The Voice of Chitral since 2004
Friday, 1 May 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بونی تورکہوروڈ پر کام کی بندش کے خلاف احتجاج کے پاداش میں گرفتار نوجوان  پولیس اسٹیشن میں بیہوش، چترال ریفر، علاقے کی عوام کی طرف سے واقعے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ    

بونی تورکہوروڈ پر کام کی بندش کے خلاف احتجاج کے پاداش میں گرفتار نوجوان  پولیس اسٹیشن میں بیہوش، چترال ریفر، علاقے کی عوام کی طرف سے واقعے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) انسانی حقوق کے معروف ایکٹیوسٹ اور ہیومن رائٹس پروگرام چترال کے چیرمین نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے بونی بزند روڈ پر کام کی بندش کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں رائین تورکھو سے تعلق رکھنے والے سہیل نامی ایک نوجوان پر اپر چترال پولیس کی طرف سے مبینہ تشدد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کی انکوائری اور ڈی پی او اپر چترال کو فوری طور پر ٹرانسفر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر زہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے مقامی میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اپنے جائز مطالبے کے لئے احتجاج کرنا بنیادی حقوق میں سے ایک ہے جبکہ اپر چترال پولیس نے پرامن شہریوں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت پرچہ کاٹ کر اپنے اختیار کا غلط استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ دن اپر چترال پولیس نے محمد سہیل ساکن رائین پر پولیس اسٹیشن میں مبینہ تشدد کیا جس پر ان کی حالت غیر ہونے پر انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال ریفر کیا گیا جہاں سے انہیں پشاور ریفر کیا گیا ہے۔ اس موقع پر TTRFکے چیرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ اور محمد سہیل کے والد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی طرف سے مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا۔ڈی پی او اپر چترال سے فون پر بار بار کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہوسکا جبکہ پولیس اسٹیشن شاگرام کے ایک اہلکار نے نوجوان پر تشدد کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ اس پر تھانے میں کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔

دریں اثنا ٹی ٹی آر ایف کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق تورکہو تیریچ روڈ فورم کے ممبر سہیل کو ایک دن پہلے پولیس نے ان کی دکان سے گرفتار کیا تھا۔جبکہ ٹی ٹی ار ایف کے قائدین نے مذاکراتی ٹیم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور مذاکراتی ٹیم کی یقین دہانی پر پولیس اور انتظامیہ کے خلاف کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیا اس کے باوجود پولیس کی طرف سے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا مذاکراتی عمل شروع ہونے کے بعد ٹی ٹی ار ایف کی طرف سے کوئی ایسی بات نہیں کی گئی جس مذاکرات پر منفی اثر پڑے۔۔
تاہم یہ انتہائی افسوس ناک خبر ہے کہ ہمارے ممبر سہیل پولیس کسٹڈی میں بے ہوش ہوگئے جن کو پہلے شاگرام ہسپتال پھرچترال ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اُس کو پشاور ریفر کردیا گیا ہے ۔
ٹی ٹی آر ایف کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں اس واقعے کو پولیس تشدد بتاتے ہوئے شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
اور متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کامطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ڈی پی اور اپر چترال، ڈی سی اور مذاکراتی ٹیم سے گزارش کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور معاملے کو مزید خرابی سے روکے
دریں اثنا ہمارے نمائندے نے پولیس کے ایک ذمہ دار سے اس واقعے کے بارے میں ان کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا تو انھوں نے چترال ٹائمز کو بتایا کہ اس واقعے کو بعض عناصر بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، ہوا یوں کہ انتظامیہ اور مقامی عمائدین کے ساتھ مذاکرات کے بعد پیر تک ایف آئی ار میں نامزد کسی ملزم کو گرفتار نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی تاہم بعض افراد کی والدیت کو کنفرام کرنے کیلئے گزشتہ دن سہیل کے ساتھ چار اور افراد کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا تھا جہاں وہ دیگر افراد کے ساتھ کمرے بیٹھے تھے اُسی دوران بے ہوش ہوکر گرگیا ہے جس کو فوری طور پر شاگرام ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں ابتدائی امداد دینے کے بعد انھیں چترال ریفر کردیا گیا ، اور دو پولیس اہلکاروں کے ساتھ ایمبولیس اسی ہدایت کے ساتھ روانہ کردیا گیا کہ راستے میں رائین سے سہیل کے کسی رشتہ دار کو بھی اپنے ساتھ لیکر چترال جاناہے جب پولیس اہلکار ایمبولینس کے ساتھ رائین پہنچنے اور سہیل کے بھائی یا کسی دوسرے رشتہ دار کو بیمار کے ساتھ چترال جانے کا تقاضہ کیا گیا تو موقع پر موجودافراد نے ہنگامہ برپا کرتے ہوئے چترال جانے سےانکار کردیا ، اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پولیس اہلکار مریض کو بیچ راستہ چھوڑ کر فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں، جوکہ انتہائی افسوسناک اور غلط بیانی ہے ۔ پولیس زرائع نے مذیدبتایا کہ ہم نے ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیاہے ، انھوں نے سوشل میڈیا صارفین سے بھی درخواست کی کہ کسی بھی خبر کو بیغر تحقیق کے اگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔

دریں اثنا چترال ہسپتال میں مریض داخل ہے اور پشاور ریفر کی جارہی ہے، تاکہ وہاں پر سٹی اسکین یا ایم آر آئی سےپتہ چل سکے کہ بیماری کیا ہے ، ؟جبکہ چترال میں بیماری کی نوعیت فلحال معلوم نہ ہوسکی ہے ، البتہ کئی دفعہ مریض کو زور دار جھٹکے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مریض ایک دفعہ اشاروں سے بات کرنے کی کوشش کی ہے اور سینہ میں درد بتایا ہے۔

chitraltimes ttrf member sohail admit in dhq hospital chitral niazi media talk 3 chitraltimes ttrf member sohail admit in dhq hospital chitral niazi media talk 6 chitraltimes niazi and waqas media talk about ttrf member police tourture

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
113871