جاسوس یا معشوق، کیا ہوگا اب سیما کا؟ – سہیل انجم
جاسوس یا معشوق، کیا ہوگا اب سیما کا؟ – سہیل انجم
آٹھ جولائی کی صبح سے میڈیا پر ایک جنون سا طاری ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک یا سوشل ہر جگہ تمام خبریں ایک ہی شخصیت کے اردگرد گھوم رہی ہیں اور اس شخصیت کا نام ہے سیما غلام حیدر۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس ملک میں اب اور کوئی مسئلہ رہا ہی نہیں۔ ہر میڈیا ادارے کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح وہ سیما اور سچن کا انٹرویو کر لے۔ کئی دنوں تک تو گریٹر نوئڈا کے سچن کے گھر صحافیوں کا ایسا میلہ لگا رہا جیسے کوئی انتہائی غیر معمولی واقعہ رونما ہو گیا ہو۔ صحافیوں کو سیما کے انٹرویو کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ بی بی سی کے نمائندے کا نمبر چار گھنٹے کے بعد آیا۔ میڈیا پر کئی دنوں تک جشن کا ماحول چھایا رہا۔ بالکل یوں لگا کہ ہندوستان نے پاکستان کو شرمناک شکست سے دوچار کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اسی خیال میں مگن رہے ہیں اور اب بھی۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے ہماری بھابی آئی ہیں۔ ان کے مگن ہونے کی وجہ بھی ہے۔ آخر ایک پاکستانی مسلم خاتون ایک ہندوستانی ہندو نوجوان کے عشق میں گرفتار ہو کر اپنا ملک اور اپنے دیس کی مٹی چھوڑ کر دشمن ملک میں آگئی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس نے یہاں تک پہنچنے کے لیے سات سمندر پار تک کا سفر کیا۔ اس نے سچن کی محبت پانے کے لیے اپنا گھر بار فروخت کر دیا اور پھر چار چار بچوں کے ساتھ اتنا لمبا اور تھکا دینے والا سفر کیا جس کے بارے میں ایک عام خاتون سوچ بھی نہیں سکتی۔ خاتون تو خاتون کوئی مرد بھی اتنی ہمت نہیں کر سکتا۔ لیکن اب رفتہ فتہ جنون کی شدت کم ہو رہی ہے اور اب وہ سوالات اٹھنے لگے ہیں جو ضروری ہیں اور جن کو شروع ہی میں اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ فی الحال ہم اس سوال کو نہیں اٹھا رہے ہیں کہ اگر سیما کی جگہ کوئی رادھا ہوتی اور سچن کی جگہ کوئی ساجد ہوتا تو کیا ہوتا اور کیا اس وقت بھی جشن کا یہی ماحول ہوتا۔ لیکن یہ سوال تو اٹھایا ہی جا نا چاہیے کہ اگر کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر ہندوستان کی سرحد عبور کرکے آجائے تو قانون اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اور اگر وہ شخص پاکستانی ہو تو پھر حکومت اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے گی۔
سیما وسط مئی میں ہندوستان آئی اور سچن کے ساتھ ایک کرائے کے مکان میں رہنے لگی۔ دونوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے کٹھمنڈو کے پشوپتی مندر میں ہندو مذہب کے مطابق شادی کی ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس کا کوئی دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔ انھوں نے یہاں ایک بار پھر شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی وجہ سیما بچوں کی تعلیم کے لیے دستاویزات کی ضرورت بتاتی ہے۔ لیکن جب وہ ایک وکیل کے پا س پہنچے تو بھانڈا پھوٹ گیا اور اس طرح دونوں چار جولائی کو گرفتار کر لیے گئے۔ پولیس نے سچن کے والد کو بھی گرفتار کیا۔ سیما کو غیر قانونی طور پر ہندوستان آنے کی وجہ سے اور سچن و اس کے والد کو اس جرم میں اعانت کی وجہ سے پکڑا گیا۔ پولیس نے دونوں کو ایک مقامی عدالت میں پیش کیا جس نے انھیں چودہ دنوں کی عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔ لیکن عدالت نے چھ جولائی کو انھیں ضمانت دے دی۔ سات کو ضروری کاغذات تیار ہوئے اور آٹھ کی صبح کو وہ لوگ جیل سے باہر آگئے۔ باقی کہانی سے قارئین واقف ہیں کہ کس طرح اس نے غلام حیدر سے شادی کی، کیسے وہ سعودی عرب گیا، کیسے سیما اور سچن کی پب جی گیم کے دوران ملاقات ہوئی اور کیسے دونوں پیار کے بندھن میں بندھے اور کیسے سیما ہندوستان آئی۔
