The Voice of Chitral since 2004
Monday, 27 July 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ ایک خاص خوشبو (حصہ دوئم) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Posted on

بزمِ درویش ۔ ایک خاص خوشبو (حصہ دوئم) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں شدت سے اس دن کا انتظار کر رہا تھا جب مجھے پتہ چلے کہ پہلوان باقی انسانوں سے مختلف کیوں ہے میں نے دو تین بار پہلوان سے اِس بات کا ذکر بھی کیا تھا پہلوان تم ایک صابر شاکر انسان ہو ایسے انسان معاشرے میں اور بھی مل جاتے ہیں لیکن تمہاری ذات شخصیت میں کوئی اور بھی نیکی اچھائی ہے جسے تم نے چھپا رکھا ہے وہ نیکی اچھائی تمہیں دوسروں سے مختلف کرتی ہے وہ کیا ہے تو پہلوان دونوں کانوں کا ہاتھ لگا کر آسمان کی طرف ہاتھ جوڑ کر میرے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا پروفیسر صاحب بہت گناہ گار سیاہ کار چھوٹا آدمی ہوں آپ سب سے پیار کرتے ہیں اِس لیے آپ کو ساری دنیا ہی اچھی لگتی ہے وہ ہر بار میری بات کو ٹال جاتا اب میں نے فیصلہ کیا پہلوان کی بیوی جو اب میری بہن بن چکی تھی اس سے پوچھوں گا اس سے پوچھا تو اس نے بھی ٹال دیا کہ نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے لیکن میری چھٹی حس بار بار دستک دیتی تھی کہ پہلوان عام انسانوں سے بہت مختلف ہے

اِس دوران کسی نے مجھے بوسکی کا سوٹ اور ریشمی تاروں والا کھسہ تحفہ دیا تو وہ میں نے اِس شرط اور درخواست پر پہلوان صاحب کو دیا کہ وہ یہ پہن کر میرے پاس آئیں گے تو پہلوان نے کپڑے اپنی نم آنکھوں سے لگائے اور گلو گیر لہجے میں بولا جناب آپ کے تحفے کا بہت شکریہ آپ سے وعدہ کر تا ہوں بیٹی کی شادی پر پہن کر آپ کو دکھاں گا اب جب میں نے پہلوان صاحب کو تحفہ دیا تو اس نے خود پر فرض کر لیا کہ وہ بھی بدلے میں مجھے کچھ دے گا لہذا سردیوں کے آغاز پر پہلوان اپنے لیے جب مغزیات سے بھر پور پنجیری بنواتا تو ساتھ میں دیسی گھی کی خشک جلیبیاں تومیرے لیے بھی ضرور بنوکر لاتا کیونکہ میرا بچپن جوانی اور تعلق بھی گاں سے ہے اِس لیے یہ میرے لیے بھی بہت قیمتی سوغات سے کم نہ تھیں لہذا سردیوں میں اکثر دودھ جلیبی سے لطف اٹھا تا اِس دوران پہلوان کی بیٹی کی شادی ہو گئی تو پہلوان صاحب نے مجھے نیک بزرگ سمجھنا شروع کر دیا کہ دعاں سے بیٹی کی شادی اچھے گھر میں ہو گئی ہے اب پہلوان کی زندگی کے سارے مسئلے حل ہو گئے تھے

