The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 24 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

گلگت بلتستان کے پوزیشن ہولڈر طلبہ وطالبات کیلئے تقریب تقسیم انعامات

گلگت(چترال ٹائمز رپورٹ)خوبصورت مستقبل کی تعبیر طلبہ و طالبات ہیں۔ ہونہار طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرنا بہت اہم ہے۔حوصلہ افزائی اور ستائش کی مثال ایک عمدہ خوشبو کی ہے جس کے استعمال سے دل و دماغ کو بالیدگی ملتی ہے۔ محفل معطر ہوجاتی ہے اور ہر سو خوشبو پھیلتی ہے۔اگرہم منتظمین و اساتذہ، ہونہار اور باصلاحیت بالخصوص اسپیشل طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کریں گے،انہیں مستقبل کی حسین راہیں دکھائیں گے تو وہ اہل طلبہ و طالبات زندگی کے بے شمار مسائل سے نمٹ لیں گے اور انہیں زندگی کے طوفانوں سے مقابل ہونے کی ہمت ملے گی اور وہ کامیاب ترین انسان بن کر، اپنے لیے اور پورے معاشرے کے لیے فخر ثابت ہونگے۔

ان خیالات کا اظہارڈائریکٹ آف ایجوکیشن کالجزگلگت میں منعقدہ تقریب بعنوان”تقسیم انعامات جی بی کالجز” میں ڈائریکٹر ایجوکیشن گلگت بلتستان پروفیسر تہذیب الحسن نے اپنے صدراتی خطبے میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ضلع گلگت کے جن ہونہار پوزیشن ہولڈرطلبہ وطالبات اور اسپیشل طلبہ کو کیش ایوارڈ، ٹرافی اور تعارفی اسناد دیے گئے ہیں یہ سارے بچے ہمارے فخر ہیں۔ہمارا مستقبل ایسے ہی ہونہار طلبہ و طالبات سے وابستہ ہے۔ بہت سارے معذرو اور غریب لوگ اپنے کردار، جدو جہد اور عزم مصمم کے ذریعے بہت سارے صحت مند انسانوں سے معاشرے کے لیے زیادہ کارآمد ہیں۔جہد مسلسل اور عزم پیہم پر یقین نہ رکھنے والے صحت مند انسان بھی یقینا مردہ اجسام کی طرح ہیں جو معاشرے کے لیے مفید نہیں۔انسان اپنی جسمانی کمی وکمزوری کواپنے حوصلے، کامیابی اور منزل تک کے لیے سیڑھی بنا سکتا ہے۔ہم آج ان کامران طلبہ وطالبات اور معذور طلبہ کا مستقبل چشم تصور سے دیکھ رہے ہیں۔بہت جلد چشم تماشہ سے ان کی کامیابیوں کا مشاہدہ کریں گے. اور یہ لوگ معاشرے کے کارآمد انسان ہونگے۔

پروفیسر تہذیب الحسن نے زور دے کر کہا کہ جب بھی ہونہار اور اہل طلبہ کی حوصلہ افزائی کا مرحلہ ہوتا ہے تو مجھے سرسید احمدخان یاد آتے ہیں۔وہ بھی اپنے دو ر کے ہونہار طلبہ کے سب سے بڑے محسن تھے ۔ان طلبہ پر اتنے احسانات کیے کہ انہوں نے ہی ہماری تحریک آزادی میں سب سے بڑا حصہ لیا۔ہمیں بھی محسن قوم جناب سرسید احمد خان کی طرح تعلیم و تربیت اور طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کا بیڑہ اٹھانا چاہیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز پروفیسر جمشید علی نے کہا ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن، جی بی کالجز اور پروفیسروں کا اصل مرکز و محور طلبہ و طالبات ہیں۔ہم سب ان کی بہتری و بھلائی اور تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔طلبہ و طالبات کو مزید محنت کرنا چاہیے ۔تعارفی اسناد، ٹرافی اور کیش ایوارڈ سے یقینا ہونہار اوراسپیشل طلبہ کو تعلیمی میدان میں تقویت ملے گی۔

ڈیٹی ڈائریکٹر اکیڈمکس پرفیسر فضل کریم نے کہاگلگت بلتستان کے تمام کالجز میں انعامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔جس میں پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے ساتھ اسپیشل طلبہ اور ضرورت مند طلبہ کو کیش ایوارڈ، ٹرافی اور تعارفی اسناد دیے جائیں گے۔بہت جلد ڈائیریکٹر ایجوکیشن کالجز کی سرپرستی میں تمام اضلاع کے کالجز میں انعامی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔آج صرف ضلع گلگت کی پانچ کالجز جن میں پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت، فاطمہ جناح ویمن کالج گلگت، ڈگری کالج محمود آباد گلگت، رتھ فاو گرلز کالج سلطان آباد گلگت اور انٹرکالج بسین گلگت کے پوزیشن ہولڈر ، اسپیشل اور ضرورت مند طلبہ کو انعامات دیے گئے ہیں۔جن طلبہ و طالبات کو کیش ایوارڈ، ٹرافی اور تعارفی اسناد دیے گئے ان میں،جوہر علی، فرحان حسین اور محمد ندیم پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت،شاکرحسین و شاہ زہیب ڈگری کالج دنیورگلگت،خانم انور و عائشہ پرین فاطمہ جناح ویمن کالج گلگت،طارق حسین وعثمان علی انٹرکالج بسین گلگت اورفہمیدہ بی بی رتھ فاو کالج سلطان آباد شامل ہیں۔

