The Voice of Chitral since 2004
Friday, 26 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

تجار یونین چترال کے نومنتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری، ڈی سی اور اے سی چترال کے تبادلہ کا مطالبہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) تجار یونین چترال کے نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب ہفتے کے روز چترال کے ایک مقامی ہو ٹل میں منعقد ہوئی ۔ جس کے ایم پی اے چترال ہدایت الرحمن مہمان خصوصی اور سابق ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ صدر محفل تھے ۔

مہمان خصوصی ایم پی اے چترال نے نومنتخب کابینہ سے حلف لیا ۔ انہیں مبارکباد دی اور کہا ۔ کہ تجارت ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اور جہاں معشیت مضبوط ہو ۔ وہاں لوگ خوشحال ہوں گے ۔ اس لئے چترال کی ترقی میں چترال بازار کا اہم کردار ہے

۔ اس موقع پر خطاب کرتےہوئے عبوری صدر تجار یونین چترال حبیب حسین مغل نے تجار یونین کے انتخابات کے دوران انتظامیہ چترال کی طرف سے عدم تعاون پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے عدم تعاون انتہائی افسوسناک ہے ۔ جس کی ہم پر زور مذمت کرتےہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایساڈپٹی کمشنر جو تجار یونین جیسے اہم یونین کے ساتھ سیدھے منہ بات بھی کرنے کیلیے تیار نہیں ۔ اسے کیسے قبول کیا جا سکتا ہے ۔ حالانکہ حکومت کا سارا کاروبار تجارتی آمدنی سے چلتا ہے ۔ انہوں نے تمام سیاسی قائدین سے مطالبہ کیا ۔ کہ موجودہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کو فوری طور پر چترال سے تبدیل کرنے کیلئے اقدامات کریں ۔ انہوں نے الیکشن میں بھر پور تعاون کرنے پر ڈی پی او چترال سونیہ شمروز خان ، چترال پریس کلب کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ ان کی کوششوں سے یہ ممکن ہوا ۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب صدر بشیر احمد نے کہا ۔ کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران چترال بازار کے دکانداروں کے ساتھ زبردست ظلم ہوا ۔ اور روزانہ کی بنیاد بہانہ بناکر کئی دکانداروں کو ہزاروں روپے جرمانے کی سزا ئیں دی گئیں ۔ جس میں انتظامیہ کے ساتھ ملی بھگت میں سابق صدر بھی شامل رہا ۔ انہوں نے کہا۔ کہ دکانداروں کا کاروبار کویڈ 19 کی وجہ سے پہلے ہی تباہ ہو چکا ہے ۔ اب انتظامیہ کو بلا وجہ جرمانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ۔ کہ تجارت ایک معزز پیشہ ہے ۔ اس لئے تاجروں کے ساتھ مجرموں جیسا سا سلوک بند کیا جانا چاہئیے۔ چترال کے دکانداروں کی شرافت کا مزید ناجائز فائدہ نہ لیا جائے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ۔ کہ موجودہ کابینہ انتخابی اپوزیشن اور سیاسی قائدین سے مشاورت کے ساتھ بازار کے مسائل حل کرے گی ۔

تقریب سے رہنما صدر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریف حسین ، امیر جماعت اسلامی اخونزادہ رحمت اللہ امیر جمیعت العلماء اسلام مولانا عبد الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ تجارت پیغمبروں کا پیشہ ہے ۔ اور صحیح تاجر کا حشر صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہو گا ۔ اس لئےتاجر اسلامی اصولوں کے مطابق گرانفروشی اور ذخیرہ اندوزی سے پاک تجارت کو اپنا شعار بنائیں ۔ جس سے مال میں برکت ہوگی ۔ اور چترال بازار میں ایسے تاجر موجود ہیں۔ جو عبادت سمجھ کر تجارت کرتےہیں ۔

انہوں نے تجار یونین کے حالیہ الیکشن میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال کے عدم تعاون پر انتہائی افسوس کا ا ظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ جو آفیسر اخلاق سے لوگوں سے ملنے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔ اسے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ انہوں نے بھی ڈی سی چترال کے تبادلے کا مطالبہ کیا ۔ صدر محفل سابق ضلع ناظم نے اپنے خطاب میں شفاف الیکشن منعقد کرنے میں تعاون کرنے پر چترال پریس کلب کا شکریہ ادا کیا ۔

انہوں نے کہا کہ تجار یونین ایک باوقار اور معزز لوگوں کی تنظیم ہے ۔ اور تمام تنظیمات کی ماں ہے ۔ اسلئے انتظامیہ اس کے مسائل کو سنجیدہ لے ۔ تقر یب سے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر عیدالحسین ، ریٹائرڈ صوبیدار میجر عبدالصمد ،صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ ، مولانا گلاب الدین ، رہنما پی ٹی آئی نثار دستگیر نے بھی خطاب کیا ۔

chitraltimes tujjar union chitral oath1
chitraltimes tujjar union chitral oath maghfirat shah
chitraltimes tujjar union chitral oath2
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged , ,
52573

تجار یونین چترال کےانتخابات ۔ محکم الدین ایونی

تجارت کسی بھی معاشرے کے استحکام کیلٸے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس لۓ موجودہ دور میں وہ ممالک سب سے مضبوط اور طاقتور سمجھے جاتے ہیں ۔ جو مالی لحاظ سے مستحکم ہوں ۔ لین دین کی بنیاد وہ باہمی اعتماد ہے ۔ جو ایک گاہک اور دکاندار کے مابین شروع ہوتی ہے ۔

