The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 23 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

کیا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی؟ – تحریر :محمد نفیس دانش 

کیا تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی؟ – تحریر :محمد نفیس دانش

تاریخ بتلاتی ہے کہ خان صاحب نے جب ن لیگ کی حکومت کے خلاف مورچہ لگایا تھا تب اگر پانامہ نہ آتا تو میاں صاحب 5 سال پورے کر جاتے ، ایسے ہی اگر دورہ روس نہ ہوتا تو شاید خان صاحب بھی 5 سال پورے کر جاتے ، بدلتے عالمی حالات ہماری اپوزیشن کے فیور میں چلے گئے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری اور روس والے واقعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے اپوزیشن کے رہنماؤں نے وزیراعظم پاکستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے ، عام بحث یہ چل رہی ہے کہ پلڑا حکومت کا بھاری ہے یا اپوزیشن کا ، میں اپنے قارئین کے سامنے چند خبروں کا ریکارڈ رکھتا ہوں اس کے بعد ممکنہ فیصلے کا منظر آپ کی نظروں کے سامنے آ جائے گا ، خبر ہے کے وزیراعظم سندھ آئے اور پیر پگارا GDA سے ملنا چاہتے تھے لیکن پیر پگارا کی طرف سے جواب ملا کہ ان کی طبعیت ناساز ہے ملاقات نہیں ہو سکتی ، وزیراعظم پاکستان نے BAP یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان کو ملاقات کے لئے بلوایا تو انہوں نے جواب دیا کہ ابھی ہمارے ارکان مکمل نہیں ہیں ، فی الحال ملاقات نہیں ہو سکتی ، متحدہ نے ملاقات تو کی لیکن میڈیا بریفنگ میں کہہ دیا کہ ہمارے سامنے سارے آپشن کھلے ہیں ، ق لیگ کے پاس وزیراعظم خود چل کر گئے لیکن چودھری شجاعت حسین مولانا فضل الرحمان صاحب کے پاس پہنچ گئے اور زرداری صاحب سے بھی ملاقات کی ،
ق لیگ نے وزیراعظم صاحب پر یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر آپ کی اپنی جماعت بکھری تو اتحادی آپ کے ساتھ کھڑے نہیں رہ سکیں گے ، ق لیگ کے بیان کی روشنی میں تحریک انصاف پر نظر ڈالتے ہیں کہ یہ جماعت بکھر رہی ہے یا نہیں ، سب سے پہلے نظر ڈالتے ہیں تحریک انصاف سندھ پر کہ جہاں تحریک انصاف نے 9 مارچ کو سینیٹ کے ضمنی انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن تحریک انصاف کے 4 ارکان سندھ اسمبلی آئے اور ووٹ پیپلز پارٹی کو دیا ، سندھ کے بعد حالات پنجاب کے بھی وزیراعظم پاکستان کے لئے اطمینان بخش نہیں ہیں گیم چینجر جہانگیر ترین کے پاس 20 پنجاب اسمبلی کے ارکان کا گروپ موجود تھا ہی ایسے میں 40 ارکان اسمبلی کا گروپ لے کر عبدالعلیم خان بھی ان سے جا ملے ، ترین گروپ کا اصل نشانہ عمران خان جبکہ علیم خان گروپ کا اصل ہدف عثمان بزدار ہیں ، یہ دو گروپ زیر بحث تھے ہی پتہ چلا ملک غضنفر عباس چھینہ کا 14 ارکان اسمبلی کا الگ گروپ سامنے آگیا ، ساتھ ہی فیصل آباد کے MNA حضرات کے الگ گروپ کی خبریں بھی چلنے لگیں ، پنجاب اور سندھ سے خبریں تھمی نہیں تھیں پتہ چلا سردار یار محمد نے بلوچستان میں الگ مورچہ لگا لیا ہے اور خیبر پختونخوا میں BAP کے 4 ارکان نے بھی الگ اجلاس کر کے حکومت پر سخت تنقید کر دی ہے ،
