The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تلخ و شیریں ۔ ٹیچر ڈے اور حمیدہ ایجوکیشن اکیڈمی ۔ نثار احمد

تلخ و شیریں ۔ ٹیچر ڈے اور حمیدہ ایجوکیشن اکیڈمی ۔ نثار احمد

دو دن قبل یومِ استاد سوشل میڈیا بالخصوص فیس بُک پر نہایت ہی جوش و خروش سے منایا گیا۔ جوش و خروش سے اس دن کو منانے والوں میں اساتذہ ہی پیش پیش رہے۔ اپنے جذبات حروف و الفاظ میں ڈھال کر یوم استاد منانے والے یہ اساتذہ اپنے اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے تھے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اساتذہ کی بجائے دیگر شعبہائے زندگی کے لوگ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیتے۔ اور محبت و عقیدت کے دو بول اپنے اساتذہ کی نذر کرتے۔

 فرینڈ لسٹ میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار، ڈاکٹرز، بیوروکریٹس سمیت دیگر طبقہائے زندگی کے افراد موجود ہیں. مجال ہے کہ سوائے چند کہ ان میں سے کسی نے اس مہم میں حصہ لینا گوارا کیا ہو۔  یہ ایک مثال اساتذہ کے تئیں ہمارے معاشرے کی نفسیات و ترجیحات سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ یا تو ہمارا معاشرہ اساتذہ کرام کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے یا پھر ان کو ایک حریف گروہ کے طور پر لے رہا ہے۔ جب تک معاشرے اور استاد میں قابلِ رشک انڈر اسٹنڈنگ اور مثالی تعلق نہ ہو،تب تک تعلیمی لحاظ سے معاشرتی ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 اس صورت حال کے تناظر میں معلمی کے پیشے سے وابستہ افراد کو منقبض ہونے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ آیا کہ ہم خود واقعی مثالی استاد کے درجے پر فائز بھی ہیں؟ اگر جواب نفی میں یا بیچوں بیچ ہے تو پھر ایک استاد کے لیے مطلوب صفات و عادات سے خود کو متصف کرنے میں زرہ برابر کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ 

بچپن سے میری ایک ہی خواہش تھی کہ استاد بن کر بچوں کو پڑھاؤں۔ مدرسے میں گیا تو بھی اس خواہش کو زنگ آلود ہونے نہیں دیا۔ اسے پالا پوسا، جوان کیا پھر ایک دن ایسا آ گیا کہ اس خواہش نے عملی جامہ اوڑھ لیا۔  آج الحمد للّٰہ بطورِ استاد اپنی زمہ داری نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور اس دن کے انتظار میں ہوں کہ حقیقی معنوں میں ایک استاد بن سکوں۔ 

معلمی یقیناً نہایت ہی معزز پیشہ ہے، انتہائی توجہ طلب اور حساسیت کا متقاضی بھی۔ معاشرے کی سرد مہری ایک طرف، لیکن کبھی کبھار کسی شاگرد کی طرف سے ملنے والی محبت سیر، سوا سیر خون ہی نہیں بڑھاتی ، ساتھ ساتھ ایک استاد کو نہایت شادان و فرحان بھی کرتی ہے۔

چند روز قبل ایک دو دوستوں کے ساتھ حمیدہ ایجوکیشن اکیڈیمی دنین گیا تھا وہاں بیسیوں پھول جیسے بچے ظہرانہ تناول کرنے کے بعد کیلوں (Bananas) سے نمٹنے میں مصروف تھے جونہی میں اندر داخل ہوا دو بچے بڑے ہی احترام، خلوص، محبت اور اپنائیت بھری نظروں سے مجھے گھورنے لگے۔ میں ابھی یادداشت ٹٹول کر بچوں کو پہچاننے میں مگن ہی تھا کہ ایک ان میں سے ایک بچے نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملاتے ہوئے ان الفاظ میں تعارف اپنا کرایا کہ

    ” سر میں اویر کے سکول میں  آپ کا شاگرد تھا۔ برم اویر میں میرا گھر ہے”

 اگرچہ ساتویں جماعت کے ان بچوں کی درسگاہ میں میرا باقاعدہ سبق نہیں تھا لیکن مرخص اساتذہ کی جگہ چند بار اس کلاس میں داخل ہونے اور پڑھانے کا شرف ملا تھا۔ یہاں اس بچے کے محبت بھرے دو جملوں نے مجھے کتنا خوش کیا، ناقابلِ بیان ہے۔

