The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹی۔ حصہ دوئم۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹی۔ حصہ دوئم۔تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میرے سامنے بیٹھی جوان عورت گیلی لکڑی کی طرح سلگ رہی تھی سر آپ ہم جیسی عورتوں سے نفرت تو بہت کر تے ہیں حقارت سے ہمارا ذکر کر تے ہیں کہ جسم فروش عورتیں نام نہاد مہذب معاشرے کے منہ پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ جسم فروشی کے اڈے معاشرے میں بے حیائی فحاشی پھیلا نے کے ذمہ دار ہیں۔ نہیں سر آپ سچائی سے منہ موڑ رہے ہیں آپ حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کر رہے۔ میں نے خا وند کی وفات کے بعد معاشرے کے ہر طبقے کے سامنے جاکر مدد مانگی باعزت نوکری کے لیے در در کی خاک چھا نی شادی ہالوں کو ڑے کے ڈھیروں سے مردار کھانے اکٹھے کئے لیکن پھر بھی مہذب معاشرے نے مجھے جینے نہیں دیا آپ سمجھتے ہیں کہ جسم فروشی لذت آمیز آسان کام ہے جناب ایسی بات نہیں ہے شرابی کبابی غلیظ گندے انسان جن کے پاس آپ ایک لمحے کے لیے بھی بیٹھنا گوارا نہ کریں ہما را واسطہ ان پاگل جنونیوں وحشی درندوں سے پڑتا ہے جودرندوں کی طرح ہما ری عزت اور جسم کو نو چتے ہیں تشدد مزاج کے حامل افراد ما ر پیٹ کر تے ہیں زبردستی نشہ آور اشیا شراب پلاتے ہیں

اپنے ما ضی کی بکواسیات گالیوں کے قصے سناتے ہیں ہم پیٹ کی آگ بجھا نے اور تن کو چھپانے کے لیے یہ سب سہتی ہیں ہم ہر رات گناہ کی سولی پر لٹکتیں ہیں ہر روز ہما رے جسموں اور عزتوں کا قیمہ بنایا جا تا ہے ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جسم فروشی کے ان اڈوں پر سینکڑوں عورتیں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھی جا تی ہیں طریقہ واردات یہاں کا انتہائی کرب ناک ہے جب بھی کو ئی درندہ اپنی جنسی تسکین کے لیے ان اڈوں کی طرف رخ کر تا ہے تو وہ جاکر اپنی مرضی کا جانور حاصل کر تا ہے گاہک آکر بیٹھ جاتا ہے ہم بھیڑ بکریاں قطار میں آکر بار ی باری اس کے سامنے سے گزرتی ہیں وہ ایک ایک کو سر سے پاں تک خو نی جنسی نظروں سے دیکھتا ہے ہم کنیزوں کی طرح اس سے ہاتھ ملا کر آگے چلتی جاتی ہیں اب وہ اِن بھیڑ بکریوں میں سے اپنی مرضی کی علیحدہ کر تا جا تا ہے اب الگ کی گئی لڑکیوں کو پھر حکم دیا جاتاہے کہ وہ پھر قطار بنا کر درندے کے سامنے سے گزریں اس سے ہاتھ ملائیں اب وہ مزید چھانٹی کر لیتا ہے اب جب چند لڑکیاں اس کے سامنے رہ جاتی ہیں تو وہ ان کو اچھی طرح دیکھ کر سونگھ کر ٹٹول کر اپنی مرضی کی لڑکی سلیکٹ کر کے اعلان کر تا ہے کہ آج کی عیا شی اور گناہ کے لیے یہ مجھے پسند ہے اب جو مسترد کر دی جاتی ہیں

