The Voice of Chitral since 2004
Monday, 25 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

دھڑکنوں کی زبان – ’’ تنگ آمد بہ جنگ آمد‘‘ – محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان – ’’ تنگ آمد بہ جنگ آمد‘‘ – محمد جاوید حیات

جنگ کسی قوم کو زندہ رکھنے کا آخری آپشن ہے ۔۔ورنہ تو اس کا وجود ہی ختم ہونے والا ہوتا ہے ۔۔دنیا نے قوموں کے عروج و زوال کا منظر کئی بار دیکھی ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ ان کی احیاء اسی طرح کی جد وجہد سے ہے ۔۔جنگ تباہی ہے۔۔۔ بربادی ہے ۔۔جنگ میں جیت کہیں نہیں ہوتی یہ ٹھیک ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قوموں کو یہی جنگ زندہ رکھتی ہے ۔۔آج کل جب اسلام میں جہاد کی لاجک پہ بات کی جاتی ہے تو کچھ دانشور سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ان کے پاس دلیل ہوتی ہے کہ تمہارے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے ۔معیشت مضبوط نہیں ہے ۔ہتھیار جدید نہیں ہیں اور آگے امریکہ جنگ مسلط کرے تو ٹھیک ہے اس کے پاس طاقت ہے۔روس اسرائیل جنگ مسلط کریں تو ٹھیک ہے ان کے پاس طاقت ہے ۔۔

فلسطینی مزاحمت کیوں کر رہے ہیں افعانوں نے 29سال جنگ کیوں لڑی ۔پاکستان میں دینی جماعتیں جہاد جہاد کیوں بولتے ہیں اس پر یہ دانشور معترض ہیں ۔۔یہ ان کی عجیب منطق ہے ۔۔۔

قران عظیم الشان نے دشمن کے مقابلے میں اپنے آپ کو ہر لحاظ سے تیار اور طاقت ور بنانے کی ہدایت کی تاکہ دشمن لرزان و ترسان ہو تم پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے ۔آج کی دنیا کو مہذب دنیا کا نام دیا جاتا ہے مزاحمت اگر کمزور کرے تو اس کو دہشت گرد کا نام دیا جاتا ہے طاقت ور کرے تو امن کے لیے کوشش کہا جاتا ہے ۔۔پاکستان دنیا کے منظر نامے میں واحد اسلام ملک ہے جو موجود طاغوتی طاقتوں سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔۔اس لیے یہ کفار کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے ۔۔اس کو معاشی لحاظ سے ناکارہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں ۔علاقائی منافرت پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے ۔فوج اور عوام میں فاصلے بڑھانے کی کوشش ہوتی ہے ۔خود ہم سدھرنے کی کوشش کرتے نہیں ہیں ۔ہمارے دشمن نے کئی بار ہمیں آزمانے کی کوشش کی اس مشکل میں فوج اور قوم کا کردار بھی دیکھا گیا ۔اس بار بھی ایسا ہی منظر تھا ۔پھر بھی ہمیں فوج کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کی بجاۓ کچھ ایسے تبصرے دیکھنے کو ملے کہ حیران رہے ۔

ہماری فوج لڑتی ہے۔۔ قربانی دیتی ہے۔۔۔ دیتی رہی ہے ۔۔بہادری کے لازوال داستان ان سے وابستہ ہیں ۔ہم ان کے دست و بازو بننے کی بجاۓ ان پر تبصرہ کرتے ہیں ۔ہم نے اپنے سامنے فلسطین ،عراق ،افعانستان ،یوکرین کا منظر نامہ دیکھا ہے ۔اگر محافظ نہ ہو تو گھر کا وجود کس طرح برقرار رہ سکتا ہے ۔دوسری چیز قران کا وہ حکم ہے تم سے جتنا ہو سکے اپنے آپ کو مضبوط کر لو ۔۔آج کل کی جنگ ۔زمینی جنگ نہیں رہی ۔۔فضاٶں ،ہواوں ،معاشی میدانوں ،ٹیکنالوجی کے میدانوں میں جدید ہتھیاروں کے ساتھ لڑی جاتی ہے لیکن پھر بھی ان سب ہتھیاروں کے پیچھے جو طاقت ہے وہ ایمان کی طاقت ہے ۔

