The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ بوڑھی ماں (3) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ بوڑھی ماں (3) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بوڑھی ماں پراسرار حیرتوں میں لپٹا ہوا اپنی جواں سال بیٹی کا کیس لے کر میرے سامنے بیٹھی تھی بیٹی کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلا کی ذہین اور نہایت خوبصورت تھی پریشانی والی بات یہ تھی کہ اپنی ذہانت اور بے پناہ خوبصورتی کو اپنی کامیابیوں اور انا خر دی کی تسکین کے لیے بطور ہتھیار استعمال کر تی تھی مثال ہے کہ زیادہ عقل مند انسان کسی جگہ ٹک کر نہیں بیٹھنا یہی حال اِس لڑکی کا تھا ذہانت اور غیر معمولی خوبصورتی نے اِس کو مغرور بنا دیا تھا وہ خود کو عقل کل دوسروں کو غلام سمجھتی تھی ماں پریشان تھی کہ اِس کی شادی ہو جائے لیکن وہ سات منگنیاں کروا کر توڑ چکی تھی وہ اپنی بھر پور قیمت وصول کر نا چاہتی تھی میں بیوہ ماں کی مدد کر نے کے لیے اُس کی بیٹی سے ملنا چاہتا تھا لہذا میں نے بوڑھی ماں سے کہا چھٹی کے دن آپ شام کو اپنی بیٹی کے ساتھ آجائیں میں اپنی پوری کو شش کروں گا کہ آپ کی مدد کر سکوں ماں بہت خوش ہوئی اور بولی میری بیٹی کو پامسٹوں نجومیوں سے ملنے کا دیوانگی کی حد تک شوق ہے کیونکہ وہ دوسروں پر حکمرانی کر نا چاہتی ہے

اِس لیے بہت سارے روحانی علوم کے ماہرین کو بھی اپنی خوبصورت اداؤں میں الجھایا ہوا ہے بلکہ وہ علم نجوم پر بہت زیادہ یقین کرتی ہے ماں کی بات سن کر مطمئن ہو گیا کہ اِس طرح میں لڑکی کو شائد قائل کر کے راہ راست پر لاسکوں اب میں بھی مقررہ دن کا انتظار کر نے لگا کیونکہ مجھے بھی حضرت انسان اِس مٹی کے پتلے کے مشاہدے کا بہت شوق ہے جب بھی اِس کا کوئی غیر معمولی روٹین سے ہٹ کر مشاہدہ کر تا ہوں تو حیران ہو تا ہوں کہ یہ مشت خاک کیسے کیسے لبادوں میں چھپا ہوا ہے پھر مقررہ دن بوڑھی ماں اپنی سحر انگیز خوبصورتی کی مالک بیٹی کے ساتھ آگئی ماں اُس کو میرے علم نجوم علم الاعداد کے بارے میں بتا چکی تھی اِس لیے اشتیاق اُس کی خوبصورتی آنکھوں میں ہلکورے لے رہا تھا وہ مجسم پیکر سوال بنی میرے سامنے بیٹھی تھی وہ واقعی بے پناہ خوبصورت تھی اگر وہ اپنے حسن کے غرور میں مبتلا تھی تو ٹھیک ہی تھی میں یہاں اُس کے حسن پر زیادہ نہیں لکھوں گا اصل مسئلے کی طرف آتے ہیں اُس کو عادت تھی اداؤں کی گولہ باری کی نظر بھر کر دیکھنے کی اِس لیے اُس نے اپنی اداؤں کا سحر انگیز جال پھینک کر تیر اندازی کی کو شش کی

