The Voice of Chitral since 2004
Friday, 5 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اپرچترال ؛ تھانہ مستوج کھنڈرات میں تبدیل ہوکر دو دھائی سے زیادہ کا عرصہ گزرگیا، کوئی پرسان حال نہیں، سائلین کے ساتھ عملہ بھی مصائب کا شکار، آئی جی پی سے دادرسی کی اپیل

اپرچترال ؛ تھانہ مستوج کھنڈرات میں تبدیل ہوکر دو دھائی سے زیادہ کا عرصہ گزرگیا، کوئی پرسان حال نہیں، سائلین کے ساتھ عملہ بھی مصائب کا شکار، آئی جی پی سے دادرسی کی اپیل

مستوج(نمائندہ چترال ٹائمز) اپرچترال کی تاریخی مقام مستوج خاص میں قائم پولیس اسٹیشن کھنڈرات میں تبدیل ہوکر 20 برس سے زیادہ  کاعرصہ گزر گیا، مگر ابھی تک کسی نے توجہ نہ دی، جس کے باعث تھانہ گزشتہ ایک دھائی سے زیادہ عرصہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مستوج کے رہائشی گاہ میں قائم تھی جس کے بعد اب تھانے کو کرایہ کے مکان میں منتقل کردیا گیاہے۔

مستوج خاص کی رہائشی معروف سیاسی وسماجی شخصیت محمد یوسف خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے چترال ٹائمز کو بتایا کہ تھانہ مستوج کا شمار اُس وقت کے ڈسٹرکٹ مستوج کے پہلے جبکہ ضلع چترال کے چترال ٹاون اور دروش کے بعد تیسرے نمبر پرتھانہ مستوج کا شمارہوتاتھا. تھانہ مستوج 1958میں‌تعمیر ہوئی تھی . جوتقریبا پچاس سال تک قائم رہی. اوریہ تھانہ اپرچترال ضلع بننے تک مستوج سے لیکربروغل اور شندورتک تقریبا ایک لاکھ آبادی کی واحد پولیس اسٹیشن تھی.

یوسف خان نے مذید بتایا کہ مستوج انگریزوں‌کے دور سے انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ رہاہے، دو دروں‌ اوردریائے یارخون و لاسپور کے سنگم میں‌واقع ہونے کی بنا پر تھانہ کی اہمیت مذید بڑھ جاتی ہے،چونکہ علاقہ انتہائی پرامن لوگوں‌کا مسکن ہے مگرموجودہ دور میں پولیس کی غیر موجودگی میں علاقے کی امن برقرار رکھنا بھی ممکن نہیں رہا ہے .انھوں نے مذید کہاکہ تھانے کو مرکزی مقام سے ہٹاکر ایک سائیڈ پرلیجانے سے سائلین کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگیاہے۔

یادرہے کہ پولیس اسٹیشن مستوج سن 2005 سے پہلے زمین بوس ہوگیا تھا. جس کی دوبارہ تعمیر کیلئے علاقےکے عوام مختلف حکومتوں‌اور پولیس کے اعلیٰ‌حکام کی توجہ اسکی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرتی رہی ہے مگر تاحال شنوائی نہیں‌ہوئی . دوسری طرف سے یہ تھانہ زمین بوس ہونے پر پورا عملہ کھلے اسمان تلے رہنے پر مجبورہوگیا تھا. جس کی بنا پر پہلے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر مستوج کی بلڈنگ انھیں‌عارضی رہائش کیلئے دی گئی تھی مگر ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کی مستوج آمد کے بعد تھانہ مستوج کرایہ کی مکان میں منتقل کردیا گیا ہے۔

علاقے کے عوام نے صوبائی حکومت اور آئی جی پی خیبرپختونخوا سے مستوج تھانہ کی ازسرنوتعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستوج تھانہ کے ساتھ تقریبا دس کنال سے زیادہ زمین بھی موجود ہے . لہذا بلا تعطل اسکی دوبارہ تعمیر کو یقینی بنایا جائے،

اس سلسلے میں اپرچترال کی معروف شخصیت اور ماہر تعلیم شیر ولی خان اسیر نے کہا ہے کہ ریاست کے زمانے سے مستوج تھانہ جس عمارت میں قائم تھا وہ مستوج کی وسطی جگہ تھی۔ اس زمانے کی تعمیر کے لحاظ سے کافی شاندار عمارت تھی۔ سامنے باغ بھی تھا اور پارکنگ بھی۔ پھر کیا ہوا کہ یہ عمارت کھنڈرات میں بدل گئی۔ تھانہ قریب واقع تحصیل انتظامیہ کی رہائشی عمارت میں منتقل ہو گیا۔ یہ غالباً 2003 کا واقعہ ہے۔ میں جب اس مقام کا رخ کیا جہاں ایک دھائی پہلے عارضی عمارت میں تھانہ چل رہا تھا تو اسے خالی پایا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ کوئی ایک کلومیٹر دور پرانی یارخون سڑک کے کنارے توق گاؤں میں کسی کرایے کے مکان میں منتقل ہوا ہے کیونکہ تحصیل انتظامیہ کو اپنی عمارت کی ضرورت پڑی تھی اس لیے پولیس سے واپس لی گئی۔گاؤں کے اندر راہگیروں سے پوچھ پوچھ کر تھانہ پہنچ ہی گیا۔

