The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ حضرت بلال حبشی ؓ (حصہ دوئم) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ حضرت بلال حبشی ؓ (حصہ دوئم) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ملائکہ محو حیرت تھے اور بوڑھا آسمان پچھلے کئی دنوں سے بلا پلک جھپکے تاریخ انسانی کے سب سے بڑے اور انمول ترین عاشقِ رسول ﷺ کی ہمت اور استقامت کو دیکھ رہا تھا۔ مکہ کی زمین جو موسم گرما میں آگ برساتی دھوپ میں تانبے کی طرح گرم ہو جاتی تھی۔ مکہ کے کافر امیہ بن خلف کو جب یہ پتہ چلا کہ اس کے غلام نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ غصے سے آگ بگولا ہو گیا اپنے غلام کو بلا کر کہا تم نے مقدس لات و عزی کو چھوڑ کر کوئی اور معبود ڈھونڈ لیا ہے تو غلام زادے نے بے دھڑک جواب دیا کہ میں محمد ﷺ اور اس کے خدا پرایمان لے آیا ہوں غلام کے آقا امیہ کے لیے یہ گستاخی عظیم تھی کہ اس کا غلام تین سو ساٹھ خداں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کو مانے ظالم آقا نے رعونت سے کہا تم باز آجا ورنہ ذلت کی موت مارے جا گے لیکن آفرین ہے غلام زادے پر جو نشہ توحید میں ڈوب چکا تھا بولا میرے جسم پر تمھارا زور چل سکتا ہے جبکہ میں اپنا دل و جان محمد ﷺ کے خدا کے پاس رہن رکھ چکا ہوں۔غلام کے جواب سے کافر امیہ بن خلف غصے سے پاگل ہو گیا کہ ایک غلام زادے کی اتنی جرات وہ غصے سے بولا اب دیکھو اپنی بے دینی کا مزا میں دیکھتا ہوں میرے ظلم و ستم سے تمھارا محمد ﷺ اور اس کا خدا تمھیں کس طرح بچاتے ہیں۔ اِس کے بعد غلام پر ظلم و ستم کا لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا غلام کے ہاتھ پاں رسیوں سے باندھ دئیے گئے رسیاں اتنی سختی سے بندھی ہوئی تھیں کہ زخموں کے اندر دھنس گئیں تھیں سارا دن غلام پر کوڑے بر سائے جاتے گلے میں رسی ڈال کر نوکیلے کنکروں اور پتھروں پر جلتی ہوئی دوپہر میں گھسیٹا جاتا لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں لٹا دیا جاتا جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر بھاری پتھر غلام کے سینے پر رکھ دیا جاتا تا کہ وہ جنبش بھی نہ کر سکے پھر ظالم آقا کہتا محمد ﷺ کی پیروی سے باز آجا ورنہ اِسی طرح پڑا رہے گا لیکن شہدائے حق اور رسولِ عربی ﷺ کا پروانہ زبان سے احد احد نکالتا ظالم آقا غضب ناک ہو کر ذودو کوب کرنا شروع کر دیتا۔

صحابی حضرت عمرو بن العاس فرماتے ہیں کہ میں نے بلال کو اس حالت میں دیکھا کہ امیہ نے شدید تپتی ہوئی زمین پر لٹا رکھا ہے کہ اگر اس گرم زمین پر گوشت کا ٹکڑا بھی رکھ دیا جا تا تو وہ بھی گل جاتا۔ غلام کے انکار پر امیہ نے مکہ کے اوباش لونڈوں کے حوالے غلام کو کر دیا جنہوں نے غلام کے گلے میں رسی باندھ دی کپڑے اتار دیے ظالم لونڈے بلال کو مکہ کی گرم ریت اور گھاٹیوں میں گھسیٹتے پھرتے کبھی اوندھے منہ لٹا کر اوپر گرم نوکیلے پتھروں کا ڈھیر لگا دیتے جب لونڈے غلام کو اِدھر ادھر گھسیٹتے تو غلام بار بار دہراتا میں لات و عزی ہبل اور دوسرے تمام بتوں کا انکار کر تا ہوں اور احد احد پکارتے جاتے یہ ظلم و ستم پچھلے کئی روز سے جاری تھا غلام کے جسم کا کائی حصہ ایسا نہ تھا جو شدید زخمی نہ ہو۔ مسلمان آتے جاتے غلام کی حالت دیکھتے تو بہت دکھی اور رنجیدہ ہوتے۔ سیدنا حضرت ابو بکر کا گھر بھی اِسی محلے میں تھا وہ آتے جاتے روزانہ سوچتے کس طرح اِس عاشقِ رسول ﷺ کو ظالم کے پنجہ سے نجات دلائی جائے ایک دن حضرت ابو بکر سے غلام کی حالت دیکھی نہ گئی تو وہ ظالم امیہ کے گھر تشریف لے گئے اور امیہ سے کہا کہ ایک غلام پر اتنا ظلم کر نا اچھا نہیں حضرت ابو بکر کی گفتگو سے تنگ آکر امیہ بو لا تم اس غلام کے اتنے ہمدرد ہو تو ا،س کو خرید کیوں نہیں لیتے صدیق اکبر جھٹ بولے بولو کیا لو گے تو امیہ بولا تم اپنا غلام فسطاس رومی مجھے دو اِس کو لے جا فسطاس رومی بہت با صلاحیت غلام تھا اہلِ مکہ کے نزدیک اسی کی بہت زیادہ قیمت تھی امیہ کے خیال میں حضرت ابو بکر کبھی بھی اپنا غلام نہیں دیں گے۔ لیکن حضرت ابو بکر فورا بو لے مجھے منظور ہے امیہ حیرت اور ڈھٹائی سے بولا فسطاس کے ساتھ چالیس اوقیہ چاندی بھی لوں گا

