The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ بادشاہ اور فقیر کا در- (حصہ دوئم) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ بادشاہ اور فقیر کا در- (حصہ دوئم) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

مغل اعظم جلال الدین اکبر اعظم جو خود کو ان داتا مشکل کشا سمجھتا تھا، دین الہی کے بعد خود کو خدا سمجھنا شروع ہوگیا تھا لوگ شہنشاہ کی خوشنودی کے لیے اپنا سر اس کے پاں میں رکھ دیتے، پچھلے چند دنوں سے شدید تکلیف میں تھا جب سے اس کی نظر اپنے ذاتی مسئلے کی طرف گئی ایسا مسئلہ جس نے اس کو اندر تک ادھیڑ کے رکھ دیا کیونکہ تو کیسا مشکل کشا اور خدائی کا دعوے دار ہے کہ تیری عظیم سلطنت کا وارث ہی نہیں ہے اِس بات سے بادشاہ کی راتوں کی نیند اور دن کا چین رخصت ہوچکا تھا، بادشاہ سلامت کی پریشانی دیکھ کر جب کسی درویش کے ماننے والا درباری نے بادشاہ سے کہا کہ آپ کا مسیحا تو آپ کے پاس ہی فتح پور میں موجود ہے،

ایک ایسا درویش جس کی دعاں سے روزانہ سینکڑوں لوگوں کی خالی جھولیاں مرادوں سے بھر جاتی ہیں روزانہ سینکڑوں بے بس لاچار لوگ اپنی خالی جھولیاں لاتے ہیں اور اپنی خالی جھولیاں بھر کے واپس جاتے ہیں، بادشاہ نے درباری کی بات سن کر حیرت سے پوچھا کیا شیخ سلیم چشتی کی دعا سے ہمیں ہندوستان کا وارث مل سکتا ہے تو درباری نے عرض کیا بادشاہ سلامت آپ اس چشمہ معرفت پر جا کر تو دیکھیں میں بار ہا ایسے مناظر دیکھ چکا ہوں جب دکھی مفلس آئے اور اپنے دامن خوشیوں سے بھر کر گئے۔لیکن ہمیں ایک درویش بوریا نشین کے درپر دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے، اکبر اعظم شدید تذبذب کا شکار تھا کہ ہم جو سارا دن لوگوں کی خالی جھولیاں بھرتے ہیں خود اپنا خالی دامن فقیر کے سامنے جا کر پھیلادیں، اِس طرح تو ہماری بادشاہت کا سارا وقار ختم ہو جائے گا، درباری خاموش ہو کر چلا گیا لیکن اکبر اعظم کو کشمکش میں ڈال گیا، چند دن کشمکش میں رہنے کے بعد اولادکی خواہش بادشاہ پر غالب آگئی تو بادشاہ نے فقیر کے درپر جانے کا فیصلہ کیا تو خوشامدیوں نے بہت روکنے کی کو شش کی لیکن اکبر اعظم بوریہ نشین فقیر کے در پر سوالی بن کر پہنچ گیا،

حضرت شیخ سلیم چشتی شہنشاہ پاک پتن با با فرید گنج شکر کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے درویش وقت نے حیرت سے شہنشاہ ہند کو اپنے در پر دیکھا تو ادائے بے نیازی سے بولے لوگوں کا ان داتا مشکل کشا آج بوریہ نشین فقیر کے در پر کیسے تو اکبر اعظم ایک سوالی بن کر بولا شیخ تمام حکیم عاجز آگئے ہیں ساری کوشش ناکام ہو چکی ہیں، مغل اعظم شہنشاہ برصغیر نے اپنی شکست کا کھلم کھلا اظہار کیا اور ملتجی لہجے میں سوال کیا کہ مجھے عظیم سلطنت کا وارث چاہیے۔شیخ سلیم چشتی نے قرآن مجید کی آیت کی تلاوت کی واللہ خیرالوارثین (اللہ بہتر وارث دینے والا ہے) لیکن تو تو خود خدا بننے کے چکرمیں تھا اور اور اصل خدا کو بھولاہواتھا تو تجھے وارث کیسے ملنا تھا، شیخ میرے حال پر رحم فرمائیں میں بہت تکلیف میں ہوں میری مدد فرمائیں میرے لیے دعا کریں، مغل اعظم ایک سوالی کی طرح فریاد کرتا رہا شیخ سلیم چشتی بادشاہ کی گریہ زاری سن کر عالم استغراق میں چلے گئے پھر چند لمحوں بعد آنکھیں کھول کر بادشاہ کی طرح دیکھا تو ہندوستان کا شہنشاہ بنا پھرتا ہے جبکہ اصل سلطان الہند تو کوئی اور ہے اقلیم ہند پر اصل حکومت تو شہنشاہ اجمیر خواجہ معین الدین چشتی کی ہے اور میں بھی اسی آستانے کا غلام ہوں،

