جامعہ چترال کے پراجیکٹ ڈائریکٹرکے کنٹریکٹ کا مقررہ مدت ختم ، مذید توسیع نہیں دی گئی، نوٹفیکشن جاری، وی سی کا یہ اقدام غیر قانونی ہے، ہائی کورٹ میں چیلچ کردیا ہے، جلد انصاف ملے گا، انجینئرضیاء اللہ
جامعہ چترال کے پراجیکٹ ڈائریکٹرکے کنٹریکٹ کا مقررہ مدت ختم ، مذید توسیع نہیں دی گئی، نوٹفیکشن جاری، وی سی کا یہ اقدام غیر قانونی ہے، ہائی کورٹ میں چیلچ کردیا ہے، جلد انصاف ملے گا، انجینئرضیاء اللہ
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) جامعہ چترال کے ایڈیشنل رجسٹرار کی طرف سے جاری ایک آفس آرڈر میں کہا گیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد ضیاء اللہ کو پی ایس ڈی پی پراجیکٹ ” اسٹبلشمنٹ آف چترال یونیورسٹی فیز ون” میں کنٹریکٹ 31 مارچ 2025ء کو مکمل ہونے کے بعد مجاز اتھارٹی ، وائس چانسلر کی جانب سے ان کی مدت میں مزید توسیع نہیں دی گئی ۔
آفس آرڈر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کنٹریکٹ میں توسیع نہ دینے کی وجہ پراجیکٹ کے سول ورک میں سست روی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے سروس کو 10 اپریل 2025ء کے دوپہر سے ٹرمینیٹ کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں موقف جاننے کے لئے جب پراجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر محمد ضیاء اللہ سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے چترال ٹائمز کو بتایا کہ جب میں نے ۲۰۲۲میں یونیورسٹی کو جوائن کیا تو یونیورسٹی کے پاس ایک انچ زمین بھی نہیں تھی، جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ یونیورسٹی پہلے زمین لیتی پھر پراجیکٹ ڈائریکٹر ہائر کرتی ، مگر سابق ڈائریکٹر نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے ایچ ای سی سے پی سی ون منظور کروایا تھا جبکہ یونیورسٹی کےپاس زمین نہیں تھی ، مگر میں نے انتہائی تگ ودو کے بعد ایک سال کے اندر ۱۷۸ کینال زمین لے لیا اور یونیورسٹی کی ماسٹر پلان اور ڈیزائن کو فائنل کرنےکے ساتھ ٹینڈر تک کے مراحل طے کیا، اور یونیورسٹی کے ایک ڈارمنٹ پراجیکٹ کو زندہ کیا اور خلوص نیت سے کام کرتے ہوئے منصوبے پر عملی کا م کا آغا ز کیاجو سب کے سامنے ہے جس پر میرا ضمیر مطمعین ہے۔
انھوں نے مذید بتایا کہ میرے کنٹریکٹ میں توسیع نہ دینے کی وجہ میں میری کارکردگی کی کوئی بات نہیں ، اصل وجہ یہ ہے کہ چترال یونیورسٹی سے جب مستقل وی سی چلا گیا تو ایکٹنگ چارچ پر شرینگل کے وی سی کو اضافی زمہ داریاں سونپ دی گئی، جوکبھی مہینے یا دومہینے بعد چند دنوں کے لئے چترال یونیورسٹی تشریف لاتے ہیں اور سہ پہر چار بجے کے بعد دفتر آتے ہیں ، جس کی وجہ سے دفتری امور ٹھپ ہوکررہ گئے ہیں ،اور انکی یہ معمول یونیورسٹی کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ میں بھی سب کو معلوم ہے، میں بار بار انھیں درخواست کرتا تھا کہ آپ دفتر ٹائم پر آیا کریں تاکہ پراجیکٹ کے کام میں بار بار خلل نہ پڑے، کیونکہ بعض امور وی سی کی موجودگی کے بیغیر ممکن نہیں ہوتے ہیں،
انجینئر ضیاٗ اللہ نے مذید بتایا کہ ایک دفعہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ آن لائن میٹنگ میں مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ کا فزیکل کام زیادہ ہے مگر فنائنشل معاملات سست روی کا شکار کیوں ہیں ؟ جس پر میں نے بتایا کہ وی سی سیٹ پر موجود نہ ہونے کے باعث مالی امور کے تمام معاملات تاخیر کا شکار ہوتےہیں۔اور ساتھ ہم بروقت کسی بھی کام پر فیصلہ نہیں لے سکتےہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس میٹنگ کے بعد ایکٹنگ وی سی کا رویہ اور برتاو میرے ساتھ اچھا نہیں رہا ، اور وہ میرے ساتھ ذاتی عناد پر اتر آیا، اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ میرے کنٹریکٹ میں توسیع نہیں دی گئی۔ ضیااللہ نے بتایا کہ قانونی تقاضے مکمل کیئے بیغیر مجھے نکالا گیا ہے ، لہذا وائس چانسلر کے اس غیر قانونی اقدام کو میں نے ہائی کورٹ میں چیلنچ کردیا ہے۔ اور ساتھ ہائیر ایجوکیشن میں بھی اُٹھایا ہے جس پر انکوائری جاری ہے۔
انجینئر ضیا اللہ نے مذید بتایا کہ ہم نے بہت مشکل سے سردخانے میں پڑی اس پراجیکٹ کو پٹری پر چڑھا دیا تھا جس کو ایک غیر مقامی وی سی اپنی عناد کی بھینٹ چڑھانا چاہتا ہے جوکہ تعلیم کے ساتھ کھلواڑ سے کم نہیں جسے چترال کے عوام ہر گز برداشت نہیں کرینگے، انھوں نے مذید بتایا کہ مجھ سے پہلے یونیورسٹی کیلئے زمین اور بلڈنگ کی تعمیر کے حوالے سے پیش رفت اور میرے آنے کے بعد کی پراگراس بھی سب کے سامنے عیاں ہے،
انھوں نے بتایا کہ تعمیری کام میں اگر غیرمعمولی تاخیر ہوئی ہے تو اسکی وجہ زمین مالکان کی طرف سے رکاوٹ اور چترال کی موسمی حالات بھی رکاوٹ بنے رہے،
ضیا اللہ نے بتایا کہ پراجیکٹ کے لئے تقریبا آٹھ اسامیاں بھی خالی ہیں جس کے لئے میں نے کئی بار وی سی کو یاددہائی کرائی ، گزار ش کی کہ ان اسامیوں کو جلد پُر کیاجائے تاکہ پراجیکٹ کے کام میں مذید تیزی کے ساتھ چترال کے نوجوانوں کو بھی روزگار کے مواقع ملیں سکیں۔ مگر وہ ان اسامیوں پر بھرتی کرنے سے بھی صاف انکاری ہے، اس سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ پراجیکٹ کی پراگرس میں میری سست روی ہے یا وی سی رکاوٹ بننے ہوئے ہیں۔
انجینئر ضیااللہ نے چانسلر وزیراعلیٰ ، چترال کے عوام اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے بھی اپیل کی ہے کہ مذکورہ وی سی کو ہٹاکر کسی متحرک اور مخلص وائس چانسلر کو یہ خدمات سونپی جائے جو کم از کم آفس ٹائم پر آسکے، تاکہ چترال جیسے پسماندہ علاقے کےبچوں کی اعلیٰ تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے اورساتھ انکی قیمتی وقت بھی ضائع ہونے سے بچ سکے۔