مسلمان کے لیے جنگ دونوں لحاظ سے خوش بختی ہے اللہ پر ایمان رکھنے والوں کا ایمان آخرت پر بھی ہے اور ان انعامات پر بھی ہے جن کا رب نے شہید کے لیے وعدہ کیا ہے ۔پاکستان اللہ کے نام پہ حاصل کیا گیا ہے اس کی حفاظت اللہ کرے گا ۔دشمن کے مکروہ عزائم اپنی جگہ لیکن ان کے مقابلے میں اس ملک کے شیردل محافظ ان کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کافی ہیں۔اور ٹیکنالوجی پر بھروسہ کرنے والوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ پائلٹ عائشہ اپنے جہاز سے جب میزائیل کا بٹن دبا رہی تھیں تو ان کی انگلی میں اللہ کی طاقت آگئی تھی ۔۔
ہاتھ اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار افرین کار کشا کارساز ۔۔۔

یہ وہ طاقت ہے جو ہر ظلم اور ناحق کے خلاف جوہر دیکھاتی ہے ۔۔کفار کے مقابلے میں صرف دعائیں اور توکل ہی نہیں ہر قسم کی برتری کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔اگر صحاباۓ کبار رض آج کے زمانے میں ہوتے تو لازما وہ فائٹر پائلٹ ہوتے ۔۔ٹینک چلاتے۔۔ جدید ہتھیاروں کے ماہر ہوتے۔۔ یہی مسلمان کی شان ہے ۔الحمد لللہ جنگ بندی ہوگئی ہے۔۔الحمد لللہ ہمارے جوانوں نے بہادری کی تاریخ رقم کی ہے ۔۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قوم بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی ۔۔۔ مگر جنگ بندی جنہوں نے کرائی ہے کیا ان پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔یہ وہی امریکہ ہے کہ جو 1965ء کی جنگ میں اس نے بحری بیڑھا پیچنے کا اعلان کی مگر ان کا بحری بیڑھا بحر بند تک نہیں پہنچ سکا ۔۔

1971 ء ہم ان کی مدد کے منتظر رہے ۔کیا وہ ہم سے مخلص ہے ۔۔سارے عالم کفر کی آنکھیں ہم پہ لگی ہوئی ہیں ۔۔انہوں نے اس جنگ میں ہمارے معیارکو پرکھا ۔۔ہماری حیثیت پہچان گئے ۔۔مذید ہم ان کے لیے خطرہ بن گئے ۔۔کیا وہ ہم سے شیرو شکر ہو جائیں گے ۔۔یہ ناممکن ہے ۔۔اس لیے ہمیں مذید اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا ۔۔ہر میدان میں آگے جانا ہوگا ۔ہر لحاظ سے برتری حاصل کرنی ہوگی ۔اللہ نے ہمیں سرخرو کیا ہمارے جوانوں کو سرخرو کیا ۔اب اس کی لاج رکھنی ہے ۔ہمارا یہ جنگی نعرہ اور بیانیہ صرف نعرہ ہی نہیں بلکہ نصب العین یے ۔۔۔ہم بنیان المرصوص ہیں ۔۔۔یہ ہماری شان اور پہچان ہے ۔۔انشاءاللہ یہ کیفیت برقرار رہے گی.