اِسی دوران میں نے اُس کی شخصیت کے کچھ رازوں سے پردہ سرکایا اُس کے باطنی خو فوں کا تذکرہ کیا اُس نے مزاج کے نشیب و فراز پر روشنی ڈالی تو وہ غرور سے ادب کی چادر میں آگئی اب وہ اشتیاق بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی میں اُس کی نفسیات جان چکا تھا اِس لیے اُس کی خوبصورتی اور ذہانت کو نظر انداز کر کے اُس کے بارے میں تفصیلا ً بات کر کے اُس کو متاثر کر نے میں کامیاب ہو چکا تھا مجھے پتہ تھا جب تک میں اِس کو قائل یا متاثر نہیں کروں گا یہ میری کسی بات نصیحت پر عمل نہیں کرے گی اور نہ ہی دوبارہ میرے پاس آئے گی میں نے جب اُس کی شخصیت کے رنگوں پر بات کی تو وہ تحسین بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی جب وہ مطمئن ہو گئی تو اُس نے کہا سر آپ واقعی اپنے علم پر عبور رکھتے ہیں اب میرے مستقبل کے بارے میں راہنمائی کریں کیونکہ اگر آپ میرے ماضی حال اور شخصیت مزاج کے بارے میں درست بات نہ کرتے تو آپ کا علم مشکوک ہو جاتا اب میں مطمئن ہوں لہذا آپ پرٹرسٹ کر سکتی ہوں میں انسانی نفسیات کے اِس کمزور پہلو سے واقف تھا کہ جب تک آپ کسی کو متاثر نہیں کرتے وہ آپ کے سامنے اپنی شخصیت کے چھپے ہوئے پہلوؤں پر بات نہیں کرتا انسان کھل کر اُس وقت بات کرتا ہے جب اُس کو یقین ہو جائے کہ سامنے والا کچھ جانتا ہے لہذا اب وہ سرنڈر کر شکی تھی پہلی ملاقات تھی میں نے اُس سے تفصیل بات کی پھر اُسے کہا اپنے سوالات دے جاؤ میں غور کر کے اگلی ملاقات میں آپ کو گائیڈ کروں گا لہذا بہت سارے سوالات دے کر چلی گئی سوالات میں بنیادی چیز آنے والے وقت میں حکمرانی کر نا بہت بڑا بزنس اربوں روپے کمانا ذہانت اور خوبصورتی کو کیش کرانا اُس کو ماضی میں ملنے والے نجومیوں نے بہت سارے سہانے خواب دکھائے تھے کہ تم انٹرنیشنل لیول پر حکمرانی کرو گی تمہاری حکمرانی اقتدار کے ایوانوں تک ہو سکتی ہے

تم غیر معمولی صلاحیتوں کی مالک ہو تم جیسا اِس دھرتی پر اور کوئی نہیں ہے تم حکمرانی کر نے آئی ہو وہ وقت قریب ہے جب تم شہرت اقتدار دولت کے افق پر سب سے چمکدار ستارہ بن کر چمکوں گی وہ نجومیوں کی اِن لچھے دار باتو ں میں گم خوابوں کے گھوڑے پر سوار تھی زمینی حقائق سے بے خبر بہر حال چند دن بعد وہ پھر سوالیہ پیکر بنی میرے سامنے بیٹھی تھی میں نے غور سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا بیٹی تم حقیقت سننا چاہتی ہو کہ میں بھی تم کو آسمانی گھوڑے پر سوار کر ا کے بھیج دوں تو وہ بولی نہیں میں سچ سننا چاہتی ہوں تو میں نے بولنا شروع کیا دیکھو بیٹی دنیا میں بہت کم خوش قسمت ترین لوگ اِس پردہ جہاں پر نمودار ہوتے ہیں جو خوبصورتی عقل کے ساتھ مقدر کا ستارہ بھی ساتھ لے آتے ہیں دکھ کی بات ہے کہ تم مقدر کے ستارے سے محروم بیوہ غریب ماں کی بیٹی ہو کسی اونچے خاندان سے تعلق نہیں ہے آخری بات تم حد سے زیادہ تکبر اور مغرور ہو تاریخ انسانی کا کوئی ورق کھول لو جس نے بھی اِس دنیا میں غرور کیا قدرت نے اُس کو نشان عبرت بنا دیا لہذا میرا مشورہ یہ ہے کہ کسی شریف اچھے کھاتے پیتے امیر آدمی سے شادی کر لو اور کامیاب زندگی گزارو اللہ نے تم کو ذہانت خوبصورتی دی ہے کہ تم شکر گزا ر ہونے کے بجائے مغرور ہو کر اِن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہو عاجز ہو جاؤ ورنہ تاریخ کا دامن ایسے واقعات سے بھر ا پڑا ہے کہ کسی نے غرور کیا اورنشان عبرت بنا کیونکہ میری باتیں اُس کے خوابوں مزاج کے خلاف تھیں اِس لیے اُس نے انکار اور بحث شروع کر دی میں نے تکرار سے دامن بچایا اور کہابیٹی میں تو مشورہ دوں گا عاجز ہو کر گھر بساؤ لیکن کیونکہ میں نے اُس کے مزاج خوابوں کے خلاف بات کی تھی