وہ خو ن کے آنسو پی کر خاموش ہو جاتی ہیں کہ ان کی دیہا ڑی مر گئی۔ اب اس درندگی کی تسکین کے لیے کہا جاتا ہے صاحب کے لیے سٹیج تیار کیا جائے پھر چند پھول بکھیر کر گنا ہ کی سٹیج تیا ر کی جاتی ہے یہ سارا عمل کرا ہت آمیز سزا دینے والا ہوتا ہے جس سے چند روپوں کے لیے ہمیں گزرنا پڑتا ہے گناہ کا یہ کھیل صدیوں سے دنیا کے چپے چپے پر کھیلا جاتا رہا ہے انہی درندوں میں کبھی کبھا ر کو ئی رحم دل انسا ن بھی آجاتا ہے اسے کو ئی لڑکی اگر پسند آجائے تو وہ اس کو اِس جہنم سے نکال لے جا تا ہے لیکن ایسا برسوں بعد ہی ہو تا ہے ایسا ہی ایک نیک انسان کسی وقتی حادثے کی وجہ سے وہا ں آیا میری اس سے ملا قات ہوئی یا خدا کو مجھ پر ترس آیا میں اس گنا ہ کی وادی سے نکل آئی نیک انسا ن چند مہینے ہی میرے ساتھ شادی شدہ زندگی گزار کر اِس جہاں فانی سے کو چ کر گیا لیکن جاتے جاتے وہ میرے لیے اتنا کچھ کر گیا کہ میں اب با عزت سادگی سے زندگی گزار سکتی تھی خدا نے مجھے جب تو بہ کا موقع دیا تو میں نے تو بہ کر لی اور پھر کبھی بھولے سے بھی مڑ کر اس گنا ہ آلو دہ زندگی کی طرف نہیں دیکھا

اب جو اس ذلت آمیز زندگی کو چھوڑ ا سکون کا سانس لیا جب گنا ہ سے پاک زندگی گزارنی شروع کی تو شدت سے احساس ہوا کہ میرے جیسی ہزاروں لڑکیاں گناہ کے اس جہنم میں جل رہی ہیں تو میں نے کو شش کی کہ ان جسم فروشی کے اڈوں کو ختم کر نے کی کو شش کروں۔ اب جو میں نے یہ کو شش کی تو شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑاجس تھا نیدار سیاستدان یا معاشرے کے طاقتور امیر شخص کے پاس گئی اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا کہ یہ کیا کہہ رہی ہے سر ہما رے ملک کے چپے چپے پر پھیلے جسم فروشی کے ان اڈوں کی تفصیل ہمارے پو لیس اور ایجنسیوں کے پاس مکمل طور پر مو جود ہیں یہ تھانیدار اِن اڈوں کے مالکان سے بھتہ وصول کر تے ہیں بلکہ یہ اڈے ہو ٹل جہاں پر دھندہ ہو تا ہے اِن تھانیداروں کی سر پر ستی میں ہو تا ہے بلکہ یہ اڈے تھانیداروں کی سر پر ستی کے بغیر چل ہی نہیں سکتے بلکہ اِن کی عیا شی کا سامان بھی یہیں موجود ہو تا ہے

کسی امیر آدمی کو پکڑوا کر اڈا مالکان اور پو لیس خو ب دولت کی پیاس بجھا تے ہیں سر میں اور میری چند دوستوں نے ایک گروپ بنایا ہم وطن عزیز کے بڑے کالم نگاروں سیاستدانوں مخبر حضرات تک گئیں کہ آپ اپنا اپنا رول ادا کریں تا کہ یہ بھیڑوں بکریوں کی طرح لڑکیاں باعزت زندگی گزار سکیں مخیر حضرات سے کہا کہ آپ اِن لڑکیوں کے باعزت روزگار کا بندوبست کریں سیاستدانوں سے کہا آپ اپنی حکومت کی ترجیحی لسٹ میں اِن بھیڑ بکریوں کو شامل کر یں۔ ہم نے مالی مدد یا اِن کی اصلاح کے لیے جہاں بھی گئیں ہمیں حقارت سے دیکھا گیا ہماری تحقیر کی گئی فون لے کر بعد میں ہمیں فحش گفتگو اور دعوت گنا ہ کی ترغیب دی گئی۔ سر اب میں آپ کے پاس کسی مدد کے لیے نہیں آئی بلکہ صرف اِس لیے آئی ہوں کہآپ جب جانتے ہیں کہ جسم فروشی کے اڈوں سے حکومت جب واقف ہو تی ہے تو وہ معاشرے کے اِس نا سور کو ٹھیک کر نے میں اپنا رول کیوں ادانہیں کر تی۔

