The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ترقی اور دوپٹہ ۔ ثنا علی حال سعودیہ

ترقی اور دوپٹہ ۔ ثنا علی حال سعودیہ

بدقسمتی سے ہم ایسی قوم ہیں کہ غلامی نسل در نسل چل رہی ہے. اعتماد کی کمی اس قدر ہے کے منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی نہ
بولیں اور کپڑے کم نہ کریں تو ترقی ہی نہیں کرتے۔ ذہنی غلامی کا شکار تو پورا پاکستان ہے لیکن چترال میں خواندگی کی شرح
اتنی زیادہ ہونے کے باوجود افسوس ہے کہ ہماری سوچ بھی یہی ہو گئی ہے کہ ترقی زیادہ کرنے کے لیے اور دنیاوی لحاظ سے قدم اگے بڑھانے کے لیے کپڑے چھوٹے کرنے پڑتے ہیں. اس کی مثال یہ ہے کہ چترال سے نکل کے نوکری یا پڑھائی کے لیے بڑے شہروں میں جاتے ہی لباس بدل جاتا ہے اور باہر ملک جا کے تو بہت کچھ . دوپٹہ ترقی کی راہ میں حائل ہے اور یہ سوچ بدلنے میں صدیاں لگ جائیں گی ویسے دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں دوپٹے کا تعلق تو عجیب بے بسی سے ہے ۔ ہمارے ڈراموں میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ یہ دوپٹہ غریب طبقے کے لوگوں کے لباس کا حصہ ہے یا اگر امیر بہت بڑے مصیبت میں پھنس جائیں تو اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں بھی کوئی خاتون ظلم کا شکار ہو جائے وہ خاتون چاہے شوبز سے ہو یا عام عوام میں سے، دوپٹے سے اس کا تعلق نہ ہو، لیکن جیسے ہی سوشل میڈیا میں ویڈیو بنا کے اپنی مظلومیت کی داستان سنانے ا جاتی ہے تو ضرور دوپٹہ پہن کے اتی ہے۔ ایسا کیوں ہے ؟ کیونکہ ہمیں یہ دکھایا جاتا ہے کہ دوپٹہ بے بسی کا دوسرا نام ہے، دوپٹہ غلامی ہے، اور دوپٹہ ظلم کی علامت ہے. حقیقت اس کے برعکس ہے کہ غلامی یہ ہے کہ ہم اپنا لباس چھوڑ کے ہندوؤں اور انگریزوں کہ لباس کی نقل کر کے ترقی کرنے لگے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے مرد مغربی لباس کو جو اپنا رہے ہیں ان پہ بھی ایسا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن بات یہاں دوپٹے کی چھڑ گئی ہے۔

کاش ہم عربوں سے ہی کچھ سیکھ لیں جو اپنا اسلامی لباس اور اپنی زبان عربی کو برقرار رکھتے ہوئے پوری دنیا میں ترقی کر رہے ہیں. ہمارے اندر اعتماد کی کمی اس قدر ہے کہ کوئی انگریز سیاہ ہمارے بیچ میں ا کے ہمارے کپڑے پہنے تو ہم خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں ہمیں یوں لگتا ہے کہ ہمارے لباس کو چاند لگ گئے کیونکہ انگریز نے پہنا ہے. ہم اپنے ملک میں رہتے ہوئے روزمرہ ان کے کپڑے پہنتے ہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ البتہ ہم ان کی مدد کر رہے ہیں ان کے بزنس میں کیونکہ وہ اپنے پہنے ہوئے پرانے بھی ہمیں بھیج رہے ہیں.

کلچر اور مذہب
دوپٹہ اتارنے یا نہ پہننے پہ اعتراض کرنے والے حضرات افسوس کا مقام ہے کہ اس بات پہ زور دے رہے ہیں کہ ہماری پہچان دوپٹہ ہے ، ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔

اصلاح کرنے والوں کا حال جانیے کوئی بھی اسلام کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔
اگر تو دوپٹہ آپ کے کلچر کا حصہ بن کے اپنانا ہے تو نہ اپنانے میں کوئی پابندی نہیں ہے, کیونکہ جس کو جو کلچر پسند ہو اپنا سکتا ہے. لیکن مذہب میں پابندی ہے. مثال کے طور پہ زندگی کے کچھ معاملات ایک مذہب کے مطابق اور کچھ دوسرے مذہب کے مطابق نہیں کرنا چاہیے، کر سکتے ہیں بالکل ، لیکن نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ مذہب کی پابندی ہے. لیکن ہم نے مذہب اور کلچر کو اتنا مکس کیا ہے کہ علیحدہ کرنا ایسے ہے جیسے اٹے میں سے نمک کو. اگر مذہب کو آپ حضرات پڑھیں تو میرے حساب سے پاکستان میں بہت کم لوگ دوپٹے کو ایسا استعمال کرتے ہیں جیسا مذہب میں بتایا گیا ہے۔ مثلا” حجاب کا تصور سامنے رکھیں تو اپ کے چہرے کا پردہ نہیں البتہ بالوں کو ضرور چھپانا چاہیے.

ازادی
ہم اعتراض کرنے والوں کا بالکل ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔ اپنے الفاظ اس لیے قلم بند کر رہے ہیں کہ کوئی ایک بندہ اس پہلو سے بھی تو سوچے کہ مسئلے کی جڑ کیا ہے. جن صاحبان نے اعتراض کیا ہے ہم بالکل ان کے ساتھ نہیں ہیں لیکن ہم اس بیٹی کے ساتھ بھی نہیں ہیں جنہوں نے گالیاں لکھی ہیں سوشل میڈیا پہ. ان سے میرا یہی سوال ہے کہ اگر آپ اتنی بہادر ہیں اور آپ کو کسی چیز کا ڈر نہیں اور آپ کو یہ لگتا ہے کہ آپ بالکل صحیح کام کر رہی ہیں تو کیوں آپ کمنٹس لمٹ کر رہے ہیں اپنے پوسٹ پہ؟ اور جن لوگوں کی ڈگری کو آپ گالیاں دے رہے ہیں، آپ نے اپنی ڈگری سے کیا سیکھا ہے یہ بھی صاف ظاہر ہے. اعتراض کرنے والوں کے نام یہ پیغام ہے کہ آپ کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ چترال میں مختلف مذہبی طبقے کے لوگ ہیں اور کچھ کے نزدیک پردے کی اہمیت شاید نہیں ہوگی اور ان کو پورا حق ہے کہ وہ جیسا رہنا چاہتے ہیں ویسے رہیں. ان کو تبلیغ کرنے کی ضرورت تب پیش اتی جب اس دور میں معلومات محدود ہوتی اور لوگوں کی رسائی معلومات تک نہ ہوتی. لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے مطلب یہ کہ کسی کو آپ کچھ بتاتے ہیں تو اس کو پہلے سے ہی پتہ ہے تو برے الفاظ کا استعمال کر کے تنقید کرنے کا حق کسی کو بھی نہیں ہے۔ آو کے اختلاف رائے پر اتفاق کر لیں (جون ایلیا)

Posted in تازہ ترینTagged
92886