انھوں نے مذید بتایا کہ ایک پرانی کچی بوسیدہ عمارت جو کبھی پرائیویٹ پرائمری اسکول کی عمارت ہوا کرتی تھی اس وقت تھانہ تھی۔ تھانہ دار کو برآمدے میں دفتر لگائے پایا۔ اس کا مطلب واضح تھا کہ عمارت ناکافی ہے۔ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی تو مجھے خانہ بدوش قبیلوں کی رہائش گاہ ہی لگی۔ مجھے بےحد افسوس ہوا کہ بیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ایک مرکزی تھانے کی عمارت نہیں بن سکی۔ شیر ولی خان نے بتایا کہ مشاہدے سے معلوم ہوا کہ مذکورہ عمارت دفاتر کے لیے مناسب ہے اور نہ جوانوں کی رہائش کے لیے کافی ہے۔ ایسے حالات میں پولیس سے بہتر کارکردگی کی امید رکھنا کم عقلی بھی ہے اور انتہائی ناانصافی بھی۔

انھوں نے وزیر اعلے خیبر پختون خواہ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا سے گزارش کی ہے کہ مستوج تھانے کی تعمیر کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈ مختص کیا جائے۔ یہ سب سے پرانا اور تاریخی پولیس اسٹیشن ہے۔ اسے ایک بوسیدہ عمارت میں کس مہ پرسی کی حالات میں چلانا نہ صرف محکمہ پولیس کے لیے باعث شرمندگی ہے بلکہ علاقے کے لیے بھی باعث ندامت ہے۔

پولیس اسٹیشن مستوج police station mastuj collapsed building 5 1

chitraltimes mastuj police station 3 scaled

chitraltimes mastuj police station 4 scaled

chitraltimes mastuj police station 5 scaled

chitraltimes mastuj police station 6 scaled

chitraltimes mastuj police station 1

chitraltimes mastuj police station 2 scaled

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
102100

تھانہ مستوج کھنڈرات میں تبدیل؛ سٹاف اے۔سی۔کے بنگلے پرکئی برسوں سے قابض، عوام رُل گئے

تھانہ مستوج کھنڈرات میں تبدیل؛

مستوج ( نمائندہ چترال ٹائمز ) زیرنظر تصاویر مونجھوداڑو یا ٹیکسلہ کے کھنڈرات کی نہیں بلکہ مستوج خاص کے پولیس اسٹیشن کے ہیں جوکھنڈرات میں تبدیل ہوکر دو دہائی کا عرصہ تقریبا گزر چکا ہے مگرمجال ہے کہ کوئی آفیسر یا عوامی نمائندہ اسکی طرف توجہ دے۔ جبکہ اس سلسلے میں بار بار اخباری رپورٹ اور کئی مراسلے آئی جی پی اور آر پی او ملاکنڈ تک پہنچ چکے ہیں مگر شنوائی نہیں ہورہی۔


یہ پولیس اسٹیشن 1960 کی دہائی میں تعمیر ہوئی تھی جو رقبہ کے لحاظ سے چترال ٹاون اور دروش کے بعد تیسرا بڑا تھانہ ہے ۔ تھانہ تقریبا آٹھ کنال زمین پر محیط ہے ۔ اب یہ کھنڈرات کتوں اور دوسرے جانوروں کا اماجگاہ بن گیا ہے ۔ جسکاکوئی پرسان حال نہیں۔


ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ پولیس اسٹیشن 2005 کے زلزلہ میں منہد م ہونے کے بعد پولیس کے جوان کئی عرصے تک کھلے اسمان تلے یا ٹینٹوں میں رہائش پذیر تھے۔ بعد میں جب اسسٹنٹ کمشنر مستوج کے رہائش گاہ اور دفترات تعمیر ہوئے تو وہ ان میں رہائش اختیار کی اور اب تک ان پر قابض ہیں ۔ جس کیوجہ سےتقریبا گزشتہ بیس برسوں سے ایڈیشنل/ اسسٹنٹ کمشنر مستوج نہ آسکا ہے اور اور عوام کو معمولی نوعیت کے کاموں کیلئے بھی بونی جانا پڑرہاہے۔

علاقے کے عوام نے پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے اس کا نوٹس لینے ، پولیس تھانہ کی تعمیر یا ان کو کسی کرایہ کے مکان میں شفٹ کرنے کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر مستوج کے دفترات کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اپر چترال ضلع بننے کے ثمرات بروغل اور لاسپور کے دوردراز علاقوں کے عوام تک بھی پہنچ سکیں۔ جبکہ موجودہ ضلع صرف بونی کے عوام تک محدود ہوکررہ گیا ہے۔

https://chitraltimes.com/2019/01/20/18034/
chitraltimes ps mastuj
chitraltimes police station mastuj1
chitraltimes police station mastuj collapsed building 1 12
chitraltimes police station mastuj collapsed building 1 1
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
51227