The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

c حادثات اوران کا تدارک – پروفیسرعبدالشکورشاہ

چند ماہ قبل ایک ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ موصوف نے اپنی گاڑی کے میڑپر اپنے بچوں کی تصاویر چسپاں کر رکھی تھیں۔ ڈرائیور کی اپنے خاندان سے والہانہ محبت میرے لیے قدرے تعجب کا باعث بنی اور اوراس انوکھے انداز محبت کی وجہ پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ موصوف مسکرائے اور بولے میں جیسے جیسے رفتار بڑھاتا ہوں تو مجھے میڑ پر گردش کرتی سوئی اپنے خاندان کی یاد دلاتی ہے اورمیں تیز رفتاری سے رک جاتا ہوں۔جلدروانگی اور متوسط رفتار محفوظ زندگی کی ضامن ہے۔ تیز رفتاری خدانخواستہ آپ کی آخری روانگی ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹریفک حادثات کا شکار افراد کا عالمی دن منانے کا آغاز1993میں ہوااور2005سے اقوام متحدہ نے اسے باضابطہ طور پر منانے کا آغاز کیا۔یہ دن سالانہ نومبر کے تیسرے ہفتے میں دن دنیا کے بیشتر ممالک، مختلف تنظیموں اور طبقات کی جانب سے منایا جا تا ہے۔دنیا بھر میں سالانہ تقریبا1.3ملین افراد روڈ حادثات کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا ہر 24سیکنڈز میں دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں ایک فرد روڈ حادثات کی وجہ سے لقہ اجل بن جاتا ہے۔ تناسب کے حساب سے روزانہ تقریبا3,700افراد روڈ حادثات میں ابدی سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں جبکہ لگ بھگ20-50ملین جان لیوا زخموں کا شکار ہو تے ہیں جو اکثر اوقات عمر بھر کی معذوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ ٹریفک حادثات کے سبب اخراجات کا حجم اکثر ممالک کی جی ڈی پی کا3%بنتا ہے جبکہ ٹریفک حادثات میں زخمی ہونے والے93%افراد کا تعلق غریب اور متوسط ممالک سے ہے جبکہ ان ممالک میں دنیا بھر کی کل ٹریفک کا حصص60%ہے۔

ٹریفک حادثات5سے29کی عمر کے افراد میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے جبکہ15سے44سال کی عمر کے افراد دنیا بھر میں ہونے والے50% ٹریفک حادثات کا موجب گردانے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک میں سفر کے دوران صحت مند امریکی افرادکی موت کی ایک بڑی وجہ ٹریفک حادثات ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق بھارت ٹریفک حادثات کی وجہ سے اموات میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارت میں دنیا بھر کے مقابلے میں صرف 1%گاڑیاں پائی جاتی ہیں اس کے برعکس عالمی سطح پر ٹریفک حادثات کے سبب وقوع پذیر ہونے والی اموات کا11%حصص بھارت کے حصے میں آتا ہے۔ بھارت میں سالانہ تقریبا450,000حادثات رونما ہو تے ہیں جن میں 150,000افراد لقہ اجل بن جاتے ہیں۔ ہر گھنٹے میں اوسطا53ٹریفک حادثات جبکہ ہر 4منٹ میں ایک موت واقع ہوتی ہے۔ ٹریفک حادثات کے سبب سب سے زیادہ شرح اموات افریقی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ کم آمدن اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد امیر افراد کی نسبت زیادہ حادثات کا شکار ہو تے ہیں۔

نوجوان عورتوں کی نسبت نوجوان مردوں میں ٹریفک حادثات کی شرح کافی زیادہ ہے۔73%ٹریفک حادثات 25سال سے کم عمر نوجوان مردوں کی وجہ سے رونما ہو تے ہیں اور ان حادثات میں ان کی شرح اموات خواتین کے مقابلے میں 3%زیادہ ہے۔ ٹریفک حادثات کے سبب اموات کی بہتات کو صرف انسانی غلطی سے پاک ٹریفک کا نظام کے زریعے کم کیا جا سکتاہے۔ اگر ہم انتہائی خطرناک، جان لیوا اور مہلک زخموں کا سبب بننے والے حادثات کی روک تھام کو یقینی بنائیں تو موجودہ صورتحال کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اوسط حد رفتار میں 1% اضافے کی صورت میں حادثہ کا امکان 4%بڑھ جا تا ہے جبکہ یہی اضافہ اگر 3%تک ہو جائے تو انتہائی خطرناک حادثہ درپیش آسکتا ہے۔ 50سے60کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر پیدل چلنے والے افراد میں 4.5%بڑھ جاتا ہے جبکہ اسی رفتارپر گاڑی کی آگے والی نشستوں پر براجمان افراد میں یہ شرح 85%تک بڑھ جاتی ہے۔

