The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ذمہ داریوں کا تعین۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

خیبر پختونخواحکومت نے عوامی خدمات سے متعلق تمام تعمیراتی محکموں کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کرنے فیصلہ کیا ہے تاکہ تعمیراتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے کاموں میں دوہرے پن کو ختم کرکے عوامی وسائل کے اسراف کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعلی نے اس سلسلے میں محکمہ منصوبہ بندی کو تمام تعمیراتی محکموں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے تعمیراتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے محکموں کی ذمہ داریوں اور مینڈیٹ کا واضح طور پر تعین کرنے کے لئے ایک مہینے میں لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ پینے کے پانی کی فراہمی، نالیوں اور گلیوں کی پختگی، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، میونسپل سروسز اور آبپاشی کے شعبوں میں ایک ہی کام ایک سے زیادہ محکمے انجام دینے کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہورہی ہیں۔

سرکاری اداروں میں روابط اور اشتراک عمل کا فقدان ہمارے ملک کا دیرینہ مسئلہ ہے۔ سی اینڈ ڈبلیو کا محکمہ سڑک تعمیر کرکے چلا جاتا ہے۔ دو چار مہینے بعد محکمہ سوئی گیس والے آکر گیس پائپ بچھانے کے لئے سڑک کھود دیتے ہیں اور اپنا کام کرکے سڑک کو کھنڈر چھوڑ کر رفوچکر ہوجاتے ہیں۔ اگلے سال کے بجٹ میں سڑک کی مرمت و توسیع کے لئے فنڈ نکلتا ہے۔ متعلقہ محکمہ سڑک تعمیر کرتا ہے تو دو چار مہینے بعد محکمہ ٹیلی فون یا پبلک ہیلتھ والے آکر سڑک دوبارہ کھود دیتے ہیں اور اپنا کام پورا کرکے سڑک کو دوبارہ کھنڈر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اگر محکموں کے درمیان روابط اور اشتراک عمل قائم ہوجائے تو سڑک کی تعمیر سے قبل تمام محکموں کو نوٹس دیا جاسکتا ہے کہ اگر وہ گیس، پانی یا کیبل لائن بچھانا چاہتے ہیں۔ تو مہینے دو مہینے کے اندر اپنا کام مکمل کریں تاکہ سڑک تعمیر کی جاسکے۔ اگر وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو متعلقہ محکموں کو پابند بنایاجائے کہ اپنی لائنیں بچھانے کے بعد سڑک کی مرمت کئے بغیر نہیں جاسکتے بصورت دیگر ان کے بل ریلیز نہیں کئے جائیں گے۔

جہاں تک تعمیراتی کاموں کے معیار اور ٹائم لائن کے مطابق ان کی تکمیل کا تعلق ہے۔ اس حوالے سے بھی قیام پاکستان کے بعد اصلاح احوال کی کسی حکومت نے کوئی کوششں نہیں کی۔کسی حفاظتی پشتے،پل، سڑک، سکول، ہسپتال یا نہر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنا ہو۔تو ٹھیکیداروں سے ٹینڈر طلب کئے جاتے ہیں۔ منصوبے کے لئے اگر پچاس کروڑ روپے منظور ہوئے ہیں تو سب سے کم بولی دینے والی فرم یا ٹھیکیدار کو کنٹریکٹ دیا جاتا ہے اگر اس نے چالیس کروڑ میں کام مکمل کرنے کی حامی بھری ہے تو باقی ماندہ دس کروڑ روپے کہاں جاتے ہیں یہ معمہ آج تک حل نہیں ہوسکا۔ کامیاب بولی دہندہ ٹھیکیدار کو محکمے کا بیس فیصد کمیشن پیشگی ادا کئے بغیر ورک آرڈر جاری نہیں کیاجاتا۔ اس کمیشن میں چپڑاسی سے لے کر اعلیٰ افسر تک سب کا حصہ ہوتا ہے۔ تعمیراتی کام کے دوران ایکسین، اوور سیر، ایس ڈی او یا محکمہ کے دوسرے افسران سائٹ کا معائینہ کریں تو ان کا چائے پانی اور دیگر اخراجات ٹھیکیدار کے ذمے ہوتے ہیں۔ بڑا ٹھیکیدار وہ کام دو تین چھوٹے ٹھیکیداروں کے حوالے کرتا ہے۔ جو اپنا اپنا حصہ پہلے نکال لیتے ہیں۔