chitraltimes hamida education academy danin chitral2

 حمیدہ ایجوکیشن سینٹر (دنین, چترال) مولانا عماد کا قائم کردہ ادارہ ہے اس  میں ایسے بچے مقیم ہیں جو والد جیسے شجر ِ سایہ دار کی گھنیری چھاؤں سے محروم ہیں۔ ان بچوں کی سکونت واقامت تو یہاں ہوتی ہے لیکن پڑھائی چترال ٹاؤن کے مختلف بہترین سکولوں میں ہوتی ہے۔ نوٹس بورڈ پر لگے لینگ لینڈ سکول کی طرف سے ارسال کردہ مراسلے سے معلوم ہو رہا تھا کہ دو تین بچے لینگ لینڈ جیسے معیاری سکول میں زیر ِ تعلیم ہیں۔  اسی طرح سینٹینل ماڈل سکول سمیت دیگر اچھے سکولوں سے بھی یہاں کے سکونت پذیر بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ادارے کا نظم قابلِ اطمینان ہے۔ مانیٹرنگ کے لیے کیمرے نصب ہیں۔ بچوں کے سونے کے لیے تین منزلہ چارپائیاں موجود ہیں۔ جامعہ اشرفیہ کا فاضل مولانا نور شاہد یہاں وارڈن ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی جس چیز پر پہلی نظر پڑتی ہے وہ نوٹس بورڈ ہے۔ نوٹس بورڈ پر تمام بچوں کا مکمل ریکارڈ آویزاں ہے۔

 ایسی جگہوں پر جا کر بہت فرحت محسوس ہوتی ہے جہاں ضرورت مند بچوں کے قیام و طعام اور تعلیم و تربیت کا انتظام ہو۔ ایسے اداروں میں پلنے، بڑھنے اور پڑھنے والے بچے معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے معاشرے کے نہایت  مفید شہری بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ انسانیت کی خدمت میں زریعہ بن رہے ہیں۔ فی الوقت زمینی منزل تیار ہو چکی ہے مزید تعمیراتی کام مخیّرین کی توجہ کا منتظر ہے۔ امید یہی ہے کہ ادارہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

chitraltimes hamida education academy danin chitral
chitraltimes hamida education academy danin chitral 2
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53324

تلخ و شیریں – منافرت کون پھیلا رہا ہے؟ – نثار احمد

گزشتہ کئی سالوں سے نجی محافل اور عوامی جلسوں میں کبھی بلند آہنگ تو کبھی دھیمے سر میں یہ بات بتکرار بولی اور بااصرار کہی جاتی رہی کہ چترال کی تمام محرومیوں اور شدید پسماندگی کا حل “اپر” کے سابقے کے ساتھ ایک عدد نیا ضلع بنانے میں ہے۔ دو ضلعے بنانے کے حق میں آوازیں اٹھتی رہیں، دبتی رہیں بلند ہوتی رہیں، بیٹھتی رہیں۔ اٹھان اور دباؤ کی یہ آنکھ مچولی جاری تھی کہ ایک دن صبح آنکھ کھلی تو پتہ چلا کہ کھونگیر بوہتو سے لے کر بروغل تک، میڑپ سے لے کر شندور تک ایک نیا نویلا ضلع جنم پاچکا ہے۔ ضلع ابھی تازہ بہ تازہ بنا تھا اس لیے مسائل بھی اسے انبار کی شکل میں ملے۔ حکومت نے عوامی خواہشات کا لحاظ و احترام کر کے اگرچہ ضلع بنا کر دیا لیکن اس ضلعے کو چلانے کے لیے درکار وسائل کی فی الفور فراہمی ممکن نہ ہو سکی تھی۔ (حکومت کے پاس آلہ دین کا چراغ بھی نہیں ہوتا جسے رگڑنے سے تمام مسائل آن ِ واحد میں حل ہوں)۔


نومولود ضلع کے تئیں جو سمجھا جارہا تھا کہ معرضِ وجود میں آتے ہی اپر چترال کی تمام محرومیوں کا ازالہ ہو گا، وسیع تعداد میں ملازمتوں کے مواقع ہوں گے، نت نئے پراجیکٹس کی وجہ سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا بوجوہ ایسا نہ ہو سکا۔ اس گو مگو کے ماحول میں ایک بڑا مسئلہ اثاثہ جات کی تقسیم اور نئے ضلعے کو اثاثہ جات سے آراستہ کرنے کا تھا۔ گریڈ سولہ سے نیچے سرکاری ملازمین کو دو ضلعوں میں تقسیم کرنا بھی اثاثہ جات کی تقسیم کا ایک ضمنی پہلو تھا۔ عام طور پر گریڈ سولہ تک کے ملازمین ڈومیسائل کی بنیاد پر متعلقہ ضلعے سے بھرتی کیے جاتے ہیں ۔ جہاں بھی ایک ضلع دو ضلعوں میں تقسیم ہوتا ہے وہاں انتظامیہ کی کوشش ہوتی ہے کہ بائفرکیشن میں متعلقہ ضلعے کا ڈومیسائل ہولڈر اپنے ہوم ضلعے میں خدمات سر انجام دیتا رہے۔ چترال میں بھی بعض محکموں میں ایسا ہی ہوا۔

