The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بگڑا ہوا لاڈلا – تحریر عبد الباقی چترالی

بگڑا ہوا لاڈلا – تحریر عبد الباقی چترالی

گھر میں والدین کا بچوں کے ساتھ پیارو محبت کرنا فطری آمر ہے۔لیکن والدین کا کسی ایک بچے کے ساتھ شدید محبت اسے لاڈلا بنا دیتا ہے۔مان باپ اسے کے ہر ناجائز پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ چاہئے وہ بڑا نقصان کرے تو ماں باپ سزا دینے سے اجتناب کرتے ہیں۔کیونکہ وہ مان باپ کا لاڈلا ہوتا ہے۔چائیے وہ کچھ بھی کرے مان باپ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ماں باپ لاڈلے کے ناز و نخرے برداشت کرتے رہتے ہیں۔لاڈلے عموماً ضدی اور گستاخ ہوتا ہے۔وہ لاڈلا پن کی وجہ سے ماں باپ اور رشتہ داروں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتا ہے۔لاڈلے نہ کسی کا بات سنتا ہے ۔اور نہ ماں باپ کا اخترام کرتا ہے۔اور نہ دوسروں کا لحاظ رکھتا ہے۔ وہ اپنی من مانی کرتا رہتا ہے۔گلم گلوچ اور لڑائی جھگڑے سے بھی دریغ نہیں کرتا ہے۔بگڑا ہوا لاڈلا اپنے گھر والوں، رشتہ داروں، بلکہ پورے معاشرے کے لئے خطرناک ہوتا ہے۔
جس طرح کپتان  اس وقت ملک اور ریاستی اداروں کے لئے حطرناک بن چکا ہے۔لاڈلے کے ساتھ سرپرست اور بعض ریاستی ادارے جو نرم رویہ اختیار کیئے ہوئے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں اسے کی مثال نہیں ملتی۔اس کی کسی حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔وہ جو جی چاہے کرے۔وہ خود کو آئین اور قانون سے بالاتر سمجھتا ہے ۔جو سلوک ریاستی اداروں نے ماضی میں دوسرے سیاست دانوں کے ساتھ کئے ہیں۔ان کا موزینہ موجودہ لاڈلے کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ماضی میں اس ملک کے عوام نے سیاستدان کے ساتھ کیا کچھ ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔اس ملک میں ماضی میں سیاستدان کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا۔کسی کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا، کسی کو جلا وطن کیا گیا۔اور کسی کو مال مویشیوں کی طرح جیل میں ڈال دیا گیا۔جبکہ لاڈلے کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔وہ چاہے جو بھی کرے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔لاڈلا زمہ داروں کے خاموشی اور نرم رویہ سے نا جائز فائیدہ اٹھا کر مشکل کی اس گھڑی میں ملک کو انتشار سے دوچار کرنا چاہتا ہے۔یہ پاکستان کی قومی اداروں کی زمہ داری بنتی ہے وہ ملک میں انتشار اور بد آمنی پھلانے والوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں لاکر ملک کو مزید انتشار سے بچانا چاہیے۔
سرپرستوں نے لاڈلے کو اقتدار اور حکومت چلانے میں ہر ممکن مدد فراہم کئے۔ اپنی ناتجربہ کاری اور نا اہلی کی وجہ سے حکومت چلانے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔سرپرست کچھ عرصے تک لاڈلے کے ناز و نخرے برداشت کرتے رہے،جب ان کے مطالبات اور خواہشات حد سے بڑھ گئے۔تو سرپرستوں نے لاڈلے کے سر سے دست شفقت اٹھا لیا۔تو لاڈلے سرپرستوں کے مدد کے بغیر چند مہینے حکومت چلانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔اور آسمان سے زمین پر گر گیا۔لاڈلا اپنے اقتدار سے محرومی کو بیرونی سازش اور سرپرستوں کی بے وفائی کا نتیجہ قرار دے کر ان پر الزامات لگا رہا ہے۔وہ سرپرستوں کو جانور، میر صادق اور میر جعفر جیسے القاب سے نوازتے رہتے ہیں۔ اپنی ناکامیوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر سرپرستوں پر الزامات عائد کر رہا ہے۔ حالانکہ وہ اپنی نا تجربہ کاری اور ناقص حکمرانی کی وجہ سے اقتدار سے محروم ہوئے ہیں۔
شاید لاڈلے کو سرپرستوں کی ناقدری کرنے والوں کے عبرت ناک انجام سے سبق حاصل نہیں ہوئے۔لاڈلے کو سرپرستوں کی ناقدری کی سزا بھگتنا پڑے گا۔اب لاڈلے کا انجام بھی سابقہ حکمرانوں جیسا ہونے کا امکان نظر آرہا ہے۔گزشتہ چار سالوں سے لاڈلا خود کو صادق اور آمین اور خزب احتلاف کے راہنماؤں کو چور، ڈاکو ،لٹرے اور ڈیزل کھ کر کردار کشی کرتے رہے۔جب الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا، تو ملک کے بائیس کروڑ عوام حیران رہ گئے۔کہ مدینہ کا درس دینے والا صادق اور آمین سابقہ وزیراعظم فارن فنڈنگ کیس میں بری طرح ملوث پائے گئے۔اسے کی امانت داری ،دیانتداری اور خودداری خاک میں مل گئی۔وہ پاکستانی عوام کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔یہ بات ہمیشہ سچ ثابت ہوئی ہے، جو آسمان کی طرف تھوکتا ہے وہ واپس منہ پر ہی گرتا ہے۔
فارن فنڈنگ کیس کے بعد لاڈلے کا اصل چہرہ پاکستانی عوام کے سامنے عیاں ہوا، کہ وہ کسے کردار کا مالک ہے۔دنیا میں ہر انسان کی عزت اسے جان سے زیادہ عزیز ہوتی ہے۔بعض اوقات انسان اپنی عزت بچانے کی خاطر جان بھی قربان کر دیتا ہے۔جو لوگ دوسروں کے عزت کا خیال نہیں رکھتے ہیں،تو اللّٰہ تعالیٰ دنیا میں ہی لوگوں کے سامنے اسے ذلت اور رسوائی سے دوچار کر دیتا ہے۔جو دوسروں کے غزت کا خیال نہیں رکھتا ہے ، خود اس کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے لاڈلے اور پارٹی کارکنان  خزب احتلاف کے راہنماؤں کی کردار کشی بے عزتی کرتے رہے۔لیکن عدالتوں سے کسی پر چوری اور کرپشن کے الزامات تاحال ثابت نہیں ہوئے۔
وہ جیلوں سے رہا ہوکر حکومت چلا رہے ہیں۔ اختساب کے نام پر ریاستی اداروں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنا کر جیلوں میں ڈال کر لاڈلا خوشیاں مناتے رہے۔ شاہد اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ آسمان اس پر گرنے والی ہے۔دوسرون کی بے غزتی کرنے والا خود غزت اور سکون کی زندگی نہیں گزار سکتا ہے۔
پاکستان کے بے لگام میڈیا والوں کو کسی کے متعلق کچھ کہنے اور لکھنے سے پہلے خوب سوچ لینا چائیے، کہ وہ چند ٹکوں کی خاطر یا کسی کی خوشنودی کے لئے حقیقت سے انحراف کر کے لوگوں پر جھوٹے الزامات لگا کر  ان کی بے غزتی اور کردار کشی کرتے رہتے ہیں۔ان کو یہ بات خوب سوچ لینی چاہیے کہ دوسروں کی عزت داغ دار کرنے والوں کی عزت خود محفوظ نہیں رہ سکتی ہے۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
65789