بھکاری گینگ اور مجاہد فورس….. شریف شکیب
پارلیمانی سیکرٹری برائے امور داخلہ نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے گداگری کی روک تھام کیلئے مجاہد فورس تشکیل دی ہے، یہ فورس شہر میں بھیک مانگنے والوں کے خلاف کاروائی کرتی ہے، مانگنے والوں کو گرفتار کر کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے، پہلی بار گرفتاری پرانہیں وارننگ دی جاتی ہے اگر وہ دوبارہ بھیک مانگتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے،یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ حال ہی میں ایک بڑا گینگ گرفتار کیا گیا ہے،گینگ میں ٹھیکیدار بھی پکڑے گئے ہیں جو قریبی علاقوں سے پیشہ ور گداگروں کوگاڑیوں میں لاکر شہر کے مختلف چوکوں میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے اور شام کو کمائی سمیت انہیں اٹھالے جاتے تھے۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ 8پولیس اہلکار بھی گداگری کے دھندے میں ملوث تھے، ان تمام اہلکاروں کو نوکری سے نکال دیا گیا اور وہ جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔2020میں اب تک10ہزار988 بھکاریوں کو گرفتار کیا گیا گرفتار ہونے والوں میں 2797مرد،1842خواتین،2941بچے،1788بچیاں اور206خواجہ سرا شامل ہیں۔تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان میں پولیس والوں کی تعداد کتنی ہے۔ لوک کہانیوں میں جب تک لومڑی کا ذکر نہیں ہوگا۔ کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ ہماری زندگی کی کہانی میں بھی پولیس لومڑی کا کردار ادا کرتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ پالتوجانوروں میں کتا اورغیرپالتو جانوروں میں لومڑی بہت چالاک اور ہوشیار ہوتی ہے۔ہماری زندگی کی کہانیوں کے کرداروں میں پولیس بہت چالاک کردار ہے۔ ہم نے عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری پولیس کو سونپ دی ہے اس لئے وہ جو کچھ کرتی ہے عوام کے لئے کرتی ہے اور عوام میں پولیس والوں کے اپنے اہل و عیال بھی شامل ہیں۔یہ کثیر الجہت کردار اپنے ہرکردار میں منفرد نظر آتا ہے۔خواہ وہ کردار نہایت بدکرداری کا ہی کیوں نہ ہو۔ کبھی وہ گداگری مافیا کے گینگ میں شامل دکھائی دیتی ہے تو کھبی ڈاکوؤں کی صف میں نظر آتی ہے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک لطیفہ شیئر ہوا ہے ایک صاحب کہتے ہیں کہ رات ان کے گھر میں ڈاکو گھس آئے۔اس نے کمرے سے کلاشنکوف نکال لیا تو ڈاکو ہتھیار دیکھ کر بھاگ گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں پولیس آئی اور انہوں نے یہ کہہ کر گھر کی تلاشی شروع کردی کہ ان کی اطلاع کے مطابق اس گھر میں کلاشنکوف موجود ہے۔ گھر کے مالک نے کھلونا کلاشنکوف لاکر پولیس کا دکھایا کہ وہ یہ بچوں کے لئے لایاتھا۔ پولیس والے مطمئن ہوکر چلے گئے تھوڑی دیر بعد ڈاکو دوبارہ آگئے مالک مکان کے ہاتھ سے کھلونا کلاشنکوف لے کر پھینک دیا اور لوٹ مار کرکے فرار ہوگئے۔اس کہانی کا کیا خلاصہ بنتا ہے یہ ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں موجود جیب کتروں، بازاروں اور گاڑیوں میں خواتین سے پرس چھینے والوں، ویران مقامات پر گھات لگاکر مسافروں کو لوٹنے والوں سے لے کر بڑے بڑے ڈاکوؤں، لٹیروں، رہزنوں،بھاری تاوان کے لئے متمول لوگوں کو اغوا کرنے والوں کے علاوہ بھیک مانگنے والے پیشہ ور گداگروں سے بھی پولیس کے خفیہ تعلقات ہوتے ہیں۔اس بات کو منفی انداز میں نہیں لینا چاہئے۔معاشرے کے بدقماش طبقے سے تعلق رکھنا اپنی بقاء کے لئے بھی ضروری ہے اور پھر جب تک ایسے طبقے میں پولیس کے بندے نہ ہوں تو ان کی سرگرمیوں کا پولیس کو کیسے پتہ چلے گا۔ میری تو یہ تجویز ہے کہ سادہ لباس میں پولیس اہلکاروں کو جرائم پیشہ گروہ میں بھرتی کرنا چاہئے تاکہ ان کی سرگرمیوں کی روزانہ کی بنیاد پر پولیس کو اطلاع ملتی رہے۔اگر اس دوران وہ چھوٹی موٹی وارداتیں کرکے کچھ مال بناتے
ہیں تو یہ ان کی محنت کا صلہ ہے۔جس طرح انسان کے ہاتھ اور پاؤں کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح ایک خاندان کے سارے لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ان میں سے کچھ بہت اچھے، کچھ درمیانہ، کچھ برے اور چند ایک بہت برے ہوتے ہیں اسی طرح ہزاروں افراد پر مشتمل پولیس فورس میں اگر چند سو لوگ مجرمانہ ذہنیت رکھتے ہیں تو یہ عین انسانی فطرت ہے۔ اس کا بالکل برانہیں منانا چاہئے۔ مشہور ماہر نفسیات ڈیل کارنیگی کہتے ہیں کہ انسانوں میں فطری طور پر کچھ لوگ منفی اور کچھ مثبت سوچ کے حامل ہوتے ہیں آدھا گلاس پانی سامنے رکھ کر آپ لوگوں سے پوچھیں گے تو کچھ لوگ کہیں گے کہ آدھا گلاس خالی ہے صرف آدھے حصے میں پانی ہے اور کچھ لوگوں کا جواب ہوگا کہ گلاس کا آدھا حصہ اگرچہ خالی ہے لیکن آدھا گلاس تو پانی سے بھرا ہوا ہے۔ یہی منفی اور مثبت سوچ کی پہچان ہے۔