The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 27 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تحصیل کونسل چترال کا اجلاس عمران خان کی گرفتاری کی خبر ملنے پر غیرمعینہ مدت  کے لئے ملتوی کردیاگیا

تحصیل کونسل چترال کا اجلاس عمران خان کی گرفتاری کی خبر ملنے پر غیرمعینہ مدت  کے لئے ملتوی کردیاگیا

چترال (نمایندہ چترال ٹایمز )چترال (ظہیر الدین سے ) تحصیل کونسل چترال کااجلاس ایجنڈا پورا کئے بغیر پی ٹی آئی کے چیرمین عمران خان کی گرفتاری کی خبر ملنے پر اچانک غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیاگیا جوکہ تحصیل چیرمین شہزادہ امان الرحمن کے زیر صدارت جاری تھی۔ خورکشاندہ سے پی ٹی آئی کے رکن کونسل شاہد احمد نے اپنی نشست پہ کھڑے ہوکر جب عمران خان کی گرفتاری کی خبر سنادی تو چیرمین نے فوری طور پر اجلاس کو ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔ منگل کی صبح دس بجے شروع ہونے کے بعد نماز ظہر کے وقفے اوربعد میں تحصیل کونسل کے مختلف وارڈوں سے تعلق رکھنے والے اور خصوصی نشست پر منتخب ہونے والے ممبران نے اپنے اپنے وارڈوں کے مسائل بیان کئے جنہیں تحصیل چیرمین سنتے رہے جبکہ ٹی ایم او چترال اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر لوکل گورنمنٹ کے علاوہ کوئی افسر ہاوس میں موجود نہ تھا جواپنے اپنے محکمہ جات کے بارے میں سوالات اور شکایات کا جواب دیتے۔ذیادہ تر شکایات سکولوں میں اسٹاف کی کمی یا تدریسی اسٹاف کی مسلسل غیر حاضری، گزشتہ سال سیلا ب سے متاثر ہ انفراسٹرکچروں کی بحالی میں ناکامی، ٹینڈر ہونے کے باوجود کاموں کو ادھورا چھوڑنا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سروے میں عوام کو درپیش شدید مشکلات، آٹا اور گندم کی شدید قلت، منتخب بلدیاتی نمائندوں کا بے اختیار ہونا اور کوئی ترقیاتی فنڈز اور تنخواہ کا نہ ملنا شامل تھے۔

اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرنے والوں میں ایون ٹو کے رفیع نے شکایت کی کہ ان کے ویلج کونسل میں کلاس فور نہ ہونے کی وجہ سے صفائی کا کام چیرمین اور سیکرٹری کو خود کرنا پڑتا ہے۔ پرسان کے حاجی نوروز نے شکایت کی کہ ایک سال اور دو ماہ گزرنے کے باوجود ان کی ویلج کونسل کا کوئی دفتر نہیں ہے اور انہیں ضروری کام ایک گراونڈ میں بیٹھ کر نمٹانا پڑتا ہے جبکہ ویلج کونسل نے دفتر کو اپنی من مانی مقام پر قائم کیا ہے اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر لوکل گورنمنٹ کی مرضی بھی اس میں شامل ہے کیونکہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیاا ور انہیں بار بار ٹرخاتے رہے۔ خاتون کونسلر بی بی جان نے بتایاکہ وہ مسلم لیگ (ن) کی ملاکنڈ ڈویژن کی خواتین ونگ کی صدارت سے اس لئے استعفی دیا کہ مریم نواز نے پختونخوا کے عوام کو دہشت گرد کہہ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے بارے میں وضاحت کی کہ وہ چترالی ہیں جبکہ ان کے آباواجداد ڈاون ڈسٹرکٹ سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ خورکشاندہ سے شاہد احمد نے کہاکہ ہمیں ٹیکس لگانا ہوگا تاکہ ٹی ایم اے کو مالیاتی طور پر مضبوط کرکے ہم ترقیاتی کام کراسکیں جبکہ گزشتہ ایک سال سے ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں ملی ہے۔ ژوغور سے سجاد احمد خان نے کہاکہ ہاوس کو چلانے کے لئے بائی لاز انگریزی زبان میں ہیں جنہیں اردو میں ترجمہ کرکے ایوان کے سامنے مناسب تشریح کے ساتھ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