تقریب میں پروفیسرمنظور کریم،پروفیسر محمد عالم، پروفیسرمحمد اویس، پروفیسر محمد زمان، پروفیسر میڈم مہرانگیز،ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالودود، اسٹنٹ ڈائریکٹر شاہدہ اور امیرجان حقانی نے اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی شرکت کی ۔اسٹیج سیکریٹری کے فرائض اسٹنٹ ڈائریکٹر مہدی الحسن نے ادا کیے جبکہ تلاوت کلام پاک کی سعادت امیرجان حقانی نے حاصل کی۔تمام طلبہ وطالبات نے انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور اپنی پرفامنس مزید بہتر بنانے کا عزم کیا۔

chitraltimes gilgit colleges 10
chitraltimes gilgit colleges 6
chitraltimes gilgit colleges 5
chitraltimes gilgit colleges 12
chitraltimes gilgit colleges 1
chitraltimes gilgit colleges 3

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged , ,
53331

گلگت بلتستان میں صحت سے متعلق اپنی نوعیت کاپہلا ڈیٹا پراسیسنگ سینٹرکاافتتاح

گلگت(چترال ٹائمز رپورٹ) سیکریٹری صحت گلگت بلتستان میر وقار احمد نے حیات پروجیکٹ کے تحت گلگت میں ایک نئے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کیا ہے۔ حیات پروجیکٹ کو آغا خان فاؤنڈیشن کینیڈا اور گرینڈ چیلنجز کینیڈا نے مشترکہ طور پر مالی اعانت فراہم کی ہے، اور یہ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان 2019سے گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور چترال، خیبر پختون خواہ کے منتخب علاقوں میں شروع کیا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، میر وقار احمدنے کہا “حیات پروجیکٹ گلگت بلتستان میں اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ تھا۔ یہ پروجیکٹ ضلع غذر میں شروع کیا گیا ہے اور اس نے صحت سے متعلقہ اعدادو شمار کے جمع کرنے اور اس کے تجزیے میں بہت مدد کی ہے”۔
ڈیٹا سینٹر کو آغا خان یونیورسٹی نے آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے تعاون سے محکمہ صحت، گلگت بلتستان کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ ڈیٹا سینٹر ایک سرور، ایک سرور روم، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، نیٹ ورک سوئچ اور دیگر ہارڈ ویئر کے ساتھ ڈیٹا سینٹر قائم کیا گیا ہے تا کہ محکمہ صحت، گلگت بلتستان کو فنڈ کی مد ت سے باہر آزادانہ طور پر حیات پروجیکٹ کے کام جاری رکھنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان کے سی ای او ندیم عباس نے کہا، ” یہ ڈیٹا سینٹر حیات اقدام کودیرپا بنانے اور ہمارے حکومتی شراکت داروں کو صحت سے متعلق اہم ڈیٹا کو ڈیجیٹلائز کرنے میں اہم کردار ادا کرنے میں اگلا قدم ہے”۔

حیات پروجیکٹ کو آغا خان یونیورسٹی نے ڈیزائن کیا ہے جس کا مقصد ضلعی اور صوبائی سطح پر صحت کے نظام میں احتساب، شفافیت اور گورننس کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔اس میں حیات نامی ایک موبائل ایپ شامل ہے، جو کہ ہیلتھ ورکرز کو مریضوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کرنے اور برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے، اور صحت سے متعلق امور، جیسے حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت،بچوں کی غذائیت، تولیدی صحت اور زچگی کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی کے سیشن منعقد کرتا ہے۔ حیات میں ایک پائیدار، ڈیٹا پر منحصر ویب پورٹل بھی شامل ہے۔جو حکومت کے قریبی تعاون سے تیار کیا گیا ہے، جو ڈیٹا کی ریموٹ مانیٹرنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

“ڈیٹا سینٹر ڈیٹا اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کو ہموار کرے گا اور محکمہ صحت، جی بی کی ہیلتھ ورک فورس کی تکنیکی صلاحیت بھی مزید بہتر بنائے گا، تا کہ وہ حیات اور دیگر ڈیجیٹل ہیلتھ پروجیکٹس کو برقرار رکھ سکیں۔ آغا خان یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ہیلتھ ریسورس سینٹر اور ٹیکنالوجی انوویشن سپورٹ سینٹر کے ڈائریکٹر سلیم سیانی نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ خطے میں تمام ڈیجیٹل ہیلتھ سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر کام کرے گا۔

جیسا کہ کوویڈ 19پھیلتا گیا، حیات کے ساتھ مربوط عمل نے آغا خان ہیلتھ سروسز، پاکستان گلگت بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں صحت کے محکموں کے ساتھ موثر طریقے سے رابطہ قائم کرنے بروقت اور موثرمعلومات دینے فراہم کرنے میں مدد کی۔ حیات نے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو کوویڈ 19کے خلاف حفاظتی اقدامات کے لیے کلیدی پیغامات کی ترسیل کو فعال کیا۔

گلگت بلتسان اور چترال میں تقریباً 565ہیلتھ ورکرز حیات ایپ کو زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق کلیدی ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جن میں دور دراز کمیونٹیز میں تولیدی، زچہ، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت اور حفاظتی ٹیکوں اور بچوں کی نشونما کی خدمات شامل ہیں۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, مضامینTagged , ,
52151