اِس لیے ناراض اور مایوس ہو کر چلی گئی چھ ماہ بعد ماں سے فون پر بات ہوئی تو اُس نے بتایاکہ وہ اپنے پرانے منگیتر سے نکاح کر کے دوبئی چلی گئی ہے میرے دماغ میں اِس کا اینڈ جاننے کا سوال مچلتا رہا دس سال بیت گئے لیکن مجھے انتظار تھا پھر ایک دن میرے گھر پر ایک موٹی عورت بر قعے میں ملبوس آئی اور بولی سر میں چند منٹ لوں گی میں وہی جمیلہ ہوں جو غرور کے گھوڑے پر سوار تھی اپنے حسن کے جلوؤں سے لوگوں کو بیوقوف بناتی تھی پھر قدرت نے مجھے ڈس لیا منگیترمجھے خواب دکھا کر دبئی لے گیا مجھے پھنسانے کے لیے میرے بیگ میں ہیروئن رکھ دی میں پکڑی گئی اور جیل ہو گئی اُس نے مُڑ کر میری طرف دیکھا بھی نہیں دس سال جیل میں میرا حسن اور عقل سب کھو گئے میں جگر کی مریضہ بن گئی رنگ روپ اڑ گیا موٹاپے کی بیماری کا شکار ہو گئی دس سال بعد رہا ہو کر واپس آئی تو آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں میرے لیے دعا کرئیے گا اور میں سوچنے لگا انسان وقتی حسن دولت پر کتنا ناز کرتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
64933

بزمِ درویش ۔ بوڑھی ماں ۔ تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ بوڑھی ماں ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

شام ڈھلے جب رات کی دلہن تیزی سے اپنی سیاہ گھنیری زلفیں شہر پر تیزی سے پھیلا کر دن کے اجالے کو چاٹ رہی تھیں سورج تانبے کی پلیٹ کا رنگ دھارے مغرب کے اُس پار غوطہ لگا رہا تھا میں دن بھر کا تھکا ہا را اپنی گلی میں داخل ہوا سارا دن مختلف مزاج کے لوگوں سے ملنے ان کی باتیں مسائل سننے کے بعد میرے اعصاب شدت سے آرام طلب کر رہے تھے میں آرام دہ بستر کے تصور سے گھر کے سامنے رکا تاکہ آرام کر کے اپنے بکھرے منتشر اعصاب کو نارمل کر سکوں میں کار سے اُتر کر اپنے گھر کے مین گیٹ کی طرف بڑھا تو گلی کا سیکورٹی گارڈ تیزی سے میری طرف لپکا اُس کا اِس طرح بلا اجازت میری طرف آنا نارمل حالات کی نشاندہی نہیں تھا کیونکہ عام حالات میں وہ اس طرح نہ کرتا تھا میں ڈور بیل بجا کر رک گیا اوراُس کی طرف اسفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگا سیکورٹی گارڈ شرمندہ شرمندہ سا میرے قریب آکر جھک کر بولا سر میں آپ کو بلکل بھی تنگ نہیں کر نا چاہتا تھا اور آپ جانتے بھی ہیں کہ میں نے کبھی بلا وجہ آپ کو تنگ بھی نہیں کیا لیکن سر پچھلے کئی دنوں سے ایک معذور بوڑھی عورت ویل چئیر پر آپ سے ملنے آتی ہے آپ گھر پر موجود نہیں ہو تے وہ آپ کا پتہ کر کے چلی جاتی ہے

