The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقلی کیلئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کااصل شکل میں بحال ہونا ضروری ہے، حاجی غلام علی

Posted on

بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقلی کیلئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کااصل شکل میں بحال ہونا ضروری ہے، حاجی غلام علی
بدقسمتی سے بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو قانونی اختیارات و وسائل میسر ہونے چاہئیں،
حاجی غلام علی
گورنر کی زیر صدارت بلدیاتی نظام سے متعلق اعلی سطحی اجلاس، منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقلی سے متعلق اہم فیصلے

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں بلدیاتی نمائندے بہترین کردار ادا کرتے ہیں، منتخب عوامی نمائندے گلی،کوچوں، محلوں کی سطح پر نہ صرف عوامی مسائل سے بخوبی واقف ہوتے ہیں بلکہ ان مسائل کے حل کیلئے اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرنے والے افراد ہوتے ہیں، بدقسمتی سے صوبہ بھر میں گذشتہ ایک سال سے بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا جس سے تمام اضلاع بشمول ضم ا ضلاع میں نچلی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں،بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقلی کیلئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کااصل شکل میں بحال ہونا ضروری ہے۔ یہ بات انہوں نے گورنر ہاؤس میں منعقدہ بلدیاتی نظام سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کے دوران کی۔ اجلاس میں میئر پشاور حاجی زبیر علی نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ دیگر شرکاء میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سیدظہیرالاسلام شاہ،سیکرٹری محکمہ قانون مسعود احمد،سیکرٹری محکمہ خزانہ محمدایاز،ڈائریکٹر جنرل آڈٹ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ شاہ رحمان سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے سربراہان اور گورنر سیکرٹریٹ کے افسران شامل تھے۔

اجلاس میں گورنر کو سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ، بلدیاتی نظام، بلدیاتی منتخب نمائندوں کواختیارات و وسائل سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بلدیاتی نظام اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات و وسائل سے متعلق بتایا گیاکہ بلدیاتی نمائندوں کیلئے نیشنل فنانس کمیشن میں 37ارب روپے کے فنڈز منظور کئے جا چکے ہیں جو کہ محکمہ خزانہ کی جانب سے ابھی جاری نہیں کئے گئے۔ اس طرح ضم اضلاع میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کے پاس بھی مستقل دفاتر اور فنڈز نہیں ہیں اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کے باعث بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات ختم کردیئے گئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں مسائل درپیش ہیں. اس موقع پر گورنر حاجی غلام علی کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں آنے والے بیشتر اراکین اسمبلی نچلی سطح سے منتخب ہو کر آتے ہیں، بیشتر اراکین اسمبلی اپنے اپنے علاقوں میں بطور بلدیاتی نمائندے خدمات دے چکے ہوتے ہیں، ہم سب نے بلدیاتی نظام اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت صوبہ میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوئے تھے اسی ایکٹ کو اسی اصل شکل میں بحال کرنا ضروری ہے تاکہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنے تمام قانونی اختیارات حاصل ہو سکیں اور نچلی سطح پر اختیارات کی صحیح معنوں میں منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے تحفظات ہیں کہ ان کے فنڈز کسی اور جگہ منتقل کر دیے گئے ہیں اور ان تحفظات کو دور کرنے کیلئے بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز جاری کرنا اشد ضروری ہے۔ گورنر نے اس موقع پر محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ بلدیاتی نمائندوں کوتمام قانونی امور کو سامنے رکھتے ہوئے منظور شدہ فنڈز کا اجراء یقینی بنائیں تاکہ منتخب بلدیاتی نمائندے حقیقی معنوں میں نچلی سطح پر عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔

گورنر حاجی غلام علی کا کہنا تھاکہ ہم سب کو ریاست و عوام کی خوشحالی کیلئے تمام معاملات کو باریک بینی سے دیکھنا ہوگا، ضم اضلاع اس وقت ہماری پوری توجہ کے حامل ہیں، ضم اضلاع میں منتخب بلدیاتی نمائندے خود دفاتر، وسائل اور فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار ہیں تو وہ عوام علاقہ کی خدمت کیسے کرسکیں گے۔ گورنر کا کہنا تھا کہ نگران صوبائی وزیراعلی بھی بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے حق میں ہے تاکہ منتخب بلدیاتی نمائندے عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار بخوبی ادا کر سکیں. #

