The Voice of Chitral since 2004
Monday, 2 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ڈگری کالج چلاس میں تقریب جشن آزادی گلگت بلتستان کا انعقاد، طلبہ کی شاندار کارکردگی

ڈگری کالج چلاس میں تقریب جشن آزادی گلگت بلتستان کا انعقاد، طلبہ کی شاندار کارکردگی

“آزادی کو ثمربار بنانے کے لیے تعلیم کو اولین ترجیح بنائیں” ڈاکٹر طاہرممتاز

“پاکستان اور گلگت بلتستان کا رشتہ سر اور دھڑ کا ہے” پروفیسر عبداللہ خان

“گلگت بلتستان نے اپنی آزادی خود حاصل کر کے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کیا” پروفیسر ارشاد احمد شاہ

چلاس ( امیرجان حقانی ) گورنمنٹ ڈگری کالج چلاس میں گلگت بلتستان کے یومِ آزادی کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ نے ملی نغمے، تقاریر، اور ڈرامے پیش کیے۔ اس تقریب نے قومی یکجہتی اور جذبے کو مزید تقویت بخشی۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت کالج کے طالب علم ثابت قدمی نے حاصل کی، جبکہ نعتِ رسول (ﷺ) کی خوش نصیبی محموداللہ کے حصے میں آئی۔ شرکاء تقریب سے ابتدائی کلمات کالج کے لیکچرار امیر جان حقانی نے ادا کیے، جس میں انہوں نے طلبہ کو آزادی کے اس دن پر محبت اور امن کا پیغام دینے کی تلقین کی۔

کالج کے طلبہ لیاقت حسین، معین الدین، محمد معاویہ اور سیف اللہ نے گلگت بلتستان کی آزادی کی اہمیت پر تقاریر کیں، جنہیں حاضرین نے بھرپور سراہا۔ مزید برآں، محمد قاسم، نظام الدین اور محمد دین نے ملی نغمے پیش کیے، جنہوں نے سامعین کے دل موہ لیے۔ ایک شاندار ڈرامہ بھی پیش کیا گیا جس کی قیادت طالب علم عامر نے کی، ڈرامہ میں دیامر کی روایتی صورتحال حال کی عکاسی کی گئی۔

پروگرام کے میر محفل پرنسپل پروفیسر عبداللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “گلگت بلتستان کے مجاہدین آزادی ہمارے حقیقی ہیرو ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، اور پاکستان اور گلگت بلتستان کا تعلق سر اور دھڑ کے رشتے کی مانند ہے۔ ہم پاکستان کے بغیر نامکمل ہیں اور پاکستان ہمارے بغیر۔‘‘

تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر طاہر ممتاز، ڈائریکٹر کے آئی یو دیامر کیمپس، نے اپنے خطاب میں طلبہ کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ’’ہمیں اپنی آزادی کو مؤثر بنانے کے لیے تعلیم کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔ کلاس رومز میں سوال کرنے کی آزادی ہونا ضروری ہے تاکہ ہم اپنی سوچ کو آزادانہ طور پر پروان چڑھا سکیں۔‘‘

پروگرام کے آخر میں وائس پرنسپل پروفیسر ارشاد احمد شاہ نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’گلگت بلتستان نے اپنی آزادی خود حاصل کی اور پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کیا، یہ ہماری تکمیل پاکستان کا حقیقی پیغام ہے۔‘‘

یہ تقریب جوش و خروش اور قومی جذبے سے بھرپور رہی، جس میں طلبہ اور اساتذہ نے گلگت بلتستان کے یومِ آزادی کے موقع پر اپنی محبت اور عزم کا بھرپور اظہار کیا۔ ڈگری کالج چلاس کے لیکچرار سلامت گل نے نظامت کے فرائض انجام دیے

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
95187

جشن آزادی گلگت بلتستان کے حوالے پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت میں پروگرام کا انعقاد

جشن آزادی گلگت بلتستان کے حوالے پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت میں پروگرام کا انعقاد

گلگت (امیرجان حقانی) پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت میں جشن آزادی گلگت بلتستان کے متعلق پروگرام کا انقعادکیا گیا ۔ تقریب میں جشن آزادى گلگت بلتستان کے ہیروز کے قربانیوں کو سلام عقیدت پیش کیا گیا. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد عالم نے کہا جشن آزادی گلگت بلتستان کے ذریعے شہیدوں اور غازیوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے. آزادی حاصل کرنا بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس آزادی کو برقرار رکھنا اس بھی بڑی بات ہے اور خاص طور آج ہم سب اپنے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔جن کی بدولت آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں. تانگیر کالج کے پرنسپل پروفیسر انور ناصر نے کہا آزادی کی قدر و قیمت ان لوگوں سے پوچھا جائے جو غلام ہیں.معروف شاعر پروفیسر اشتیاق احمد یاد نے کہا تقاریر اور ملی نغموں کے مقابلوں حصہ لینے والے طلبہ مبارکباد کے مستحق ہیں. تقریب میں کالج کے اساتذہ اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی. معروف ادبی شخصیت حلیم فیاضی اور اشتیاق احمد یاد نے جشن آزادی کے حوالے سے اپنا کلام سنایا اور سامعین کو خوب محظوظ کیا. ان کے علاوہ دیگر طلبہ نے بھی ملی نغمے پیش کیے.

پوسٹ گریجویٹ کالج کی تقریب جشن آزادی میں کالج کےطلبا کے مابین تقریری اور ملی نغموں کے مقابلے بھی ہوئے. تقریری مقابلے میں اول پوزیشن طالب علم فرقان احمد، دوسری پوزیشن طالب علم مبارک حسین اور تیسری پوزیشن طالب علم حسن میر نے حاصل کی ۔ملی نغموں میں اول پوزیشن طالب علم اکرام، دوسری پوزیشن طالب علم عصمت اللہ اور تیسری پوزیشن طالب علم سرتاج امان نے حاصل کی اور انعامات اور شیلڈز کے مستحق ٹھہرے. پروفیسر عرفان صدیقی، پروفیسر اشتیاق احمد یاد اور معروف ادبی شخصیت حلیم فیاضی نے منصفین کے فرائض بھی انجام دیے.تقریب کے آخر میں تقریری اور ملی نغمے کے مقابلوں میں حصہ لینے والے تمام طلبا میں انعامات تقسیم کیے گئے۔طالب علم خبیب نے تلاوت کلام کیا.پروفیسر احمد سلیم سلیمی، طالب علم میثم رضا اور کلیم سعادت نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیے.

chitraltimes jashan e aza gilgit baltistan post graduate college program GB chitraltimes post graduate college Gilgit jashan e azadi program

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
67614