The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 23 April 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

وزیر اعلیٰ کا تیراہ کے متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد از جلد ادائیگی یقینی بنانےاور ویری فیکیشن کا عمل ہر صورت ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت 

Posted on

وزیر اعلیٰ کا تیراہ کے متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد از جلد ادائیگی یقینی بنانےاور ویری فیکیشن کا عمل ہر صورت ایک ہفتے کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تیراہ، کرم اور باجوڑ کے متاثرین کو معاوضوں اور امدادی رقوم کی ادائیگی سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی اقدامات، فنڈز کے استعمال اور ادائیگی کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تیراہ کے متاثرین کو امدادی رقوم کی جلد از جلد ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ویری فیکیشن کا عمل ہر صورت ایک ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کو دی جانے والی ادائیگیوں کا مکمل اور شفاف ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کیا جائے تاکہ ہر ایک پائی کا باقاعدہ حساب موجود ہو۔ وزیر اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ متاثرین کی معاونت کے لیے جاری فنڈز کے استعمال میں کسی قسم کی غفلت، کوتاہی یا بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔

محمد سہیل آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت متاثرین کی بحالی اور معاونت کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وفاق کے ذمے متاثرین کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے باضابطہ خطوط تحریر کیے جائیں تاکہ واجب الادا رقوم کی فوری فراہمی ممکن ہو سکے۔ وزیر اعلیٰ نے قدرتی آفات اور سیکیورٹی آپریشنز سے متاثرہ افراد کی مستقل بنیادوں پر بحالی اور معاونت کے لیے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ متاثرین کی معاونت کے لیے مختص چار ارب روپے میں سے اب تک 90 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ وادی تیراہ کے 17 ہزار متاثرہ گھرانوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر تیراہ کے ایک ہزار گھرانوں کو امدادی رقوم کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ قائم کیا جا رہا ہے تاکہ ادائیگیوں کی نگرانی موثر انداز میں کی جا سکے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ بکاخیل کیمپ میں مقیم متاثرین کو ماہانہ بنیادوں پر امدادی رقوم فراہم کی جا رہی ہیں۔اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین عاقب اللہ اور مزمل اسلم، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی اور وزیر اعلیٰ کو جاری اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

۔

۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا اسلام آباد میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات

اسلام آباد ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے اسلام آباد میں عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے ملاقات کی جس میں صحت، تعلیم و ہنر، معدنیات، توانائی اور کلائمیٹ رزیلینس کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں صوبے کی ترقیاتی ترجیحات، جاری اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے اشتراکی منصوبوں پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عالمی بینک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، صوبے کی سماجی و معاشی ترقی میں عالمی بینک کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور ان شعبوں میں خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ عام آدمی کو معیاری سہولیات اس کی دہلیز پر میسر آ سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت پرائمری ہیلتھ کیئر کے نظام کو مضبوط بنا رہی ہے اور صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے سروس ڈیلیوری کو موثر بنایا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے عالمی بینک کے صدر کو آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں جلد ہی ”احساس ماں“ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے تحت حمل کے مرحلے سے لے کر بچے کی پیدائش تک ماں اور بچے کی مکمل دیکھ بھال حکومت کی ذمہ داری ہوگی، جبکہ بچی کی پیدائش کی صورت میں تین ماہ کی اضافی معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے کی سو فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ کوریج فراہم کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی شہری کو علاج معالجے سے محروم نہ رہنا پڑے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قدرتی آفات کے باعث خیبر پختونخوا کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کے پیش نظر کلائمیٹ رزیلینس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے عمران خان کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معدنیات کے شعبے میں مقامی آبادی کے مفادات کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے اور اس شعبے کو پائیدار ترقی کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ صوبے کو غذائی لحاظ سے خود کفیل بنانے کے لیے جامع حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ جنوبی اضلاع میں بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے متعدد منصوبوں پر عملی کام جاری ہے۔ملاقات میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
117759