پرچون کی دوکان اور چند دوکانیں تھیں جن کا کرایہ اتنا زیادہ آجاتا کہ دونوں میاں بیوی کی زندگی خوشگوار انداز سے گزر نے لگی اب پہلوان صاحب ذکر اذکار کی طرف آئے تو لطف مزہ آیا لہذا اب میں اِن کو مختلف اذکار کرا رہا تھا وہ جوش و خروش سے کر رہے تھے میرا بھی جب دل کرتا دونوں کے گھر خوشبو لینے چلا جاتا میں کھوج میں تھا پھر وہ وقت آگیا جب پہلوان کی نیکی اور راز کا مجھے پتہ چلا تو میری روح جھوم جھوم اٹھی اور پکار اٹھا کہ پہلوان واقعی زندگی کا ولی ہے جس کے کردار کی خوشبو اس کے جسم سے پھوٹتی ہے پہلوان کیونکہ خالص خوراکوں دودھ مکھن گھی گوشت باداموں انڈوں کا رسیا تھا بڑھتی عمر میں جب پرہیز کا وقت آیا تو پہلوان جو پرہیز کے نام سے ہی واقف نہیں تھا اس نے بد پرہیزی کو جاری رکھا پہلے شوگر پھر بلڈ پریشر نے آگھیرا لیکن پہلوان اپنی روٹین پر مزید خوراک کھانے لگا جو خطرناک ثابت ہوئی

فشار خون نے چھلانگ لگائی تو دماغ پر حملہ آور ہو کر چھوٹا سا فالج کا حملہ ہو گیا پہلوان کو تیز سر درد اور جھٹکے لگنے شروع ہو ئے گر کر بے ہوش ہو گئے تو محلے والے نے ہسپتال لے گئے مجھے صبح پتہ چلا تو فوری طور پر ہسپتال پہنچا جہاں پر پہلوان مختلف نالیوں اور ڈرپوں میں جکڑا نظر آیا پہلوان ہوش میں آچکا تھا لیکن بایا ں بازوں اور چہرہ تھوڑے سے فالجی ہو گئے تھے مجھے دیکھا تو آنکھوں میں چمک اور چہرے پر تبسم پھیل گیا میں حوصلہ دیا تو پہلوان نے آسمان کی طرف اشارہ کیا پھر مجھے دم اور دعا کا کہا ساتھ میں بیوی بھی پریشان تھی میں ڈاکڑوں سے ملا تو انہوں نے کہا پہلوان صاحب با ل بال فالج اور برین کے پھٹنے سے بچے ہیں اب اِن کو پرہیز کر نا ہو گا

تین دن ہسپتال رہنے کے بعد پہلوان صاحب کو ڈسچارج کر دیا گیا اب پہلوان صاحب سہارے سے چل اور واش روم جاسکتے تھے میں پہلوان صاحب کی تیمار داری کے لیے ان کے گھر گیا تو بیگم کی دیوانگی کا ایک اور منظر دیکھا جب میں کمرے میں داخل ہوا تو بیگم پہلوان صاحب کے پاں دھو رہی تھی بڑے برتن میں گرم پانی ڈال کر پہلوان صاحب کے پاں اس میں رکھ کر دھو رہی تھی میں پہلوان صاحب کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا پرہیز کی اہمیت کہ اب آپ نے بد پرہیزی نہیں کرنی اِس دوران میں دیکھا جو پہلوان صاحب کی ٹانگوں اور پاں پر گرم پانی ڈال رہی تھی جب اچھی طرح پاں دھو چکی تو اس پانی کو اپنے سر پر لگا یا اپنے چہرے کو دھو یاپھر اس پانی کو گلاس میں ڈال کر پی لیا اِس قدر عقیدت دیوانگی عشق میں حیران نظروں سے بیوی کو دیکھ رہا تھا کہ کوئی بیوی اپنے خاوند کی اِس حد تک عزت احترام عشق کرتی ہو کہ اِس کا دھلا پانی پی بھی لے میری کھوج کی حس پھر پھڑ پھڑانے لگی کہ کیا بات ہے جو بیوی اِس قدر دیوانی اور عقیدت مند ہے

