The Voice of Chitral since 2004
Sunday, 8 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ ، تورکہو کے عوام کا ورکوپ میں احتجاجی دھرنا گزشتہ ایک ہفتے سے جاری، انتظامیہ کو تین دن کا ڈیڈ لاین

Posted on

بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ ، تورکہو کے عوام کا ورکوپ میں احتجاجی دھرنا گزشتہ ایک ہفتے سے جاری، انتظامیہ کو تین دن کا ڈیڈ لاین

اپر چترال ( نمایندہ چترال ٹایمز ) گزشتہ 7 دنوں سے بجلی کی بندش کے خلاف علاقہ استارو، ورکوپ، نشکو، مداک اور تریچ کے عوام کا تورکہو ورکوپ میں احتجاجی جلسے کے بعد دھرنا جاری ہے۔ واضح رہے کہ 3 دن پہلے اسی مقام پر بجلی کی بحالی کے سلسلے میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا جس میں تحصیل تورکہو کے مختلف علاقوں سے عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی تھی۔ ضلعی انتظامیہ اپر چترال اور محکمہ پیڈو کی طرف سے اس یقین دہانی کے ساتھ یہ جلسہ پرامن طور پر ختم کیا گیا تھا کہ 2 دن کے اندر بجلی کی فراہمی کا نیا شیڈول بنایا جائے گا،

دھرنا کےشرکا کا کہنا ہے کہ ریشن پاور ہاؤس اور گولین گول پاور ہاؤس سے سپلائی ہونے والی بجلی اپر چترال کے تمام علاقوں کیلئے برابری کی بنیاد پر تقسیم کی جائے گی۔ تحصیل تورکہو کے عوام کی حیرت کی اس وقت انتہا نہ رہی جب دوسرے روز شیڈول کے نام پر علاقہ تورکہو کو علی الاعلان بجلی سے مکمل طور پر محروم کردیا گیا۔ انتظامیہ اور ادارے کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ تورکہو کو بجلی دینے سے جوٹی لشٹ میں نصب ٹرانسفارمر لوڈ برداشت نہیں کرسکتا اور ریشن پاور ہاؤس سے تورکہو کو بجلی دی نہی جاسکتی لہذا انصاف کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے تورکھو کی بجلی بند کی جاتی ہے۔

ان کا مذید کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ کہ جوٹی لشٹ گرڈ اسٹیشن میں نیا متبادل ٹرانسفارمر موجود ہے لیکن ادارے کے سربراہان اس کی تنصیب نہیں کرواسکتے لہذا عوام جب تک ٹرانسفارمر کی تنصیب نہیں کرائے گی تب تک ادارہ بے بس ہے۔ اس فیصلے کے بعد سے عوام تورکہو سراپا احتجاج ہیں اور جنوری کی اس ٹھٹھرتی سردی منفی 16,ڈگری سنٹی گریڈ میں کھلے آسمان تلے احتجاجاً دھرنا دیے بیٹھے ہیں جن میں بزرگ، جوان اور بچے سب شامل ہیں۔

شرکاء کا موقف ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ پیڈو کا یہ فیصلہ منصفانہ نہیں بلکہ مکمل طور پر بذور طاقت، جانبدارانہ اور تعصبانہ ہے۔ اس سے عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ شرکاء نے فیصلہ کیا کہ عوام اسی طرح احتجاجاً 3 دن تک اسی جگہ دھرنا دئیے بیٹھے رہینگے ۔ 3 دن کے اندر اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو پورے علاقے کے عوام بچے، بوڑھے سب جلوس کی شکل میں ضلعی ہیڈکوارٹر بونی کی طرف مارچ کرینگے اور شدید احتجاجی مظاہرہ کرینگے۔ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار واقعے کی مکمل زمہ داری محکمہ پیڈو اور ضلعی انتظامیہ کی ہوگی۔

chitraltimes torkhow protest for electricity 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
70795

اپرچترال میں بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ، تحریک حقوق کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے شروع کرنیکا فیصلہ

اپرچترال میں بجلی کی ناروالوڈشیڈنگ، تحریک حقوق کے زیراہتمام 14 فروری سے احتجاجی مظاہرے شروع کرنیکا فیصلہ

اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) اپر چترال میں بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے جمعرات کے دن ایم۔این۔اے چترال عبدالاکبر چترالی نے بونی میں تحریک حقوق عوام اپر چترال کے عمائدین سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اپر چترال کے تمام علاقوں سے عمائدین اور تحریک کے نمائندگان نے شرکت کی۔ تحریک کے نمائندوں نے ایم۔این۔اے کو اپر چترال میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کی صورتحال اور عوام کے شدید ردعمل سے آگاہ کیا۔ ایم۔این۔اے نے انکشاف کیا کہ محکمہ پیڈو کی جانب سے محکمہ واپڈا کو 2 کروڑ سے زائد یونٹ بجلی کا بل جن کی مالیت 2 ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے تاحال ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید 12 گھنٹے بڑھنے اور یہاں تک کہ اپر چترال کی بجلی کی فراہمی بند ہونے کا خدشہ ہے۔ مولانا چترالی نے متعلقہ حکام سے رابطے کرکے یہ مسئلہ اپنی بساط کے مطابق حل کرنے اورساتھ اپر چترال گرڈ اسٹیشن پر کام جلد از جلد شروع کروانے کیلئے کوشش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اس حوالے سے ان کا موقف تھا کہ گرڈ اسٹیشن منظور ہوکر فنڈز بھی ریلیز ہوچکے ہیں، لیکن کام شروع کرنے میں حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔


اپم۔این۔اے چترال کے ان انکشافات کے بعد تحریک حقوق عوام کے عمائدین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ تیز کرنے کا فیصلہ کیا اور 14 فروری کے طے شدہ میٹنگ کو 12 فروری بروز ہفتہ بوقت صبح 11 بجے مقامی ہوٹل بونی میں رکھا گیا اور 14 فروری بروز پیر بونی چوک میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپر چترال کے تمام علاقوں تورکہو، موڑکہو، تحصیل مستوج سے تحریک حقوق عوام اپر چترال کے نمائندگان کے علاؤہ سول سوسایٹی اور عمائدین سے 12 فروری کے میٹنگ اور 14 فروری کے احتجاجی جلسے میں بھرپور شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں اور مجاز افسران سے بھرپور گزارش کی جاتی ہے کہ اپر چترال کے عوام کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں اور فوری طور پر بلا وجہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ بصورت دیگر شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔

chitraltimes bijli loadsheeding upper chitral meeting1
chitraltimes bijli loadsheeding upper chitral meeting
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
58255