بونی تورکہو روڈ کے مظاہرین پر آمن منتشر، کیا اُن کے ساتھ دھوکہ کیا گیا یا وعدے کا ایفا ہوگا؟ ٹی ٹی آریف نے معاہدے کو مسترد کردیا ،
بونی تورکہو روڈ کے مظاہرین پر آمن منتشر، کیا اُن کے ساتھ دھوکہ کیا گیا یا وعدے کا ایفا ہوگا؟ ٹی ٹی آریف نے معاہدے کو مسترد کردیا ،

اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بونی بوزند تورکہوروڈ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیراور مبینہ طور پر کرپشن کے خلاف جاری احتجاج گزشتہ رات اُس وقت ختم کردی گئی جب تورکہو کے چند عمائدین علاقے کے تحصیل چیئرمین جمشید احمد کی سربراہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے ساتھ نشست کرکے ایک معاہدہ طے کیا کہ عید کے بعد تورکہو روڈ پر دو کلومیٹر اسفالٹ بچھائی جائیگی۔ جس کا وعدہ ڈپٹی اسپیکر کی دستخط سے ایک مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا، تاہم دوسری طرف ٹی ٹی آر ایف کے نمائندگان کا شکوہ ہے کہ ان کو ان بورڈ نہیں لیا گیا، مذکورہ میٹنگ میں غیر متعلقہ افراد موجود تھے جبکہ احتجاجی مظاہرین کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا۔ جس کے بعد ٹی ٹی آر ایف کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی سپیکر کے ساتھ معاہدہ ٹی ٹی أر ایف کا نہیں، چند افراد کا انفرادی فیصلہ ہے۔۔
تورکھو تریچ یوسی روڈ فورم نے اعلان کیا ہے کہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات بونی بزند روڈ کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر کے ساتھ کیا گیا معاہدے سے ٹی ٹی أر ایف کا کوئی تعلق نہیں۔
ہفتے کو جاری بیان میں ٹی ٹی أر ایف کا کہنا تھا کہ مذکورہ معاہدہ چند افراد نے اپنی انفرادی حیثیت میں ڈپٹی سپیکر کے ساتھ کیا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں۔
چند افراد ٹی ٹی أر ایف قیادت کو بتائے بغیر ڈپٹی سپیکر کے ساتھ مذاکرات کے لیے گئے، مذاکرات کے وینیو پر پہنچ کر بھی ٹی ٹی أر ایف کو مطلع نہیں کیا، نہ ہی معاہدہ کرنے کا مینڈیٹ لیا اور معاہدے کی شرائط طے کرتے وقت بھی ٹی ٹی أر ایف لیڈرشپ کو نہیں بتایا گیا۔۔معاہدہ پر دستخط کرنے کے بعد بھی ٹی ٹی أر ایف لیڈرشپ کو نہیں بتایا گیا اور رات سوا ایک بجے ہمیں سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ ڈپٹی سپیکر کے ساتھ معاہد ضہ کیا گیا۔
پریس ریلیز میں مذید بتایا گیا کہ اس معاملے میں کچھ لوگوں نے سیاست کی اور ایم این اے عبدالطیف نے دھوکہ دہی سے کام لیا۔
ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری تحریک ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ جاری ہے اور ہم نئے عزم کے ساتھ میدان میں ہوں گے۔۔
عید تک دیکھیں گے کہ ہمارے مطالبات پر کتنا عملدرأمد ہوتا ہے اس کے بعد ہم نئے لائحہ عمل کے ساتھ میدان میں ہوں گے۔۔
اس موقع پر ہم تورکھو تریچ یوسی کے عوام، اورسییز بھائیوں، ڈرائیور یونین کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے تاریخ رقم کی اور پرامن مزاحمت کے ذریعے اپنے أئینی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کی۔ ہم اس موقع پر بونی اور دیگر علاقوں کے لوگوں، سیاسی جماعتوں، وکلا اور فلاحی تنظیموں کے بھی اظہار ہمدردی اور عملی طور پر ساتھ دینے پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔
دریں اثنا اسی رات چترال مستوج او رتورکہو روڈ ٹریفک کےلئے کھول دیا گیا ، احتجاجی مظاہرین کی لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ عید تک ڈپٹی اسپیکر کی وعدے کو دیکھتے ہیں اگر ایفا کیا تو ٹھیک ہے وگرنہ تو علاقے کے عوام مذید غم وغصے سے میدان میں آئیں گے جس کو روکنا انتظامیہ اور حکومت کی بس میں نہیں ہوگا۔