ہندوستانی میڈیا میں اس معاملے کو ایک لو اسٹوری اور ایک انسانی معاملہ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ لیکن قانونی ماہرین کے نزدیک یہ معاملہ لو اسٹوری اور انسانی سے کہیں زیادہ ملکی سلامتی اور ہندوستان میں بغیر جائز ویزا کے غیر قانونی طور پر داخل ہونے کا ہے۔ قانون کے مطابق ایسے شخص کو دو سال سے لے کر آٹھ سال تک کی جیل اور 10 ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل عبد الرحمن ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ سیما حیدر کو فارنرز ایکٹ 1946 کے تحت غیر قانونی تارک وطن سمجھا جانا چاہیے۔ اگر کوئی شخص جائز ویزا اور پاسپورٹ کے بغیر ملک میں داخل ہو جائے تو اسے فوراً گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور سیکورٹی ایجنسیاں اس معاملے کی ہر پہلو سے تفتیش کرتی ہیں۔ اور اگر کوئی پاکستانی شہری ہندوستان میں داخل ہوا ہے تو وہ معاملہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ حکومت نے 2015 میں فارنرز ایکٹ میں ترمیم کرکے ایک آرڈر جاری کیا تھا جو اب قانون بن گیا ہے، اس کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کی اقلیت سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص اگر مذہب کی بنیاد پر جبر کی وجہ سے بھارت آئے تو اسے یہاں کی شہریت دی جا سکتی ہے۔ اس زمرے میں مسلمان شامل نہیں ہیں۔ غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کا معاملہ قومی سلامتی کا ہے اور ایسے معاملات میں جلد ضمانت نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اس معاملے میں عدالت نے چند روز کے اندر کیوں ضمانت دے دی اس پر اس وقت تک کچھ نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ عدالت کا آرڈر نہ دیکھ لیا جائے۔
قانون دانوں کے مطابق یہ معاملہ ہندوستان کی سلامتی اور آئینی انتظامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ معاملہ شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) کی بھی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ ابھی سی اے اے کے ضوابط طے نہیں پائے ہیں اور اس کے تحت کسی کو شہریت نہیں دی گئی ہے تاہم چونکہ وہ بغیر ویزا کے ہندوستان میں داخل ہوئی ہے اور مسلمان ہے لہٰذا سی اے اے کے تحت بھی اس کو شہریت نہیں مل سکتی۔
سابق آئی پی ایس اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس ایم ڈبلیو انصاری کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں ہندوستان کے قوانین بہت سخت ہیں اور ابھی تک ایسے معاملات میں ان کے مطابق ہی کارروائی کی جاتی رہی ہے۔ اگر کوئی شخص غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہوتا ہے تو قانونی کارروائی کرنے کے بعد فارنرز ایکٹ کی دفعہ تین کے تحت اس کو اس کے ملک واپس بھیج دیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں آئین کی دفعہ 258 اور پاسپورٹ ایکٹ میں بھی صراحت موجود ہے۔ سیما حیدر کے معاملے میں انتظامیہ کی جانب سے جو نرمی دکھائی جا رہی ہے وہ ناقابل فہم تو ہے ہی یہ بات ملکی سلامتی کے لیے نقصاندہ بھی ہو سکتی ہے۔ وہ بھی قانونی ماہرین کی طرح اس معاملے کو پاکستان کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات جس نوعیت کے ہیں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اس معاملے میں بہت ہی محتاط ہو کر جانچ کی جانی چاہیے۔
