بیلٹ پیپر کی کمی؛ الیکشن کمیشن کا کچھ حلقوں میں انتخابات مؤخر کرنے کا عندیہ
بیلٹ پیپر کی کمی؛ الیکشن کمیشن کا کچھ حلقوں میں انتخابات مؤخر کرنے کا عندیہ
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) بیلٹ پیپر کی کمی کے باعث کچھ حلقوں میں انتخابات مؤخر ہونے کا امکان ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقوں میں بیلٹ پیپر کی دوبارہ چھپائی کے مسئلہ پر ایک ہنگامی اجلاس میں غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ جن حلقوں میں بیلٹ پیپر کی دوبارہ چھپائی کرانا پڑ رہی ہے، وہاں پر چھپائی کے سلسلہ کو ملک کے دیگر حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا تاہم اس کا دارومدار خصوصی سیکیورٹی کاغذ اور وقت کی دستیابی کے ساتھ پرنٹنگ پریسوں کی استطاعت پر منحصر ہو گا اور اگر خصوصی سیکیورٹی کاغذ مطلوبہ مقدار میں دستیاب نہ ہوا تو کمیشن کے پاس ان حلقوں میں انتخابات مؤخر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہے گا۔اجلاس میں اس امر پر غور کیا گیا کہ کہ ایسے وقت کہ جب انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرز کی طباعت مکمل کی جا رہی ہے، کچھ حلقوں میں دوبارہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کرانا پڑ رہی ہے جس کے لیے اس مرحلہ پر درکار خصوصی سیکیورٹی کاغذ کی دستیابی اور بروقت چھپائی کی تکمیل ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ جہاں 2018 کے عام انتخابات میں بیلٹ پیپرز کی طباعت کے لیے 800 ٹن خصوصی سیکیورٹی کاغذ استعمال ہوا تھا، وہاں 2024ء میں حصہ لینے والے امیدواروں کی ایک کثیر تعداد کے پیش نظر لگ بھگ 2400 ٹن خصوصی سیکیورٹی کاغذ کی ضرورت پڑی تاہم کمیشن نے صورت حال کی سنگینی کے باعث بیلٹ پیپر کے سائز کو کم کرنے کا فیصلہ کیا جس سے خصوصی سیکیورٹی کاغذ کی ضرورت 2170 ٹن رہ گئی تاہم یہ تعداد محض ایک دفعہ بیلٹ پیپر کی چھپائی کے لیے بمشکل کافی ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس صورت حال میں کچھ حلقوں میں بیلٹ پیپرز کی دوبارہ چھپائی کا بڑھتا ہوا سلسلہ اور اس مقصد کے لیے درکار خصوصی سیکیورٹی کاغذ کی اس مرحلہ پر بروقت دستیابی اور چھپائی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔
ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے، سپریم کورٹ
اسلام آباد(سی ایم لنکس)میں کاغذات نامزدگی منظوری کے لیے دائر اپیل پر سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے، جو انتخابات میں تاخیر کا سبب بنے۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 244 بہاول نگر میں کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف اپیل پر سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے پی پی 244 سے امیدوار مظفر خان کی کاغذات نامزدگی منظوری کے لیے دائر اپیل خارج کردی۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے اپیل دائر کرنے میں 12 دن کی تاخیر کی۔ اگر بروقت اپیل دائر ہوتی تو انتخابات کے لیے اجازت مل سکتی تھی۔ ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جو انتخابات میں تاخیر کا باعث بنے۔دوران سماعت اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال کی جانب سے بتایا گیا کہ کئی اضلاع میں بیلٹ پیپرز کی ترسیل کا عمل بھی جاری ہے۔ اس مرحلے پر کاغذات منظور کیے گئے تو حلقے میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے کاغذات نامزدگی مستردکیے جانے کے خلاف اپیل خارج کردی۔واضح رہے کہ درخواست گزار ملک مظفر خان کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی بہاول نگر سے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے۔