چترال سرکاری مردم شماری کے مطابق چار لاکھ سینتالیس ہزار اور غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سات لاکھ سے زیادہ ابادی پر مشتمل ہے ۔ جو کہ اب دو اضلاع میں منقسم ہو چکا ہے ۔ لیکن اگر دیکھا جاۓ ۔ تو اپر چترال کی ابادی کی خریداری کا بڑا انحصار اب بھی لوٸر چترال کے مین بازار پر ہے ۔اس لٸے تعمیرات سے لے کر خوراک پوشاک تعلیم و صحت اور غمی و خوشی کی تمام تر خریداری کا بڑا مرکز چترال مین بازار ہی ہے ۔ جس میں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے ۔ اس لٸے اس بازار کی کاروباری اہمیت مسلمہ ہے۔ اور اس کی تنظیم تجار یونین چترال کے نام سے بہت مضبوط تنظیم ہے ۔ جو چترال کے نامور شخصیات کی سرپرستی میں بہت قدیم سے قاٸم ہے ۔ بد قسمتی سے گذشتہ الیکشن سے تاجر یونین کو نظر لگ گٸی تھی۔ اور تجاریونین کے اندر اختلافات ذاتیات کی شکل اختیار کر چکے تھے ۔ ان تنازعات کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ چترال تجار یونین کے انتخابات کے حق میں نہیں تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ تجار یونین کی عبوری کابینہ جب انتخابات کیلٸے پولنگ بوتھ قاٸم کرنے کے سلسلے میں ٹاون ہال اور پولوگراونڈ کی منظوری طلب کی, توڈپٹی کمشنر چترال نے صاف انکار کر دیا۔ بلکہ کامرس کالج ہال میں بھی تجار یونین کے انتخابات کی اجازت نہیں دی گٸی ۔ جو تجار یونین اور تمام ممبران کیلٸے ایک بڑے دھچکے سے کم نہیں تھی ۔

ایسے ماحول میں دو اداروں چترال پولیس اور چترال پریس کلب کا کردار نہایت ہی قابل ستاٸش ہے ۔ جنہوں نے عبوری کابینہ تجار یونین چترال کی درخواست قبول کرکے اپنے ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ۔ اور ان کے مطالبے پر اپنی زیر نگرانی انتہاٸی شفاف طریقے سے ڈور ٹو ڈور جا کر دونوں امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں تمام دکانداروں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی۔ اور دونوں امیداروں اور ان کے پولنگ ایجنٹوں کی موجودگی میں گنتی کرکے نتاٸج کا اعلان کیا ۔ جس کو تجار یونین کے عبوری کابینہ کے صدر حبیب حسین مغل وکامیاب شدہ امیدوار بشیر احمد اور رنر اپ امیدوار نور احمد چارویلو نے نہ صرف تحریری طور پر قبول کیا ۔ بلکہ پریس کلب میی انتخابی نتاٸج کے اعلان سننے کیلٸے جمع شدہ جمع غفیر سے خطاب کرتے ہوٸے نور احمد چارویلو نے جس جمہوری روایات کی پاسداری کی مثال قاٸم کرتے ہوٸے ڈی پی او چترال محترمہ سونیہ شمروز خان ، صدر پریس کلب ظہیرالدین اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ۔ اور کہا۔ کہ ان دونوں اداروں کی مشترکہ کوششوں اور تعاون سے الیکشن شفاف طریقے سے ہونے ممکن ہوٸے اور میں دل سےتاجروں کا فیصلہ قبول کرتا ہوں ۔

چارویلو کی اس خطاب سے ان کی خاندانی شرافت ، سیاسی بالیدگی اورجمہوری ذہن کی عکاسی ہوتی ہے ۔ انہوں نے نہ صرف اپنے حریف نو منتخب صدر بشیراحمداور ان کی کابینہ کو مبارکباد دی ۔ بلکہ ان کےشانہ بشانہ چترال بازار کے مساٸل حل کرنے کیلٸے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ جبکہ بشیر احمد نے بھی نور احمد چارویلو کو ساتھ لے کر دکانداروں کو درپیش مساٸل حل کرنے کی یقین دھانی کی۔

خصوصا چترال بازار میں انتظامیہ کی طرف سے دکانداروں کو أٸے روز بھاری جرمانہ کرنے کے خلاف مشترکہ طور پر بھرپور اواز اٹھانے کے عزم کااظہار کیا ۔ لیکن بعض افراد کو کامیاب اوررنراپ امیدواروں کے باہمی تعاون کا فیصلہ بالکل بھی نہیں بھایا ۔ اور انہوں نے فیس بک پر شفاف ترین الیکشن کے خلاف بنیاد پروپگنڈا کرکے باہمی تعاون کی فضا کو انتقام اور نفرت میں تبدل کرنےکی کوشش کی ہے ۔ ” پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو “ محاورے کےمصداق تاجر اپس میں دست و گریبان ہوں ۔ اور ادارے اپس کی اس اختلاف سے فاٸدہ اٹھاٸیں ۔ یہ رویہ کسی بھی چترالی فرد خصوصا دکانداروں کے مفاد میں نہیں ہے۔ میری فیس بکی دوستوں سے گذارش ہے ۔ کہ وہ کم از کم ایسا لطیفہ تو گھڑیں ۔ جس میں پانچ فیصد حقیقت ہو اور چترالی قوم کے مفاد میں ہو ۔ سو فیصد جھوٹ کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
52265