آیون؛ حفاظتی پشتے کی تعمیر نامعلوم وجوہات کی بناپر بند، بارش اور سیلاب سے گاوں کو بڑانقصان پہنچنے کا خدشہ ، ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے، ملبہ ہٹانے اور ادھورا کام مکمل کرنے کا مطالبہ
آیون؛ حفاظتی پشتے کی تعمیر نامعلوم وجوہات کی بناپر بند، بارش اور سیلاب سے گاوں کو بڑانقصان پہنچنے کا خدشہ ، ضلعی انتظامیہ سے نوٹس لینے، ملبہ ہٹانے اور ادھورا کام مکمل کرنے کا مطالبہ
چترال (محکم الدین) آیون سٹیل پل کے قریب نالہ آیون میں گاؤں درخناندہ کو سیلاب اور کٹاؤ سے بچانے کیلئے محکمہ ایریگیشن چترال کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والے حفاظتی بند کا کام نامعلوم وجوہات کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ اور ڈیڑھ مہینوں سے پڑے اس ادھورے کام کی وجہ سے علاقے کو سیلاب کی صورت میں شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس حفاظتی بند کے اطراف میں رہائش پذیر گاؤں درخناندہ کے درجنوں افراد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتا یا۔ کہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے کنسلٹنٹ نیسپاک کے ذریعے سے آیون پل کے نزدیک گاؤں درخناندہ کی بڑی آبادی کو سیلاب سے بچانے کیلئے حفاظتی بند کی تعمیر کا آغاز کیا تھا، 210 فٹ لمبائی میں 3 فٹ موٹی پلم کنکریٹ کا فرش بچھانے اور اپرن کی تعمیر کے بعد کام بند کردیا گیا ہے۔ اور دو مہینے گزر گئے، ادھورے کام کی تکمیل میں محکمہ ایریگیشن اور کنسلٹنٹ نیسپاک کوئی دلچسپی نہیں لے رہے۔
اور افسوسناک امر یہ ہے۔ کہ حفاظتی بند کی بنیاد کیلئے جو کھدائی کی گئی تھی۔ سارا ملبہ نالہ ایون کے وسط میں جمع کیا گیا ہے۔ جو پانی کی راہ میں نہ صرف رکاوٹ ہے۔ بلکہ پانی کا رخ گاؤں کی طرف موڑنے کا سبب بن گیا ہے۔ اور گاؤں محفوظ ہونے کی بجائے مزید سیلاب کے تباہ کن خطرات سے دو چار ہو گیا ہے۔ کیونکہ اب نالہ آیون کے پانی میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اس ملبے کو فوری طور پر نالہ آیون کے وسط سے ہٹانے اور حفاظتی بند کے ادھورے کام کو مکمل نہ کرنے کی صورت میں کالاش ویلیز کے بالائی پہاڑوں میں گلئشیرز کے پگھلنے سے گلوف یا تیز بارش کے سیلاب سے گاؤں درخناندہ اور اس کے روڈ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے چیف انجنئیر ایریگیشن فلڈ ڈویژن، نیسپاک ہائی اتھارٹیز، ایکسین ایریگیشن چترال لوئر اور ڈپٹی کمشنر چترال لوئر سے پر زور مطالبہ کیا۔ کہ فوری طور پر نالہ آیون سے حفاظتی پشتے کا ملبہ ہٹایا جائے۔ اور پشتے کا تعمیری کام مکمل کیا جائے۔ بصورت دیگر سیلاب کی صورت میں گاؤں درخناندہ اور اس کے روڈ کو نقصان پہنچنے کی تمام تر ذمہ داری محکمہ ایریگیشن اور کنسلٹنٹ پر ہوگی۔