اب تو میرے پاس چل کر آگیا ہے تو میں آپ کو اصل شہنشاہ ہند کے حوالے کرتا ہوں اکبر اعظم بار بار فقیر کی منت سماجت کررہا تھا آخرشہنشاہ اکبر نے اپنا سر شیخ سلیم چشتی کے پاں پر رکھ دیا کہ میرے لیے کچھ کریں چشم فلک حیرت سے دیکھ رہی تھی فقیر کی شان ہی سچ ہے مالک بے نیازکے در پر دامن پھیلانے والے دونوں جہانوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اور اس کی گلی میں بستر لگانے والے دوسرے کوچے کی پھیری لگانے سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں، دنیاوی شہرت اور مال و زر کس کے دل میں کروٹیں نہیں لیتا، کون ہے وہ بہادر اور ثابت قدم جس کے قدم یہاں لغرزش نہیں کھاتے اور کتنے چیدہ چیدہ خوش قسمت لوگ ہیں جو اِس پل صراط کو عبور کر پاتے ہیں، بہت کم اور خال خال لیکن جو خدا کی پناہ میں آجائیں وہ دنیاوی شہرت و عظمت کو ٹھوکر مار دیتے ہیں۔جو اعمال صالحہ کے زیور سے آراستہ ہو جائیں ان کے دلوں کو حب مال غبار آلود نہیں کرسکتی شیخ سلیم چشتی بھی ایسے ہی مقام پر فائز تھے انہوں نے اکبر اعظم سے کہا جا اور حضرت معین الدین چشتی عطائے رسول نائب رسول کے درِاقدس پر حاضری دو اور فقیروں کی طرح اپنا دامن پھیلادو مجھے یقین ہے شہنشاہ ہند کے وسیلے سے اللہ تعالی تمھاری خالی جھولی بھر دیں گے، شیخ سلیم چشتی کی زبان سے فصاحت و بلاغت کی آبشار جاری تھی، فقیر کے لہجے کے گداز سے بادشاہ اکبر کا دل پگھلا جارہا تھا،

اکبر اعظم کے دل میں امید کی ہلکی سی کرن نمودار ہوئی مگر سورج ابھی گہرے بادلوں میں روپوش تھا، سلیم چشتی کے الفاظ کیا تھے ایک زلزلہ تھا جس نے اکبر کی دل کی دنیا کو زیروبر کر کے رکھ دیا تاریخ میں اکثر ایسے واقعات جنم لیتے ہیں کہ کسی ایک واقعہ یا لفظ نے کچھ لوگوں کی پوری زندگی بدل ڈالی، اکبر اعظم کی زندگی میں بھی اہم موڑ آگیا تھا اکبر اعظم کو لوگوں نے بہت سمجھایا لیکن اکبر نہ مانا اور ننگے پاں عقیدت و احترام سے اجمیر کی طرف سوالی بن کے سفر پر روانہ ہوا، لمبے اور پتھریلے سفر کی وجہ سے نازک مزاج بادشاہ کے پاں میں چھالے پڑھ گئے۔خوشامدی وزیروں مشیروں نے بادشاہ اکبر کی بہت خوشامدکی کہ عالی جناب پیدل کی بجائے سواری پر سفر کریں، لیکن اکبر جس کے دل کی دنیا بدل چکی تھی اس نے سواری پر بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا ہم حقیقی سلطان الہند کے دربار میں حاضر ہو رہے ہیں