اب میں پہلوان کی طرف منہ کر کے بولا پہلوان جی آپ بہت خوش قسمت ہیں اتنی تابعدار نیک بیوی تو میں نے آج تک نہیں دیکھی تو پہلوان مسکرا کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگے بہت دیر بعد جب میں واپس آنے لگا تو پہلوان کی بیگم مجھے دروازے تک چھوڑنے آئی تو ادب سے بولا بہن جی آپ میرے اوپر ایک احسان کریں وہ بات بتائیں کہ آپ پہلوان صاحب کی اتنی دیوانگی کیوں ہیں تو پہلی بار بیوی بولی سرکار میں آپ کو اگلی بار خط دوں گی جس میں وہ نیکی او رراز ہو گا جو آپ بار بار پو چھتے ہیں کہ پہلوان عام انسانوں سے مختلف کیوں ہے پھر میں چند دن بعد پھر پہلوان صاحب کے گھر بیٹھا دونوں میاں بیوی کی محبت دیوانگی کے جلوے دیکھ رہا تھا واپسی پر بیوی نے مجھے خط دیا جس میں میرے پچھلے کئی مہینوں کے سوال کا جواب تھا میں نے کار میں بیٹھتے ہی خط کھول لیا لکھا تھا جناب میں پہلوان صاحب کے استاد پہلوان کی بیٹی تھی

جوان ہوئی تو بہت خوبصورت تھی محلے کے اوباش جوان نے رشتہ بھیجا تو والد صاحب نے انکار کر دیا وہ بار بار کہتا رہا جب میرے گھر والے نہ مانے تو اغوا کر کے میری عزت خراب کر دی اپنی ہو س پوری کر کے چھوڑ دیا میری ماں اور باپ اِس صدمے سے زندہ لاشیں بن گئے دو ماہ بعد جب ماں کو میرے حاملہ ہو نے کا پتہ چلا باپ کو بتایا باپ یہ صدمہ برداشت نہ کر پایا ھارٹ اٹیک ہوا اور ہمیں چھوڑ کر چلا گیا پہلوان جی میرے باپ کے بیٹے بنے ہوئے تھے میری ماں سے آکر ملے ماں نے جب میری اوپر ہونے والے ظلم کا بتایا تو بہت پریشان ہو ئے اگلے ہی دن رشتہ لے کر آگئے اِس طرح میں شادی کر کے پہلوان صاحب کی زندگی میں آگئی پہلوان صاحب نے پہلی ہی رات کہہ دیا یہ جو بھی اولاد ہو گی اِس کو میں نام دوں گا پھر یہی ہوا پہلوان صاحب نے کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنا کر پالا اس کی شادی کی ہماری اولاد نہیں ہوئی پہلوان جی نے یہ راز ساری زندگی بیٹی کو بھی نہیں بتایا میری آنکھوں سے پہلوان صاحب کے لیے عقیدت کے آنسو جاری تھے اور پہلوان نے جب قدرت کے پھول کو اپنا نام دیا تو خدا نے پہلوان کو خاص خوشبو عطا کردی جو ہر وقت پہلوان کے جسم سے پھوٹتی رہتی ہے مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
115515

بزمِ درویش۔ ایک خاص خوشبو (حصہ اول) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش۔ ایک خاص خوشبو (حصہ اول) ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

سردی کی آمد آمد تھی مہنگائی کے ہو شربا عفریت نے لوگوں کی جان نکال دی تھی آسمان کو چھوتی قیمتوں کی وجہ سے لوگ ڈرائی فروٹ کو صرف ٹی وی سکرین یا دوکانوں میں سجا ہوا دیکھ سکتے تھے عالمی سطح پر جنگوں نے دنیا بھر کو مہنگائی کے بھنور میں جھونک کر رکھ دیا ترقی یافتہ ملکوں کے عوام مہنگائی مہنگائی چیختے نظر آئے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر غریب ملک کا کیا حال ہو گا پہلے لوگوں کی جیب اجازت دیتی تھی جو وہ موسموں کی تبدیلی کے ساتھ خوراک کی تبدیلی بھی افورڈ کر سکتے تھے سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی لوگ ڈرائی فروٹ کی دوکانوں پر یلغار کر دیتے گرم کپڑوں کا اہتمام کیا جاتا گھروں میں ایسے پکوانوں کا اہتمام ذوق شوق سے کیا جاتا لیکن مہنگائی نے یہ ساری عیاشیاں لوگوں سے چھین لی تھیں

