وزیراعظم کا بارشوں کی صورتحال پر وفاقی وصوبائی اداروں کو الرٹ رہنے اور شہریوں کی مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت
وزیراعظم محمد شہبازشریف کا بارشوں کی صورتحال پر وفاقی وصوبائی اداروں کو الرٹ رہنے اور شہریوں کی مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ)وزیراعظم محمد شہبازشریف نے بارشوں کی صورتحال پر وفاقی وصوبائی اداروں کو الرٹ رہنے اور شہریوں کی مدد کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو صورتحال کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی ادارے صوبائی حکومتوں اور محکموں کے اشتراک عمل سے کام کریں،جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، عوام کے تحفظ اور مدد کے لئے فراہم کی جائے اور جہاں ضرورت ہے وہاں عوام کو فوری محفوظ علاقوں میں منتقل کیا جائے۔وزیراعظم نینیشنل ہائی وے اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بین الصوبائی قومی شاہراہوں کی مانیٹرنگ کی بھی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے لسبیلہ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ، اور بولان میں کوئٹہ سبی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی اور عوام کی سہولت کے لئے موثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مختلف شاہراہوں اور متاثرہ علاقوں میں عوام کو خبردار رکھا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کی جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ بارشوں کی صورتحال میں شہری خدمات کے تمام محکمے الرٹ رہیں، قومی جذبے اور ذمہ داری کے احساس سے کام کریں۔ وزیراعظم نے عوام سے بھی اپیل کہ موسمی شدت کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور حکومتی اداروں سے تعاون کریں۔
حکومت کی مفت آٹا سکیم سے پنجاب، خیبرپختونخوا میں دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد خاندانوں کا استفادہ، شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم نے خود نگرانی کی
اسلام آباد(سی ایم لنکس)حکومت کی جانب سے مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے رمضان پیکیج کے تحت پنجاب، خیبرپختونخوا اور وفاقی دارالحکومت کے دو کروڑ 30 لاکھ سے زائد خاندانوں نے مفت آٹا سکیم سے استفادہ کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رمضان کے مقدس مہینے سے چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ حکومت پنجاب کے 18.5 ملین خاندانوں اور وفاقی دارالحکومت کے 185,000 گھرانوں میں مفت آٹا تقسیم کرے گی۔ اس سکیم کے آغاز سے پہلے، وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کے ساتھ متواتر ملاقاتیں کیں تاکہ روزوں کے مہینے میں مستحق افراد میں آٹے کی تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق متعلقہ حکام نے مستحقین کی سہولت کے لیے جامع انتظامات کیے۔انتظار گاہوں کے علاوہ لوگوں کی اہلیت اور تقسیم کے عمل کے حوالے سے رہنمائی کے لیے خصوصی معلوماتی ڈیسک بھی قائم کیے گئے تھے۔ 25 شعبان سے شروع ہونے والی یہ سکیم ماہ مقدس کے آخری ہفتے تک جاری رہی۔ پنجاب میں آٹے کی تقسیم 8500 یوٹیلیٹی سٹورز کے ساتھ ساتھ صوبے بھر میں قائم 20,000 آٹے کے ڈسٹری بیوشن پوائنٹس کے ذریعے کی گئی۔پنجاب حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب بھر میں تقریبا 43.93 ملین آٹے کے تھیلے تقسیم کیے گئے جس سے 17.69 گھرانوں کو فائدہ پہنچا۔پنجاب میں مفت آٹے کی تقسیم صرف صوبے کے مکینوں تک محدود نہیں تھی بلکہ پنجاب میں رہنے والے کے پی، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی یہ سہولت فراہم کی گئی تھی۔ اسی طرح خیبرپختونخوا کے تقریبا 5.23 ملین خاندان حکومت کی فلاحی سکیم سے مستفید ہوئے جو مقررہ ہدف کا 90 فیصد سے زائد حاصل کر چکے ہیں۔