یہ تو وہ گروپس ہیں جو میڈیا پر آ چکے ، شہباز شریف اور زرداری صاحب کے خفیہ رابطوں سے جب پردہ ہٹے گا تو اللہ جانے اندر سے کیا نکلے گا اس کے ساتھ لندن میں میاں نواز شریف ، جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کی ملاقاتوں کی بھی مارکیٹ میں بازگشت ہے کہ مستقبل کا اصل لائحہ عمل وہاں طے ہو رہا ہے ، گذشتہ کل پارلیمنٹ لاجز میں جو تماشا ہوا اس پر بھی آخرکار حکومت کو سبکی ہوگی ، عدم اعتماد کے حوالے سے سب کی نظریں طاقتور لوگوں پر تھیں ، گذشتہ کل DGISPR نے میڈیا بریفنگ کی جس میں بتایا گیا کہ 9 مارچ کو دہشت گرد بھارت نے پاکستان میں غیر مسلح میزائل بھیجا تھا ، بھارت سے نکلتے ہی وہ میزائل پاکستان کے نشانے پر آگیا تھا ، لیکن میاں چنوں کے قریب اسے گرایا گیا بلاشبہ مودی دہشتگرد اور سفاک انسان ہے ، مودی کی وجہ سے خطے میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے ، اس میڈیا بریفنگ کے دوران جب ترجمان سے سوال ہوا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ پاک فوج ان کے ساتھ ہے تو اس پر ترجمان میجر جنرل بابر افتخار صاحب نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا کہ پاک فوج کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ، پاک فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے یہی ہم سب کے لئے بہتر ہے ، یعنی جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ فلاں حکومت کے ساتھ ہے یا فلاں حکومت کو بچا لے گا تو یہ خوش فہمی اب دور ہو جانی چاہئیے اب وزیر اعظم صاحب کو اپنے تدبر اور صلاحیت سے خود اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو ناکام کرنا ہے ، لیکن اپوزیشن کا اعتماد اتنا بڑھا ہوا ہے کہ وہ صرف وزیراعظم نہیں بلکہ صدر پاکستان کو بھی ہٹانا چاہتے ہیں ، جس کے لئے انہوں نے آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان صاحب کے نام پر اتفاق بھی کر لیا ہے یعنی آئندہ صدر پاکستان ان دونوں شخصیات میں سے ایک ہوگا ، جو عارف علوی کی بقایا مدت پوری کرے گا۔
کل رات پارلیمنٹ لاجز میں گرفتاریوں کا جو عجیب واقعہ پیش آیا وہ سب کے سامنے ہے۔ میرا ایک سوال ہے خان صاحب سے کہ اپوزیشن نے عدم اعتماد کی تحریک جب شروع کی تو آپ نے تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں اپنی ساڑھے تین سالہ کارکردگی بتانی تھی لیکن حیرت ہے کہ آپ نے اخلاقی اقدار اور دلائل سے ہٹ کر بازاری انداز اختیار کیا اور اپنی اصل اوقات بتانا شروع کر دی۔ وزیر اعظم صاحب کے رد عمل سے یوں محسوس ہوتا ہے بظاہر خان صاحب کے گھر جانے کا وقت بھی آگیا ہے۔
‏مولانا جمال الدین ایم این اے کو پارلیمنٹ لاجز سے اس طرح دن دیہاڑے اغوا کرنا اور تشدد کرنا خان صاحب کی ذہنی پستی کی عکاسی کرتا ہے پاکستان کا ہر دین پسند اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں کی مذمت کرتا ہے داڑھی پگڑی کے تقدس کو پامال کرنے پر ہم شدید غم و غصے سے اس فعل کی مذمت کرتے ہیں..!
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
59266

تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر چوروں کیساتھ جو کروں گا اس کیلیے وہ تیار ہوجائیں، وزیراعظم

Posted on

تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر چوروں کیساتھ جو کروں گا اس کیلیے وہ تیار ہوجائیں، وزیراعظم

میلسی(سی ایم لنکس)وزیراعظم عمران خان نے جنوبی پنجاب کے لیے مزید 500 ارب روپے مختص کرنے اور اسے الگ صوبہ بنانے کے لیے جلد قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم لانے کا اعلان کردیا۔اس بات کا اعلان انہوں نے میلسی میں تحریک انصاف کے جلسہ عام سے خطاب میں کیا۔ جلسہ گاہ میں کارکنان اور مداحوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے پٹرول پر 10 روپے اور بجلی پر 5 روپے کم کیے اس لیے کہ اس بار ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس جمع کیا جس قدر ٹیکس جمع ہوتا رہے گا عوام کو ریلیف فراہم کرتے رہیں گے، لندن میں بیٹھے ہوئے بھگوڑے سے اگر پیسہ واپس آگیا تو پیٹرول ڈیزل کی قیمت آدھی کردوں گا۔عمران خان نے کہا کہ میں آج تک کسی کے سامنے نہیں جھکا اور جب تک زندگی ہے اپنی قوم کو بھی کسی کے سامنے جھکنے نہیں دوں گا، آج جتنی بھی مہنگائی ہے وہ پیپلز پارٹی کے دور سے کم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین کے سفیر نے پاکستان کو خط لکھا کہ روس کے خلاف بیان دیں، میں یورپی یونین کے سفیروں سے پوچھتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ کیا آپ نے جو خط ہمیں لکھا ہے کیا ا ٓپ نے وہ بھارت کو بھی لکھا؟ کیا ہم غلام ہیں کہ جو آپ کہیں ہم وہ کریں، ہم ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہیں، نیٹو کا ساتھ دینے پر ہم نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی، یورپی یونین کے سفیر بتائیں کہ ہم نے آپ کی مدد کی کیا آپ نے ہمارا شکریہ ادا کیا؟عمران خان نے کہا کہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی ملک کسی کے لیے جنگ لڑے اور اس پر وہی ملک ڈرون بمباری شروع کردے جس میں بے گناہ اور معصوم جانیں ضائع ہوں، اس وقت کے حکمرانوں کو شرم نہیں آئی کہ پاکستانی مررہے ہیں وہ کیوں خاموش رہے؟ وہ دو ڈاکو اس لیے نہیں بول رہے تھے کہ ان کا پیسہ باہر کے ملکوں میں موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ قوم بتائے کہ میں جب سے وزیراعظم بنا ہوں کیا ملک پر کوئی ڈرون حملہ ہوا؟ اگر میرے دور حکومت میں ڈرون نے حملے کی کوشش کی تو فضائیہ کو حکم دوں گا کہ ڈرون کو مار گرادے۔انہوں ں ے کہا کہ ہمارے چین، امریکا، روس سمیت سب سے اچھے تعلقات ہیں اور ہم کسی بھی ملک کے کیمپ میں نہیں، ہم جنگ میں کسی کا ساتھ نہیں دیں گے اور امن میں سب کے ساتھ ہیں اور کوشش کریں گے کہ یوکرین جنگ بند ہوجائے۔تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے انہوں ں ے کہا کہ یہ تحریک لا کون رہا ہے، نواز شریف جو جھوٹ بول کر ملک سے باہر چلے گئے، کبھی گیدڑ بھی لیڈر بن سکتا ہے؟ کبھی سنا ہے کہ لیڈر دم دبا کر بھاگ گیا؟ نواز شریف دوسری بار ملک سے بھاگے اور جھوٹ کہا کہ کوئی معاہدہ کرکے باہر نہیں گیا اور معاہدہ بھی سامنے آگیا۔عمران خان نے کہا کہ ن لیگ میں اچھے اچھے لوگ بھی ہیں جن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ گوگل پر سرچ کریں کہ کوئی مثال ایسی ہے کہ دو بچے پڑھنے باہر جائیں اور اربوں روپے کے محل میں رہیں اور پیسے پر جواب دیں کہ ہم پاکستانی شہری نہیں اور اس لیے جواب دہ نہیں۔

قائد حزب اختلاف شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر شہباز شریف کو گرفتار کرنا ہے تو مقصود چپڑاسی کو سامنے لے آئیں جس کے اکاؤنٹ سے شہباز شریف کے اربوں روپے نکلے، نواز شریف اور ان کی بیٹی فوج کے خلاف بیانات دیتے ہیں جب کہ شہباز شریف کو کوئی بھی بوٹ نظر آئے تو وہ اس کی پالش شروع کردیتے ہیں۔آصف زرداری کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو نواز شریف نے کرپشن پر دو بار جیل بھیجا، برطانیہ میں موجود سرے محل پر زرداری نے کہا کہ یہ محل میرا نہیں، محل فروخت کرکے پیسہ پاکستان لایا گیا پھر مشرف نے اسے این آر او دے دیا۔فضل الرحمان کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مولانا پڑھے لکھے اور معتبر شخص کو کہتے ہیں میں فضل الرحمان کو مولانا نہیں کہوں گا کیوں کہ جو ڈیزل کے پرمٹ کو بیچ کر پیسے بنائے وہ معتبر نہیں، فضل الرحمان کہتے ہیں کہ یہودی ملک کے خلاف سازش کررہے ہیں، فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو ملک کے خلاف سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ فضل الرحمان دین کے نام پر پیسے بناتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ مدرسے کے بچے ملک کا بڑا اثاثہ ہیں جنہیں فضل الرحمان پیسہ بنانے اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں جس کی میں مذمت کرتا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا ایک واچ ڈاگ ہوتا ہے، میڈیا کرپٹ لوگوں کے قریب نہیں جاتا، میڈیا میں جو ڈاکوؤں کی حمایت کر رہے ہیں کیا آپ چاہیں گے آپ کا بیٹا فضلو ڈیزل، نواز شہباز چور یا زرداری ڈاکو بن جائے؟عمران خان نے مزید کہا کہ میں 25 سال قبل ان کا مقابلہ کرنے آیا تھا جب تک جسم میں خون ہے مقابلہ کروں گا، میری پوری تیاری ہے کہ یہ جو بھی کریں ان کا مقابلہ کروں گا، ان کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے پر میں ان چوروں کے ساتھ جو کروں گا وہ اس کے لیے تیار ہوجائیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
59112