The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 31 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ خدمت خلق ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ خدمت خلق ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

جب بھی میری زندگی میں کوئی ایسا جوڑا میاں بیوی آئے جو بیٹی کی پیدائش پر غم زدہ تھے یا یہ کہہ رہے تھے کہ بیٹیوں پر اعتراض نہیں بیٹیوں کے مقدر سے ڈر لگتا ہے تو ایسے لوگوں کی عقل پر ماتم کر نے کو دل کرتا ہے کیونکہ جن آنگن میں بیٹی کی نازک ادائیں گڈیاں کھلونے نہیں وہ اجاڑ بنجر خانہ ہے رخسانہ حیات میری بہن ایک کامیاب ترین زندگی گزار کر اللہ کو پیاری ہو گئیں غربت کی گود میں پلنے والی رخسانہ باجی کو اللہ تعالی نے شادی کے بعد پیار کرنے والا خاوند دو بیٹے اور ایک چاند سی بیٹی سے نوازا دولت رخسانہ باجی کے گھرانے پر موسلا دھار بارش کی طرح بر سی۔

رخسانہ باجی نے کیونکہ یتیمی کے آنگن میں زندگی کے ابتدائی دن جوانی تک گزارے اِس لیے دولت مند ہو نے کے بعد بھی اپنی اصل اوقات نہیں بھولیں پھر جب شاندار کامیاب زندگی گزارنے کے بعد اِس جہاں فانی سے رخصت ہو ئیں تو اپنی یادگار بیٹی کی شکل میں چھوڑ گئیں جس طرح چراغ سے چراغ روشن ہو تا ہے اسی طرح اپنے کردار کی ساری خوبیاں اپنی بیٹی میں چھوڑ گئیں بیٹی امریکہ کے مادیت پر ست ماحول میں جوان ہوئی وہی پر شادی ہو ئی لیکن ماں کے کردار کی چھاپ اور مشرقی روایات کا حسن پوری طرح قائم رہا جس طرح رخسانہ باجی سال میں دوتین چکر لگا کر ضرورت مندوں تک پہنچ کر ان کی مدد کر تی تھی اب بیٹی بھی اسی مشن پر پاکستان آئی تھی والدہ کی طرح مجھ سے رابطہ کیا راہنمائی کی درخواست کی اور کہا مجھے ان حاجت مندوں کے ایڈریس دے دیں تاکہ میں ماں جی کے مشن کو جاری رکھ سکوں تو میں نے گرم چادروں گرم کپڑوں جرابو ں ٹوپیوں جرسیوں گرم خشک میوہ جات غریب مستحق مریضوں کے بارے میں باجی کی نیکیاں گنوادیں یہاں میں کریڈٹ اس پیر صاحب کو بھی ضرور دوں گا جو سجادہ نشینوں کے طرح مریدوں کے گھروں میں لوٹ مار کے لیے نہیں بلکہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے جاتے تھے

اب جب وہ بزرگ اپنے غریب مرید کے گھر جاتے ہیں وہاں پر مرید کی بہن اور بھانجی کو غربت کی امر بیل میں لپٹے دیکھا تو اپنا گرم بستر اور گرم چادر دونوں کو دے کر انسان دوستی کا ثبوت دیا پیر صاحب کی دی ہوئی ایک چادر باجی رخسانہ کی زندگی میں انقلاب کا باعث بن گئی اسے زندگی کے جلتے سلگتے صحرا میں کسی تازہ ہوا کے جھونکے کا احساس ہوا پھر یہی سے باجی رخسانہ کی سخاوت انسان دوستی کا آغاز ہوا وہ جب بھی آتیں کسی سفید پوش کی مدد اِس وقار کے ساتھ کرتیں کہ لینے والے کو ذرہ برابر بھی ندامت کا احساس نہ ہو تا میں اور وہ جب بھی کسی بیوہ کے گھر جاتے تو وہ بہت ساری ضرورت کی چیزوں کپڑوں کے ساتھ جاتیں پھر اس غریب عورت کے بچوں کو بہانے سے کمرے سے نکال کر چپکے سے اس کی پیسوں کی مدد کر دیتیں بلکہ مجھے بھی اشارہ کر دیتیں میں بہانے سے کمرے سے نکل جاتا تو انتہائی وقار اور شفیق لہجے میں یہ کہہ کر آپ اِس کو قبول فرمائیں یہ میرا نمبر ہے جب بھی ضرورت ہو مجھے کال کر نی ہے جب آپ کی بچیوں کی شادی کا وقت آئے گا تو میں ضرور مدد کروں گی

