The Voice of Chitral since 2004
Tuesday, 25 August 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

خیبرپختونخوا کی تاریخ میں بعد از مرگ انسانی اعضاءعطیہ کرنے کا پہلا اور تاریخ ساز اقدام، مردان سے تعلق رکھنے والے جواد خان کےخاندان کے اعزاز میں وزیر اعلیٰ ہاوس میں باضابطہ تقریب کا انعقاد

Posted on

خیبرپختونخوا کی تاریخ میں بعد از مرگ انسانی اعضاءعطیہ کرنے کا پہلا اور تاریخ ساز اقدام، مردان سے تعلق رکھنے والے جواد خان کےخاندان کے اعزاز میں وزیر اعلیٰ ہاوس میں باضابطہ تقریب کا انعقاد

پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبرپختونخوا کی تاریخ میں بعد از مرگ انسانی اعضاءعطیہ کرنے کا پہلا اور تاریخ ساز اقدام، مردان سے تعلق رکھنے والے جواد خان کے خاندان نے زندگی سے مایوس مریضوں کو اعضاءعطیہ کرکے انسان دوستی اور ایثار کی عظیم مثال قائم کر دی۔جواد خان مرحوم اور اس کے خاندان کے اعزاز میں وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں باضابطہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں انہیں اس عظیم اقدام پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

واضح رہے کہ ایک حادثے کے نتیجے میں 14 سالہ جواد خان کے انتقال کے بعد ان کے اہل خانہ نے اعضاءعطیہ کرنے کا جراتمندانہ فیصلہ کیا۔ یہ صوبے کی تاریخ میں بعد از مرگ اعضائ عطیہ کرنے کی پہلی مثال ہے۔ جواد کے اہل خانہ نے ان کے دو گردے، دو آنکھوں کے پردے اور جگر عطیہ کئے۔ یہ اعضاءپانچ مریضوں میں کامیابی سے ٹرانسپلانٹ کئے گئے۔ مرحوم جواد کے اہل خانہ کے اس جراتمندانہ اقدام سے پانج مریضوں کو نئی زندگیاں مل گئیں۔ اعضاءناکارہ ہونے کی وجہ سے زندگی سے مایوس یہ مریض کسی مسیحا کے منتظر تھے۔ جواد خان کے والدین زندگی سے مایوس ان مریضوں کے لئے مسیحا بن گئے۔ وزیر اعلی نے جواد کے والد نورداد خان کے اس قابل قدر اقدام کے اعتراف میں انہیں تقریب کا مہمان خصوصی بنادیا اور کہا کہ اس تقریب کی صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کا حق دار صرف نورداد خان ہے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کسی بھی وزیر اعلی نے تقریب کی صدارت کسی اور کو نہیں دی، یہ اعزاز پہلی دفعہ نورداد خان کے حصے میں آیا ہے، کیونکہ اس نے انسانیت کے لیے عظیم کام کیا ہے۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر اپنی طرف سے جواد خان کے تمام اہل خانہ کو عمرے پر بھیجنے کا اعلان کیا اور کہا کہ جواد کے اہل خانہ نے جو عظیم کام کیا ہے، عمرے سے بہتر اس کا کوئی انعام نہیں ہوسکتا۔ علی امین گنڈاپور نے نورداد خان کی خواہش پر تعلیمی نصاب میں جواد کے نام پر مضمون شامل کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ نصاب میں مضمون شامل کرکے نہ صرف جواد کے نام کو زندہ رکھا جا سکتا ہے بلکہ اس طرح دیگر لوگوں کو بھی اس نیک کام کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے نورداد خان کے مطالبے پر جواد کے پیدائشی گاوں کے لئے فوری طور پر سڑک کی تعمیر جبکہ جواد کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک مقامی سرکاری ہسپتال کو جواد کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح وزیراعلیٰ نے تقریب کی مناسبت سے صوبے میں ٹرانسپلانٹ ٹاور کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعلیٰ نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ مرحوم جواد خان کے اہل خانہ کا یہ بے لوث اور جراتمندانہ فیصلہ انسانی اعضاءعطیہ کرنے کے شعبے میں ایک تاریخ ساز اقدام ہے، ان کے اس عظیم کام کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے، ہم ان کے جذبے، حوصلے اور جرات کو سلام پیش کرتے ہیں۔ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ جواد کے اہل خانہ کا یہ بے لوث اقدام مستقبل میں زندگی سے مایوس مریضوں کو نئی زندگیاں دینے کے لئے بنیاد فراہم کرے گا، جواد کی زندگی اگر چہ مختصر تھی مگر اس نے جو عظیم ورثہ چھوڑا وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہے گا، ہم سب کو چاہیے کہ اس خاندان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس عظیم کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔

وزیر اعلی نے اس سارے عمل میں شریک ڈاکٹرز کی ٹیم اور ٹرانسپلانٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ جواد خان مرحوم کے والد نورداد خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قدر حوصلہ افزائی اور عزت افزائی پر وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ نورداد خان نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک حادثے کے نتیجے میں زخمی ہو کر ہسپتال میں علاج کے دوران انتقال کر گیا، ہسپتال میں اعضاءناکارہ ہونے کی وجہ سے زیر علاج مریضوں کا درد محسوس کرکے بیٹے کے اعضائ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نورداد خان کا کہنا تھا کہ ان کے لئے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ ان کے بیٹے کی وجہ سے پانچ مریضوں کو نئی زندگیاں ملیں۔

انہوں نے اس موقع پر انسانیت کی خدمت کے اس مشن کو مزید آگے بڑھانے کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب سے وزیر اعلی کے مشیر برائے صحت احتشام علی، معروف مذہبی سکالر قبلہ ایاز اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور جواد خان کے اہل خانہ کے اس عظیم اقدام کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر آرگن ڈونیشن رجسٹریشن کے عمل کا بھی اجراءکردیا گیا۔ راشد درانی نامی شخص نے رجسٹریشن کرکے بعد از مرگ اعضاءعطیہ کرنے والا صوبے کا دوسرا شہری بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ مختلف مکاتب فکر اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات، سماجی شخصیات، ڈاکٹروں، محکمہ صحت کے حکام، میڈیکل کے طلبہ اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔

chitraltimes cm kp addressing gathering organized in the honor of first organ deseased jawad khan 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
111972