دونوں اضلاع کے ملازمین کو ڈومیسائل کی بنیاد پر ان کے ہوم ضلعے میں ایڈجسٹ کیا گیا لیکن محکمہء تعلیم اور دیگر چند محکموں میں ایسا نہیں کیا جا سکا۔ اس کی ایک وجہ یہ بنی کہ بڑی تعداد میں اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈرز لوئر چترال میں زمینیں ہی نہیں خرید چکے، بلکہ گھر بھی بسا چکے ہیں۔ ایک طریقے سے اب وہ لوئر چترال کے ہی باشندے بن چکے ہیں۔ ایسے میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ گھر بار چھوڑ کر اپر چترال ٹرانسفر ہونے پر تیار ہوں گے قابلِ عمل نہیں ہے۔ دوسرا سبب شاید دونوں اضلاع کے اساتذہ کا عدم توازن ہے۔ اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈرز کی جتنی تعداد ہے شاید اتنی تعداد کو کھپانے کے لیے فی الحال اپر چترال میں اسامیاں نہیں ہیں۔ اس طرح بڑی تعداد میں ایسے اساتذہ کرام بھی اپنے آبائی ضلع اپر چترال کی طرف کوچ کرنا نہیں چاہتے جن کی یہاں جائدادیں ہیں اور نہ ہی گھر وغیرہ۔ ان کا مطمع نظر شاید آبائی ضلع میں پُرمشقت نوکری سے بچنا ہے۔ ان تمام باتوں کے جمع ہونے کی وجہ سے صورت حال کافی پیچیدہ شکل اختیار کر گئی۔ انتظامیہ نے محکمہء تعلیم میں بائفرکیشن کے عنوان سے دو دفعہ تبادلہ بھی کیا۔

اس کے نتیجے میں اپر چترال میں تعینات لوئر چترال کے ڈومیسائل ہولڈر بڑی تعداد میں اپنے آبائی ضلع میں ایڈجسٹ ہو گئے۔لیکن لوئر چترال سے اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈر انتہائی قلیل تعداد میں ٹرانسفر ہو گئے۔ یہی نہیں، مزید اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اپر چترال سے لوئر ٹرانسفر ہونے کے لیے پر تولے تیار بیٹھی ہے۔ اب اگر اپر سے لوئر کی طرف ٹراسفرز کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہے اور یہاں خالی ہونے والی اسامیوں پر اپر چترال سے لوئر ٹرانسفر ہونے والے ہی ایڈجسٹ ہوتے رہیں تو اس کے نتیجے میں لوئر چترال میں نہ صرف ملازمین کی محکمہ جاتی ترقیاں شدید متاثر ہوں گی بلکہ مستقبل میں نئی اسامیاں بھی معدوم ہو جائیں گی۔ جس طرح اپر چترال کے اُن ڈومیسائل ہولڈرز کو زبردستی بھیجنا غلط ہے یا غلط لگ رہا ہے جو لوئر چترال میں گھر بنا چکے ہیں ٹھیک اسی طرح یہاں کے لوگوں کو بھی ترقی اور ملازمتوں سے محروم کرنا شدید ناانصافی بھی ہے اور حق تلفی بھی۔ ایسے میں معقول حل نیا فارمولہ وضع کر کے ہی نکالا جا سکتا تھا۔ مثلاً ایک سن متعین کر کے یہ اصول بنایا جا سکتا تھا کہ اس سَن کے بعد لوئر چترال میں بھرتی ہونے والے بہرصورت قربانی دے دیں اور اپنے آبائی علاقے میں شفٹ ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس سن سے پہلے بھرتی ہونے والے یہیں ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں۔ بہرحال اول تا آخر یہ تکنیکی اور انتظامی مسئلہ تھا جسے لوئر چترال کے ملازمین کے معقول تحفظات اور اپر والوں کی مجبوریاں مدنظر رکھ قانونی، انتظامی اور تکنیکی بنیادوں پر حل کیا جا سکتا تھا لیکن جزباتیت کا عنصر اس میں درلاکر اسے مسئلہ منافرت بنایا گیا۔


اپر چترال کے ڈومیسائل ہولڈر ملازمین کی طرف سےکبھی شاعری تو کبھی نثر میں فرمایا جا رہا ہے کہ چترال میں تین اقوام آباد ہیں بائفرکیشن کا مطالبہ کرنے والے کس قوم سے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا مطالبہ نفرت کی فصیل کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ گجر، کھو اور کیلاش کا سرے سے ہے ہی نہیں، یہ دو ضلعوں ڈسٹرکٹ اپر چترال اور ڈسٹرکٹ لوئر چترال کے چند ملازمین کا مسئلہ ہے۔ ویسے بھی چترال میں صرف یہ تین قومیں نہیں، اور بھی اقوام ہیں۔ اس نعرے کو اٹھا کر انہیں بھی مشتعل کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ان مذکورہ تینوں اقوام کی نسلیں بھی دونوں اضلاع میں آباد ہیں۔ صرف اپر چترال یا صرف لوئر چترال میں نہیں۔ ایسا زہر آلود نعرہ لگا کر لوگوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرنا ناقابلِ فہم ہی نہیں، قابلِ مذمت بھی ہے۔