اِس مہنگائی کے دور میں یہ سوغاتیں اب دولت مندوں کے گھروں کی رونق بن کر رہ گئی ہیں آج اتوار کا دن تھا میں طویل پر سکون نیند لے کر جب بیدار ہوا تو بے دلی سے پردہ سرکا یا تا کہ دیکھ سکوں بادل ہیں یا بارش لیکن کھڑکی کے اس پار چاروں طرف سنہری دھوپ کی چادر تنی تھی یہ میرے لیے بہت خوشگوار حیرت تھی کیونکہ میں پچھلے کئی دنوں سے بارش اور گہرے گھنے بادلوں کا عادی ہو چکا تھا تیز چمکیلی دھوپ دیکھ کر میری ساری سستی اتر گئی میں نے فوری ارادہ کیا کہ آج پھر گھر پر ہی حرارت آمیز زیست کیف سے بھر پور دھوپ کا لطف اٹھا یا جائے گھر کے اس حصے میں جہاں پر سارا دن دھوپ مہربان رہتی ہے وہاں پر نرم و گداز تکیوں ریشمی کمبل اوڑھ کر ٹھنڈے جسم کو زندگی بخش دھوپ کے حوالے کر دیا جائے اب میں گھر والوں کو ناشتے کا کہہ کر روش روم میں گھس گیا گرم بھاپ اڑاتے پانی سے خوب شاور لینے کے بعد میں دھوپ اور صحن میں بچھی چارپائی پر آگیا جہاں پر آرام دہ پھولے ہوئے تکیے اور باریک ریشمی کمبل میرے منتظر تھے

میں ناشتے کے بعد دھوپ کا لطف لینا چاہتا تھا کمبل اِ س لیے رکھا اگر تیز ہواں نے تنگ کیا تو کمبل اوڑھ لوں گا نہیں تو نیلے آسمان اور سورج کی شعاں کے نیچے میں لیٹ کر لطف اٹھاں گا اِسی دوران گرما گرم خالص دودھ اور شہد ملائی والے بڑے پیالے میں دیسی گھی کی جلیبیاں اورمیرے آنکھوں کے سامنے گا جر کے باداموں اور خشک میوہ جات سے بھرپور حلوہ بھی آگیا گاجر کا حلوہ تو معمول کی بات ہو سکتی تھی لیکن دیسی گھی کی خشک جلیبیوں والا ابلتا ہوا پیالا خوشگوار ترین حیرت تھی جلیبیوں والے پیالے کو دیکھ کر میرے منہ سے بآواز نکلا پہلوان صاحب کب آئے تھے تو اندر سے آواز آئی کل رات وہ جلیبیوں اور خالص پنجیری کی ٹوکری دیسی انڈوں کے ساتھ دے گئے تھے اور تاکید بھی کہ صبح پروفیسر صاحب کو ناشتے میں پیش کر دی جائیں پہلوان جی کی محبت میری آنکھوں میں تیرنے لگی کیسا پیارا بڑا انسان محبت مٹھاس میں گندھا خالص شہد جیسا پہلوان جو صرف نام کا ہی پہلوان نہیں بلکہ کردار کا بھی پہلوان تھا جب سے حق تعالی نے مجھ مشت غبار کو راہ حق کا مسافر بنایا پھر اپنے کرم خاص سے خدمت خلق کا بھی اعزاز بخشا تو تقریبا روزانہ ہی حضرت انسان کے مختلف روپ زاویے سے ملتا ہوں

