اسٹیٹ بینک نے حج کے لئے 50ملین ڈالرز کی پہلی قسط جاری کردی
اسٹیٹ بینک نے حج کے لئے 50ملین ڈالرز کی پہلی قسط جاری کردی
کراچی(چترال ٹایمز رپورٹ) سرکاری حج اسکیم کے لئے درکار ڈالرز کی پہلی قسط اسٹیٹ بینک نے جاری کردی۔وزارت مذہبی امور کے ذرائع کے مطابق سرکاری حج اسکیم کے لئے حکومت سے 213 ملین ڈالرز مانگے تھے، 50ملین ڈالرز پہلی قسط کے طور پر سعودی عرب میں پاکستانی وزارت حج کو موصول ہوگئے۔وزارت خزانہ نے 40 ملین ڈالرز کی دوسری قسط اسٹیٹ بینک کو دے دی ہے جو تین سے چار روز میں شیڈول کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی وزارت حج کو مل جائے گی۔60 ملین ڈالرز کی تیسری قسط 30 اپریل تک درکار ہے۔ چوتھی قسط کے 63 ملین ڈالرز مئی کے تیسرے ہفتے میں وزارت حج کو سعودی عرب میں مل جائیں گے۔وزارت خزانہ نے درکار ڈالرز طے شدہ شیڈول کے مطابق جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ 213 ملین ڈالرز ایئر لائنز کو کرائے،رہائش گاہوں، ٹرانسپورٹ اور ٹیکسز کی مد میں ادا کئے جانے ہیں۔
وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی کی زیر صدارت ڈیجیٹل ایکسپورٹس بڑھانے بارے اجلاس،آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کے سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے، برآمدات میں اضافہ ملکی معاشی مسائل کا واحد حل ہے جس کے لئے حکومت بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل ایکسپورٹس کو بڑھانے کے لئے جمعرات کو ایک اہم جلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر سے وابستہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہی ہے کیونکہ ہر شعبہ ہائے زندگی کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔انہوں نے ڈیجیٹل ایکسپورٹس کے حوالے سے سفارشات پر عملدرآمد اور پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے سٹیئرنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت کی، کمیٹی آئی ٹی اور پرائیویٹ ماہرین پر مشتمل ہو گی جو ہر ماہ سفارشات پرعملدرآمد کا جائزہ لیگی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ ملکی معاشی مسائل کا واحد حل ہے جس کے لئے حکومت بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں ماہر نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ڈیجیٹل ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے نوجوانوں کو تیار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ وڑن 2025 کا روڈمیپ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا تھا، 2018 کے بعد ترقی کا سفر نام نہاد تبدیلی سے روک دیا گیا، سیاسی استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گزشتہ دور حکومت کے چار سالوں میں ریکارڈ 3200ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے۔