حیرت ہو رہی ہے کہ بار بار بیٹھیکں لگا کر ان حضرات نے قومیتوں کا نام لے کر کمال ِ ہوشیاری سے چند ملازمین کے مسئلے کو تمام چترالیوں کا مسئلہ کیوں باور کرایا؟ آئے دن نفرت کی دیوار کیوں بلند کر رہے؟ ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ اتنی بات انہیں بھی سمجھ لینی چاہیے کہ وحشت و نفرت کا بازار جتنا گرم ہو گا اس کا نتیجہ ہم سب کے لیے شدید نقصان کی شکل میں ظاہر ہو گا۔ آبادی کے لحاظ سے چھوٹا سا چترال اس بات کا ہرگز متحمل نہیں ہے کہ یہاں شناختی کارڈز اور قومیتوں کی بنیاد پر نفرتیں پھیلائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی نفرت آمیز شرارتوں سے ہم سب کو محفوظ رکھے۔ اپر چترال کے دانشور طبقے کو بھی اس صورت حال کا نوٹس لینا چاہیے کہ چند ملازمین کا مسئلہ پورے چترال کا مسئلہ کیوں بن رہا ہے؟؟ انتظامیہ کا مسئلہ انتظامیہ پر ہی چھوڑنا چاہیے۔ اس پورے قضیے میں مجھے پروفیسر ممتاز حسین کا مشورہ بہترین ہے کہ اپر چترال اور لوئر چترال کے ڈپٹی کمشنرز کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔
خدا لگتی بات بھی یہی ہے کہ دونوں ڈی سیز اپنے ماتحت ہیڈ آف ڈیپارٹمنس سے بریفنگ اور اور فریقین کے تحفظات و مجبوریاں مدنظر رکھ کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔ کاش کہ ایسا ہی ہو جائے۔ اور ہمیشہ کے لیے یہ مسئلہ حل ہو۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
53222

بورڈز کے حالیہ نتائج، ایک پہلو یہ بھی ہے – تلخ و شیریں، نثار احمد

زیادہ نمبرات دینے پر پشاور بورڈ کو کوستے کوستے اور محنت کر کے زیادہ نمبر لینے والے بچوں کا مذاق اُڑاتے اڑاتے اگر سیر ہو چکے ہیں تو تھوڑی سی زحمت کر کے اب اتنی بات بھی سمجھ لیں کہ اس مرتبہ ہزار سے اوپرنمبر لینا محنتی بچوں کے لیے اتنا مشکل بھی نہیں تھا جتنا سمجھا اور باور کرایا گیا۔ حقیقت ِ حال کا ادراک کیے بغیر نہ صرف پشاور بورڈ پر طعن و تشنیع کے تیر برسائے گئے بلکہ زیادہ نمبر لینے والے بچوں کے حاصل کردہ نمبرات پر الٹے سیدھے جملے کس کر ان کی بھی زبردست حوصلہ شکنی کی گئی۔ ستم یہ ہوا کہ دوسروں لوگوں کی ہمنوائی میں بورڈ میں پیپر چیک کرنے والے اور ان بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کرام بھی اس مکروہ عمل میں پیش پیش رہے۔ حالانکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ اس مرتبہ دسویں اور گیارہویں میں تمام مضامین کی بجائے چند (اختیاری) مضامین کا امتحان ہوا تھا۔ طلبہ و طالبات نے بارہویں میں تین کتابوں کا اور دسویں میں چار کتابوں کا پرچہ دیا تھا۔

مطلب بارہویں کے جس طالب علم نے بھی ان تین پرچوں میں سے فی پارچہ ساٹھ بٹا پچھتر لینے میں کامیاب ہوا فارمولے کے مطابق اس کے ایک ہزار سے اوپر نمبرز کنفرم ہو گئے۔ مثلاً زید نے اگر بارہویں کی بیالوجی میں ساٹھ نمبر لیا ہے تو اُسے گیارہویں کی بیالوجی میں بھی خود بخود چونسٹھ نمبر ملے ہیں اور دونوں پرچوں میں اسی تناسب سے پریکٹیکل کے نمبر بھی ملے ہیں یہی نہیں بلکہ جن کتابوں کا امتحان سرے سے دیا ہی نہیں۔ گیارہویں میں نہ بارہویں میں، ان میں بھی اسی تناسب سے نمبر ملے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس بار دسویں اور بارہویں میں بالترتیب صرف تین اور چار مضامین کا امتحان ہوا۔ پڑھاکو اور محنتی بچے کے لیے تین پرچوں میں اچھے نمبر لینا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔


