The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 3 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

جنگ کے بادل اور اعداد و شمار کا کھیل: ہدف ایران یا امریکی ووٹرز؟ – قادر خان یوسف زئی 

جنگ کے بادل اور اعداد و شمار کا کھیل: ہدف ایران یا امریکی ووٹرز؟ – قادر خان یوسف زئی

تہران کے ایوانوں سے عالمی سیاست کی بساط پر ایک بار پھر مہروں کی ترتیب انتہائی جارحانہ انداز میں بدلی جا رہی ہے اور واشنگٹن کے ایوانِ اقتدار سے اٹھنے والی آوازیں مشرق وسطیٰ کی ریتلی زمین پر جنگ کے نئے اور ہولناک بادلوں کی نوید سنا رہی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب محض امریکی عوام کے لیے سالانہ کارکردگی کی رپورٹ نہیں تھا، بلکہ درحقیقت یہ ایک ایسا خطرناک بیانیہ تراشنے کی شعوری کوشش تھی جس کے خدوخال میں بارود کی بو رچی ہوئی ہے۔ جب کوئی عالمی طاقت سفارت کاری کے دروازے بند کر کے ریاستی پالیسی کو عسکری مہم جوئی کے تابع کر دیتی ہے، تو اس کے اثرات محض دو ممالک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا یہ خطاب واضح طور پر اس بات کا غماز ہے کہ امریکہ 1979 کے انقلاب کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی اور براہ راست محاذ آرائی کے لیے زمین ہموار کر رہا ہے، لیکن اس پوری تصویر میں جو چیز سب سے زیادہ کھٹکتی ہے، وہ ابہام اور حقائق کو مسخ کرنے کی وہ حکمت عملی ہے جو عموماً جنگوں سے قبل اختیار کی جاتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے پانیوں اور اڈوں پر امریکی عسکری طاقت کا غیر معمولی اجتماع ایک واضح پیغام ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر امریکی قیادت اپنے ہی عوام کو اس ممکنہ تباہ کن جنگ کے اصل محرکات اور منطق سمجھانے سے قاصر نظر آتی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں جب بھی قیادت ملک کو کسی بڑی جنگ کی طرف دھکیلتی ہے، تو پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، انہیں بتایا جاتا ہے کہ آخر وہ کون سا فوری اور ناگزیر خطرہ ہے جس کا ازالہ صرف فوجی طاقت کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ مگر یہاں معاملہ یکسر مختلف ہے۔ خطاب میں جذباتیت کا تڑکا تو موجود تھا، لیکن ٹھوس شواہد اور ٹھنڈے دل سے کیے گئے تجزیے کا فقدان نمایاں رہا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فیصلہ پہلے ہو چکا ہے اور اب محض اس جنگ کو جائز قرار دینے کے لیے جواز گھڑے جا رہے ہیں۔ یہ بالکل وہی طرزِ عمل ہے جس نے ماضی میں خطے کو ان گنت بحرانوں میں دھکیلا اور جس کا خمیازہ آج بھی عام انسان بھگت رہے ہیں۔

لفظوں کی جادوگری اور اعداد و شمار کا کھیل ہمیشہ سے جنگی جنون اور پروپیگنڈے کا سب سے کارگر ہتھیار رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی حکومت پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور پراکسی وارز کے الزامات کوئی نئی بات نہیں، یہ دہائیوں پرانا امریکی بیانیہ ہے، لیکن اس بار شدت میں اضافہ تشویشناک ہے۔ سب سے زیادہ حیران کن دعویٰ حکومت مخالف مظاہروں میں 32 ہزار افراد کی ہلاکت کا ہے۔ یہ ایک ایسا فلک شگاف عدد ہے جو خود ایران کے اندر موجود سخت ترین ناقدین اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے اندازوں سے بھی کوسوں دور ہے۔ جب ریاست کے اعلیٰ ترین منصب سے اس قدر مبالغہ آمیز اور غیر مصدقہ اعداد و شمار پیش کیے جائیں، تو اس کا مقصد ہمدردی سمیٹنا نہیں بلکہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس کا واضح ہدف امریکی عوام اور عالمی برادری کے ذہنوں میں ایک ایسی خوفناک تصویر کشی کرنا ہے جس کے بعد کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کو اخلاقی جواز فراہم کیا جا سکے۔

مزید برآں، جوہری پروگرام کی بحالی اور ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں (آئی سی بی ایمز) کی تیاری کا ذکر جو ‘جلد’ امریکی سرزمین کو نشانہ بنا سکیں، خوف کی نفسیات کو ابھارنے کی ایک کلاسک مثال ہے۔ جغرافیائی و عسکری حقائق پر نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس درجے تک پہنچنے اور اسے حتمی شکل دینے میں کتنا وقت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔ خطرے کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی سازوں کو امریکی عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک انتہائی سنگین اور فوری نوعیت کے ‘ہوّے’ کی ضرورت ہے۔ یہ وہی خوف کی سیاست ہے جس نے ماضی کی کئی غیر ضروری جنگوں کی بنیاد رکھی۔

دوسری جانب تہران کا ردعمل روایتی مگر انتہائی نپا تلا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران واشنگٹن کی اس نفسیاتی جنگ کو کس زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ الزامات کو ‘بڑی جھوٹی باتوں کا اعادہ’ قرار دے کر ایران نے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی بیانیے کے دباؤ میں آ کر کوئی عجلت زدہ قدم نہیں اٹھائے گا۔ تہران کی قیادت جانتی ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف اندرونی بے چینی اور بیرونی دباؤ کا ایک کاک ٹیل تیار کر رہی ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام اور اس کا میزائل دفاعی نظام یقیناً مغربی طاقتوں کے لیے درد سر ہیں، لیکن انہیں بنیاد بنا کر ایک ایسی جنگ چھیڑنا جس کے نتائج کا تخمینہ لگانا بھی محال ہو، کسی صورت دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔

اس تمام تر صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ مشرق وسطیٰ مزید کسی فوجی مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر امریکی انتظامیہ محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، ملکی سیاست کی توجہ ہٹانے یا اسرائیل جیسی اتحادی قوتوں کو مطمئن کرنے کے لیے اس نہج تک جا رہی ہے، تو یہ ایک تاریخی فاش غلطی ہوگی۔ جنگیں شروع کرنا شاید کسی طاقتور کے لیے آسان ہو، لیکن ان کا اختتام کبھی بھی منصوبہ بندی کے مطابق نہیں ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور دیگر بااثر ممالک، اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو محض تماشائی بن کر نہ دیکھیں، کیونکہ اگر خلیج میں ایک بار پھر آگ بھڑکی، تو اس کی تپش صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے شعلے پوری دنیا کے معاشی اور سیاسی ڈھانچے کو جھلسا کر رکھ دیں گے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
118274