اگر میں زندہ نہ ہوئی تو میری بیٹی یا بیٹا آپ کی مدد کرے گا یہ میں نے اپنے بچوں سے وعدہ لے لیا ہے یعنی وہ اگر کسی کی مدد بھی کرتیں تو اِس وقار عزت کے ساتھ کہ لینے والے کی عزت نفس پامال نہ ہو کسی کی مدد کرتے وقت باجی کا رویہ احسان مندوں والا ہو تا کہ آپ کی مہربانی آپ میری شے قبول کر رہے ہیں آج اگر آپ ہمارے معاشرے کے ہمالیہ جیسے نام نہاد سخی لوگوں کو دیکھیں تو وہ سخاوت تو کرتے ہی لیکن جس حقارت اور تکبر کے ساتھ کہ گھروں کے باہر طویل ضرورت مندوں کی قطاریں لگی ہیں چوکیدار سیکورٹی گارڈ ضرورت مندوں کو کس طرح دھکے اورگالیاں دے کر ذلیل کر تے ہیں یا اگر ہمارے معاشرے میں اگر کوئی کسی کی مدد کر تا ہے تو پھر توقع کر تا ہے کہ جس غریب کی مدد کی ہے وہ مراثی بن کر نوکر بن کر گردن جھکا ئے سامنے کھڑا ہو اگر کسی کو مدد سخاوت کا موقع مل جائے اور پھر آگے زندگی میں جس کی مدد کی ہو وہ سامنے آجائے تو دینے والا مختلف بہانوں سے یا کھل کر کہتا ہے میں نے فلاں وقت پر تمہاری مدد کی تھی ایسے نمائشی دور میں باجی رخسانہ مدد کر تے وقت کبھی بھی لینے والے کی عزت نفس کو مجروح نہ کرتی

باجی مختلف انداز طریقوں سے ضرورت مندوں کی مدد کر تیں ان کو احساس دلائے بغیر بلکہ اِس قدر خاموشی اور وقار سے مدد کرتیں کہ لینے والے کو ذرہ برابر بھی شرمندگی یا ندامت نہ ہوتی یہاں ایک اور حقیقت بھی روشن ہو تی کہ اگر خلوص نیت سے کوئی انسان کسی یتیم ضرورت مند بچی کو صرف ایک گرم چادر دیتا ہے تو یہ ایسا چراغ روشن کرتا ہے کہ آنے والی صدیاں اس چراغ سے روشنی لے کراندھے بہرے بانجھ معاشرے کی تاریکیاں دور کرتی ہیں باجی جب بھی آتیں تو یہی بتاتیں فلاں بیوہ یتیم غریب مسکین کی بیٹی کی شادی فلاں غریب کا آپریشن فلاں بچے کی سکول کی فیس باجی کی سخاوت کا دائرہ بہت زیادہ پھیلا ہوا تھا جو بعض اوقات کروڑوں کو بھی کراس کر جاتا تو میں نے حیرت سے ایک بار پوچھا باجی آپ کروڑوں روپے لوگوں کی مدد میں خرچ کر جاتی ہیں تو کیا آپ کا میاں یا بیٹے فیملی اِس پر اعتراض نہیں کرتی تو وہ مسکرا کر کہتی بلکل نہیں بلکہ یہ بات میرے میاں اور بیٹے اچھی طرح جانتے ہیں

کہ ہمارے خاندان پر جو اللہ کی نعمت کرموں کی بارش دولت کی شکل میں ہو رہی ہے یہ دوسرے ضرورت مند لوگوں کے لیے پھر ایک اور بات آپ کو بتاں میں نے غربت کی آغوش میں جوان ہوئی میں سردی گرمی بھوک پیاس اور ضرورتوں کے درد سے واقف ہوں مجھے غربت کے سارے غم درد یاد ہیں میں ان کو بھولی نہیں بابا مرشد کی ایک گرم چادر جس طرح میری زندگی بد ل گئی اور پھر باباجی کا امریکہ میں نیک انسان سے میری شادی کرانا یہ مرشد کی نگاہ خاص اور اللہ کا کرم ہے اگر مرشد باباجی میری زندگی میں نہ آئے ہو تے تو میں آج بھی غربت کی خوفناک چتا پر سلگ رہی ہوتی جس طرح مرشد بابا کے ذریعے اللہ تعالی نے مجھ یتیم پر کرم کیا تو اب یہ مجھ پر قرض ہے کہ جس طرح اللہ تعالی نے مجھے غربت کے تاریک اندھیروں سے نکال کر زندگی کی ساری آرام دہ آسائشوں سے نواز ا اب جب مجھ پہ اچھا وقت آیا ہے تو میں بھی اسی طرح اللہ کی نعمتوں کو آگے ضرورت مندوں میں تقسیم کر وں

