The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 20 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بیوی جب تقاضہ کرے شوہر حق مہر ادا کریگا: سپریم کورٹ

Posted on

بیوی جب تقاضہ کرے شوہر حق مہر ادا کریگا: سپریم کورٹ

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ) سپریم کورٹ نے اہلیہ کو حق مہر کی ادائیگی کے حکم کے خلاف اپیل خارج کردی۔سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خاتون جب بھی تقاضا کرے شوہر حق مہر کی ادائیگی کا پابند ہوگا۔اس حوالے سے 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے۔عدالت نے 6 سال تک حق مہر ادائیگی میں تاخیر پر شوہر پر ایک لاکھ جرمانہ کردیا اور شوہر کو قانونی چارہ جوئی کے اخراجات کی ادائیگی کا بھی حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ حق مہر شرعی تقاضا ہے جس کا تحفظ ملکی قوانین میں بھی ہے، حق مہر کی ادائیگی کا وقت نکاح نامے میں مقرر نہ ہو تو بیوی کسی بھی وقت تقاضا کرسکتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خاتون کو حق مہر کے لیے مقدمہ دائر کرنا پڑا جو 6 سال بعد سپریم کورٹ پہنچا، عدالتوں نے غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے پر شوہر پر جرمانہ عائد نہیں کیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر ضروری اپیلوں پر جرمانہ کیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی، غیر ضروری اپیلیں دائر کرنے سے عدالتی نظام مفلوج ہوتا جارہا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بلاوجہ کی مقدمہ بازی ختم کرنے کے لیے عدالتوں کو جرمانہ کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہیے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی بڑی کامیابی

جنیوا(سی ایم لنکس) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئیں پاکستان کی تجویز کردہ 4 قرار دادیں منظور کرلی گئیں جن کا مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور عالمی سلامتی کو تقویت دینا تھا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان میں سے دو قراردادوں کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا جب کہ دیگر 2 کو اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی۔ یہ پاکستان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ان قراردادوں کی منظوری علاقائی امن اور عالمی استحکام کو فروغ دینے اور سیکیورٹی کے دیگر اہم مسائل پر پاکستان کے مو?قف کے لیے عالمی برادری کی وسیع حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔پاکستان کی جانب سے پیش کی گئیں پہلی دو قراردادیں تخفیفِ جوہری اسلحہ اور علاقائی اور ذیلی علاقائی تناظر میں اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق تھیں جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔تیسری قرارداد ”علاقائی اور ذیلی علاقائی سطحوں پر روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول”کے حق میں 193 میں سے 186 رکن ممالک نے ووٹ دیے۔ قرارداد کی مخالفت کرنے والوں میں بھارت بھی شامل تھا۔اس قرارداد میں ایک اہم پہلو جس پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ علاقائی تناظر میں ضرورت سے زیادہ روایتی فوجی خطرے کو تسلیم کرنا تھا جس کی واضح مثال جنوبی ایشیا میں بھارت کا جنگی جنون ہے۔پاکستان کی چوتھی قرارداد کا عنوان تھا جوہری ہتھیاروں کے استعمال یا استعمال کے خطرے کے خلاف غیر جوہری ریاستوں کے حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے موثر بین الاقوامی انتظامات کرنا تھا۔ اس قرارداد کو 123 ووٹوں سے منظوری ملی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
82678