حکومت نے بجلی کی خریداری کا نیا نظام متعارف کرا دیا
حکومت نے بجلی کی خریداری کا نیا نظام متعارف کرا دیا
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ ) آئی پی پیز، این ٹی ڈی سی اور سی پی پی اے کی بجلی مارکیٹ پر اجارہ داری ختم کرنے کیلئے حکومت نے بڑا اقدام کیا ہے۔حکومت نے بجلی کی خریداری کا نیا نظام متعارف کرا دیا، بجلی کی خریداری انڈپینڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر نظام کے تحت ہوگی، اس نظام کے متعارف ہونے سے بجلی کے صارفین تقسیم کار کمپنیوں کے علاوہ دیگر سپلائرز اور بجلی گھروں سے براہ راست بھی بجلی خرید سکیں گے۔ذرائع کے مطابق اگر صارف بجلی کمپنی سے ڈائریکٹ بجلی خریدتا ہے تو اس صورت میں تقسیم کار کمپنی کو صرف سسٹم کے استعمال کے چارچز ادا کرینگے، ا?ئی ایس ایم او بجلی مارکیٹ کے 3200 ارب روپے کے پورے ڈیسپیچ کا حساب کتاب رکھے گی اور مستقبل کی پلاننگ، بجلی مارکیٹ کی بڑھوتری سمیت تمام چیزیں دیکھے گی، آئی پی پیز اور دیگر بجلی گھروں کو ادائیگیاں بھی ان ہی کی منظوری سے ہوگی۔ذرائع پاور ڈویڑن نے بتایا ہے کہ اس نظام کے متعارف ہونے سے واپڈا کے پاور پلانٹس، حکومت آئی پی پیز اور دیگر آئی پی پیز کے مسائل بھی سامنے آسکیں گے اور شفافیت بڑے گی، بجلی مارکیٹ میں خریدار اور بجلی بیچنے والے کے درمیان معاہدے بھی یہی کرینگے،
سسٹم کے استعمال کے لیے ڈسکوز کی سسٹم فیس کو بھی باڈی طے کرے گی۔اس کے ساتھ ساتھ این ٹی ڈی سی کے سسٹم کے مستقل مسائل جو سالوں کے کنسٹرینٹس ہے وہ عیاں ہوگی کیونکہ این ٹی ڈی سی اس کو چھپاتی تھی، کنسٹرینس سامنے آنے سے بجلی کے سستے پاور پلانٹس کو جو بند ہوتے تھے وہ بھی چل سکیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ کے الیکٹرک کو بھی اس نظام کے تحت لایا جائے گا اور ان کی فیول کاسٹ اور 200 ارب کی کیپسٹی کو بھی یہ نظام دیکھے گا۔پاور ڈویڑن کے اعلیٰ افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی بنیاد پر ”دنیا نیوز“ کو بتایا ہے کہ اس نظام سے بجلی کی پیداواری کمپنیوں میں مقابلے کا رجحان بڑھے گا، صارفین کو جہاں سے سستی بجلی ملے گی خرید سکیں گے اور آئی ایس ایم او کے قیام سے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے پر بھی اثرات مرتب ہونگے اور اس قرضے کو بڑھانے سے روکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی اور مارکیٹ میں مقابلے کا رحجان بڑھے گا، اس وقت بجلی مارکیٹ میں ایک ہی خریدار سی پی پی اے ہے۔نیا انڈپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (ISMO) ایس او ایکٹ کے تحت بنے گا جو اے سی سی پی میں رجسٹرڈ ہوگا، اس کا چیئرمین پرائیویٹ سیکٹر سے ہوگا، باڈی کا ایک ایم ڈی ہوگا، تین ممبران ٹیکنیکل ہونگے جبکہ تین افراد کیپٹل مارکیٹ سے توانائی ماہرین ہونگے، تین افراد سسٹم آپریشن سائیڈ سے خدمات دینگے اور چار مزید اعلیٰ عہدے دار ہونگے۔
8 سے 10 ماہ تک بجلی کی قیمت کو 10 روپے پر لانے کیلئے کام کریں گے، اویس لغاری