ایک دن باجی پاکستان آئی ہوئی تھیں جو میرے پاس آئیں مجھے اپنی کار کے پاس لے گئیں تو اندر عجیب نظارہ سینکڑوں ابلے انڈوں سے گاڑی بھری ہوئی تھی ساتھ میں نمک کی چھوٹی چھوٹی پڑیاں مجھے دکھا کر مسکراتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور درد بھرے شفیق لہجے میں بولیں میں بچپن میں سردیوں میں ابلا انڈہ نہیں خرید اور کھا سکتی تھی میرا بہت دل کر تا تھا میں انڈہ کھاں اس وقت تو نہ کھا سکی لیکن جب آج اللہ نے مجھے ہر نعمت سے نوازا ہے تو کیونکہ ان لوگوں تک یہ نعمتیں پہنچاں پھر باجی کسی دربار پر روڈ پر ابلے گرم انڈے لوگوں میں تقسیم کر تی نظر آتیں کبھی مونگ پھلی ڈرائی فروٹ تو کبھی جوس کے ڈبے لوگوں میں بانٹتی نظر آتیں وہ اکثر کہتی میرے باطن میں خدمت کا لاوا کھولتا رہتا ہے مجھے بے چین رکھتا ہے جب تک میں کسی کی مدد نہ کر لوں مجھے سکون نہیں ملتا میں باطنی سکون کے لیے ضرور مندوں میں چیزیں بانٹتی ہوں باجی مسرت کی یہ ادا اللہ کو اِس قدر پسند آئی کہ باجی کے مرنے کے بعد ان کی بیٹی ماں کی طرح خدمت خلق کا جھنڈا لہراتی پھر رہی ہے یہ سچ ہے کہ چراغ سے چراغ جلتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
115630

بزمِ درویش ۔ خدمت خلق ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ خدمت خلق ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میرے سامنے آب زم زم سے دھلا سر پر دودھ سے زیا دہ سفید با ل چہرے پر شفیق تبسم کی کرا مت سجا ئے 70سالہ شخص بیٹھا تھا چند سالوں سے یہ رمضان المبارک سے چند دن پہلے یا رمضان کے پہلے عشرے میں میرے پا س آتا۔ہر سال یہ لاکھوں روپے لے کر آتا اور ضرورت مندوں میں تقسیم کر کے واپس امریکہ چلا جاتا چند سال پہلے کسی جاننے والے نے اِس کو میرے پاس بھیجااِس کے آنے کا مقصد معا شرے کے مجبور بے بس لا چار اور پسے ہو ئے لوگوں کی مدد کرنا تھا لا ہور سے دور دراز کے دیہات میں ایسے لو گ جن تک مخیر حضرات کی رسائی نہ تھی ہر بار و ہ کسی نئے گا ں کا انتخاب کر تا وہاں خود جاکر ضرورت مندوں میں پیسے تقسیم کر کے واپس چلا جاتا میرے پاس آنے کا مقصد یہ تھا کہ میں ضرورت مندوں کی تلاش میں اِس کی مدد کروں اِس کی سخاوت کا انداز بہت روح پرور تھا