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
102290

تنگ آمد بہ جنگ آمد – محمد شریف شکیب

تنگ آمد بہ جنگ آمد – محمد شریف شکیب

چترال کی تمام سیاسی جماعتوں کی ضلعی قیادت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو طویل اور ناروا لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر لوڈ شیڈنگ میں کمی نہیں کی گئی تو تمام پارٹیوں کے قائدین اور کارکن منتخب رکن صوبائی اسمبلی کی قیادت میں گولین گول اور ریشن بجلی گھر کے ڈیم سے پانی کی ترسیل روک دیں گے۔ ضلع اپر اور لوئر چترال سے تعلق رکھنے والے سیاسیرہنماؤں نے قومی کاز کے لئے ایکا کرلیا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پیڈو، شائیڈو اور واپڈا کے درمیان رقم کے لین دین کا تنازعہ ہے اور اس کی سزاطویل لوڈ شیڈنگ کی صورت میں عوام کو دی جارہی ہے۔

دونوں اضلاع میں چوبیس گھنٹوں کے اندر صرف چار گھنٹے کے لئے بجلی آتی ہے روزانہ بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے زندگی کے معمولات درہم برہم ہوکر رہ گئے ہیں۔ عمائدین کا موقف ہے کہ گولین گول پاور ہاوس سے 108میگاواٹ اور ریشن پاور ہاؤس سے 2.5میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے۔ چترال کے دونوں اضلاع کی مجموعی طلب تیس میگاواٹ سے بھی کم ہے۔ ان بجلی گھروں کی تعمیر کے وقت عوامی نمائندوں اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے عوام کو یقین دہانی کرائی تھی کہ چترال کی ضرورت پوری ہونے کے بعد بچ جانے والی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی۔ لیکن دونوں پاور ہاؤسز سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے کے بعد حکام اپنے وعدے بھول گئے۔اور چترال کے عوام کو طویل لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں جھونک دیا۔مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ کے مطابق چترال میں چترال کے مختلف مقامات پر پانچ سے دس ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ گولین گول اور ریشن پاور ہاؤس سے بجلی کی ترسیل جاری ہے۔ جبکہ دروش کے قریب لاوی کے مقام پر بجلی گھر کی تعمیر کا کام بھی شروع کیاگیا ہے۔

پریت کے مقام پر بھی بڑے بجلی گھر کے منصوبے کو قابل عمل قرار دیا گیا ہے۔ ایون، کوغذی، برنس، پرپش، شوگرام، بونی، سنوغر، لاسپور، بریپ، یارخون اور تورکہو کے علاوہ گرم چشمہ کے ایک سے زائد مقامات پر بجلی گھر بناکر توانائی کی قومی ضروریات کو پورا کیاجاسکتا ہے۔ آئین اور قانون کے تحت جس علاقے میں بجلی اور گیس پیدا ہوتی ہے یا تیل نکلتا ہے۔سب سے پہلے اس علاقے کے لوگوں کا اس پر حق ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں ہرکام الٹا ہوتا ہے۔ قومی گرڈ کو سب سے زیادہ بجلی خیبر پختونخوا فراہم کرتا ہے اور اسی صوبے میں سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ سوئی گیس بلوچستان کی پیداوار ہے لیکن وہاں کے عوام گیس کی نعمت سے محروم ہیں۔

چترال سمیت خیبر پختونخوا کے اکثر پہاڑی علاقے معدنیات سے بھرے ہوئے ہیں۔حکومتی سطح پر ان قیمتی پتھروں اور دھاتوں کا نکالنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ چترال میں سونے، تانبے، اینٹی منی،جپسم، شیلائیٹ، سنگ مرمر، زمرد اور دیگر قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں مگر انہیں نکالنے کا ٹھیکہ چند لاکھ کی فیس لے کر پرائیویٹ کمپنیوں کا دیا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کو اس میں سے پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملتی۔ ان غیر منصفانہ پالیسیوں کی وجہ سے لوگ متنفر ہورہے ہیں۔ مقامی ضرورت سے کئی گنا زیادہ بجلی پیدا ہونے کے باوجود چترال کے عوام روشنی کو ترس رہے ہیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اپنے مالی مسائل مل بیٹھ کر حل کرنے کے بجائے عوام پر بجلی گرارہے ہیں۔ پیمانہ صبر جب لبریز ہوجائے تو لوگ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو چترال کے پرامن علاقے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہونے سے قبل ذاتی دلچسپی لے کر لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
66598