نشے کی حالت یا نفسیاتی دباؤمیں گاڑی چلانے کی صورت میں شرح اموات اور مہلک زخموں کا امکان کئی گنابڑھ جا تا ہے۔ درست طریقے سے ہیلمٹ پہننے سے شدید جان لیوا زخموں میں 42% جبکہ شرح اموات میں 69%کمی لائی جا سکتی ہے۔ سیٹ بیلٹ باندھنے شرح اموات 45سے50%تک کم ہو جاتی ہے اور گاڑی کی پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والوں میں شدید زخموں کا امکان25%تک گر جاتا ہے۔ کم عمر ڈرائیوروں پر پابندی پرعمل درآمد کی صورت میں حادثات کو 60%تک کم کیا جا سکتا ہے۔گاڑی چلاتے ہوئے موبائل کے استعمال سے حادثات کا امکان 4گنا بڑھ جا تا ہے۔ ہمیں اپنی سڑکوں کو اس انداز سے بنانا ہے تاکہ یہ ہر طرح کے استعمال کندگان کے لیے محفوظ ہوں۔ ہم اقوام متحدہ کے وضع کر دہ ٹریفک قوانین اور اصول و ضوابط پر سختی سے عمل کر کے قیمتی جانوں کا ضیائع روک سکتے ہیں۔ حادثے کے بعد بروقت ابتدائی طبعی امداد کسی مسیحا سے کم ہر گز نہیں ہے۔ ہمیں کوشش کر کے اس کی جلد اور بروقت فراہمی کو تیز تر کرنے کا تہیہ کر نا ہوگا۔ متذکرہ بالا عوامل کے مکمل خاتمے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو یکجا ہو کر ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

اس سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک ترقی پزیر اور غریب ممالک کی تکنیکی اور مالی مدد کے لیے آگے بڑھیں تا کہ انسانی جان کو محفوظ تر بنانے میں اہم کردار ادا کیا جاسکے۔ اقوام متحدہ کے2010کے عشرہ برائے عمل میں تقریبا110ممالک شامل ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو ٹریفک حادثات کے باعث لقمہ اجل بننے سے روکنے کا عہد کیا ہے تاہم مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی۔ ورلڈہیلٹھ آرگنائیزیشن کی 2018کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ٹریفک حادثات سے بچاو کے لیے ممالک کی تعداد 175ہو چکی ہے۔2021-2030کے لائحہ عمل میں بھی ماضی کے لائحہ عمل والے اہداف ہی دہرائے گئے ہیں۔ اگر ہم اس لائحہ عمل میں تیزرفتاری کو کم کرنے کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو گئے توعالمی سطح پر حادثات میں 50%کمی واقع ہو جائے گی۔

یہ بات حیران کن ہے کے غریب ممالک میں دنیا بھر کی محض 1%ٹریفک موجود ہے جبکہ ٹریفک حادثات کے سبب شرح اموات 13%ہے۔اس کے برعکس ترقی یافتہ ممالک میں دنیابھر کی40%ٹریفک موجود ہے اور حادثات کی شرح 7%ہے۔ ریسکیو1122کے مطابق 1.6منٹ میں ایک حادثہ رونما ہوتا ہے اور ریسکیو1122پنجاب میں روزانہ تقریبا1000ٹریفک حادثات  سے نبرد آزما ہوتی ہے۔ سال 2004میں لگ بھگ 3ملین ٹریفک حادثات رونما ہوئے جن میں سے اکثریت موٹرسائیکل سواروں کی تھی۔اوسطا1000خاندان نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہوئے کیونکہ ان کے خاندان کا واحد کفیل یا تو جان کی بازی ہار گیا یا عمر بھر کے لیے معذور ہوگیا۔ دنیا بھر میں مہذب اقوام منظم ٹریفک سے پہچانی جاتی ہیں۔ سڑک پر حفاظت ایک کلچر ہے جسے ٹھوس اقدامات کے زریعے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں نہ صرف ڈرائیوئنگ لائنسس کے اجراء کے معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ ٹریفک حادثات سے متعلق عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ اسے اپنے نصاب کا حصہ بنانا ہے۔ جب تک ہم ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بنائیں گے تب تک ٹریفک حادثات کے سبب قیمتی جانوں کے ضیائع کو روکا نہیں جا سکتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
55418

