس کے رفیق کے ہاتھوں اس کو ملنے والی ہے، انگیز کرنے کا ہر کسی میں یارا ہوتا ہے، اور نہ گھر کا ماحول اس بات کا متقاضی ہوتا ہے کہ وہ اپنا دکھ کسی سے بیان کر سکے۔ ایسے میں لاچار وہ اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے پر اتر آتی ہے، اور اس صورت حال میں خلاصی کا یہی واحد راستہ اس کو دکھائی اور سجھائی دیتا ہے کہ وہ موت کو گلے لگائے۔کوئی مانے یا نہ ، ہمارے ہاں، بچیوں کی اکثر خود کشیوں کے پیچھے اسی چیز کی کارفرمائی ہوتی ہے۔

بچیوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ پہلے اس غلطی سے باز رہنے کی کوشش کریں ، جس کا یہ انجام ہونا ہے۔ اور اگر انسان ہونے کے ناتے یہ غلطی ہو چکی ہے، اور صورتحال ایسی پیدا ہوگئی ہے تو سیدھا سیدھا ماں باپ کو یا بہنوں کو یا پھر کسی مخلص رشتہ دار خاتون کے ذریعے اپنے خاندان کو فورا مطلع کریں۔ اگر باپ بہت ہی سخت ہوا تو کیا ہوگا؟ زیادہ سے زیادہ ڈانٹ پڑے گی، ایک آدھ تھپڑ رسید ہو گی ، کچھ عرصہ منہ بسورے بیٹھے گااور بس! بتائیں یہ زیادہ تکلیف دہ ہے یا وہ اقدام جس میں اترجانا ، کسی حال میں پسندیدہ نہیں، کسی صورت قابل قبول نہیں اور کسی قانون میں جائز نہیں۔

بچیوں کو یہ بھی سمجھا دینی چاہیے کہ ماں باپ کے سامنے اپنا مسئلہ بیان کرنے سے ، ان کی غیرت و توقیر میں کمی آنے کا جو خوف تمھیں لاحق رہتا ہے، یہ اُس بے عزتی کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے، جس میں وہ تمھاری خود کشی کی وجہ سے مبتلا ہوتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایسے میں لوگ کیا کیا باتیں بناتے ، قصے گھڑتے اور ہرزہ سرائی کا سامان کرتے رہتے ہیں۔ آپ جو ایک بلیک میلر سے اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت بچانے کے لیے اپنی جان مار دیتی ہیں، یقین کریں اس پر لوگ آپ کو معاف نہیں کرتے، آپ کے خلاف وہ وہ باتیں بنائی جاتی ہیں کہ جن کی خبر آپ کے فرشتوں کو بھی نہیں ہوتی ، آپ کے والدین، آپ کے بھائی، آپ کی بہنیں( جو دوسروں کے گھروں میں ہوتی ہیں)، آپ کی سہیلیاں اور آپ کے اہل و عیال سر اٹھا کر چلنا تو چھوڑیے، کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے۔ آپ کی جدائی کی اذیت اپنی جگہ ، مگر لوگوں کی گھڑی ہوئی باتیں عرصہ تک ان کی نیند حرام اور زندگی اجیرن کردیتی ہیں۔ بلیک میلنگ کے معاملے کو عام طور پر بچیاں اُس نئے رشتے کے سامنے رسوا ہونے کے خوف سے بھی دبا دیتی ہیں، جو ان کے ماں باپ ان کی مرضی کے برعکس جوڑنے لگتے ہیں، اور بچی اب ناگوار اس خاندان میں داخل ہونے جارہی ہوتی ہے، وہ نہیں چاہتی کہ اس گھر میں پہنچتے پہنچتے اس کی کہانی کا چرچا ہو اور اس کے معاشقے کے گیت جائیں ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جو بچی کی رہی سہی قوت مضمحل کردیتا ہےاور وہ اپنے تئیں قعرِ مذلت میں گرنے کے بجائے موت کے گڑھے کے حوالے کردیتی ہے۔

عرض ، خود کشی کو کسی صورت اور حال میں جائز اور معقول قرار نہیں دیا جاسکتا،یہ ہر حال میں مردود ہے، ہر صورت میں ناجائز ہے، ہر پہلو سے نامعقول ہے اور ہر نہج سے ملعون ہے۔۔۔۔ہزار راستے ہوں گے جو اس کے اقدام کے بغیر مسئلے کے حل کے لیے دستیاب ہوں گے۔۔۔۔۔ یہ ایک بزدلانہ حرکت ہے، حالات سے فرار کا ایک گمنام راستہ ہے، خود اعتمادی کی ضد ہے، جوانمردی کے خلاف ہے، رشتوں سے بدگمانی کی نشانی ہے، زندگی سے نفرت کی علامت ہے، ماں باپ پر عدم اعتماد کی دلیل ہے، شکست خوردگی ، بے صبری اور بے مروتی کی پہچان ہے۔

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
113461