ماہرین کا کہنا تھا کہ سیما حیدر کو قانون کے مطابق ڈٹینشن سینٹر میں رکھا جانا چاہیے۔ لیکن وہ سچن کے گھر میں اس کی بیوی کی حیثیت سے رہ رہی ہے اور میڈیا کو دھڑلے سے انٹرویو بھی دے رہی ہے۔ عبد الرحمن ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ میں کئی برس تک ایسے معاملات میں وکیل کی حیثیت سے کام کر چکا ہوں لیکن میں نے ایسا کیس کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے متعدد پاکستانیوں کو جو کہ یہاں کی جیلوں میں بند رہے ہیں قانونی کارروائی کے بعد پاکستان بھجوایا ہے۔ بہت سے پاکستانی اجمیر کا ویزا نہ ہونے کے باوجود اجمیر کی درگاہ کی زیارت کے لیے چلے جاتے ہیں اور گرفتار کیے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ برسوں تک جیل میں رہتے ہیں۔ انھوں نے سیما کے معاملے کو پراسرار قرار دیا۔
ایم ڈبلیو انصاری اس معاملے میں میڈیا کے رویے پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے چاہیے کہ جشن منانے کے بجائے محتاط رخ اپنائے۔ کیوں کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک غلطی کو چھپانے کے لیے کئی غلطیاں کرنی پڑتی ہیں۔ اس معاملے کی مکمل تفتیش ہونی چاہیے۔ وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ اگر سیما غیر مسلم ہوتی اور سچن کی جگہ کوئی مسلمان ہوتا تو کیا اس وقت بھی میڈیا کا یہی رویہ ہوتا۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ سیما حیدر نے نہ صرف ہندوستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ اس نے ہند نیپال معاہدہ برائے امن و دوستی 1951 کا ناجائز فائدہ بھی اٹھایا ہے۔ نیپال کی ویزا پالیسی کے مطابق اگر کسی ملک کا کوئی شہری جائز پاسپورٹ کے ساتھ آتا ہے تو اسے نیپال میں 150 روز کا سیاحتی ویزا دیا جا سکتا ہے۔ بہت سے پاکستانی اور چینی شہری اس قانون کی آڑمیں ہندوستان آجاتے ہیں۔ سیما نے بھی وہی کیا۔ یاد رہے کہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان کھلی سرحد ہے۔
اب اس معاملے میں بہت ساری تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ سیما کے شوہر غلام حیدر نے مکہ سے ایک ویڈیو جاری کرکے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ اس کی اہلیہ کو پاکستان واپس بھیج دیا جائے۔ اس نے سیما کو طلاق دینے کی تردید کی ہے۔ جب کہ سیما کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے زبانی طلاق دے دی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پاکستان نہیں جائے گی۔ اگر وہ گئی تو اسے رجم کر دیا جائے گا۔ اب جو نئے نئے حقائق سامنے آرہے ہیں ان کے مطابق سیما کے پاس سے پانچ چھ پاسپورٹ اور اتنے ہی موبائل فون ملے ہیں۔ ایک سادی کیسیٹ ملی ہے۔ کئی کئی شناختی اور آدھار کارڈ ملے ہیں۔ ایک موبائل کے سم کارڈ سے جس میں اس کی اور سچن کی چیٹنگ کی تفصیل تھی سب کچھ ڈلیٹ کر دیا گیا ہے۔ ا س کا دعویٰ ہے کہ وہ درجہ پانچ تک پڑھی ہوئی ہے لیکن وہ انگریزی اچھی بولتی ہے اور کمپیوٹر کی بھی ماہر ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خوب سمجھتی ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ معاملہ بہت حساس اور سنگین ہو جاتا ہے اور بہت سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ اس کی بے خوفی اور بلا جھجک گفتگو کے انداز اور دیگر مہارتوں کے پیش نظر ایسا لگتا ہے کہ اسے ان سب چیزوں کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ اب ایسی بھی خبریں آرہی ہیں کہ پولیس اس سے روزانہ پوچھ تاچھ کر رہی اور برآمد شدہ اشیا کی روشنی میں حقائق کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے ۔بہرحال معاملہ بہت سنگین ہے اور یہ کس رخ پر جا کر ختم ہوگا کہا نہیں جا سکتا۔ فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ سیما جاسوس ہے یا معشوق اور اب اس کا کیا ہوگا؟