عقیدت و احترام کا تقاضہ یہی ہے کہ ہم ننگے پاں سفر کریں اور پھر جب بادشاہ لمبے سفر کے بعد شہنشاہ ہند خواجہ معین الدین کے دربار پر پہنچا تو اس کے پاں زخمی تھے جسم اور چہرہ راستے کے گرد و غبار سے سیاہ پڑگیا تھا، اور پھر دیکھے والوں نے عجیب منظر دیکھا کہ ہندوستان کے بادشاہ نے اپنا دامن مراد پھیلا دیا اور کہا بلا شبہ آپ ہی ہندوستان کے اصلی اور حقیقی سلطان الہند ہیں اور میں آپ کا ادنی غلام میری حالت زار پر رحم فرمائیں، بادشاہ کے پورے جسم پر لرزا طاری ہوگیا اور آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب بہہ نکلا، طاقت و اختیار کا آہنی مجسمہ زار و قطار رورہا تھا پھر جوش اضطراب میں اکبر نے خواجہ پاک کے مزار کی چادر مبارک پکڑ کر اپنے سر پر ڈال لی چادر ڈالتے ہی اکبر کو سکون اور طمانیت کا احساس ہوا، پھر خوب دعا اور گریہ زاری کے بعد بہت سارا زر نقد لوگوں میں تقسیم کیا اور واپس چلا آیا،

مخالفین درپردہ بادشاہ کا مذاق اڑاتے کہ بادشاہ پتھروں کے ڈھیر سے کیا مانگنے گیا تھا، لیکن شہنشاہ ہند خواجہ خواجگان کے چشمہ معرفت کا فیض جاری ہوچکا تھا آخر ایک دن شاہی محل شادیانوں اور پٹاخوں سے گونج اٹھا مغل بادشاہ کو ولی عہد کی پیدائش کی خبر سنائی گئی بادشاہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا، شہنشاہ اجمیر کے آستانے پر حاضری اور مانگی گئی دعا نیلے آسمان کے اوپر مالک بے نیاز نے قبول فرمائی اور مغلیہ سلطنت کو وارث کی عظیم نعمت سے نوازا اکبر کا خالی دامن بیٹے کی نعمت سے بھر دیا دارلحکومت کے درو دیوار چراغوں اور قندیلوں سے جگمگا اٹھے اکبر بیٹے کو لے کر سلیم چشتی کی خدمت میں حاضر ہوا، اظہار عقیدت کے لیے اپنے بیٹے کا نام بھی سلیم رکھا اور وہی بیٹا سلیم نورالدین جہانگیر کے لقب سے تخت نشین ہوا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
97995

بزمِ درویش ۔ بادشاہ اور فقیر کا در ۔ (حصہ اول) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ بادشاہ اور فقیر کا در ۔ (حصہ اول) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

ہندوستان کے رہنے والے محو حیرت اور مبہوت ہو کر حیران کن منظر دیکھ رہے تھے، جس نے بھی یہ منظر دیکھا اس کی سانس رک گئی آنکھیں پتھراگئیں اور وہ سنگی مجسمے کی طرح ساکت ہو گیا، دل و ماغ اور نظر یہ منظر اور اِس کی حقیقت تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے، منظر واقعہ ہی بہت حیران کن اور دل و دماغ کو مفلوج کرنے والا تھا کیونکہ کوئی بھی ذی روح یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ کل تک جو خود کو مشکل کشا ان داتا اور شہنشاہ ہند سمجھتا تھا وہ خود آج سوالی بن کر اپنا خالی دامن پھیلائے اپنی عظیم سلطنت کا ولی عہد وارث مانگنے اجمیر شریف میں ایک ایسے مرد حق فقیر کے در پر جارہاتھا، جو سالوں پہلے اس فانی دنیا سے پردہ کر کے آسودہ خاک ہو چکا تھا روحانیت اور تصوف کے مخالفین نے شہنشاہ کو بہت سمجھانے کی کو شش کی کہ آپ کے فقیر کے در پر جانے سے عوام کے ذہن خراب ہو جائیں گے کہ لوگ تو آپ سے مرادیں مانگتے ہیں اور آپ ایک قبر سے اپنی مراد مانگنے جا رہے ہیں