ٹریفک حادثات، وجوہات اور تدارک ۔ محمد شریف شکیب

وفاقی حکومت نے ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کے استعمال کو سنگین جرائم کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزارت داخلہ اور وزارت قانون نے تجویز پیش کی ہے کہ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کوایک ہزار روپے، کار ڈرائیوروں کوایک ہزار پانچ سو روپے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کو 2 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ موبائل فون پر ایس ایم ایس کرنا، کال کرنا، کال وصول کرنا، وائس میسج بھیجنا اور وڈیو بنانا خلاف قانون تصور کیاجائے گا۔ایک سروے کے مطابق ملک میں ماہانہ ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کی تعدادکورونا، کینسر، یرقان، گردوں کے امراض، ٹائیفائیڈ،امراض قلب اور دیگر بیماریوں میں جاں بحق کی تعداد سے دوگنی ہے۔ ٹریفک حادثات کی اہم وجوہات میں ڈرائیوروں کا موبائل فون استعمال کرنا، موسیقی سننا، نشہ کرنا، ٹریفک قوانین سے نابلد ہونا، تیز رفتاری، گاڑیوں میں نقص اور رات کے وقت سفر کرناشامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران اٹھارہ ٹریفک حادثات میں 25افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ بیس افراد شدید زخمی ہیں ان میں سے بارہ افراد کے زندگی بھر کے لئے معذور ہونے کا خدشہ ہے۔ پشاور اور اسلام آباد سے چترال کے لئے صرف رات کے وقت گاڑیاں جاتی ہیں کھلی سڑکوں پر تیز رفتاری سے گاڑی چلانے سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔ تنگ اور دشوار پہاڑی راستوں پر رات کے وقت ڈرائیونگ کرتے ہوئے ڈرائیوروں پرنیند کے غلبے کی وجہ سے غنودگی طاری ہونا فطری امر ہے اور زیادہ تر حادثات ڈرائیوروں کی آنکھ لگنے کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی اڈوں، بغیر روٹ پرمٹ چلنے والی گاڑیوں، رات کو سفر کرنے،سرکاری نرخنامے سے زیادہ کرایہ وصول کرنے کے خلاف کاروائیوں کی بارہا ہدایات دی ہیں لیکن ٹریفک پولیس کی سرپرستی میں چلنے والے ان اڈوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوپارہی۔

حکومت کورونا اور پولیو پر قابو پانے کے لئے کروڑوں ڈالر خرچ کر رہی ہے۔ امراض قلب و جگر کے لئے الگ ادارے بن رہے ہیں، جذام، زیابیطس اور دیگر امراض کے علاج کے لئے الگ ہسپتال بنائے جارہے ہیں لیکن کسی حکومت نے سب سے زیادہ انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب ٹریفک حادثات کم کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔ موٹر وے سمیت شاہراہوں کے کنارے 70سے زائد اقسام کے سائن بورڈ ز لگے ہوتے ہیں ان میں کچھ گول، کچھ چوکور اور کچھ تکون ہوتے ہیں۔ 44سائن بورڈز ان قوانین سے متعلق ہیں جن کی خلاف وزری پر جانی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے جبکہ 32نشانات وہ ہیں جن کی خلاف ورزی پر ڈرائیور گرفتار اور گاڑی سرکاری تحویل میں لی جاسکتی ہے۔ 24سائن بورڈز میں پلوں، دریاؤں، نہروں، سکولوں، ہسپتالوں اور شہری آبادی کی نشاندہی ہوتی ہے ان نشانات کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہاں سے گذرتے ہوئے رفتار کم کی جائے تاکہ جانی نقصان سے بچا جاسکے۔ سڑک پر دو سفید یا پیلے رنگ کی لکیریں ہوتی ہیں۔

انتہائی بائیں جانب کا حصہ سست رفتار گاڑیوں، درمیانی حصہ عام ٹریفک کے لئے مختص ہوتا ہے۔ سڑک کی انتہائی دائیں جانب کا حصہ ایمرجنسی یا وی آئی پی موومنٹ کے لئے مختص ہوتا ہے۔ عام گاڑیاں اسے صرف بیس سیکنڈ تک آگے والی گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کے لئے استعمال کرسکتی ہیں۔ ان ٹریفک نشانات کے بارے میں 80فیصد ڈرائیوروں کو علم ہی نہیں ہوتا۔قانون کے تحت دھواں دینے اور شور مچانے والی گاڑیاں سڑکوں پر چلانے کی ممانعت ہے کیونکہ اس سے فوگ اور نائیس پالوشن پھیلتی ہے۔ہماری سڑکوں پر ایسی درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں گاڑیاں روز چلتی ہیں قانون نافذ کرنے والوں کی توجہ کبھی اس طرف نہیں جاتی۔ ٹریفک حادثات اور اس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکنے کے لئے ضروری ہے کہ موٹر سائیکل سواروں سے لے کر موٹرکار، سوزوکی، لوڈر، ٹریکٹر، ٹرالی، ٹرک اور ہیوی گاڑیاں چلانے والوں کو لائسنس کے اجراء سے قبل ٹریفک قوانین کا امتحان پاس کرنے کا پابند بنایاجائے اورحادثے میں غلطی ثابت ہونے اورجانی نقصان پر لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کاڈرائیور کو پابند بنایاجائے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
53145