The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

 ایک مدرسے کی جشن آزادی کی تقریب میں شرکت – تلخ و شیرین، نثار احمد 

 ایک مدرسے کی جشن آزادی کی تقریب میں شرکت – تلخ و شیرین، نثار احمد

پاکستان میں ہر سال جشن آزادی منایا جاتا ہے ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس دن کی مناسبت سے تحریک ِ آزادی کا تذکرہ کیا جائے ، اس تحریک کے خدوخال ، اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے نئی نسل کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ جو آزادی ہمیں ملی ہے مفت میں نہیں ملی ہے اس کے لیے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دی ہیں ، جیلوں میں گئے ہیں ، صعوبتیں جھیلی ہیں، تکالیف سہی ہے اور مشقتیں برداشت کی ہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ چودہ اگست کو جو گہما گہمی ہوتی تھی ، جو رونق کا سماں ہوتا تھا جو جوش و جذبہ دیکھنے کو ملتا تھا گزشتہ چند سالوں سے نظر نہیں آ رہا۔ دیگر معاشی و معاشرتی وجوہات کے علاوہ ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اب جب بھی چودہ اگست آتا ہے تو کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت روٹھی روٹھی ایک طرف بیٹھتی نظر آتی ہے۔ اس جماعت کے کارکنوں کو چودہ اگست کی تقریبات میں رتی برابر دلچسپی نہیں ہوتی۔ آج بھی سوشل میڈیا ایپ پر بہت سارے نوجوان یہ کہتے اور لکھتے نظر آئے کہ ایسی آزادی کا کیا فایدہ جس میں سیاسی لیڈروں کو بلاوجہ پس زندان رکھا گیا ہو۔ ایسی آزادی کا اچار ڈالنا ہے؟ جو بندے کو ما فی الضمیر کے اظہار تک کی آزادی دینے سے قاصر و عاجز ہو۔ یہ کونسی آزادی ہے کہ ایک شخص اپنے ہی ملکیتی نیٹ پیکج کو اپنی پسند کے مطابق خرچ نہ کر سکے۔ ریاست کے اربابِ بست و کشاد بالخصوص اصل حکمرانوں کو اس صورت حال پر سوچنا چاہیے ۔ باایں ہمہ بحیثیت شہری ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے قوموں کے سفر میں کئی موڑ آتے ہیں اس سفر میں پیش آنے والے ناروا حالات کو لے کر ملک سےروٹھنا دانشمندی نہیں۔ ملک آخر اپنا ہے۔ وہی قوم آخر کار منزل یاب ہوتی ہے منزل کی جانب جس کا سفر مسلسل اور متواتر ہوتا ہے۔

پشاور میں ہونے کی وجہ سے مجھے آج ایک مدرسے کے بچوں کے ساتھ جشن آزادی منانے کا موقع ملا۔ جامعہ دارالقرآن نامی یہ مدرسہ تاج آباد پشاور واقع ہے۔ مدرسہ امسال نیا نیا بنا ہے۔ مدرسے کا میرکارواں ہمارا دوست مفتی عبد الرحمن ہے۔ مفتی صاحب نے گویا یہاں جنگل میں منگل سجا رکھا ہے۔ اخلاص ، انتظام، سلیقہ ، ذوق اور نفاست غرض ہر چیز کا مظاہرہ یہاں کے درودیوار سے خوب خوب ہو رہا ہے۔