آج جب آئی اور آپ سے ملاقات نہ ہوئی تو میرے پاس آکر بولی بیٹا میں ایک بیوہ معذور پریشان عورت ہوں بہت بڑی مصیبت میں ہوں خدا کے لیے میری مدد کرو اور میری ملاقات پروفیسر صاحب سے کرادو۔شروع میں تو میں نے ٹالنے کی بہت کو شش کی لیکن بوڑھی عورت منتیں ترلے کر نا شروع ہو گئی بلکہ زاروقطار رو نے لگی کہ کاش میرا بیٹا ہوتا تو وہ میری مدد کرتا اُس کی پریشانی دیکھ کر سر میں نے اُس کو اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا لیا ہے اگر آپ اجازت دیں تو اُس کو آپ کے پاس لے آؤں ابھی آپ تھوڑا آرام کر لیں تاکہ بعد میں اُس کو لے آؤں میں نے تھوڑا دور اُس کے چھوٹے کمرے کی طرف دیکھا جہاں دروازے سے ایک بوڑھی عورت کا چہرہ جھا نک رہاتھا بیچاری امید بھری نظروں سے ہمیں دیکھ رہی تھی اُس کی حالت زار دیکھ کر میں نے اشارہ کیا کہ جاکر ابھی اُس پریشان حال عورت کو لے کر میرے پاس آؤ میں نے سوچھا بیچاری کی بات سن کر پھر آرام کر لوں گا میرا دل کہہ رہا تھا کہ آنے والی عورت واقعی بہت زیادہ پریشان ہے میرے ہاں کر نے پر سیکورٹی گارڈ دوڑتا ہوا گیا اور جا کر ویل چئیر پر موجود بوڑھی عورت کو لے کر میرے پاس آگیا میں نے دروازہ کھولا گھر میں چائے پانی کا کہا اور کرسی پر بیٹھ کر انتظار کر نے لگا تھوڑی دیر بوڑھی عورت میرے سامنے آگئی وہ ممنون نظروں اور الفاظ کے ساتھ میرا شکریہ ادا کر رہی تھی

میں شفیق نظروں سے اُس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ میں نے اُس کو بولنے کا بھر پور موقع دینا چاہتا تھا تاکہ اُس کو احساس ہو کہ میں نے اُس کی بات تو جہ دھیان سے سنی ہے ساتھ میں چائے پانی وغیرہ سے اُس کی تواضع بھی کر نا چا رہا تھا بوڑھی عورت نے بات چیت کا آغاز کیا بیٹا میں آپ سے بہت شرمندہ ہو ں پچھلے کئی دن سے امید کی کرن کی تلاش میں آپ کے گھر کے چکر لگا رہی ہوں میں اس بھری کائنات میں آسمان کے نیچے اکیلی ہوں اور میری جوان بیٹی ہم دونوں کے علاوہ اِس جہاں میں ہمارا کوئی نہیں ہے میں سکول ٹیچر ہوں پینتیس سال سے گورنمنٹ سکولوں میں نوکر ی کر کے اپنا اور اپنی بیٹی کا پیٹ پال رہی ہوں میرا مسئلہ پریشانی کوئی اور نہیں میری بیٹی ہے میری حالت زار پریشانی کی وجہ میری بیٹی ہے میرا دشمن کوئی اور نہیں میرا اپنا ہی خون ہے جس نے میری زندگی کو جہنم سے بڑھ کر عذاب ناک بنا کر رکھ دیا ہے میں سمجھا بوڑھی عورت کی بیٹی کسی عشق معاشقے کے چکر میں پڑی ہو گی لہذا بولا آپ اُس کی شادی اُس کی مرضی کی جگہ کیوں نہیں کر دیتیں اس کی زندگی ہے اُس کو اپنی مرضی سے گزارنے دو تو بیچاری بولی جب تک آپ میری پوری بات نہیں سنیں گے