اطہر قاسم میرے محلے کا رہائشی بھی ہے اور دور دراز کا رشتہ دار بھی۔ اطہر کا والد ہی نہیں، والدہ بھی ٹیچر ہے۔ تعلیمی سال کے دوران تمام چیزوں سے لا پروا ہو کر اس بچے نے اپنی پوری توجہ پڑھائی بالخصوص میٹرک میں اچھے نتائج کے حصول پر مرکوز رکھی تھی۔ نویں کی چھوٹی سی اسلامیات کی کتاب کی تیاری بھی اس بچے نے میرے پاس کی تھی۔ روز عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے اور میں اسے تیاری کرواتا۔ تیاری اتنی زبردست کی تھی کہ مجھے یقین تھا کہ پچاس میں سے پچاس نہ لے سکے تو کم از کم اڑتالیس ضرور لے گا۔ وہ الگ بات ہے کہ کرونا کی وجہ سے پچھلے سال پیپرز کی نوبت نہیں آئی۔۔ جو بچہ اسلامیات کی تیاری بھی بہترین استاد کے پاس جا کر اپنے طور پر کرتا ہو، کیا وہ بیالوجی فزکس اور کیمسٹری کی تیاری نہیں کرے گا؟ اتنے محنتی بچے کے لیے صرف چار کتابوں میں اچھے نمبر لینا کون سا مشکل کام ہے؟؟ ۔ اطہر قاسم کے 1054 نمبر آ گئے اور بجا طور پر اطہر ان نمبروں کا مستحق تھا۔ میرے سابقہ سکول جی ایچ ایس ایس برم اویر میں میرے چار اسٹوڈنٹس ملیحہ مہتاب، لائبہ اور محمد عباس اور عائشہ کوثر نے بالترتیب 922,922 ، 920 اور902 نمبرز لیے ہیں۔ ان تینوں بچوں کو میں نے بارہویں کی ہسٹری پڑھائی تھی اور مجھے پہلے سے یقین تھا کہ یہ اچھے نمبرات لیں گے۔ حسبِ توقع ان کا نتیجہ اچھا رہا۔


بروز کے قاضی شریف احمد (ایس ایس ہسٹری) ہمارے ساتھ سکول کے کولیگ ہیں۔ان کا بیٹا قاضی آفاق احمد بھی دسویں کے امتحان میں شریک تھا۔ امتحان سے پہلے ہی قاضی سر ہمیں کہا کرتے تھے کہ میرا بیٹا نو سو پچاس سے زیادہ نمبر لے گا۔ یہ ایسے ہی نیک فالی طور پر نہیں، بلکہ اپنے بیٹے کی پڑھائی اور تیاری مدنظر رکھ کر کہتے تھے۔ اب جب نتیجہ آ گیا تو توقع کے عین مطابق قاضی صاحب کے فرزند نے ایک ہزار اڑتیس نمبر لینے میں کامیابی حاصل کی۔


اسی طرح سوات بورڈ میں 1094 نمبر لے کر والدین اور جملہ رشتہ داروں کی سرخروئی کا سبب بننے والا ہونہار فرقان احمد اگر آغا خان بورڈ سے بھی امتحان دیتا تو اس کے یہی نمبر آنے تھے۔ جس بندے کا کل اوڑھنا بچھونا ہی پڑھائی اور شوق ہی کتب بینی ہو، اور وہ گھر چھوڑ کر سوات (کیڈٹ کالج) میں صرف پڑھائی کے لیے رہتا ہو اس کے لیے چار پرچوں میں غیر معمولی مارکس لینا کم از کم میرے لیے کوئی اچھنبھا نہیں ہے۔ شریف النفس فرقان احمد میرے ابتدائی درجات کے استاد محترم زرتاج احمد مدظلہ کا فرزند ارجمند ہے۔


بڑی شدومد کے ساتھ ایک پروپگنڈا یہ جاری ہے کہ کرونا کی وجہ سے امسال سکول مہینوں بند رہے اسباق ہوئے نہیں پھر بھی نتیجہ ننانوے فی صد آیا۔ پہلی بات یہ ہے ننانوے والی بات درست نہیں لگ رہی، نتیجہ پورا پورا سو فی صد آنا چاہیے کیونکہ جب فیصلہ ہی سب کو پاس کرنے کا ہوا تھا تو پھر سو فی صد پاس نہ ہونے کا سوال ہی کہاں رہا؟؟


دوسری بات یہ ہے نتیجہ سب کے سب کا سب کا اے گریڈ یا اے پلس نہیں آیا ہے۔ مثلاً اس وقت میرے سامنے ایک نامی گرامی گورنمنٹ سکول کا پورا رزلٹ موجود ہے اس میں کسی بھی بچے کا نو سو سے اوپر نمبرز نہیں ہیں چہ جائیکہ ہزار ہوں۔ زیادہ تر تعداد E گریڈ میں پاس ہونے والوں کی ہے۔ ای گریڈ کا مطلب بمشکل بس پاس ہی ہو سکے ہیں۔