امیہ نے اپنی طرف سے بہت چالا کی کا سودا کیا جب صدیق اکبر غلام کو لے جانے لگے توکہنے لگا اے ابن ابی قحافہ اگر تمھاری جگہ میں ہو تا تو اِس غلام کو درم کے چھٹے حصے کے عوض بھی نہ خریدتا صدیق اکبر فرمانے لگے اِس غلام کی قدر و قیمت سے تم واقف نہیں میرے نزدیک ملک یمن کی بادشاہی بھی اِس کے سامنے ہیچ ہے غلام اس وقت بھی بھاری گرم پتھروں کے نیچے دبا ہوا تھا حضرت ابوبکر کے ساتھ حضرت زید بن حارث بھی تھے انہوں نے غلام کے کان میں کہا اب تم آزاد ہو غلام کی آنکھیں خون اور آنسو ں سے دھندلائی ہوئی تھیں زخموں اور کمزوری کے سبب جواب دینے کی سکت بھی نہ تھی حضرت ابو بکر اور زید بن حارث نے بازوں سے پکڑ کر انہیں نیم مردہ حالت میں چلاتے اورگھسیٹتے ہوئے لے گئے زخمی غلام حضرت ابو بکر کے دولت کدے پر پانچ دن بے ہوش رہا کبھی ہوش میں آجاتا اِس دوران علاج بھی ہوتا رہا چھٹے روز غلام چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو حضرت ابو بکر نے فرمایا سرورِ کونین ﷺ متواتر تین دن تیرے کمرے میں جاکر دعائے صحت فرماتے رہے ہیں جب تک تمھارا بخار نہیں اترا مسلسل دعائیں کرتے رہے ہیں۔ ساتویں دن صحت بہتر ہوئی تو حضرت ابو بکر غلام کو بارگا ہِ محبوب کبریا ﷺ میں لے گئے رحمتِ مجسم نے جب اپنے محب کو دیکھا تو آنکھیں بھی آئیں رحمتِ دو عالم ﷺ اپنی جگہ سے اٹھے اور غلام کو گلے سے لگا لیا اور فرمایا جب تک دنیا قائم رہے گی

