The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 4 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

داد بیداد ۔ جلے ہوئے زخم کا علاج ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ جلے ہوئے زخم کا علاج ۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اُس روز ہسپتال میں ایمرجنسی تھی بیک وقت چار جگہوں سے جلے ہوئے زخمیوں کو لا یاگیا تھا ہسپتال کے سربراہ نے مریضوں کا داخلہ بند کر دیا تھا لیکن 10گھنٹے یا 12گھنٹے پہلے جلے ہوئے زخموں کے ساتھ چیختے چلا تے مریضوں کو ہسپتال کے دروازے سے واپس کرنا ممکن نہیں تھا اگر چہ دو مریضوں کے داخلے کی گنجا ئش رہ گئی تھی مگر ہسپتال کے دروازے پر 24مریضوں کے ایمبو لینس آئے ہوئے تھے مریض کراہ رہے تھے اور تیماردار مدد کے لئے پکار رہے تھے اس ہسپتال کا یہ پہلا دن نہیں تھا یہاں پر ہر روز ایک انار سو بیمار والی صورت حال نظر آتی ہے یہ خیبر پختونخوا کا واحد ہسپتال ہے جہاں جلے ہوئے زخمیوں کا علا ج ہوتا ہے اس ہسپتال کا نا م برن اینڈ پلا سٹک سر جری سنٹر ہے یہاں جلے ہوئے زخمیوں کا علا ج بھی ہوتا ہے دور دراز اضلا ع اور پڑوسی ملکوں سے آنے والے ڈاکٹر وں اور نر سوں کو جلے ہوئے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کی تر بیت بھی فراہم کی جا تی ہے جلے ہوئے زخموں کے علا ج کی بات جہاں کی جا تی ہے وہاں تین بڑے مسائل سامنے آتے ہیں پہلا مسئلہ یہ ہے کہ جلے ہوئے مریض کو ایک گھنٹے کے اندر سپیشلائزڈ ہسپتال میں پہنچانا چاہئیے یہ تب ممکن ہو گا

جب مضا فا تی علا قوں میں برن سینٹر مو جو د ہوں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال کا ہر ڈاکٹر اور ہر نرس یا ٹیکنیشن جلے ہوئے مریض کا علا ج نہیں کر سکتا یہ الگ سپیشیلیٹی ہے اور بیحد اہم سپیشیلیٹی ہے اس کی با قاعدہ تر بیت ہو تی ہے اور تر بیت کے ساتھ سرٹیفیکیٹ بھی دیا جا تا ہے تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ معا شرے میں سما جی کارکنوں، سیا سی کار کنوں اور ہسپتالوں کے عملہ کو جلے ہوئے مریض کے بارے میں مکمل آگاہی دینی چاہئیے خدا نا خواستہ ایسا واقعہ ہو جا ئے تو سما جی اور سیا سی کار کنوں کو کیا کرنا چاہئیے ہسپتال کے عملے کو فوری طور پر کس قسم کی ابتدائی طبی امداد کے لے ہر وقت تیار اور مستعد رہنا چاہئیے تر قی یا فتہ ملکوں میں لو گوں کے اندر اس قدر آگا ہی پھیلی ہوئی ہے کہ وہ ریشم، پلا سٹک اور جلد آگ پکڑنے والے کپڑے نہیں بنا تے اگر ایک آدھ کپڑا مو جود بھی ہو تو گھر کے اندر ایسے کپڑوں کو نہیں پہنا جا تا یہ ایسی احتیا طی تدبیر ہے جو آگ لگنے کی صورت میں نقصان کے امکانات کو کم سے کم کرنے میں مدد دیتی ہے متاثرہ مریض کے جسم کا 5فیصد یا 10فیصدجلا ہوا ہو تو اس کے بچنے کی اُمید کی جا سکتی ہے

اگر جسم کا 30فیصد یا 40فیصد یا اس سے زیا دہ حصہ جلا ہوا ہو تو مریض کے بچنے کے مکانات بہت کم ہو تے ہیں خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی بار 2009میں جرمن حکومت، جرمن فاونڈیشن اور Wishنا می تنظیم کے ذریعے صو بے کے 4ہسپتا لوں میں جلے ہوئے زخمیوں کے لئے سپیشلائزڈ سہو لیات کے ساتھ برن، ٹرا ما اینڈ پلا سٹک سر جری کے لئے خصو صی مرا کز قائم کئے گئے اس طرح کے 3مرا کز پڑوسی ملک افغا نستان میں بھی قائم ہوئے تھے ان میں سے ہمارے ہاں پشاور کے مر کز صحت میں سہو لیات کے ساتھ افرادی قوت کی تر بیت کے لئے تما م سہو لیات فراہم کی گئیں ڈیرہ اسماعیل کے مر کز کو ایک مخیر شخصیت نے ڈھا ئی کروڑ روپے کی مشینری اور دیگر سامان خرید کر دی چترال اور ہزارہ میں قائم مرا کز صحت 2013میں تعمیراتی کام کی تکمیل کے بعد بند پڑے ہیں تکمیل کی سند متعلقہ شعبے میں جمع کی گئی تھی صوبائی حکومت میں اختیارات محکمے کے افیسر وں سے لیکر ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان کو دیدیے گئے فنڈ بھی غیر متعلقہ لو گوں کو دیدیے گئے

اس لئے محکمہ بے دست وپا ہے جن کے پا س فنڈ اور اختیارہے ان کی مثال رہٹ کے بیل کی طرح رہٹ کا بیل ہانکنے کا انتظار کرتا ہانکانہ گیا تو رہٹ نہیں چلے گا بیل اپنی جگہ کھڑا رہے گا ہمارے لئے یہ بھی شرم کا مقام ہے کہ افغانستان میں برن اینڈ پلا سٹک سر جری کے مرا کز ٹھیک ٹھاک کام کر رہے ہیں خیبر پختونخوا حکومت نے ضلع چترال سمیت ان اہم مرا کز صحت کو سہو لتیں نہیں دیں نگران حکومت کو وقت ضا ئع کئے بغیر برن اینڈ پلا سٹک سر جری کے مرا کز کو تمام مطلوبہ سہو لتیں فراہم کرنی چاہئیں نیز ایک اہم کام یہ ہے صوبے میں برن، ٹراما اینڈ پلا سٹک سر جری کے لئے خود مختار اتھارٹی قائم کر کے جلے ہوئے مریضوں کے علا ج اور ان کی بحا لی کا سارا کام مجوزہ اتھارٹی کے سپر د کی جا ئے یہ سپشیلائز ڈ طریقہ علاج ہے اس کا تمام کام خو د مختار اتھارٹی کے پاس ہونگے تو اس نا گہا نی آفت کے نقصانات کو کم سے کم کرنے میں مدد ملیگی ورنہ مو جود ہ ڈائریکٹر ڈاکڑ تحمید اللہ صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد پشار کا مر کز بھی بند ہو جا ئے گا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
83846