بادشاہ سلامت آپ تو خود روزانہ ہزاروں حاجت مندوں کی خالی جھولیاں بھرتے ہیں اور اگر آج آپ اپنا دامن کسی فقیر کی قبر پر جاکر پھیلائینگے تو آپ کی بادشاہت کی عظیم عمارت زمین بوس ہو جائے گی کیونکہ یہ وہی بادشاہ تھا جو دین الہی کا موجد تھا مخلوق کا مشکل کشا مغلیہ خاندان کا وہ عظیم بادشاہ جس نے برصغیر پاک و ہند پر تقریبا پچاس سال حکومت کی جس نے جو چاہا وہ کیا لیکن آج بے بسی کی تصویر بنا ننگے پاں اجمیر شریف جارہا تھا۔مغلیہ سلطنت کے عظیم ترین بادشاہ اکبر اعظم کا یہ سفر کوئی افسانہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کیونکہ اِس سفر کی گواہی خود اکبر اعظم کے بیٹے شہنشاہ جہانگیر نے دی ہے جہانگیر نے اپنی خود نوشت میں اِس تاریخی واقعہ کوبیان کیا ہے کہ میرے والد صاحب نے میری ولادت کے لیے فتح پور سے اجمیر تک پیدل سفر کیا تھا، یہ فاصلہ ایک سو بیس کوس ہے سینکڑوں کلو میٹر پیدل ننگے پاں سفر کرنے کی وجہ سے شہنشاہ کے پاں میں چھالے پڑگئے تھے آغازسفر پر وزیروں مشیروں اور خدمت گزاروں نے بادشاہ سلامت کو بہت سمجھایا کہ راستہ بہت مشکل پتھریلا ہے

اِس لیے بادشاہ سلامت سواری استعمال کریں تو آسانی ہوگی لیکن اکبر اعظم نے کیا خوب کہا کہ ہم اصل سلطان الہند کے دربار سوالی بن کر جارہے ہیں اِس لیے ادب و احترام کا تقاضہ یہی ہے کہ ننگے پاں سوالی بن کر جایا جائے۔دیکھنے والے حیران اِس بات پر تھے کہ یہ وہی شہنشاہ تھا جس نے نیا مذہب دین الہی ایجاد کیا تھا، اکبر اعظم جب تخت نشین ہوا تو ابھی کم سنِ تھادنیاوی اور مذہبی تعلیم نہ ہونے کے برابرتھی، درباری علما مبارک اور اس کے دونوں بیٹوں ابوالفضل اور فیضی نے اکبر کی کم عمری کا ناجائز فائدہ اٹھانا شروع کیا اکبر کے مذہبی عقیدے کو کمزور اور غلط رنگ دینا شروع کردیا اِن دنیا پرستوں نے ہندو برہمنوں کے ساتھ مل کر اِس کم عقل حکمران کو اِس حد تک متاثر اور مجبور کیا کہ بادشاہ نے نیا مذہب دین الہی ایجاد کر لیا، اکبر کے اِس مذہب پر ہندو دھرم کا رنگ زیادہ نمایاں تھا، اکبر کے سامنے آگ جلائی جاتی اور سریلے گوئیے اپنی سریلی آواز میں حمدکے اشعار گنگناتے اِس طرح وہ آتش پرستی کا جواز فراہم کرتے بادشاہ سلامت مخصوص اوقات میں سورج کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ جاتا یہ ایک قسم کی آفتاب پرستی تھی، گنگا جمنا کا پانی مقدس بتایا گیا بادشاہ سلامت گھر اور سفر میں یہی پانی استعمال کرتا ملازمین کی باقاعدہ ایک جماعت تھی جو دریا کنارے مامور رہتی جو سر پر مہر کوزے بھر کر لاتی تمام کھانے گنگا جل میں پکائے جاتے