تیسری بات یہ ہے نصاب بھی تقریباً زیادہ تر اسکولوں میں مکمل ہوا تھا ایسا نہیں تھا کہ زیادہ تر سکولوں میں ادھورا رہا ہو۔ دس مئی کو گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سے میرا تبادلہ ہوا تھا تبادلہ ہونے سے پہلے پہلے گیارہویں کی اردو، ہسٹری ، اسلامیات اختیاری اور بارہویں کی اسلامی ہسٹری مکمل پڑھا ہی نہیں چکا تھا بلکہ اعادہ بھی بیچ تک کروایا تھا۔ یہی حال اکثر اساتذہ کا ہے۔ شاید ہی کسی نے کورس مکمل نہ کیا ہو۔ پھر سمارٹ سلیس کی وجہ سے مزید آسانی پیدا ہوئی تھی۔ ایسے میں اُن طلبا کا ہزار سے اوپر نمبر آنا بالکل انہونا نہیں ہے جن کے پیپرز کسی بھی وجہ سے اچھے ہوئے ہوں۔ جنہوں نے خوب محنت کی ہو۔


بورڈ میں بھی پرچہ جات حل کرنے کا باقاعدہ نظم مقرر ہے۔ پرچہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے اساتذہ پر مشتمل ٹیم ہی متعین نہیں ہوتی بلکہ باقاعدہ ضابطے بھی پہلے سے طے ہیں کہ کس قسم کی مارکنگ کرنی ہے۔ ہمارے امتحانی نظام میں نقائص و خامیاں اپنی جگہ، کئی پہلوؤں سے اصلاح کی ضرورت اپنی جگہ، لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو اور ہرطرف طوفان ِ ناانصافی تباہی پھیلا رہا ہو۔ پرچہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے قائم اساتذہ کی ٹیم میں مزاج اور افتاد ِ طبع کا فرق ہو سکتا ہے اور طبائع کا یہ فرق طالب علموں کے نمبرات میں انیس بیس کا فرق ڈال سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا اور پروپگنڈہ کرنا قطعاً خلافِ حقیقت ہے کہ بورڈ میں آنکھیں بند کرکے نمبرات دیے جاتے ہیں۔


ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ڈھنگ سے تنقید بھی نہیں آتی۔ جسے ہم تنقید سمجھ کر برتتے ہیں وہ دراصل تنقید نہیں، الزامات و اتہامات کا پلندہ ہوتا ہے۔ ہم لٹھ لے کر کسی کے پیچھے پڑنے کو تنقید کا نام دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی ایسا ہی ہوا کہ خواہ مخواہ بچوں کی محنت کا ٹھٹھہ کیا گیا۔


اس سے بڑی لاپروائی اور کیا ہو گی کہ ایک فیس بکی صارف نے پانچ سطری طنزیہ پوسٹ لکھی کہ میرے 1080 نمبر آئے ہیں چونکہ پوسٹ میں ایک لفظ بھی اردو املا کی رو سے ٹھیک نہیں تھا اس لیے ناقدین نے اس کی پوسٹ کے اسکرین شاٹس دکھا دکھا کر خلاف لوگوں کو گمراہ بھی کیا اور پشاور بورڈ کی مٹی بھی پلید کی کہ یہ دیکھو ایک ہزار اسی نمبر لینے والے کا یہ حال ہے۔ کسی بھی بندے کو پوسٹ نگار کے دعوے کی تصدیق کی توفیق نہیں ہوئی۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ بندہ کراچی بورڈ سے کب کا انٹر بھی کر چکا ہے۔ مذکورہ پوسٹ اس نے طنزیہ لکھی تھی۔


آخر میں ان تمام طالب علموں اور ان کے والدین کو سلام جنہوں نے اچھے نمبر لیے ہیں۔ اور ان طالب علموں کو بھی مبارک باد جو پاس ہوئے یا کیے گئے۔ اگر وہ محنت کرنا چاہیں آگے مستقبل ان کا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
52652

تلخ و شیریں ۔ افغان طالبان کی فتح ۔ نثار احمد

الآخر وہ دن دیکھنا ہمیں نصیب ہوا جسے دیکھنے کی تمنا لے کر کئی سفید ریش بزرگ اس دنیا سے چلے گئے۔ باقی کیا، امریکہ کے ہاں میں ہاں نہ ملا کر گوریلا جنگ کا بڑا فیصلہ والے ملا عمر مرحوم بھی دن دیکھنے کے لیے آج نہیں رہے ہیں۔ دراصل استعمار کے خلاف برسرپیکار، مزاحمتی جدوجہد کی عملی تصویر افغان طالبان کی فتح کا یقین بہت سوں کو تھا اسی طرح یہ دیکھنے کی آرزو بھی۔ کل وہی دن تھا جب امریکی کٹھ پتلی انتظامیہ کی آخری نشانی اشرف غنی کابل ائر پورٹ پر جہاز پہ چڑھ کر الوادعی ہاتھ ہلاتے ہوئے تاجکستان فرار ہوا تو افغانستان میں ذمام ِ اقتدار واپس طالبان کے ہاتھ میں آ گیا۔


