تورکھو اور تریچ یوسی کے عوام کا 2 نومبر کو بونی بزند روڈ کے معاہدے پر عمل نہ کرنے کے خلاف احتجاجی جلسے کا اعلان
تورکھو اور تریچ یوسی کے عوام کا 2 نومبر کو بونی بزند روڈ کے معاہدے پر عمل نہ کرنے کے خلاف احتجاجی جلسے کا اعلان
اپرچترال ( چترال ٹائمزرپورٹ ) تورکھو اور تریچ یوسی کے عوام نے 2 نومبر کو بونی بزند روڈ کے معاہدے پر عمل نہ کرنے کے خلاف احتجاجی جلسے کا اعلان کیا ہے۔ ورکوپ میں ہونے والی میٹنگ میں تین درجن سے زائد دیہات کے عمائدین، سیاسی نمائندگان، سوشل ورکرز، اور بلدیاتی نمائندگان نے شرکت کی، جس کی صدارت سابق یو سی ناظم قیوم بیگ نے کی۔
اجلاس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 15 سال سے زیرِ تعمیر بونی بزند روڈ پر کام کی رفتار نہایت سست رہی ہے۔ معاہدے کے تحت 30 اکتوبر تک 7 کلومیٹر تک اسفالٹ اور 6 کلومیٹر کمپیکشن کا کام مکمل ہونا تھا، مگر اب تک صرف 4.5 کلومیٹر ہی تیار ہو سکا ہے۔ علاقے کے عوام کو اس تاخیر اور ٹھیکیدار کو غیر قانونی ایڈوانس ادائیگیوں پر شدید تحفظات ہیں۔
عوام کی طرف سے افسوس کا اظہار کیا گیا کہ صوبائی ڈپٹی اسپیکر، ثریا بی بی، نے اس منصوبے میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ ہی کوٸی ایک بیان جاری کیا ۔ تاہم، خیبر پختونخوا کے وزیر CNW محترم جناب محمد سہیل آفریدی صاحب نے تورکہو تریچ روڈ فورم کے ممبر وقاص احمد ایڈووکیٹ سے رابطہ کر کے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ کام ہر صورت مکمل کیا جائے گا، جس پر علاقے کے عوام ان کا کیا اور امید ظاہر کی کہ وزیر صاحب انشاء اللہ وعدھ پورا کرکے دیکھاے گا
ٹی ٹی آر ایف (تورکھو تریچ روڈ فورم) کے پلیٹ فارم سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر فوری طور پر تعمیراتی کام میں بہتری نہیں آئی تو احتجاج کا دائرہ بڑھایا جائے گا، جس میں چترال بونی روڈ کی بندش، اور لانگ مارچ دیگر اپشن شامل ہوں گے۔