The Voice of Chitral since 2004
Monday, 4 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ہندوکش کے دامن سے ۔ بگڑا ہوا عالمی طاقت ۔ عبدالباقی‎

Posted on

ہندوکش کے دامن سے ۔ بگڑا ہوا عالمی طاقت ۔ عبدالباقی

شیر جنگل کے کمزور جانوروں کے خون اور گوشت سے طاقت حاصل کرکے جنگل کا بادشاہ کہلاتا ہے۔ اگر اسے چند دنوں تک گوشت نہ ملے تو وہ اتنا کمزور اور لاغر ہو جائے گا کہ گیدڑ کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔

امریکہ بھی ترقی پذیر اور کمزور ممالک کو ڈرا دھمکا کر ان کے قدرتی وسائل پر طاقت کے ذریعے زبردستی قبضہ کرکے اپنی معیشت اور دفاعی صنعت کو فروغ دے کر سپر پاور بنا، اور دنیا پر اپنی مرضی مسلط کر رہا ہے۔ جس وقت کمزور ممالک اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کرنے کے قابل ہو جائیں گے، اسی وقت امریکہ کے دنیا پر حکمرانی کا خواب خاک میں مل جائے گا اور وہ سپر پاور سے زیرو پاور بن جائے گا۔

کیونکہ امریکہ کمزور ممالک کے قدرتی وسائل پر ناجائز قبضہ کرکے عالمی طاقت بنا ہے۔ امریکہ اپنے مفادات کی خاطر پہلے کمزور ممالک کو ڈرا دھمکا کر اور دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اس طریقے سے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو مختلف بے بنیاد بہانے بنا کر اس ملک پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔

جس طرح عراق پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کے الزامات لگا کر حملہ کیا گیا، لاکھوں عراقیوں کو شہید کیا گیا اور ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔ جنگ کے بعد اقوام متحدہ کے ماہرین کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا نام و نشان تک نہیں ملا۔

اسی طرح 2002 میں افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات لگا کر بیالیس اتحادی ممالک کے ہمراہ افغانستان پر حملہ آور ہوا گیا، طالبان حکومت کا خاتمہ کیا گیا اور بیس سال تک طالبان سے جنگ لڑی گئی۔ آخرکار طالبان کے سامنے بے بس ہو کر مذاکرات کے ذریعے حکومت طالبان کے حوالے کی گئی اور ذلت آمیز شکست قبول کرکے افغانستان سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

جہاں امریکہ خود براہ راست حملہ کرنا نہیں چاہتا، وہاں وہ اپنے بغل بچے اسرائیل کے ذریعے حملے کرواتا ہے، جیسے فلسطین، لیبیا، شام، یمن اور ایران پر حملے کیے گئے۔ امریکی پشت پناہی سے اسرائیل تین سال تک غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کرتا رہا۔ نہ کوئی قانون حرکت میں آیا، نہ کوئی عالمی ادارہ، اور نہ ہی اسلامی ممالک۔

اسرائیل نے امریکی پشت پناہی کی وجہ سے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اسلامی ممالک کی جنگ بندی قراردادوں پر تھوکتے ہوئے بہتر ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا اور غزہ شہر کو کھنڈرات میں بدل دیا۔

امریکی مفادات کے سامنے انسانی حقوق، عالمی قوانین، کسی ملک کی آزادی اور خودمختاری کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ لاکھوں بچوں، بزرگوں اور خواتین کا خون بہا کر اپنے مفادات حاصل کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتا۔

گزشتہ دنوں امریکہ نے وینزویلا پر بے بنیاد الزامات لگا کر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے جو شرمناک کردار ادا کیا، وہ قابلِ مذمت اور امریکی غنڈہ گردی کا واضح ثبوت ہے۔

وینزویلا کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اچانک خراب نہیں ہوئے بلکہ کئی سالوں سے کشیدہ چلے آ رہے تھے۔ وینزویلا امریکی ناراضگی کے باوجود چین کو اپنا خام تیل فروخت کر رہا تھا اور تیل کی قیمت ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوان میں وصول کر رہا تھا۔ دوسری طرف وینزویلا روس سے دفاعی ہتھیار خرید رہا تھا اور ایران سے بھی تعلقات بڑھا رہا تھا، جو امریکہ کی نظر میں ناقابلِ معافی جرم ہے۔

چنانچہ 30 دسمبر 2025 کو امریکہ کا جذبۂ انتقام بھڑک اٹھا۔ صبح سویرے امریکی اسپیشل ملٹری فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے امریکہ منتقل کر دیا۔ اس تیز ترین کارروائی پر دنیا حیران رہ گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کے بعد کولمبیا اور ایران کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔ جن ممالک کے پاس تیل اور دیگر قدرتی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، انہیں اپنے قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر کوئی مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے۔

خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے وہ ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں اور اپنے دفاع کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں، وینزویلا کے حالات و واقعات ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔

ایک میڈیائی رپورٹ کے مطابق صدر مادورو کے اردگرد رہنے والے بعض ساتھیوں نے میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کیا، جس سے مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری مختصر وقت میں ممکن ہوئی۔

جس طرح اسرائیل۔ایران جنگ کے موقع پر اسرائیل نے ایران کے اندر اپنے ایجنٹ داخل کرکے اہم مقامات اور شخصیات کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور ایران کے چوٹی کے جوہری سائنسدانوں اور فوج کے اعلیٰ افسران کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔

اس وقت عالمی برادری کو صرف مذمتی بیانات جاری کرنے کے بجائے بگڑی ہوئی عالمی طاقت کو لگام دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں، ورنہ پوری دنیا کا نظام بگڑ جائے گا۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں بسنے والے انسانوں کی جان، مال اور عزت و آبرو غیر محفوظ ہو جائے گی اور دنیا قیامت کا منظر پیش کرے گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
117270