یہ بات یا درکھی جائے گی کہ اسلام کی راہ میں ظلم و اذیت برداشت کرنے والے پہلے شخص تم ہو۔ شہنشاہِ دو جہاں ﷺ کے آنسو مبارک غلام کے چہرے پر گِر رہے تھے اور غلام یوں محسوس کر رہا تھا کہ وہ جنت الفردوس میں ہے پھر ساقی کوثر نے غلام کا ہاتھ پکڑا اور اپنے ساتھ چٹائی پر بٹھا لیا۔غلام سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آقا دو جہاں ﷺ ایسی محبت اور شفقت کریں گے اور پھر یہیں سے سرورِ دو عالم ﷺ کی غلامی کا دور شروع ہو ا۔ مشرکین کے پنجہ ستم سے رہائی پانے کے بعد اِس غلام نے اپنی زندگی رحمتِ دو جہاں کی خدمت کے لیے وقف کر دی دن رات دکھ سکھ سفر و عظ تبلیغ کی مجالس ہوں یا میدانِ جنگ یہ غلام ہر وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا۔ عشقِ رسول ﷺ میں فنا کے اس مقام پر تھا کہ ہر وقت خدمت میں حاضری کو سعادت سمجھتا نبی کریم ﷺ کے ہر حکم کو پورا کرنے کے لیے اپنی جان تک لڑا دیتا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے بیشتر خانگی امور بھی اِس کے سپرد کر دئیے تھے وہ حضور ﷺ کے موذن بھی تھے اور ایک عابد شبِ زندہ دار بھی تھے فکر آخرت سے ہر وقت لرزہ بر اندام رہنا ہی زندگی تھی ایک مرتبہ جب یہ غلام بیمار ہو گیا تو جب بھی رسول کریم ﷺ کو اِس کی بیماری کا پتہ تو فخرِ دو عالم، شافع محشر وجہ تخلیقِ کائنات رسول کریم ﷺ آپ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب غلام کو بوئے مصطفی ﷺ پہنچی تو حیرت اور خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا دامنِ رسول ﷺ نظر آیا تو شدت عشقِ رسول ﷺ میں خود پر قابو نہ رہا گھسیٹتے ہوئے آئے اور سرورِ کونین ﷺ کے قدم مبارک پر اپنا سر رکھ دیا اور محبت سے بوسے لینے لگے نبی کریم ﷺ نے اپنے عاشق کے سر و چشم کو بوسہ دیا اور فرمایا اب کیا حال ہے تو عرض کیا جس کے پاس اچانک رحمتِ دو جہاں ﷺ آجائیں تو اس کی خوشی کا کیا حال ہو گا اب سب دکھ اور درد راحت اور خوشی میں بدل گئے اِس غلام کو بارگاہِ رسالت ﷺمیں خاص مقام حاصل تھا اِس بنا پر تمام صحابہ آپ کو محبوب و محترم جانتے تھے۔ حضرت عمر فاروق اِس غلام کے بارے میں فرمایا کرتے تھے ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار بلال کو آزاد کرایا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
96499

بزمِ درویش ۔ حضرت بلال حبشی ؓ (حصہ اول) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ حضرت بلال حبشی ؓ (حصہ اول) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

عاشقِ رسول ﷺ حضرت بلال کے والد رباح اپنی اہلیہ کے ہمراہ مکہ میں مستقل آباد ہو گئے تھے اور قریش کے خاندان بنو جمح کی غلامی اختیار کر لی تھی۔ اِس غلامی کی حالت میں بعثتِ نبوی ﷺ سے تقریبا 28برس پہلے حضرت بلال پیدا ہوئے اس وقت چاروں طرف کفر و شرک کے سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے۔ حضرت بلال کا آقا امیہ بن خلف سخت ظالم اور مشرک تھا۔ اسی ظالم کی غلامی میں حضرت بلال نے اٹھائیس برس گزار دیے انہی دنوں میں حضرت بلال کے کانوں میں توحید کی صدا گونجی۔ حضرت بلال بعثت سے قبل ہی حضور پاک ﷺ کے اخلاق سے متاثر تھے اِس لیے فوری لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا آپ ان سات سعید الفطرت ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔قبول اسلام کے عاشقِ رسول ﷺ ہمیشہ اپنے آقا و مولا کے شریک رہے اگر نبی کریم ﷺ کو فاقہ ہوتا تو وہ بھی فاقے سے ہوئے اگر حضور ﷺ دکھی ہوتے تو وہ بھی دکھی ہوجاتے۔

شبِ معراج ملائکہ کے جھرمٹ میں شاہِ دو عالم ﷺجب ربِ ذولجلال سے ملاقات کے لیے آسمانوں پر گئے تو آسمان پر بھی حضرت بلال کے قدموں کی چاپ گونج رہی تھی۔ جب مسلمانوں کو مشریکین مکہ کے مظالم سے تنگ آکر رسول کریم ﷺ نے ہجرت مدینہ کا حکم دیا تو حضرت بلال بھی مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے۔ مدینہ میں حضرت بلال اپنے محبوب ﷺ کی تمنا لیے راہوں میں آنکھیں بچھائے منتظر رہتے تھے دن رات دعائیں کرتے اے اللہ تعالی میرے محبوب کی حفاظت فرما زمین کی طنابیں کھینچ لے اور سرورِ دو عالم ﷺ کو جلد سے جلد مدینہ پہنچا دے اور جب نبی کریم ﷺ آگئے تو حضرت بلال کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا قدموں پر نثار ہوئے جا رہے تھے۔ رمضان کے مہینے میں روزانہ بوقتِ سحری بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوتے ایک دن جب آپ حاضر ہوئے تو فخرِ دو عالم ﷺ سحری تناول فرما رہے تھے حضرت بلال سمجھے سحری کا وقت ختم ہو گیا عرض کی آقا ﷺ سحری ختم ہو چکی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سماعت فرمایالیکن آپ ﷺ کھاتے رہے حضرت بلال پھر بولے اللہ کی قسم سحری کا وقت آخر ہو لیا۔