آتش پرستی آفتاب پرستی اور گنگا جل پینے کا بعد اکبر اعظم نے تمام ہندووئں کو خدائے واحد کا پجاری قرار دیا۔ہندووئں کو مزید خوش کر نے کے لئے گائے کا ذبیحہ حرام قرار دے دیا گیا، بادشاہ ہر قسم کے گوشت پر پابندی لگا نا چاہتا تھا ہندووئں کو خوش کرنے کے لئے ایک فرمان جاری کیا گیا کہ قصابوں اور ماہی گیروں کے گھروں کو عام آبادی سے علیحدہ کر دیا جائے اور معاشرے کے باقی لوگ اگر اِن سے مراسم رکھیں تو اِن سے تاوان لیا جائے، اسلام نے سورکے گوشت کو حرام قرار دیا ہے اکبر کو اِس پر بھی اعتراض تھا کہ اگر سور کو بے غیرتی کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے تو شیر یا اِس طرح کے دوسرے جانوروں کو حلال ہونا چاہیے، اکبر اپنی بدتمیزیوں اور گستاخیوں میں تمام حدود کراس کرتا جارہا تھا کہ اب وہ سرعام مذہب اسلام کی تعلیمات اور عقائد کا مذاق اڑاتا، ایک دن تو اِس تک گرگیا کہ سرعام درباریوں سے مخاطب ہو کر بولا ملت اسلامی کا سارا سرمایہ بد عقلی کا مجموعہ ہے (معاذ اللہ) حقیقت میں مبارک اس کے بیٹے اور چالاک عیار برہمنوں نے اکبر کے دل و دماغ پر پوری طرح غلبہ پا لیا تھا

اب اکبر کی زبان سے وہی الفاظ ادا ہوتے جو یہ مکار اور عیار ٹولہ چاہتا تھا، دیوان خانے میں کسی کو جرات نہ تھی کہ وہ اعلانیہ نماز پڑھ سکے۔صاحب نصاب لوگوں پر زکو معاف کردی اِس کی وہ کمزور دلیل یہ دیتا کہ وہ لوگوں کے معاشی حالات بہتر بنانا چاہتا ہے، اور پھر سجدہ تعظیمی کا اجرا کیا گیا اب جو بھی بادشاہ سے ملنے یا دیدار کے لئے آتا تو وہ اکبر کو سجدہ کرتا پھرسجدہ کی رسم اتنی زیادہ ہو گئی کہ سجدہ کرنے والااپنی دستار کو سرسے اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیتا اور ننگا سر بادشاہ کے پاں پر رکھ دیتا اور زبان سے یہ کہتا میں اپنے دل کی توجہ بادشاہ کی اطاعت کی طرف مبذول کرتا ہوں، تعظیمی سجدہ دین اسلام کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی کیونکہ اسلام میں قیامت تک کے لئے خدا کے علاوہ تمام سجدوں کو حرام قرار دیا ہے،

ملاقات کے وقت اسلام علیکم کی بجائے ایک دوسرے کو اللہاکبر کہا جاتا، درباری فتنہ گر مبارک اس کے بیٹے بادشاہ کو نبوت کے بعد خدا بنانے کے چکر میں تھے۔بادشاہ اِن حماقتوں میں غرق تھا کہ اچانک ایک واقعہ نے اس کے ہوش اڑا دیئے، اکبر نے اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کے لیے راجہ مان سنگھ کی بہن جودھا بائی سے شادی کی تھی ملکہ ہندو دھرم پر قائم تھی اس نے محل میں ہی ایک چھوٹا سا مندر بنا رکھا تھاجس کے اندر ہندو دیوتاں کی مورتیاں رکھی ہوئی تھی، اکبر اعظم لوگوں کا داتا بن کر بیٹھا تھالیکن اپنا مسئلہ دیکھ کر دہل گیا کہ مغل شہنشاہ کے کئی بیٹے ہوئے مگر جلدی ہی مر گئے جودھابائی نے اپنے دیوتاں کے سامنے بہت ماتھا رگڑا لیکن وہ ماں نہ بن سکی، اکبر اکثر سوچتا کہ کیسا مشکل کشا ہے کہ اپنا مسئلہ تو حل نہیں کر سکا لہذا بادشاہ پریشان رہنے لگا ایک دن ایک درباری نے بادشاہ سے کہا کہ جناب آپ کی پریشانی کا حل فتح پور میں ایک فقیر حضرت سلیم چشتی کے پاس ہے، جو آپ کو ہندوستان کا وارث دینے میں مدد کر سکتا ہے (جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
97863