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
71048

بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیِ محمودخان 

Posted on

بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ وزیراعلیِ محمودخان

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور اور ملاکنڈ ریجن سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے بلدیاتی نمائندوں کو پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام نے نچلی سطح پر پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کا صفایا کر دیا ہے او ر پی ڈی ایم کا ڈرامہ عنقریب ختم ہونے کو ہے۔ عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین جماعت بن چکی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم باشعور عوام کے تعاون سے عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی مارچ کو کامیاب بنائیں گے اور حقیقی آزادی کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

عمران خان اس ملک کی ضرورت ہیں جو قوم کی حقیقی آزادی اور عام آدمی کے حقوق کی جنگ لڑرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے بدھ کے روز پشاور میں ملاکنڈ اور پشاور ریجنز کے ویلج اور نیبر ہوڈ کونسلز کے چیئرمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ضلع پشاور، خیبر، کوہاٹ، شانگلہ، دیر، سوات، چترال، باجوڑ، چارسدہ اور مردان کے سو سے زائد ویلج و نیبر ہوڈ کونسلز کے چیئرمین نے پی ٹی آئی میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔وزیراعلیٰ نے پارٹی میں نئے شامل ہونے والوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ گزشتہ روز بھی ہزارہ اور جنوبی ریجنز کے 200 سے زائد بلدیاتی نمائندوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی جو پی ٹی آئی کی قیادت پر بھر پور اعتماد کی عکاس ہے۔

محمود خان نے بلدیاتی نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان واحد لیڈر ہیں جو ملک و قوم کی بقاءو سلامتی اور عام آدمی کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اُنہوںنے کہاکہ موجودہ امپورٹڈ حکومت کے پاس عوام کی فلاح و ترقی کیلئے کوئی منشور نہیں، یہ لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے قومی وسائل کی لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں اور اب بھی حکومت میں صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کیلئے آئے ہیں۔ امپورٹڈ حکمرانوں نے ہمیشہ سے سیاسی مداخلت کے ذریعے قومی اداروں کو تباہ کیا ہے اور اب بھی اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ اور کرپشن کو بچانے کیلئے قوانین میں ترامیم کر رہے ہیں۔ امپورٹڈحکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملک قرضوں میں ڈوب چکا ہے۔ مہنگائی اور بدامنی اپنے عروج پر ہے جس نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ملک کو مسائل کی اس دلدل سے نکالنے کیلئے حقیقی آزادی مارچ وقت کی ضرورت ہے اور اس کو کامیاب بنانے کیلئے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ نے نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پر یقین رکھتی ہے۔

صوبے میں بلدیاتی انتخابات کا شفاف انعقاد اس امر کا واضح ثبوت ہے۔ ہم بتدریج بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اصل مقصد عوام کو اُن کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے جس کیلئے بلدیاتی نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے صحت کارڈ اور کسان کارڈ سمیت متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں جن سے تمام عوام بلا تفریق مستفید ہو رہے ہیں۔صوبے میں بہت جلد ایجوکیشن کارڈ کا اجرائبھی کیا جائے گا جو طلباءو طالبات کی اعلیٰ تعلیم تک یکسا ں رسائی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت نے تاریخ میں پہلی بار آئمہ مساجد کو اعزازیہ کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا ہے جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق خدمات کی فراہمی کے نظام کو موئثر بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ پارٹی کا منشور ہم سب کیلئے مقدم ہے جس پر عمل درآمد کے سلسلے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اراکین صوبائی اسمبلی ہوں یا بلدیاتی نمائندے، سب نے پارٹی منشور کو ہر حال میں مقدم رکھنا ہے۔

chitraltimes cm kp mahmood khan wlecoming new pti joining

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
66607