The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بونی بوزوند تورکھو روڈ پر کام کی سست روی کے خلاف ایک اور احتجاج کی کال۔

بونی بوزوند تورکھو روڈ پر کام کی سست روی کے خلاف ایک اور احتجاج کی کال۔

ذاکر زخمی اپر چترال

کیا سی اینڈ ڈبلیو اور ٹھیکہ دار معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔؟
اگر وعدہ ایفاء نہ ہوا تو ردِ عمل کس طرح ہوگا؟

بونی بوزوند تورکھو روڈ پر کام کی سست روی کے خلاف عرصہ دراز سے شکایت اور شکوے معمول کا حصہ بنا ہے یہ شکایت کبھی زور پکڑتی ہے تو کبھی اس میں ٹھراو دیکھنے کو ملتی ہے کئی بار احتجاجی جلسے منعقد ہوئے تواقعات سے کم نتائج دیکھنے کو ملی انجام کار 18 ستمبر2024 کو ایک بار پھر ورکپ میں احتجاجی جلسے کا انعقاد عمل میں لایا گیا جو سابقہ روایات سے قدرِ مختلف تھے۔ اس میں عمر رسیدہ اور درمیانی عمر کے لوگوں کے علاوه جذبات اور خدمت کے جذبے سے سرشار نوجوانوں کی ایک منظم ٹیم احتجاج کی قیادت سنبھالتے ہوئے بزرگوں سے صرف دعاوں کی درخواست باقی زمہ داریاں خود سنبھالنے کا اعلان کیا اور جلسے کو شاندار اور جاندار بنانے میں کردار ادا کی ۔اپ کی جوش اور ولولےکو دیکھ کر انتظامیہ اور متعلقہ ادارے سی اینڈ ڈبلیو کا ایکسئن (جو پہلی بار تورکھو دیکھنے کا شرف حاصل کررہا تھا) جلسہ گاہ پہنچ کر علاقے ورکپ کے مسجد میں تشریف فرما ہو کر خدائے بزرگ و برتر کو حاضر و ناظر جان کر ایک معاہدہ تحریر کیا اس معاہدے کی رو سے پیر محمد کمپنی 30 اکتوبر 2024 تک ورک پلان کے مطابق 7 کلو میٹر تارکول اور 6 کلومیٹر کمپیکشن کا کام مکمل کرکے حوالہ کرنے کا پابند تھا۔ اس معاہدے پر سب کے دستخط ثبت کیے گئے۔

جون جون وقت گزرتا گیا اور کام کی رفتار کوئی تسلی بخش طریقے سے اگے نہ بڑھ سکی۔ ٹھیکہ دار اور سی اینڈ ڈبلیو کا خیال تھا کہ اس بار بھی عوام کودوکھا دیکر بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونگے۔ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کا پلہ کس سے پڑا ہے۔اب ایک بار پھرسے نوجوان قیادت متحرک ہوکر لوگوں کو یکجا کررہے ہیں اور 20 آکتوبر کو بھر پور احتجاج کی تیاری کرکے کال دیے ہیں۔یاد رہے بزرگ قیادت اگر چہ مصلحت پسند ،برداشت کرنے والے اور تھکے ہارے ہوئے محسوس ہوتے تھےتو نوجوان انتہائی جوش و خروش سے محاذ سنبھال کے مورچہ زن ہو گئے ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو صرف روڈ چاہتے ہیں انہیں ڈرانا دھمکانا،بہکانہ یا لالچ میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے وہ صرف علاقے کا سوچتے ہیں اور ایمان غیرت سے سوچتے ہیں ان میں عمیر خلیل اللہ،عبد الوہاب صبا،جلال الدین ،ہارون رشید ۔حسین زرین وغیرہ صف اول کے قافلے میں شامل ہیں ۔

بیک آپ پر سفیراللہ ،عبد القیوم بیگ ،چہارشنبہ خان وغیرہ موجود ہیں۔ پھر بزرگوں کی باری آتی ہے بزرگوں میں وہ بزرگ بھی قربانی کے لیے کمربستہ ہیں جو 95 سال تک پہنچ گئے ہیں ان کی سرپرستی فرحت الله میکی کے پاس ہے ان میں سید خان لال ،عبدالغنی چمن استاد وغیرہ شامل ہیں باقی تورکھو تریچ یو سی کے عوام لبئیک کہتے ہوئے ان پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔گویا ایک منظم تحریک کے لیے عوام تورکھو کمر بستہ ہے۔محکمہ والے اور ٹھیکہ دار کو انہیں ہلکا لینا انتہائی مہنگا پڑھ سکتا ہے۔ یہ نوجوان مصلحت پسند نہیں ان میں لالچ نہیں وہ ڈرنے والے نہیں۔ اس لیے اگر خدا کے گھر میں کیے ہوئے معاہدے کی پاسداری نہیں ہوتی تو پھر انجام کا منتظر رہنا ہے۔

شیواہ بھی یہ ہی رہا ہے کہ تورکھو کے عوام غیر ضروری غیر سنجیدہ اجتجاج یا سڑکوں میں آکر غیر ضروری مسائل پیدا کرنے کے عادی نہیں اور نہ بلیک ملینگ کی سیاست کو اپناتے ہیں جب معاملات سنجیدہ ہو اور حالات مجبور کرے وہ باہر نکلتے ہیں اور شان و دبدبے کے ساتھ نکلتے ہیں اور کوئی نتیجہ حاصل کیے بےغیر گھر نہیں لوٹتے۔ اس وقت ادارہ مجبور کرتا ہے کہ آپ سڑکوں پر ائیے ۔ اس سے ادارے کی کاہلی، نااہلی اور بد نینتی واضح ہو چکی ہے کہ فنڈزخرچ کرتے ہوئے کام کرنے یا کرانے میں مخلص نہیں ۔شاید آج کے بعد برداشت روادری اور صبر کے متبادل جلسہ ،احتجاج ہی ہو سکتا ہے۔اس کی زمہ داری صرف اور صرف سی اینڈ ڈبلیو پر عاید ہو سکتی ہے۔ سی اینڈ ڈبلیو اپنی فرائض سے چشم پوشی کرکے انتظامیہ کے لیے مسلہ پیدا کررہی ہے ایسے میں انتظامی سربراہ ڈپٹی کمشنر سے گزارش ہے کہ زمہ دار ادراے کو پابند کرے کہ وہ عوام کی احساسات سے کھیلنے کے بجائے اپنی فرائض منصبی نبھائے۔بصورت دیگر ان کا بوجھ مفت میں انتظامیہ کو اٹھانا پڑیگا ۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
94417