آج کی تقریبِ جشن آزادی میں مدرسے کے بچوں کی دلچسپی بھی دیدنی تھی اور ان کی والہانہ شرکت بھی قابل تعریف تھی۔ ان کی طرف سے نذرِ محفل ہونے والی تلاوت ، نعت ، نظم ، ملی نغمہ ، ترانہ، تقاریر الغرض ایک ایک آئیٹم بچوں کی ہم نصابی سرگرمیوں میں مہارتِ تامہ کا پتہ بھی دے رہا تھا اور اساتذہ کی طرف سے ان کے اوپر کی گئی محنت کو بھی عیاں و نمایاں کر رہا تھا۔ شریک ِ مجلس ہونے کے ناتے مجھے بھی اظہارِ خیال کا موقع دیا گیا جب بچے اپنی ہم نصابی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر فارغ ہوئے تو شریکِ محفل ہونے کے ناتے مجھے بھی اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ جو کہا اس کا خلاصہ تقریبا یہی تھا
“آج سے ستتر سال پہلے اسی دن ہم آزاد ہوئے تھے آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا احساس ان لوگوں کو بخوبی ہو سکتا ہے جو غیروں کے محکوم و ماتحت رہے ہیں آزادی چونکہ ہمیں جدوجہد کے بغیر وراثت میں ملی ہے اس لیے ہمیں اس کی قدر نہیں ۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ اس کی قدر یہ ہے کہ ہم ایک اچھا شہری بنیں ، باکردار حافظ اور اچھا عالم بن کر یہاں سے نکلیں، ملکی قوانین کا احترام کریں اپنے معاشرے کو فایدہ پہنچانے کی ہرممکن کوشش کریں، زمہ دار شہری کا کردار نبھاتے ہوئے دھوکہ ، فریب اور بے ایمانی سے دور رہیں۔

اس دن کی مناسبت سے ہمیں تحریک پاکستان کے اپنے اکابرین کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان لوگوں کا کردار بھی نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے انگریزوں کے تسلط سے ارضِ برصغیر کو چھڑانے کے لیے اپنا خون بہایا ، جنہوں برصغیر کی آزادی کے لیے تن ، من اور دھن کی قربانی دی۔ یہ تو آپ سے مخفی نہیں ہے کہ سارا ہندوستان برسہا برس تک مسلمانوں کے زیرِ نگین رہا تھا پھر ہوا یوں کہ دو ڈھائی سو انگریز سیٹھوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے یہاں تجارت شروع کی۔ آئے تھے تجارت کرنے اور مال بنانے، لیکن یہاں کے عیاش راجوں نوابوں اور سونا اگلتی زمین دیکھ کر ان کے منہ پانی آی یوں توسیع پسندانہ عزائم کے تحت بال و پر نکالنا شروع کیا۔ تاآنکہ 1757 کی جنگ پلاسی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی طاقت و قوت میں مزید اِضافہ ہوگیا ہوتے ہوتے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد پورا بر صغیر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہاتھ سے نکل کر براہ راست برطانیہ کے زیرِتسلط چلا گیا۔

تب یہاں کے علماء ، مسلمانوں اور ہندوؤں نے برصغیر کو برطانیہ کے ناجائز قبضے سے چھڑانے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا۔ دارالعلوم دیوبند ، کانگریس ، مجلس احرار ، مجلس خاکسار ، جمعیت علمائے ہند سمیت دیگر پارٹیوں کا واحد ایجنڈا یہ تھا کہ انگریز سرکار کو فورا یہاں سے جانا چاہیے لیکن پاکستان بنانے کی جدوجہد تن تنہا مسلم لیگ نے لڑی ۔ مسلم لیگ کا برطانوی حکومت سے مطالبہ ہی یہی تھا کہ جب آپ برصغیر سے جا ہی رہے ہیں تو خدارا ہمیں ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر مت جائیں۔ برصغیر کو دو ٹکڑے کرکے ہمیں ہمارا حصہ دے کر جائیں تاکہ ہم اپنے والے حصے میں اسلامی قوانین کو “نافذ” کر سکیں۔ یوں مسلم لیگ سرخ رو ٹھہری اس کا مطالبہ مان لیا گیا اور چودہ اگست 1947 عیسوی کی صبح پاکستان کی ولادت کے ساتھ طلوع ہوا۔ اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایک اچھا پاکستانی بننے کی توفیق عطا فرمائے۔”

chitraltimes madrasa yom azadi taqreeb 2 chitraltimes madrasa yom azadi taqreeb 3 chitraltimes madrasa yom azadi taqreeb 4 chitraltimes madrasa yom azadi taqreeb 5 chitraltimes madrasa yom azadi taqreeb 6 chitraltimes madrasa yom azadi taqreeb 7

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
92134