سرآپ کے پاس آنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ آپ آواز اٹھا ئیں کہ آنے والے الیکشن میں کوئی جماعت ہمیں اپنے منشور میں شامل کرے ہما ری اصلا ح کا بھی بیڑا اٹھا ئے حوا کی یہ بیٹیاں دن رات تلوار کی دھا ر پر زخمی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سر اگر معا شرے اور حکومت نے اپنا کر دار ادا نہ کیا تو ہر مو ڑ پر ہر شہر میں بنت حوا اسی طرح سر عام بکتی رہے گی۔ جنسی درندے اِن کی بو ٹیاں نو چتے رہیں گے سر گنا ہ کو دیکھ کر چشم پو شی کر نا بھی گنا ہ ہے اگر آپ یہ نہیں کر سکتے تو اِن کو حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں کیونکہ آپ نے اِن کی اصلا ح کی حقیقی کو شش نہیں کی درد میں لپٹی وہ عورت تو اپنی داستان الم سنا کر چلی گئی لیکن میرے لیے سوچ کی بہت ساری لکیریں چھو ڑ گئی اِس دعا کے ساتھ کہ خدا ئے لا زوال کب ایسا مسیحا لا ئے گا جو دھرتی کو اِس بو جھ سے آزاد کرے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
117673

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹی ۔ حصہ اول۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹی ۔ حصہ اول ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

اس نے میری طرف غور سے دیکھا کچھ دیر گہری نظروں سے تکتی رہی پھر اس نے پٹا خہ چھو ڑ دیا جو میری سما عتوں کو چیرتا ہوا میرے دماغ میں جا کر پھٹا اور گو شت اور ہڈیوں سے بنا میرے جسم کا ڈھانچہ غصے سے تڑخنے لگا۔ میں غصے اور بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے لگا تصدیق چاہتی نظروں سے اس کی طرف دیکھا کہ آپ واقعی سچ کہہ رہی ہیں۔ میں اس کی جرات اور بے باکی پر ششدر تھا ایسی بات کہنے کے لیے ہمالیہ جیسا حوصلہ چاہیے اور اس نے کتنے آرام سے مجھے کہہ دیا تھا کہ وہ جسم فروش ہے جسم بیچ کر گزارہ کر تی ہے اب اس نے مزید بو لنا شروع کیا سر میں زندگی کی سانسیں جاری رکھنے کے لیے اپنا جسم بیچتی ہوں میں برائے فروخت ہوں

مجھے کو ئی بھی پیسے دے کر خرید لیتا ہے حیرت اور غصہ میری رگوں میں رینگنے لگا۔ لیکن جلدی میں نے غصے پر قابو پاتے ہو ئے کہا میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں جب کہ آپ خوبصورت اورجوان ہیں آپ کا حسن بتا رہا ہے کہ آپ کو پرستاروں گاہکوں کی کمی نہیں ہے تو مجھ فقیر تک آپ کیوں آگئیں میرا جلا کٹا جملہ سن کر اس کی آنکھیں بھیگ گئیں اور وہ آنکھیں جھکا کر بو لی سر آپ مولوی نہ بنیں میں آپ کو درویش اور اللہ کا بندہ سمجھ کر آئی ہوں گنا ہ سے نفرت کریں گنا ہ گار سے نہیں اس نے میرا قبلہ درست کر نے کی بھر پور اورکامیاب کو شش کی مجھے بھی جلدی اپنی حما قت اور تلخ روئیے کا شدت سے احساس ہوا میں معذرت خواہانہ لہجے میں بو لا نہیں میں آپ پر طنز یا غصہ نہیں کر رہا بلکہ پو چھ رہا ہوں کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں۔ میرے سامنے تقریبا تیس سالہ بھر پو رجوان عورت بیٹھی تھی جس کا جسم اور چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اپنا خیال رکھتی ہے سر آپ جاننا چاہیں گے کہ میں اِس جہنم میں کیوں ہوں میں شرابی کبابی اوباش درندہ صفت انسانوں کے ہا تھوں چینی کھلونا کیوں بنی ہو ئی ہوں کیا میں اپنی خو شی سے اِس دھندے میں آئی ہوں یا معاشرے کی بے حسی نے مجھے اِس دلدل میں دھنسا دیا ہے سر ہما را معاشرہ بنجر اور تھور زدہ ہو چکا ہے ہر گلی میں زینب اکیلی کھڑی مدد مدد پکا ر رہی ہے لیکن تمام عالم اسلام کو فہ بن چکا ہے بے حس درندے جن کو اپنی پڑی ہے وحشت انسانوں کے چہروں پر برستی نظر آتی ہے۔ آپ لوگوں کو دیکھیں جو خود سے باتیں کر تے ہیں کو ئی کسی گہری سوچ میں بیٹھا خو دسے یا آسمان سے باتیں کر رہا ہے