جونہی حضرت بلال نے قسم کھائی نبی کریم ﷺ نے نوالہ دستِ مبارک سے رکھ دیا کسی کے پوچھنے پر رحمتِ دو جہاں ﷺفرمانے لگے بلال اپنے اندازے کے مطابق اختتامِ سحری کا اعلان کر رہا تھا۔ جبکہ میری نظر آفتاب کے اس مرکز پر تھی جہاں ابھی سحری ختم ہونے میں چند لمحے باقی تھے۔ لیکن جیسے ہی حضرت بلال نے قسم کھائی اللہ تعالی نے اس کی قسم کو سچا کرنے کے لیے آفتاب کو حرکت دی اور اس جگہ پہنچا دیا جہاں سحری کا وقت ختم ہو جا تا ہے۔ کیا مقام و مرتبہ ہے محسنِ انسانیت ﷺ کے پروانوں کا کہ اگر وہ قسم کھا لیں تو اللہ تعالی کائنات ان کے تابع کر دیتا ہے۔ہجرت کے بعد مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر ہوئی تو آذان دینے کی سعادت حضرت بلال کے سپر د ہوئی عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی اور آبِ زم زم سے دھلی ہوئی آواز سے جب اشہدان محمد رسول اللہ کی صدا بلند کرتے اور مسجد نبوی ﷺ میں جلوہ افروز ہادی دو جہاں ﷺ کی طرف انگشتِ شہادت سے اشارہ فرماتے تو چاروں طرف عشقِ رسول ﷺ کا سحر پھیل جاتا اور صحابہ جھوم جھوم جاتے سبحان اللہ کیا نظارہ کیا سماں ہو تا ہوگا۔ لیکن حضرت بلال کے محبوب ﷺ اپنے رب کریم کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت بلال پر غم کا اندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑا۔

اب جب انگشتِ شہادت کا اشارہ فرماتے اور محبوب نظر نہ آتے تو کلیجہ پھٹ جاتا۔ حضرت بلال حجرہ عائشہ کی طرف نظریں جمائے بیٹھے رہتے شدت غم سے پھوٹ پھوٹ کر روتے اور بے قرار ہو کر روضہ رسول ﷺ میں داخل ہوتے اپنے محبوب و آقا ﷺ کے چہرے کی بلائیں لیتے اور اپنے بے قرار دل اور روح کو تسلی دیتے کہ میرے آقا محبوب ﷺ سو رہے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر میں بیدار ہونگے تو اپنے غلام کو یاد فرمائیں گے پکاریں گے یا بلال یا بلال نبی کریم ﷺ کے جانے کے بعد مدینہ کے درو دیوار غمگین اور اداس لگتے آخر مدینہ منورہ کو خیر باد کہنے کا وقت آگیا۔ اب اِس شہر اور گلیوں میں دل نہ لگتا تھا۔ بوقتِ رخصت مدینہ کی گلی کوچوں میں یہ صدائیں دیتے پھرتے اے مدینہ والوں تم نے کہیں میرے آقامحبوب ﷺ کو دیکھا ہے تو مجھے آپ ﷺ کا پتہ بتا دو وہ کدھر ہیں حضرت بلال دیوانوں کی طرح مدینہ کے گلی کوچوں میں صدائیں دے رہے تھے اِس منظر نے اہلِ مدینہ اور مدینہ کے درو دیوار کو ہلا کر رکھ دیا کہرام مچ گیا۔ سرور دو عالم ﷺ کے عاشقاں گھروں سے نکل آئے کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جس سے آنسوں کا سیلاب نہ بہہ نکلا ہو درودیوار ساکت تھے ہر آنکھ اشکبار تھی اِس حالت غم اور ہجر میں آپ ملک شام جانے والی شاہراہ پر چل پڑے اہلِ مدینہ عاشقِ رسول ﷺ کا جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے اور رو رہے تھے۔