طاقت کے نشے میں مخمور ہو کر افغانستان پر چڑھ دوڑنے والے ایک دن نامراد لوٹیں گے، یہ سب جانتے تھے لیکن اتنے بے آبرو ہو کر افغانستان چھوڑیں گے شاید اس کا کسی کو یقین نہیں تھا۔ کہاں امریکہ اُس کے ہمنوا اتحادی اور کہاں بے سروسامانی کے باوجود گوریلہ جنگ لڑنے والے مٹھی بھر مجاہدین۔۔ کہاں جدید ہتھیاروں سے لیس ساڑھے تین درجن ممالک کا لاؤلشکر اور کہاں وسائل سے عاری چند مزاحمت کار۔


اس عظیم فتح کو لے کر بحیثیت پاکستانی بھی خوشی ہو رہی ہے اور بحیثیت مسلمان بھی۔
مجھ جیسے لاکھوں بندے آج خوش ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اب افغانستان میں اسلامی نظام نافذ ہو گا، چہار سُو عدل بال و پر نکال کر راج کرے گا، انصاف کا علم بلند رہے گا، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہو گی ، خوش حالی کا دور دورہ ہو گا، ملک میں قانون کا راج اور میرٹ کی حکمرانی ہو گی۔ بلکہ اس خوشی کی وجوہات دوسری ہیں مذکورہ بالا نہیں۔


طالبان کا افغانستان کیسا ہو گا، جدید دنیا کے ساتھ طالبان اسے ہم آہنگ کر کے چلا سکیں گے یا نہیں؟ انتظامی انارکی پھیلے گی یا نہیں،۔سکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں تعلیم کا مبارک عمل رواں دواں رہے گا یا اسے جہل کی بھینٹ چڑھا دیا جائے گا۔ سردست تیقن کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ ان سب سوالوں کا جواب فی الحال ہمارے پاس ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ہمیں زیادہ خوش فہمی ہے۔ دوسروں کی طرح ہمیں بھی اچھے کی امید و انتظار ہے بس۔ اللہ کرے کہ طالبان ان چیلنجز سے سرخ رو کر نکلیں۔ آج ریاست چلانے کے تقاضے الگ اور ضروریات جدا ہیں۔ صرف طاقت کے بل بوتے پر ریاستیں نہیں چلا کرتیں۔ ریاستی نظم و نسق کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ہی نہیں، لوگوں کو دو وقت کی روٹی تک رسائی کے لیے مواقع پیدا کرنا بھی بڑی انتظامی بصیرت مانگتی ہے۔


دراصل طالبان کی فتح کو لے کر خوش ہونے کی ایک وجہ سات سمندر پار سے وارد ہو کر بدکے ہوئے بدمست ہاتھی کا حواریوں سمیت ذلیل وخوار ہونا ہے۔ امریکہ اپنے اتحادی نیٹو افواج کو لے کر جس طمطراق اور کروفر کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا تھا آج اسے واپس جاتے دیکھ کر، اور اقتدار اُس کے “پروردہ” انتظامیہ سے چِھنتا دیکھ کر بخدا بڑا چس آ رہا ہے۔ پہلے نیٹو ممالک کان پکڑ کر ایک ایک کر کے کھسک گئے بعد ازاں مذاکرات کے کئی دور چلا کر خود امریکہ بہادر بھی محفوظ راستہ مانگ کر پتلی گلی سے نکل جانے میں عافیت جانی۔ آج امریکن این جی اوز کے وہ راتب خور دانشور بھی بہت یاد آ رہے ہیں جو اپنا وظیفہ حلال کرنے کے لیے اس بات کی جگالی کرتے نہیں تھکتے تھے کہ طالبان مزاحمت کے نام پر مضبوط دیوار سے سر ٹکرا رہے ہیں۔ اس میں نقصان دیوار کا نہیں، خود طالبان کا ہو گا سر پھٹنے کی صورت میں۔ اپنی بات میں مزید وزن پیدا کرتے ہوئے کہتے تھے کہ کھانے کو روٹی، پہننے کو کپڑے اور پاؤں میں جوتے نہیں۔ نکلے ہیں سپر پاور کا مقابلہ کرنے۔اسی طرح آج ٹاک شوز پر بیٹھنے والے وہ تجزیہ کار بھی یاد آ رہے ہیں جو افغان طالبان کی مزاحمت کا مذاق اڑا کر ان کے ہمنوا دانشوروں پر ٹھٹہ اڑاتے تھے۔


