بشریٰ بی بی جیل سے رہا، بنی گالہ پہنچ گئیں
بشریٰ بی بی جیل سے رہا، بنی گالہ پہنچ گئیں
راولپنڈی( چترال ٹائمزرپورٹ )بانیء پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کی روبکار جاری کر دی گئی جس کے بعد انہیں اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔رہائی کے بعد بشریٰ بی بی اڈیالا جیل کے گیٹ نمبر 5 سے روانہ ہوئیں اور کچھ دیر بعد وہ بنی گالہ رہائش گاہ پہنچ گئیں۔اس سے قبل اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے بشریٰ بی بی کی رہائی کی روبکار پر دستخط کیے تھے۔راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر اضافی سیکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے، جیل انتظامیہ نے روبکار موصول ہونے پر قانونی کارروائی مکمل کر کے بشریٰ بی بی کو رہا کر دیا۔تحریک انصاف کے وکلاء نے آج صبح میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کی رہائی کی روبکار جاری ہو گئی، انہیں لینے اڈیالہ جیل جا رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما مشال یوسف زئی نے کہا تھا کہ بشریٰ بی بی کو آج رہا کرائیں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت کے معاملے میں روبکار جاری نہیں ہو سکی تھی۔سینئر اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند کی عدم دستیابی اور اسپیشل جج سینٹرل نمبر ٹو ہمایوں دلاور کی رخصت کے باعث روبکار جاری نہیں ہو سکی تھی۔بشریٰ بی بی مجموعی طور پر 9 ماہ جیل میں قید رہیں۔انہیں رواں سال 31 جنوری کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔سزا کا فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی نے خود جیل میں آ کر گرفتاری دی تھی، اس سے قبل بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل کے بجائے بنی گالہ منتقل کیا گیا تھا۔کمشنر اسلام آباد نے بنی گالہ کو سب جیل قرار دیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کر دی تھی جس کے بعد انہیں توشہ خانہ ٹو کیس میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ختم
راولپنڈی(سی ایم لنکس)پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی اڈیالہ جیل میں بانء پی ٹی آئی سے ملاقات ختم ہو گئی تاہم بیرسٹر سلمان اکرم راجہ کی ملاقات جاری ہے۔اس سے قبل بانء پی ٹی آئی کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے وکلاء کی جیل میں ملاقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے 3 وکلاء کی جیل ملاقات آج 3 بجے کرائی گئی تھی، ملاقات کرانے سے متعلق فریقین کو آگاہ کیا گیا تھا۔پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے بانء پی ٹی آئی سے 3 بجے جیل میں ملاقات کی تصدیق کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ 3 بجے سلمان اکرم راجہ، شعیب شاہین اور مجھے جیل ملاقات کے لیے بلایا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج 3 بجے بانء پی ٹی آئی کو توہینِ عدالت کیس عدالت پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔بانیء پی ٹی آئی سے جیل ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا تھا کہ بانء پی ٹی آئی کو لے کر آئیں وہ اپنے وکلاء کے ساتھ میٹنگ کر لیں گے، آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت ایک نوٹیفکیشن سے انصاف کی فراہمی کا عمل روک سکتی ہے؟اسٹیٹ کونسل نے جواب دیا کہ عدالت کی سماعتیں نہیں ہو رہی تھیں اس لیے ان کی ملاقات نہیں کرائی گئی۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کہہ رہا ہے کہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نوٹیفکیشن درست ہے یا نہیں، اس کے لیے تو ان کو الگ سے پٹیشن دائر کرنا پڑے گی۔پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن عدالت پیش کر دیا۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ یہ تو21 سے25 تک کا نوٹیفکیشن ہے پہلے والا بھی دکھائیں، وزارتِ داخلہ کی رپورٹ دیں اور بتائیں کہ کیا سیکیورٹی تھریٹس ہیں۔اسٹیٹ کونسل نے بتایا کہ 3 اکتوبر کے بعد سیکیورٹی تھریٹس کی وجہ سے پابندی لگی۔جسٹس اعجاز اسحاق نے کہا کہ عدالت سیکیورٹی تھریٹس کو نہیں مانتی، وکلاء کو بھی نہیں ملنے دیا گیا، یہ توہینِ عدالت ہے، ابھی کیا پوزیشن ہے؟ آپ آج کی تاریخ میں عمل کریں۔اسٹیٹ کونسل نے بتایا کہ 25 اکتوبر تک کا نوٹیفکیشن ہے۔جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن میرے احکامات کی خلاف ورزی ہے، یہ بہنیں ہیں، وکلاء نہیں ہیں، وکلاء کو کیوں نہیں ملنے دیا گیا؟ کیا حکومت نوٹیفکیشن جاری کر کے ایک جگہ کو سیل کر کے انصاف کی فراہمی کو روک سکتی ہے؟ اے جی صاحب یہ توہین میرے احکامات کی ہے، اس پر وزارت داخلہِ کو وضاحت دینا ہو گی، رولز بھی موجود ہیں، یہاں درخواست کیوں آئی؟ وزارتِ داخلہ نے آ کر بتانا ہے کہ کون سی سیکیورٹی تھی کہ وکلاء بھی نہیں جا سکتے تھے؟ محکمہ? داخلہ نے 6 اور 17 اکتوبر کو احکامات جاری کیے، وزارتِ داخلہ کے لیٹر کا بھی حوالہ دیا گیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانء پی ٹی آئی کے ساتھ وکلاء کی آن لائن میٹنگ کرانے کا حکم دے دیا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالتی آرڈر پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ توہینِ عدالت کیس میں عدالت ایسا آرڈر پاس نہیں کر سکتی۔