گرم چشمہ سے رکن کونسل نے مقامی ہائی سکول میں سبجیکٹ اسپیشلسٹوں اور تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے کہاکہ سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے گزشتہ ایک سال کے دوران 10کروڑ روپے مبینہ طور پر خرچ کرنے کی تفصیلات ایوان کے سامنے پیش کرے۔ اس موقع پر این ایچ اے کو بھی ناقص کارکردگی اور کرپشن پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایون ون سے وجیہہ الدین نے دیہی سڑکوں کے دو پراجیکٹوں میں مبینہ طور پر پانچ پانچ لاکھ روپے کرپشن کی طرف نشاندہی کی۔ انہوں نے کہاکہ لوکل گورنمنٹ میں ٹینڈر شدہ حفاظتی پشتے پر کام شروع نہ کرنے پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ دریامیں پانی کا سطح اونچا ہونے پر کوئی کام نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ویلج چیرمینوں کی چیک پاورز کے بارے میں الجھن موجود ہیں جنہیں کلیر کرنے کی ضرورت ہے۔ بمبوریت ویلی سے خلیل الرحمن نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سیاحوں سے فیس میں خرد برد کی طرف نشان دہی کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ اس رقم کو کالاش وادیوں کی ترقی میں استعمال کیا جائے۔ انہوں نے بمبوریت میں ریسکیو 1122کی ناقص کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ گہیریت سے عبدالحکیم نے مطالبہ کیاکہ ان کے ویلج کونسل میں 800گھرانوں کے گندم کے کوٹے کو گرین گودام ایون میں منتقل کیا جائے تاکہ انہیں آسانی ہو۔ انہوں نے ڈپٹی ڈی ای او (میل) کی طرف سے مقامی سکول میں زمین مالک کو کلاس فور بھرتی نہ کرنے میں تاخیر کرنے کی مذمت کی۔ کوجو کے لطیف الرحمن نے این ایچ اے کی طرف سے چترال بونی روڈ میں انتہائی ناقص کام پر ذمہ دار افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ انت بیگ کالاش نے آٹا کی بحران کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے بریر گاؤ ں کو بمبوریت کی بجائے ایون میں گندم کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

ہرت سے شیر فراز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ان کا وارڈ سب سے پسماندہ ہے لیکن ایک سال کے اندر ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ وہ اپنی جیب سے سات لاکھ روپے مقامی سڑک کی بحالی پر لگادی تاکہ علاقے کے عوام ضلعے کے دوسرے علاقوں سے کٹ نہ جائیں۔ ارکاری وادی کے شرف الدین نے علاقے میں زمرد کی مائننگ کے عمل میں عوام کی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ مقامی پولیس طاقتور لیز ہولڈر وں سے مل کر ان پر رعب ڈالنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے حق کے لئے بات نہ کرسکیں جوکہ انہیں رائلٹی دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ زیارت گرم چشمہ کے نواب خان نے بھی اپنے علاقے کے مسائل بیان کئے اور ایوان میں سب کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سلوک کا مطالبہ کیا۔

شوغور سے اعجاز نے علاقے میں گزشتہ آٹھ سالوں سے بند یوٹیلیٹی اسٹور کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شوغور اور مومی کے سکولوں میں ٹیچروں کی مسلسل غیر حاضری پر ڈی ای او (مردانہ) سے باز پرس کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مومی اور روجی کے پلوں کی مرمت کا بھی مطالبہ کیا۔ موری کے نبی خان نے کہاکہ ان کے ویلج کونسل میں فنڈز کی دستیابی کے باوجود گاؤں کی ابنوشی اور ابپاشی کے منصوبے میں استعمال کرنے کی اجازت نہ دی گئی اور انہوں نے ویلج کونسلوں کو بااختیار بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اپر اورلویر اضلاع کی بائفرکیشن کے بعد ملازمین کے اپر چترال سے لویر چترال میں تبادلے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا اور چمرکھون سے عبدالحق کے پیش کردہ قرارداد کی حمایت کی۔ اجلاس میں آئین پاکستان پر عمل کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی تحلیل کے 90 دنوں کے اندر الیکشن منعقدکرنے کے حوالے سے پیش کردہ قرارداد کی مخالفت کی گئی جس پر پی ٹی آئی کے فخر اعظم اور شاہد احمد نے کہاکہ وہ اس معاملے پر سیاست کرنا نہیں چاہتے بلکہ وہ اس ایوان کو طاقت دلانا چاہتے ہیں جوکہ الیکشن کے بعد نئی حکومت قائم ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگی۔ chitraltimes tehsil council chitral meeting bb jan chitraltimes tehsil council chitral meeting

