تورکہو میں کم عمر طالب علم کی لو میرج، پندرہ سالہ میٹرک اسٹوڈنٹ نے والدین کو شادی پر آمادہ کر لیا، سوشل میڈیا پر بحث جاری
تورکہو میں کم عمر طالب علم کی لو میرج، پندرہ سالہ میٹرک اسٹوڈنٹ نے والدین کو شادی پر آمادہ کر لیا، سوشل میڈیا پر بحث جاری
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) تحصیل تورکہو میں کم عمری کی شادی کا ایک غیر معمولی اور حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پندرہ سالہ میٹرک کے طالب علم نے اپنی پسند کی لڑکی سے شادی کے لیے والدین کو راضی کر لیا۔ لڑکی کی عمر سترہ سال بتائی گئی ہے، اور دونوں کی شادی گھر والوں کی رضامندی سے انجام پا گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق مجتبہ احمد ولد امام یوسف ساکن رائین تورکہو کئی دنوں تک اپنے والدین کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ اس کی شادی اجنو تورکہو کی ایک لڑکی سے ہی کرائی جائے۔ بالآخر خاندان نے بیٹے کی مسلسل خواہش کے آگے ہتھیار ڈال دیے اور شادی سادگی سے انجام دے دی گئی۔
واقعے کے منظرعام پر آتے ہی علاقے میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ کچھ حلقے اسے “بچوں کا جلد بالغ ہونا” اور “محبت کی جیت” قرار دے رہے ہیں، جبکہ متعدد سماجی کارکنوں اور اساتذہ نے کم عمری کی شادی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹرک کے طالب علم کی اس عمر میں شادی اس کے تعلیمی سفر، نفسیاتی نشوونما اور ذمہ داریوں کے بوجھ پر اثر ڈال سکتی ہے۔
قانونی ماہرین بھی اس واقعے کو کم عمری کی شادی کے قوانین کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ ایسے معاملات میں نہ صرف والدین بلکہ کمیونٹی کو بھی ذمہ دارانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
علاقے میں اس واقعے پر کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا ہے البتہ سوشل میڈیا میں اس کو مختلف رنگ دیکر بحث جاری ہے ، علاقے کے معتبر شخصیت سے جب اس شادی کے بارے میں پوچھا گیا توانھوں نے چترال ٹائمزکو بتایا کہ یہ شادی کوئی انوکھا واقعہ نہیں ، دونوں کی عمریں شریعت اور قانون کے مطابق ہیں ، دونوں عقل بالغ ہیں، علاقے کے علما نے بھی اس کو سنت اور شریعت کے مطابق قرار دیا ہے ۔

