داد بیداد ۔ بجلی اور پارلیمانی کمیٹی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی
داد بیداد ۔ بجلی اور پارلیمانی کمیٹی ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی
دنیا کے جمہوری مما لک میں پا رلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیاں بہت طا قتور ہوتی ہیں ان کے پا س تفتیش کے اختیارات بھی ہو تے ہیں ممکنہ بے ضا بطگیوں پر سزا دینے کے اختیارات بھی ہو تے ہیں یہاں تک کہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پر وزرا ء کو بر طرف بھی کیا جا تا ہے آج اخبار میں قومی اسمبلی کی پار لیما نی کمیٹی برائے توا نا ئی کے اجلا س کی روداد شائع ہوئی تو امید پیدا ہوئی کہ بیماری کی تشخیص ہو گئی ہے اب بجلی کی کھپت، قیمت اور کمی بیشی کا مسلہ حل ہو جا ئے گا کمیٹی کا اجلا س قومی اسمبلی کے ممبراور کمیٹی کے چیئر مین محمد ادریس کی صدارت میں ہوا کمیٹی کے سامنے رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتا یا گیا کہ ملک میں 250ارپ روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے اور 250ارب روپے کی بجلی کے بل ادا نہیں ہوتے ڈیفالٹ میں چلے جا تے ہیں
کمیٹی کے رکن سکندر حیات نے سوال اٹھا یا کہ کچی آبادیوں کے مکین اور نئی ہا وسنگ سو سائیٹیوں کے ذمہ دار آں صاحباں کئی سالوں سے نئے کنکشن کے لئے در خواستی ہیں ڈیفالٹر وں کی بجلی کے کنکشن کا ٹ کر نئے گھر وں اور کا روباری جگہوں کو کنکشن کیوں نہیں دیئے جا تے؟ اس پر توا نا ئی کے تندرست و توا نا وزیر سردار اویس لغا ری نے کہا کہ نئے کنکشن دینا محکمے کے مفاد میں ہے، بجلی کی کھپت جتنی زیا دہ ہو گی، کنزیو مر جتنے زیا دہ ہونگے بجلی کے نر خوں میں اتنی ہی کمی ہو گی صارفین پر بو جھ کم پڑ ے گا اخبارات میں جو خبر آگئی اُس میں مزید کوئی انکشا ف سامنے نہیں آیا، ذرائع ابلا غ کی رپورٹ کے مطا بق 400ارب روپے کی بجلی سیا ستدانوں، اور سر کاری افیسروں کو مفت دی جا تی ہے 200ارب روپے کی بجلی واپڈا، لیسکو، ٹیسکو، پیسکو، نیپرا وغیرہ کے ملا زمین کو مفت فراہم کی جا تی ہے
یوں صارفین کی بڑی تعداد کو قانون کے ذریعے بل دینے سے استثنا دیا گیا ہے قائمہ کمیٹی کے سامنے یا تو اس کا ذکر نہیں کیا گیا یا ذکر آنے کے بعد خبر کے اس حصے کو سنسر کیا گیا، البتہ قائمہ کمیٹی کو بتا یا گیا کہ کم بجلی خر چ کر نے والے غریب اور متوسط طبقے کو 200یونٹ تک بجلی کے استعمال میں رعا یت دی گئی ہے اس رعا یت اور بے مثال فیا ضی کا ذکر کر تے ہوئے یہ نہیں بتا یا گیا کہ اگر 200یو نٹ کا بل ایک ہزار روپے آئے تو 201یونٹ کا بل پندرہ ہزار روپے آتا ہے گویا ایک ہا تھ سے 800روپے کی چھوٹ دیکر دوسرے ہا تھ سے 14000روپے بٹور لیئے جا تے ہیں اس دن دیہاڑے ڈکیتی کا ذکر ارادی طور پر حذف کیا گیا البتہ بجلی کے بلوں میں ٹیلی وژن فیس لینے کا سلسلہ ختم کرنے کاخو ش آئیند ذکر ضرور آیا یہ ایسی فیس تھی جو پا کستان کے ایک کروڑ مسا جد سے لی جا تی تھی حا لا نکہ کسی ایک مسجد میں ڈش ایٹینا یا کیبل کے ذریعے ٹیلی وژن نشریات سے لطف اندو ز ہونے کا کوئی انتظام شریعت میں جا ئز نہیں
بل لینے والے ہر ماہ خواہ مخواہ ہر مسجد سے ٹیلی وژن فیس وصول کر تے تھے قائمہ کمیٹی کو اس نا روا فیس کی واپسی کا حکم دینا چا ہئیے تھا صارفین کے پا س مذکورہ کمیٹی کے اگلے اجلا س کے لئے دو سوا لات ہیں اگر کمیٹی کا کوئی منتخب ممبر، ان سوالات کو زیر بحث لائے تو صارفین کے دل کی بھڑاس نکلے گی سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر مزدور اورغریب یا بے روز گار صارف بجلی کا بل ادا کر سکتا ہے تو وزرا ء اور سر کاری حکام ما ہا نہ 10لا کھ، 15لا کھ اور 75لا کھ روپے تک کی تنخوا ہیں لینے کے باوجود مفت بجلی کیوں مانگتے ہیں؟ اور توا نا ئی کی وزارت ان کو مفت بجلی کیوں دیتی ہے؟
اس کا شرعی، قانونی اور منطقی جواز کیا ہے؟ دوسرا سوال بھی پہلے سے کم اہمیت کا حا مل نہیں سوال یہ ہے کہ کمیٹی کو آگاہ کیا جا ئے کہ جو صارفین نا دہندہ یا ڈیفالٹر ہیں ان میں کتنے سر کاری ادارے ہیں؟ نا دہندگان میں کتنی فیکٹریاں واپڈا یا ذیلی کمپنیوں کے لائن سپر نٹنڈنٹ سے لیکر جنرل منیجر اور چیر مین رینک کے 2000افیسروں کی ہیں؟ کتنے ٹیو ب ویل واپڈا ملا زمین کی ہیں؟ نیز جو بجلی چوری ہو تی ہے اس میں وزارت توا نا ئی کے حکام کے براہ راست ملوث ہونے شرح 70فیصد کیوں ہے؟ ان سوالات کا جواب مل جا ئے تو جمہوری مما لک کی روایات کے مطا بق پار لیمانی کمیٹی کو قدم اٹھا نا چاہئیے اور بے قصور صارفین کو سفید ہا تھی کی چیرہ دستیوں سے نجا ت دلا کر قومی خزانے کو ہر ماہ 11ارب روپے سے زیا دہ کے نقصان سے بچا نے کی مو ثر تدبیر کرنی چاہئیے۔