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی قیمت کو عوام کی پہنچ میں لانا ہے، مختلف اقدامات کر رہے ہیں جس سے بجلی کی قیمت کو نیچے لے کر آئیں گے، 8 سے 10ماہ تک بجلی کی قیمت کو 10 روپے پر لانے کیلئے کام کریں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا بجلی کی پیداواری کمپنیز کے ساتھ باہمی مشاورت سے قیمتوں میں کمی لائیں گے۔ انھوں نے کہا ہم نے جائزہ لیا کہ کن پلانٹس کی ہمیں ضرورت نہیں۔ 5 آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا اور معاہدے کو اسٹڈی کیا۔ ہم باہمی مشاورت کے ساتھ ایسی پوزیشن پر پہنچے کہ آپس میں اتفاق ہوا۔ اویس لغاری نے کہا پاکستان میں بجلی کی قیمت 10 روپے فی یونٹ سے کم ہونی چاہیے۔ بجلی کی قیمتوں کو کم کرنا ضروری ہوگا، مختلف اقدامات سے بجلی کی قیمتوں کو نیچے لے کر آئیں گے۔ انھوں نے کہا بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے 5 آئی پی پیز کے خاتمے پر متفق ہوئے، ان آئی پی پیز کے مالکان کے شکر گزار ہیں۔ اویس لغاری نے کہا ہم نے مل کر عوام کے 411 ارب روپے کی بچت کی، معاہدے کو چند دنوں میں عملی جامع پہنائیں گے۔ پاکستان کو مجموعی طور پر 411 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔انھوں نے کہا ہم آرمی چیف کے شکر گزار ہیں، جن کے ادارے نے اس میں معاونت کی۔ جس طرح سے شیئر خریدے جاتے ہیں اسی طرح بجلی خریدی جاسکے گی۔
اویس لغاری نے کہا کہ ایک ایسا ادارہ قائم ہونے جا رہا ہے جس کی منظوری کابینہ میں دی گئی، یہ ہماری وزارت کی کامیابی ہے۔ اب باقی آئی آئی پی پیز کے ساتھ کام آگے بڑھائیں گے۔ بجلی سیکٹر کی خرید و فروخت کا آزادانہ ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ اب بجلی کے خریدار صرف سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے مرہون منت نہیں رہیں گے۔ وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سردی میں بجلی کے استعمال کو بڑھانے کیلئے ایک پروگرام کا سوچ رہے ہیں۔ اس پر اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر اقدامات کریں گے۔ انھوں نے کہا ہمیں ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے لاسز میں کمی دکھائی دی ہے۔ چند ماہ میں 8 سے 10روپے فی یونٹ کمی سے ہدف کو پورا کریں گے۔ حیدر آباد، کوئٹہ اور سکھر کے ڈسکوز کا نقصان تین ماہ میں بڑھا ہے۔ کیپسٹی پیمنٹس ابھی ادا کریں گے، مستقبل میں ادا نہیں کریں گے۔اویس لغاری نے کہا مختلف بزنس ہاوسز کو 411 ارب روپے مستقبل میں جانے تھے جو اب نہیں جائیں گے۔ مالی سال کے پہلے3 مہینے میں بجلی کمپنیوں کا نقصان کم ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا بجلی کے ہر پلانٹ کا جائزہ لیا جا رہا ہے، معاہدوں کے مطابق بقایاجات ادا کیے جائیں گے، ان پلانٹس کو مستقبل میں کوئی پیسہ نہیں ملے گا۔ الیکٹرک وہیکل کو چارج کرنے والی ہزاروں دکانیں قائم ہوں گی۔اویس لغاری نے کہا بند ہونے والی 5 آئی پی پیز کو اتنا منافع ملا کہ دنیا میں کسی کو نہیں ملا گا، ہمارا ہدف شارٹ ٹرم میں 8 سے 10 روپے فی یونٹ میں کمی لانا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی نے کہا یہ پانچ آئی پی پیز اب مکمل بند ہو جائیں گی۔ ان آئی پی پیز کے حکومت کی طرف 71 ارب روپے بقایا ہیں۔