آپ کو میرے مسئلے کی سمجھ نہیں آئے گی لہذا برائے مہربانی میری ساری بات توجہ اور تفصیل سے سن لیں اگر میری بیٹی اپنی پسند کی شادی کر لے تو میں تو شکرانے کے نوافل پڑھوں میں تو اُس کو ہر روز کہتی ہوں کہ تم جس سے شادی کر نا چاہتی ہو کرو اپنی زندگی کا آغاز کرو لیکن اُس کے مستقبل کے حوالے سے خیالا ت منصوبے بہت مختلف ہیں میں تو اُن والدین پر رشک کر تی ہوں جن کی بیٹیاں جوان ہو کر کہتی ہیں کہ میں فلاں لڑکے کو پسند کرتی ہوں میری اُس سے شادی کر دیں میرے حلقے میں اگر کسی دوست کی بیٹی ایسی فرمائش کرتی ہے تو میں فوراً مشورہ دیتی ہوں کہ اِس کی مرضی کی شادی کر ا کے اپنی جان چھڑاؤ لیکن میرے ساتھ تو مسئلہ ہی کچھ اور ہے میں پریشان نظروں سے بوڑھی ماں کی طرف دیکھ رہا تھا جو باطنی کرب کی وجہ سے لرز رہی تھیں بوڑھی عورت ماں کی بے بسی مجھے بھی کاٹنے لگی کہ بیوہ ماں جس کی ایک جوان بیٹی ہے وہ بڑھاپے میں ماں کا سہارا بننے کی بجائے اُس کو در در کے دھکے کھانے پر مجبور کر رہی ہے میں اِس کیس کو عام سا عشق معاشقے کا مسئلہ ہی سمجھ رہا تھا لیکن یہاں تو معاملہ اُلٹ ہی نکل رہا تھا میں بولا ماں جی آپ کی بیٹی کو کوئی لڑکا پسند نہیں آتا تو ماں نے مجھے حیرت کے سمندر میں غوطے کھانے پر مجبور کر دیا نہیں بیٹا وہ اب تک سات لڑکوں کو پسند اور منگنیاں کر چکی ہے لیکن کچھ عرصے بعد ہی منگیتر سے بور ہو کر اُس کو ٹھکرانے کا اعلان بغاوت کر دیتی ہے کہ میرا اِس کے ساتھ گزارا نہیں ہے سات منگنیاں توڑ چکی ہے اِس کا مطلب تمہاری بیٹی نفسیاتی مریضہ ہے یہ تو ابنارملٹی پاگل پن ہے لڑکیوں کی تو جان جاتی ہے کہ وہ ہر ممکن اپنی منگنی رشتے کو بچانے کی کو شش کرتی ہیں یہ کیسی عجوبہ لڑکی ہے جو پے در پے سات منگنیاں اپنی مرضی کی کر کے توڑ کر اگلے عاشق کی طرف بڑھ جاتی ہے کیس بہت دل چسپ ہو گیا تھا میں دل،چسپ نظروں سے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا پھر میں بولا ماں جی واقعی حیران کن مسئلہ ہے آپ بتائیں آخر آپ کی بیٹی کو کوئی نفسیاتی مسئلہ آسیبی جنات کا سایہ یااور کیا ہے تو ماں بولی بیٹا میری بیٹی بلا کی حسین ہے و جمیل خوبصورت لڑکی ہے اُس کا بے مثال حسن ہی اُس کا دشمن ہے۔ (جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
64672