The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

مختصر سی جھلک ۔ جَواب شِکوہ ۔ فَریدہ سلطانہ فَری

مختصر سی جھلک ۔ جَواب شِکوہ ۔ فَریدہ سلطانہ فَری

.
چترالی تہذیب و ثقافت نے ہمیں جو کہانیاں اور روایات ورثے میں دی ہیں، اُن سب میں بظاہر عورت اور مرد کی یکسانیت اور برابری کا درس تو ملتا ہے۔ مگر جب بات گھریلو زندگی میں عملی مظاہرے کی آتی ہے تو اس سے پہلے ہی ہمیں ایسی باتیں اور محاورے سننے کو ملتے ہیں جونہ صرف ظاہری اور زبانی طور پر عورت پر ذہنی دباؤ ڈال دیتے ہیں بلکہ عملی طور پر بھی انصاف اور یکسانیت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ جس کے باعث عورت ہر کام میں خود کو مکمل اور ماہر ثابت کرنے کی دوڑ میں اپنی ذات تک کو بھول جاتی ہے، اور وقت سے پہلے ہی بیمار اوربوڑھی ہو جاتی ہے.

“عورت آباد” کا محاورہ آپ نے ضرور سنا ہوگا، یا ہمارے بڑے بزرگ عام طور پر یہ کہتے ہیں:
“دور عورت آباد” یعنی “گھر عورت آباد”۔

عرصۂ دراز سے یہی ہوتا آیا ہے کہ شوہر، ساس، سسر اور بچوں کو خوش کرنے کے چکر میں عورت اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کو ہمیشہ نچلے درجے پر رکھتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے کے مرد عورت کی کارکردگی سے خوش نہیں ہوتے۔

کیا شادی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ عورت دال سبزی روٹی ہی پکاے؟ کیوں نہ ایسا ہو کہ آج کا کھانا گھر کا مرد بیٹا یا شوہر خود پکا لیں اور عورت کپڑے دھو دے یا کوئی اور کام کریں (ای ڈیک مشینہ ای ڈیک ڈنگہ و ای ڈیک شالہ و دی عورتو قہری بیتی لوڑیکو حق مشکنیان اور سکوٹ یا رنکوٹ یا اۡستاز یا کیا دی ملازمتہ کورا تبادیلہ کی ہوے تانتے شاپیک کوری ژیبونی زَپو نیگی انجونی یا اَدرخہ،غاریہ بی شاپیک پچھیاوا فیس بۡکہ جام دونی مگر بوکو، ژۡورو یا کایو سوم ہوست دۡرونگیگ ہیتن مَریک یا زاہ ݰور یا ویخال کی ہوے کیا رینی قہری بونی مگر اَہ روپھی تنتے خور کیاغ کوری ژیبیک ہیتان مَریک……. و زاح ویخال بیکو مشاعرہ بی گلائی کی ارو دۡورا کی ہاو تان فۡروخو تتین ٹور کوے وا خاےہݰ بیکو بِل باس نو بیتی دی کیاغ بوے)

میرے سامنے ہزاروں ایسے گھر ہیں جہاں مَرد ضَرورت کے وقت گھر میں عورت کا بٹاتے ہیں اور عورت گھرکےاخراجات میں مرد کا ساتھ دیتی ہے۔ ایسے میاں بیوی کے درمیان ذہنی ہم آہنگی زیادہ ہوتی ہے، تعلقات بہتر ہوتے ہیں اور گھر میں سکون اور محبت قائم رہتی ہے۔ایسے گھر میں ہسپتال اور دوائیوں کا خرچہ بھی کم ہوتا ہے.

اور ایسے مرد بھی میں نے دیکھےہیں جو رات کو بیوی کی پورے دن کی کار گزاری سۡنتے ہیں(خاے مہ یار ہنون کیاغ ہوے کیاغ اَرو ؟؟؟؟؟بیکو ہیس تان سورا گیرو ہار لۡوو مۡوشوت کی َپراے ہو ہردیو بوجھ ہلکا بوے و چۡھوچی رۡوپھی سفنتین جام خسمت کوے
وغۡوت دیتی کوس قہرو کوس سورا نیزی ھے ہایی دیکو ضرورت نو بوے…………..جاری.

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
117931

جوابِ شکوہ – ڈاکٹر شاکرہ نندنی

Posted on

جوابِ شکوہ
ڈاکٹر شاکرہ نندنی

تو کہتا ہے خواب گرے، ساز بجے نہ نغمہ بنے،
کیا ساز تیرے ہاتھ میں تھا؟ یا تُو خود ہی بے دَم بنے؟

تو چاہتا تھا بہار چلے، اور زخم بھی نہ لگیں تجھے،
پھر کس نے تجھے یہ بتایا کہ گلزار میں کانٹے نہیں؟

دنیا کو تو نے سمجھا کیا؟ ایک ہنسی کا میدان فقط؟
یہ کائنات ہے کرب کا فن، یہ زندگی ہے ایک فنونِ ضبط۔

تو مانگتا ہے روشنی، پر تیری آنکھ بند رہی،
تُو خود گُم صُم تھا اندر سے، باقی دنیا کب خواب بنی؟

وہ وقت کہ تُو جلتا تھا، اک جذبہ، اک آگ سا،
اب تو فقط سائے میں ہے، اک زرد، بجھا چراغ سا۔

فطرت کبھی خاموش نہیں، تُو ہی سن نہ سکا صدا،
پتوں میں، پانی میں، ہَوا میں، ہر شے میں بولا تھا خدا!

وقت نے تجھ کو موقع دیا، ہر موڑ پہ راستے رکھے،
تُو بھٹک کے کہتا ہے اب، کہ میرے خواب چھینے گئے؟

سچ تو یہ ہے، اے درد کے شاعر! تُو خود سے ناراض ہے،
آئینے سے شکوہ کرتا ہے، جب چہرہ بے ناز ہے۔

تُو چاہتا ہے دنیا بدلے، اور تُو نہ بدلے ایک ذرا،
یہ فطرت کا قانون نہیں، یہ ضد ہے، یا خوابِ سرا؟

ہر شے سے پہلے خود کو بنا، وہ روشنی، وہ راز بن،
پھر دیکھ تیری سانسوں میں، کیسے بجتا ساز بن!

یہ وقت بھی تیرے ہاتھوں میں ہے، یہ فطرت بھی تیری دوست،
مگر شرط ہے: تُو جاگے، تُو بنے اک نیا شعور، اک نیا جوش!

ڈاکٹر شاکرہ نندنی

Posted in شعر و شاعریTagged
102659