ہم ایسے ضرورت مندوں کو ڈھونڈتے جن کی زندگیوں میں چند ہزار کی مدد سے ہی تبدیلی آجا تی روپے تقسیم کر نے میں ایک بات کا خیال رکھا جاتا کہ زیا دہ سے زیادہ ضرورت مندوں کی زندگی میں خو شگوار تبدیلی آسکے میں کسی نئے گاں میں اپنے کسی جا ننے والے کی ڈیو ٹی لگا تا وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ضرورت مندوں کو تلا ش کرتا ان کی لسٹیں بنا تا اور پھر ہم جا کر ان ضرورت مندوں میں دولت تقسیم کر آتے سخا وت کا نور پھیلانے میں ایک با ت کا خاص خیال رکھا جاتا کہ کسی کی بھی عزت نفس پامال نہ ہو یہ سخاوت انتہائی راز داری اور خفیہ طریقے سے کی جا تی اِس کے لیے یہ ٹینٹ کر سیاں اور اسپیکر نہ لگا تے نہ ہی لوگوں کا تما شہ لگا یا جا تا نہ ہی الیکشن حربے کے طو رپر استعمال کیا جا تا دن یا رات کے اندھیرے میں مطلوبہ فرد تک جا کر اس کی مدد اِس خا موشی سے کی جا تی کہ کسی کو بھی اِس کا پتہ نہ چلتا۔ جس گاں میں ہم اپنی آخرت سنوارنے کے لیے خدمت خلق کی شمع جلا نے گئے

دوبا رہ کبھی مڑ کر بھی اس کی طرف نہ گئے نہ ہی بدلے میں کچھ ما نگا ایک با ر الیکشن میں لوگوں نے باقاعدہ پو چھا کہ ہمارے مشکل وقت پرآپ لوگ ہما رے کام آتے ہو آپ حکم کر یں ہم ووٹ کس پا رٹی کو دیں تو ان کو صاف صاف بتا دیا گیا کہ یہ آپ لوگوں کا حق ہے یہ آپ جس کو مرضی ووٹ دیں سخا وت کر کے ہم نے آپ لوگوں کو خرید نہیں لیا ہم نے تو ڈاکیے کا کام کیا ہے ہما رے پاس پیسے خداکے کرم سے آئے ہم خو ش قسمت ہیں کہ اس رزق کوضروت مندوں تک پہنچانے کا سبب بن گئے اگر خالق کا ئنات ہم پر رزق کے دروازے یا اسباب بند کر دے تو ہم تو خود دامن پھیلائے کسی کی ضرو رت کے محتا ج ہو جائیں یہ خدا کا نو رہم تک پہنچا ہم نے آگے پہنچا دیا لو گ اکثر مجھ فقیر سے ایک سوال بار بار کر تے ہیں کہ ہم خدا تک کیسے پہنچیں وہ کو نسی عبا دت ریا ضت چلا وظیفہ یا اسم اعظم ہے جس کو کر نے سے خدا کا قرب حاصل ہو تا ہے اللہ کا نیک بند ہ بنا جا سکتا ہے بار گاہِ الہی میں مقبول ہو اجا سکتا ہے تو میں یہی کہتا ہوں کہ خدا تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ اس کی مخلوق کی بے لو ث خد مت اور مدد ہے خد مت خلق کا یہ دائرہ انسانوں تک ہی نہیں پھیلا ہوا بلکہ اِس میں خدا کی ہر تخلیق جانور درخت بھی آتے ہیں\

دوسروں کی مدد کسی بھی طریقے سے کی جا ئے با رگاہِ الہی میں فوری قبو ل ہو تی ہے خدمت خلق صرف روپے پیسے سے ہی ممکن نہیں ہے کسی کی با ت سن کر اسے حو صلہ امید دینے سے بھی ممکن ہے کسی کے آنسو پو نچھنے سے بھی ممکن ہے کسی کو اچھا مشورہ دینے سے بھی ہو تی ہے کسی کو راستہ دکھانے سے کسی کو مسکرا کر دیکھنے سے بھی کسی دوسرے کی زندگی میں کسی بھی قسم کی آسانی فراہم کر نے سے خدمت خلق کا فریضہ ادا ہو جا تا ہے پا کستان کر ہ ارض کے ان ملکوں میں شامل ہے جہاں خدمت خلق خدا ترسی کا جذبہ بہت زیا دہ ہے تقریبا سارے پاکستانی اپنی بساط کے مطا بق دوسروں کی مدد کر نے کی کو شش کر تے ہیں پا کستان کا شما ر خیرات کر نے والے پا نچ بڑے ملکوں میں ہو تا ہے اِس وقت دنیا میں 140ملکوں میں خیرات کا نظا م کسی نہ کسی شکل میں مو جود ہے