بیت المقدس کی فتح کے وقت حضرت عمر فاروق شام گئے اور عیسائیوں نے شہر کے دروازے کھول دیے معاہدے کے بعد حضرت عمر فاروق نے خطبہ دیا تو سامعین میں حضرت بلال بھی موجود تھے تو حضرت عمر فاروق جن کے جلال اورمقام و مرتبے سے ساری دنیا واقف ہے وہ بولے اے ہمارے سردار بلال آج قبلہ اول پر پرچمِ توحید لہرایا ہے اِس عظیم موقع پر اگر آپ آذان دیں تو ہم آپ کے بہت شکر گزار ہو نگے۔ پھر جب آپ آذان کے لیے کھڑے ہوئے جب آپ کے منہ سے اللہ اکبر اللہ اکبر کے الفاظ نکلے تو صحابہ کرام کے قلب و جگر پھٹ گئے انہیں رحمت دو جہاں ﷺ کا وقت یا د آگیا اور جب اشھدان محمد رسول اللہ پر پہنچے تو صحابہ کرام ہجرِ رسول ﷺ میں روتے روتے نڈھال اور بے ہوش ہونے لگے فاروقِ اعظم کو بھی فراقِ رسول ﷺ نے تڑپا دیا روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ شام کے شہر حلب میں قیام کئے جب ایک سال بیت گیا تو ایک مبارک رات ہادی دو جہاں ﷺ خواب میں آئے اور ارشاد فرمایا اے بلال تم نے ہم سے ملنا کیوں چھوڑ دیا کیا تمھارا دل ہم سے ملنے کو نہیں کر تا۔خواب سے بیدار ہوئے تو عرض کی لبیک یا رسول اللہ ﷺ اور پھر اسی وقت رات کے اندھیرے میں ہی اونٹنی پر سوار ہو کر محبوب ﷺ کے شہر مدینہ کی طرف چل پڑے۔ شب و روز چلتے ہوئے مدینہ منورہ پہنچے مسجدِ نبوی میں حضور ﷺ کو تلاش کیا پھر حجرات مبارک میں تلاش کیا جب حضور ﷺ کہیں نہ ملے تو حجرہ انور پر حاضر ہوئے اور رو رو کر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ غلام کو کہا ہے کہ آکر مل جا اب غلام حاضر ہے آپ ﷺ پردہ میں چھپ گئے ہیں۔

شدتِ غم سے بے خود ہو کر قبر انور کے پاس گر پڑے۔ اِسی دوران آپ کی آمد کی خبر سارے مدینہ میں پھیل گئی اہل مدینہ آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے حضرت حسن اور حسین کو دیکھا تو اپنے محبوب کے جگر گوشوں کو سینے سے لگا کر بار بار ان کا منہ اور سر چو ما۔ حضرت حسن حسین نے فرمائش کی بابا بلال آپ آذان دیں۔ آپ انکا ر نہ کر سکے مسجد نبوی ﷺ کی چھت پر چڑھے اور آذا ن شروع کی اہلِ مدینہ نے لحنِ بلالی سنا تو پوری فضا حشرِ ساماں ہو گئی رسول کریم ﷺ کا عہد مبار ک یا د آگیا۔ہر شخص غم سے نڈھال تھا خواتین روتی تھیں اور بچے دریافت کرتے تھے بلال تو آگئے ہیں رسول کریم ﷺ کب تشریف لائیں گے۔ دوران آذان جب حضرت بلال نے روضہ اقدس کی طرف انگلی کا اشارہ کر کے اشہد ان محمد ارسول اللہ کہا تو پردہ نشین خواتین بھی گھروں سے نکل آئیں روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں ایسا لگ رہا تھا گویا ہادی حق ﷺ نے آج ہی وصال فرمایا ہے سرور دو عالم ﷺ کی رحلت کے بعد مدینہ میں ایسا دلدوز اور پر اثر منظر آج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔حضرت بلال کو حضور اکرم نظر نہ آئے تو غمِ ہجر میں بے ہوش ہو کر گر پڑے اور جب ہوش آیا تو روتے روتے واپس شام لوٹ گئے باقی ساری زندگی آپ غمِ فراق محبوب سے نڈھال رہے ہر لمحہ آتشِ ہجر میں جلتے رہتے موت وقت قریب آیا تو آپ کی اہلیہ محترمہ بولیں ہائے افسوس تو آپ بولے یہ تو خوشی کو موقع ہے میری اپنے محبوب ﷺ سے ملاقات ہوگی سفر آخرت کے وقت ساٹھ برس لے لگ بھگ عمر تھی دمشق میں ان کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے حضرت عمر فاروق کو جب بلال کی وفات کی خبر پہنچی تو روتے روتے نڈھال ہو گئے بار بار فرماتے تھے آہ ہمارا سردار بلال بھی ہمیں داغِ جدائی دے گیا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
96361