سڑک پر ایک دوسرے سے جانوروں کی طرح آگے بڑھتے ہیں لوٹ مار کر کے کاٹ گزرتے ہیں بازار میں دوکاندار سے گاہک الجھ رہا ہے ڈرائیور سواری سے افسر ماتحت پر برس رہا ہے۔ طالب علم فیل ہو نے پر نوجوان پسند کی شادی نہ ہو نے پر زہر پی رہے ہیں۔ بچوں کی لڑائی پر روزانہ محلے پا نی پت کا میدان بن جاتے ہیں حسد اور بغض کے زہروں نے ہمیں اتنا زہر آلودہ کر دیا ہے کہ ہم حسد اور بغض کے زہر سے دوسروں کو ڈنگ مار کر خو ش ہو تے ہیں کسی کی ناکامی یامو ت سے خو ش ہوتے ہیں کہ شکر ہے یہ میں نہیں ہوں اذانیں دینے تقریریں کر نے استنجا خانے استعمال کر نے نعتیں پڑھنے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی مدح سرائی پر دہشت گردی شروع کر دیتے ہیں

گاڑی محلے میں تیزی سے گزارنے اور اونچی آواز میں گانا سننے پر قتل و غارت شروع ہو جاتی ہے دوسروں کا بچہ پڑھ لکھ جائے اچھی جاب مل جائے تو ہما رے گھر ما تم کدے بن جاتے ہیں کہ میرا بچہ اس پو سٹ پر کیوں نہیں کسی کے خاوند کو اچھی پوسٹنگ مل جائے تو ہم ڈپریشن کے ڈاکٹر کے پا س پہنچ جاتے ہیں آپ کسی سے بات کریں شکوے شکایت کے اشتہار ابل پڑتے ہیں ہر انسان مایوسی نفرت میں غرق ہے پتہ نہیں وہ سورج کب طلوع ہو گا جو امید کی روشنی رواداری کی روشنی اور حقیقی خو شی کا نور لوگوں کو عطا کرے شدید گھٹن کے اِس ماحول میں ہوا کے ایک تاز ہ جھونکے کا سالو ں انتظار کر نا پڑتا ہے آپ اِس معاشرے کی بات کر تے ہیں جہاں زینب جیسی معصوم کلیوں کودرندے آتے اور کچلتے ہیں لیکن معا شرے کی عظیم عما رت کی ایک اینٹ بھی نہیں سر کتی اِس مردہ بانجھ معا شرے کی میں پیداوار ہوں۔ میں پندرہ سال کی تھی تو غریب بیوہ ماں نے اپنی جان چھڑانے کے لیے مزدور پلمبر سے میری شادی کر دی بیس سال کی عمر تک میں پانچ بچوں کی ماں بن چکی تھی

