وزیراعلیٰ کا صوبے میں حال ہی میں پائلٹ بنیادوں پر اجراء کردہ ای-فائن سسٹم (ڈیجیٹل محاصل) کو تمام متعلقہ محکموں میں توسیع دینے کا فیصلہ، چیف سیکرٹری مراسلہ ارسال، عملدرآمد کی تاکید
وزیراعلیٰ کا صوبے میں حال ہی میں پائلٹ بنیادوں پر اجراء کردہ ای-فائن سسٹم (ڈیجیٹل محاصل) کو تمام متعلقہ محکموں میں توسیع دینے کا فیصلہ، چیف سیکرٹری مراسلہ ارسال، عملدرآمد کی تاکید
پشاور ( نمائندہ چترال ٹائمز ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے صوبے میں ای گورننس اور سرکاری امور کی ڈیجیٹائزیشن کے لئے ایک اور اہم اقدام کے طور پر حال میں پائلٹ بنیادوں پر اجراء کردہ ای-فائن سسٹم (ڈیجیٹل محاصل) کو تمام متعلقہ محکموں میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلی سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو مراسلہ ارسال کردیا ہے جس میں متعلقہ محکموں کو ڈیجیٹل محاصل پر عملدرآمد کرنے کے لئے ضروری کاروائیاں عمل میں لانے کی تاکید کی گئی ہے۔
ڈیجیٹل محاصل صوبائی حکومت کے ہر قسم کے جرمانوں اور فیسوں کی آن لائن وصولیوں کا ایک یونیفائیڈ اور اینٹگریٹڈ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جسے ابتدائی طور پر ضلع پشاور، ایبٹ آباد، ڈی آئی خان اور سوات میں نافذ کیا گیا تھا جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آرہے ہیں اور ان اضلاع میں ریونیو اکٹھا کرنے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ضلع پشاور میں ای فائن سسٹم کے تحت اب تک کل جاری کردہ 4,219 چالان میں سے 4،201 کی ادائیگیاں ہوچکی ہیں۔
اسی طرح ڈی آئی خان میں کل جاری کردہ 36 میں سے 36، سوات میں کل جاری کردہ 891 میں سے 875 جبکہ ایبٹ آباد میں میں کل جاری کردہ 289 چالان میں سے 282 کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں جس کے نتیجے میں 30 ملین روپے سے زائد کی آمدن جمع ہوئی۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈیجیٹل محاصل سسٹم ریونیو اکٹھا کرنے کے عمل میں شفافیت اور احتساب یقینی ہوگیا ہے بلکہ اسے محکموں کی کارکردگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور سب سے بڑھ کر عوام کو جرمانوں کی ادائیگیوں میں سہولت ہوتی ہے کیونکہ انہیں جرمانوں اور فیسوں کی ادائیگی کے لئے دفتروں کے چکر نہیں لگانے پڑتے جس کے نتیجے میں ان کے قیمتی وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔
ان فوائد کے پیش نظر اس جدید آن لائن سسٹم کو ان تمام محکموں تک توسیع دینے کی ضرورت ہے جو کسی بھی قسم کے جرمانے عائد کرتے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے اس سسٹم کو صوبہ بھر میں نافذ کرنے کے لئے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان مربوط کوآرڈینیشن کا ایک مربوط نظام وضع کیا جائے اور کم سے کم ممکنہ وقت میں اس سسٹم کے مکمل نفاذ کے لئے ٹائم لائینز پر مشتمل پلان ترتیب دے کر اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