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
74253

تحصیل کونسل چترال کا ہنگامی اجلاس، موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے بعد عوام کو درپیش مشکلات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

تحصیل کونسل چترال کا ہنگامی اجلاس، موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے بعد عوام کو درپیش مشکلات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز) تحصیل کونسل چترال کا ہنگامی اجلاس بدھ کے روز تحصیل چیرمین شہزادہ امان الرحمن کے زیر صدارت مقامی ٹاؤن ہال میں منعقد ہوا جس میں تحصیل کے مختلف وادیوں اور علاقوں میں گزشتہ دنوں کی موسلا دھار بارشوں اور ان کے نتیجے میں تاریخ کے بدترین سیلاب اور عوام کو درپیش مشکلات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ارکان کونسل نے حکومت پر زور دیاکہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سیلاب زدگان کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان کاکہنا تھاکہ علاقے کے عوام کی اکثریت سیلاب سے بلا واسطہ اور بالواسطہ دونوں طرح سے متاثر ہیں اور اپنے ذریعہ معاش کھو چکے ہیں کیونکہ زراعت کو زبردست نقصان پہنچنے سے فصلوں، باغات اور مال مویشی بھی ختم ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیاکہ منتخب بلدیاتی نمائندگا ن کو ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے مسلسل نظرا نداز کئے جارہے ہیں جبکہ یہ اپنے اپنے علاقے کے نمائندے ہیں اور ان کے بغیر درست معنوں میں متاثریں کے نقصانات کی فہرست نہیں بن سکتی۔

انہوں نے کہاکہ اس سیلاب میں ابنوشی اور ابپاشی کے ساتھ ساتھ رابطہ سڑکوں اور پلوں کو سب سے ذیادہ نقصان لاحق ہوا ہے۔ انہوں نے ٹی ایم ایز اور لوکل گورنمنٹ کے تحت انجام پانے والے ترقیاتی کاموں میں ٹھیکہ داروں کو بلز کی ادائیگی کے لئے متعلقہ ویلج کونسل چیرمین سے این او سی کے حصول کو لازمی بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں شہزادہ امان الرحمن نے ہاؤس کو یقین دلایاکہ وہ ان کے احساسات اور جذبات کو مکمل طور پر قدر کرتے ہوئے ان کے مطالبات اور تجاویز کو عملی جامہ پہنائے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت سیلاب متاثرین کے مسائل میں کمی لانے اور ان کی بحالی کو فوقیت دے رہی ہے اور مصیبت کی اس گھڑی میں ہمیں ایک دوسرے کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہئے۔ اجلاس سے فخر اعظم (شیاقوٹک)، سجاد احمد خان (جغور)، سجاد احمد (موغ)، محمد کریم (سوسوم)، عبدالحکیم (گہیریت)، عبدالحق (چمورکھون)، امین الرحمن (سینگور)، نوروز خان (پرسان)، بنی خان (موری)، شاہد (خورکشاندہ)، فراز خان (ہرت)، شرف دین (ارکاری)، انت بیگ کالاش، علاء الدین، خالد الرحمن (بمبوریت)، عبداللہ جان (بروز)، منیراحمد چارویلو(دنین ون)، ضمیر احمد، رحمان (ایون ٹو)،وجیہ الدین، سلطان (رمبور)، برس خان (بریر) اور دوسروں نے بحث میں حصہ لیا۔

تحصیل کونسل چترال کے اجلاس میں ویلج کونسل موری کے چیرمین اور تحصیل کونسل کے رکن نبی خان نے یونین کونسل کوہ کے علاقے میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے بارے میں قرارداد پیش کرتے ہوئے حکومت کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر ظالمانہ اور بلا جواز لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں امن وامان کی خراب صورت حال کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند ہوا تو شدید احتجاج کے لئے میدان میں آنے سے عوام کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔

chitraltimes tehsil council chitral ijlas2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged ,
65343