پچاس کروڑ میں سے کمیشن، سرکاری اخراجات اور منافع نکالنے کے بعد منصوبے پر بمشکل پندرہ بیس کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ پچاس کروڑ کا منصوبہ اگر پندرہ کروڑ میں تکمیل کو پہنچے تو اس کا معیار کیاہوگا۔ یہ ہم سب جانتے ہیں منصوبے کی تکمیل کے ایک سال کے اندر ہی مرمت کے لئے فنڈ رکھا جاتا ہے تاکہ یار لوگوں کا روزگار چلتا رہے۔ کسی بھی منصوبے پر کام کے معیار کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ یہ قومی وسائل کی لوٹ مار کا ایک منظم طریقہ ہے جو قیام پاکستان سے چل رہا ہے۔ اگر حکومت قومی وسائل کے اسراف کو روکنے اور منظور شدہ فنڈ کی پائی پائی منصوبے پر خرچ کرنے کا لائحہ عمل طے کرتی ہے تو یہ قوم پر حکومت کا بڑا احسان ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
49692

وزیراعلیٰ کا تمام تعمیراتی محکموں کے دائرہ کاراورذمہ داریوں سے متعلق گائیڈ لائنز مرتب کرنیکافیصلہ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے سرکاری محکموں میں اصلاحات کے سلسلے میں ایک اور اہم قدم کے طور پر عوامی خدمات سے متعلق تمام تعمیراتی محکموں کے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کرنے اور اس سلسلے میں گائیڈ لائنز مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ تعمیراتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے کاموں میں ڈوپلیکیشنز کو ختم کرکے عوامی وسائل کے غیر ضروری مصرف کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے سکے۔ وزیر اعلی نے اس سلسلے میں محکمہ منصوبہ بندی کو تمام تعمیراتی محکموں کے ساتھ مل بیٹھ کر تعمیراتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے کاموں کے لئے ان محکموں کی ذمہ داریوں اور مینڈیٹ کا واضح طور پر تعین کرنے کے لئے ایک مہینے میں لائحہ عمل تیار کرکے منظوری کے لئے پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وہ گزشتہ روز اس سلسلے میں منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ محکمہ مواصلات، بلدیات، منصوبہ بندی، آبپاشی اور آبنوشی کے انتظامی سیکرٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ تعمیراتی منصوبوں اور عوامی خدمات کی فراہمی کے مختلف کاموں مثلا پینے کے پانی کی فراہمی، نالیوں اور گلیوں کی پختگی، صفائی ستھرائی، سڑکوں کی تعمیر، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، میونسپل سروسز اور آبپاشی کے شعبوں میں ایک ہی کام ایک سے زیادہ محکمے انجام دینے کی وجہ سے مختلف پیچیدگیاں پیدا ہورہی تھیں جن سے بچنے کے لئے اس طرح کی ڈوپلیکشنز کو دور کرنا اور ہر ایک محکمے کے کام اور ذمہ داریوں کا واضح تعین کرنے کی ضرورت تھی۔

اس موقع پر وزیر اعلی نے ان محکموں کے تحت مختلف تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں سو فیصد شفافیت اور تعمیراتی کاموں کے معیار کو بھی یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ٹینڈرنگ اور بڈنگ کے جملہ امور کو شفاف بنانے اور تعمیراتی کاموں کی مانیڑنگ کے نظام کو موثر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔ اسی طرح وزیر اعلی نے صوبے میں آبپاشی کی نہروں میں نکاسی کے گندے پانی کے بہاو¿ کی موثر روک تھام کے لئے ہوم ورک مکمل کرکے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
49652