اہل پاکستان فی کس آمد نی کے لحاظ سے دنیا میں خیرات کر نے والے لوگوں میں پانچویں نمبر پر آتے ہیں 1990میں پاکستان میں سالانہ بنیا دوں پر 70ارب روپے خر چ کئے جا تے تھے جو 2006تک بڑھ کر 150ارب روپے ہو گئے آج تک یہ اور بھی بڑھ گئے ہو نگے پاکستانیوں کا یہ جذبہ خو شگوار حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے بد قسمتی سے ہمیں کئی عشروں سے اچھے حکمران نصیب نہیں ہو ئے قو می دولت اور وسائل کو پچھلے کئی سالوں سے بری طرح لو ٹا گیا ہے لیکن اِس لو ٹ مار کے با وجود معا شرے میں آج بھی زندگی اخلا قیا ت خدمت خلق کے جذبات ہر گزرتے دن کے ساتھ نکھرتے چلے جا رہے ہیں حکمرانوں کی ظالما نہ لو ٹ مار کے با وجود ملک میں خدمت خلق خدا ترسی اخو ت بھا ئی چارے کا نظام نظر آتا ہے ہما رے ملک میں آج بھی آٹھ کروڑ سے زیا دہ لو گ خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر موجود ہیں یہ کروڑوں لوگ کس طرح زندہ ہیں یہ ما ہرین کے لیے حیر ت کا سبب ہیں پاکستان میں ہزاروں سکو ل مدرسے ہسپتال خیراتی ادارے مسا جد یتیم خا نے ایسے ہیں جو اپنی اہل ثروت حضرات کے تعاون سے سانس لے رہے ہیں

وطن عظیم میں موجود عوا م کش نظام کے با وجود خدا نے ایسے مخیر حضرات ہر دور میں پیدا کئے ہیں جن کے وسیلے سے لوگوں کی سانسوں کے رشتے جا ری ہیں جو لوگوں کی امید کے دھا گے قائم رکھے ہو ئے ہیں جو غریبوں کو گلو کو ز دینے میں اپنا کر دار ادا کر تے ہیں ہم معاشرے کی بے حسی کا رونا روتے ہیں لیکن اِس معاشرے میں روشن لو گ ہیرے جواہرات جیسے یہ لوگ نظر نہیں آتے بانجھ معاشرے کی زندگی کا ضامن بنے ہو ئے ہیں ہما رے ملک میں بے شما ر ایسے دولت مند ہیں جنہوں نے اپنی کما ئی کا ایک مخصوص حصہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے مختص کر رکھا ہے جو اپنی دولت کو انہی ضرورت مندوں کی مر ہون منت سمجھتے ہیں جو اپنے ورکروں کو اپنا خا ندان سمجھتے ہیں جن کو اپنے ورکروں کی ضرو رتوں کا شدت سے احساس ہے جو خا موشی سے اپنے ملاز موں کی ضرورتوں کو پور ا کر تے ہیں جو دولت کو عطیہ خدا وندی سمجھ کر لوگوں میں تقسیم کر تے ہیں جو دولت کا خاندانی میراث نہیں بلکہ خدا کا کرم سمجھتے ہیں جو سارا سال ضرورت مندوں کی تلاش میں رہتے ہیں

جولوگوں کی عزت نفس مجروح نہیں کر تے بلکہ کسی کی مدد کر کے خدا کا شکر ادا کر تے ہیں کہ خدا نے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ضرورت مندوں کی مدد کر سکیں انہی لوگوں کیوجہ سے اِس ملک میں شاید ہی کو ئی ایسا انسان ہو جو بھو کا سوتا ہو اور شاید ہی کو ئی مریض ہو جس کو دوائی نہ ملتی ہو سینکڑوں مدرسوں سکولوں سے سٹوڈنٹس علم کے نور سے اپنے سینوں کو روشن کر تے ہیں ایسے بے شما ر ادارے ہیں جو یتیم بے آسرا بچیوں کے سروں کو ڈھانپنے میں فرشتوں جیسے یہ لو گ رات کے اندھیر وں میں خا موشی سے آگے بڑھتے ہیں اور خا موشی سے ضرورت مندوں کی مدد اِس طرح کر تے ہیں کہ دوسرے ہا تھ کو پتہ تک نہیں چلتا اِس ملک میں شاید ہی کوئی ایسا ضرورت مند ہو جس تک خالق کا ئنات کا غیبی ہا تھ مدد کر ن ہ پہنچا ہو اِس غیبی ہا تھ کے کرشمے سے ہما را با نجھ معاشرہ سانسیں لے رہا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
100440