کوہ ہمالیہ جیسے بندوں کو زمین پر رینگتے کیڑوں سے کمتر پایا جب مجھ سے چھوٹے انسان جن کو معاشرہ کمی کمین کہتا ہے ان کو کے ٹو سے بلند پایا انسان کے چہرے پر نقاب در نقاب کہ اصل انسان کردار تو بہت دور دفن ہو کر رہ گیا میر ی زندگی میں بے شمار ہزاروں لوگ ایسے آتے ہیں جو معاشرے میں باوقار نیک صالح نیک سخاوت کے مینار انسان دوستی کے دعوے دار لیکن جب ان کو قریب سے دیکھنے پرکھنے کا موقع ملا تو گٹر کی بد بو سے ہی واسطہ پڑا جبکہ بہت چھوٹی حیثیت پوسٹ نوکری کام پر کسی معمولی انسا ن کو دیکھا جب اس کو قریب سے دیکھنے پرکھنے کا موقع آیا تو بڑے بڑے عالم دین مفسر دانشور خطیب الحاج اس کے سامنے بونے نظر آئے بلکہ زیادہ تر بناوٹ جھوٹ خود فریبی ذاتی نمائشی زندگی میں ہی انسانوں کو سرگرم پایا ملاوٹ قول و فعل میں تضاد جھوٹ فریب منافقت ہمارے رویوں کا لازمی حصہ اِس قدر بن گئے ہیں کہ یہی انسان کا حقیقی روپ کردار نظر آتا ہے اِس گلے سڑے بد بو دار بانجھ معاشرے میں کبھی کبھی چھوٹے انسانوں میں جب کوئی بڑا با کردار حقیقی انسان نظر آتا ہے تو بہت زیادہ خوشی ہو تی ہے اس کے پاس بیٹھنے وقت گزارنے کو تعلقات بنانے کو دل کر تا ہے اِیسے گوھر نایاب آٹے میں نمک کے برابر ملتے ہیں نہیں تو جھوٹ منافقت کا دور دورا ہے

آج کے معاشرے میں کوئی جتنا بڑا مو قع پرست الفاظ کا جادوگر ہے اتنا ہی وہ کامیاب انسان اپنی زبان کی جادوگری سے مراثی درباری نما لوگ اقتدار کے کوچوں تک قابض ہو کر سادہ شریف لوگوں پر حکمرانی کر رہے ہیں آجکل جتنا بڑا شیطانی فراڈی دماغ اتنا ہی کامیاب ہے پہلوان صاحب پہلی بار اپنی بیٹی کے رشتے کے لیے میرے پاس آئے پہلوانوں والا مخصوص بوسکی کا کڑھائی والا کرتہ رنگ برنگا لاچا گلے میں سونے کی چین بات بات پر آسمان کی طرف ہاتھ کر کے جو سوہنا کرے گا جو مالک کی مرضی جس طرح رب رکھے اسی میں راضی ایک شاکر صابر انسان جن کی زبان پر شکوہ نام کو نہ تھا ہر بات ہر قدم پر رب کا شکر ہے مالک کا کرم ہے

مثبت شخص مشکل ترین حال میں بھی مثبت پہلو نکال لیتا پریشانی میں بھی امید کی کرن دکھا دینا مجھے بہت اچھا لگا پہلوان اندر باہر سے کھرا اور سچا انسان اس کے جسم سے ولیوں والی خوشبو آتی کہ دل و دماغ معطر سی کیفیت کا شکار ہو جاتے میں حیران تھا کہ پہلوان میں وہ کونسی نیکی ہے وہ کونسا راش ہے جو میں نہیں جانتا کہ پہلوان بہت خوش خوشحال رہتا ہے جس کی صحبت میں نیکوں کی خوشبو آتی ہے دوچار ملاقاتوں کے بعد پہلوان سے دوستی ہو گئی اب پہلوان کی بیٹی اور بیوی بھی میرے پاس عقیدت و محبت سے آنا شروع ہو گئے جب میری پہلوان کی فیملی سے دوستی یا تعلق بڑھا تو ایک اور چیز نوٹ کی کہ پہلوان کی بیوی پہلوان کی مرشدوں کی طرح عقیدت کرتی دیوانوں کی طرح پہلوان کا طواف کرتی سانسوں کی مالا پر پہلوان کا نام جپتی اب میں تلاش میں تھا کہ پہلوان کے اندر وہ کونسی نیکی اچھائی ہے جو دوسرے انسانوں میں نہیں (جاری ہے)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
115439