میرا میاں مزدورتھا جس کی روزی ہوائی تھی کام مل جاتا تھا تو آٹا لے آتا ورنہ ہم سب روزہ رکھ لیتے ہم نے کبھی پیٹ بھر کر کھا نا نہ کھایا گزارہ ہو رہا تھا لیکن قسمت نے ابھی اور امتحان لینے تھے میری بڑی بیٹی کو یرقان نے پکڑ لیا ابھی ہم دیسی ٹوٹکوں پر چل رہے تھے کہ بیٹا بھی پیلا ہو نا شروع ہو گیا میرا بندہ مزدوری کر تا میں پلو میں چند روپے باندھ کر علا ج کے لیے عطا ئی ڈاکٹر کے پاس دھکے کھا تی ابھی بڑے دو بچوں کی صحت واپس نہ آئی تھی کہ یکے بعد دیگرے باقی تین بچے بھی بیما ری کی لپیٹ میں آگئے اب میں سارا دن رشتہ داروں کے در پر مدد کی بھیک مانگتی یا بچوں کے سرہانے بیٹھ کر روتی رہتی اب ہما رے گھر میں چارپائیاں تین تھی اور مریض پانچ میں دن رات دعائیں مانگتی اور روتی رہتی لیکن رونا مسائل کا حل نہیں ہے اب سب سے خطرناک بم پھٹا میرا میاں بھی ہیپاٹائیٹس کا مریض بن کر لیٹ گیا اب میری بھاگ دوڑ بہت زیادہ ہو گئی تھی جس بھی در پر جاتی چند روپے ملتے جب کہ علا ج کے لیے زیا دہ پیسہ درکار تھا اب میں نے اپنی زندگی دا پر لگا دی جاکر اپنا گر دہ بیچ دیا تا کہ میرے سر کا سائیں بچ جائے لیکن میرا گر دہ بھی میرے خاوند کی صحت واپس نہ لا سکا آخر قدرت نے میرے میاں کو مجھ سے چھین لیا اورمیں بیس سال کی عمر میں بیوہ ہو گئی۔

پا نچ بچے اور میں اب چاروں طرف اندھیرا پھیل چکا تھا۔ میں بے یارو مدد گار تھی اور مر دہ معا شرہ میری سننے والا نہیں تھا۔ اب میں نے نو کر ی کی کو شش کی پڑھی لکھی نہیں تھی اِس لیے لوگوں کے گھروں میں کام شروع کر دیا۔ یہاں میری خو بصورتی ہی میری دشمن بن گئی میں نو کری کے لیے جا تی تو مالکن کہتی تم خو بصورت ہو مجھے اپنے خا وند پر بھروسہ نہیں کسی اور جگہ جا رشتہ داروں نے مجھے دیکھ کر دروازے بند کر نا شروع کر دئیے جاننے والوں نے دیکھ کر منہ پھیرنے شروع کر دئیے۔ میں نے اِس معاشرے کو زندہ کر نے کی پو ری کو شش کی اپنی بے بسی مجبوری کے رونے روئے لیکن کسی نے بھی میری نہ سنی بلکہ مجھے کہا جاتا کہ کیوں اپنا اور ہما را وقت بر باد کر تی ہو اللہ نے تمہیں حسن کی دولت دی ہے

اِس کو لٹا و اور کما میں نے پو ری کو شش کی کہ اِس دوزخ میں نہ جلوں لیکن جب سارے دروازے بند ہو گئے تو بچوں کے پیٹ کا دوزخ بھرنے اور زندگی کی سانسیں قائم رکھنے کے لیے جسم فروشی کے بارے میں سوچنا شروع کیا لیکن اِس سے پہلے میں نے ایک اور کو شش کی شادی گھروں کے باہر جا کر بیٹھ جا تی جو کھا نا بچ جاتا اسے اپنے اوربچوں کے لیے گھر لے جا تی یہاں بھی کبھی کھانا مل جاتا کبھی دھکے دے کر بھگا دیا جاتا۔اب میں حرام حلال کی تمیز سے آزاد ہو چکی تھی ایک دن شادی ہال کے رحم دل بیرے نے مجھے کھا نا دیا جس کا پتہ مالک کو لگ گیا۔ اس نے مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا کہ میں شادی ہال سے کھا نا چرا کر لے جاتی ہوں میری خو ب بے عزتی کی اب جب رزق کے سارے دھندے بند ہو گئے تو میں نے خو د کو جسم فروشی کے دھندے کے حوالے کر دیا میں نے حرام کھانا شروع کر دیا کیونکہ مرتے ہو ئے شخص پر حرام بھی حلال ہو جاتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
117616