خوشی میں سرشار ہونے کی دوسری وجہ افغانستان میں روایتی حریف بھارت کی شکست فاش ہے۔ ہم بھارت سے دوستی کا لاکھ دم بھریں ، دونوں ممالک میں دوستی کی ہزاروں نہیں، لاکھوں خواہش دل میں پالیں۔ پھر بھی موقع ملنے پر انڈیا نے ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ضائع ہونے نہیں دینا ہے۔ یہ کوئی گہری منطق نہیں، عام مشاہدے کی بات ہے کہ مودی سرکار پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں کبھی دریغ نہیں کرتا۔ تازہ محاذ اسے افغانستان کی صورت میں ملا تھا۔ یہاں بیٹھ کر پاکستان میں سازشوں کے جال بچھانا اور پھیلانا اُس کے لیے اِس لیے آسان تھا کہ تقریباً ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحدی لائن پاکستان کی افغانستان کے ساتھ لگتی ہے۔ چنانچہ بھارت کے شر سے بچنے کے لیے افغانستان میں پاکستان نواز حکومت کا قیام پاکستان کی ضرورت ہی نہیں، مجبوری بھی ہے۔ خاکم بدہن اگر افغانستان میں انڈیا نواز حکومت مستحکم رہتی تو اس کا ناقابلِ تلافی نقصان کسی اور ملک کو نہیں، خود پاکستان کو اٹھانا پڑتا۔ پاکستان کی افغانستان میں مبیّنہ مداخلت پر اشرف غنی اینڈ کمپنی اور مودی سرکار ہی عورتوں کی طرح رونا دھونا نہیں کر رہے تھے، ہمارے بعض دانشور بھی اس مبیّنہ مداخلت پر “نامعلوم” ریاستی کارندوں کو ہدف ِ تنقید ٹھہراتے تھے۔ آج ان دوستوں کو بھی معلوم ہوا ہو گا کہ یہ”مداخلت” ہمارے کارندے ریاست کے مفاد میں مجبوراً کر رہے تھے۔


یہاں آج ان حضرات سے بھی اظہارِ تعزیت کا من کر رہا ہے جو بوجوہ پوری طرح لبرل ازم کے رنگ میں خود کو رنگ سکے اور نہ بالکل نیوٹرل رہ سکے۔ یہ “حضرات” کل سے آپے سے تقریباً باہر ہیں۔ امریکہ نے جب انخلاء کا اعلان کیا تو کہتے پائے گئے تھے کہ امریکہ کو نہیں جانا چاہیے۔ یہاں کے متحارب جنگجووں اور طالبان میں نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہو گی نتیجتاً ہر طرف کشت و خون ہو گا۔ اور خون ِمسلم خوب ارزاں ہو گی۔ اب جب طالبان کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت ایسا کچھ نہیں ہوا تو پینترا بدل کر یہ کہنے لگے کہ طالبان امریکہ کے ساتھ مل گئے ورنہ افغان آرمی نے ہتھیار ڈالنے میں اتنی عجلت کیوں دکھائی۔ افغانستان کی صورتحال پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایک تو اشرف غنی اینڈ انتظامیہ اور دوسرے جنگجو سرداروں کے کچھ ایسے داخلی ٹھوس اختلافی مسائل تھے جن کی وجہ سے وہ متحد ہو کر طالبان کا سامنا نہیں کر سکے .

دوسرا یہ کہ ایسا نہیں ہوا کہ طالبان ایک دم زمین سے اُگ آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے افغانستان پر پھیل گئے۔ سن دو ہزار دس سے پہلے ہی “متعلقہ” دوستوں سے ہم سنتے آ رہے ہیں کہ افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر عملاً کنٹرول طالبان کا ہے۔ افغان امور پر نظر رکھنے والے صحافی چھ سات سال قبل سے لکھتے رہے ہیں کہ ستر اسی فیصد افغانستان پر کابل انتظامیہ کا نہیں، طالبان کا کنٹرول ہے۔ وہاں پر تعینات ہونے والے انتظامی اہلکار بھی طالبان کی اجازت و رضا مندی سے ہی اپنی زمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ مطلب میدان سازی پہلے سے ہوئی تھی صرف موافق حالات کا انتظار تھا۔ جونہی حالات سازگار ہوئے، طالبان نے کابل میں داخل ہونے میں دیر نہیں لگائی۔ اس لیے خوہ مخواہ شکوک وشبہات پھیلانے سے بہتر ہے کہ طالبان کی بیس سالہ مزاحمت سامنے رکھ کر تجزیہ کیا جائے۔


بہرحال ہماری نیک تمنائیں افغان عوام کے لیے اور مثبت جذبات طالبان کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں افغان عوام کے حق میں درست فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
51560